سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:335

كيا قرآن مجيد ميں تحريف ہوئي ہے؟

شيعہ وسني علماكے يہاں مشہور و معروف يہي ہے كہ قرآن مجيد ميں كوئي تحريف نہيں ہوئي ہے، اور مو جودہ قرآن كريم وہي قرآن ہے جو پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہوا ، اوراس ميں ايك لفظ بھي كم و زياد نہيں ہوا ہے۔
قدما اور متاخرين ميں جن شيعہ علمانے اس حقيقت كي وضاحت كي ہے ان كے اسما درج ذيل ہيں:
۱۔ مرحوم شيخ طوسيۺ جو ”شيخ الطائفہ“ كے نام سے مشہور ہيں، موصوف نے اپني مشہور و معروف كتاب ”تبيان“ ميں وضاحت اور تفصيل كے ساتھ بيان كيا ہے۔
۲۔ سيد مرتضيٰ ۺ ، جو چوتھي صدي كے عظيم الشان عالم ہيں۔
۳۔ رئيس المحدثين مرحوم شيخ صدوق محمد بن علي بن بابويہ ۺ ، موصوف شيعہ عقيدہ بيان كرتے ہوئے فرماتے ہيں: ”ہمارا عقيدہ يہ ہے كہ قرآن مجيد ميں كسي طرح كي كوئي تحريف نہيں ہوئي ہے“۔
۴۔ جليل القدر مفسرقرآن مرحوم علامہ طبرسي، جنھوں نے اپني تفسير (مجمع البيان) كے مقدمہ ميں اس سلسلہ ميں ايك واضح اور مفصل بحث كي ہے۔
۵۔ مرحوم كاشف الغطاء جو علمائے متاخرين ميں عظيم مرتبہ ركھتے ہيں۔
۶۔ مرحوم محقق يزديۺ نے اپني كتاب عروة الوثقيٰ ميں قرآن ميں تحريف نہ ہونے كے اقوال كو اكثر شيعہ مجتہدين سے نقل كيا ہے ۔
۷۔ نيز بہت سے جيد علماجيسے ”شيخ مفيدۺ“ ، ”شيخ بہائي“، قاضي نور اللہ“ اور دوسرے شيعہ محققين نے اسي بات كو نقل كيا ہے كہ قرآن مجيد ميں كوئي تحريف نہيں ہوئي ہے۔
اہل سنت كے علمااور محققين كا بھي يہي عقيدہ ہے كہ قرآن كريم ميں تحريف نہيں ہوئي ہے۔
اگرچہ بعض شيعہ اور سني محدثين جو قرآن كريم كے بارے ميں زيادہ معلومات نہيں ركھتے تھے، اس بات كے قائل ہوئے ہيں كہ قرآن كريم ميں تحريف ہوئي ہے، ليكن دونوں مذہب كے عظيم علماكي روشن فكري كي بنا پر يہ عقيدہ باطل قرار ديا گيا اور اس كو بھُلاديا گيا ہے۔
يہاں تك كہ مرحوم سيد مرتضيٰ ”المسائل الطرابلسيات“ كے جواب ميں كہتے ہيں: ”قرآن كريم كي نقلِ صحت اتني واضح اور روشن ہے جيسے دنيا كے مشہور و معروف شہروں كے بارے ميں ہميں اطلاع ہے، يا تاريخ كے مشہور و معروف واقعات معلوم ہيں“۔
مثال كے طور پر كيا كوئي مكہ اور مدينہ يا لندن اور پيرس جيسے مشہور و معروف شہروں كے وجود ميں شك كرسكتا ہے؟ اگرچہ كسي انسان نے ان شہروں كو نزديك سے نہ ديكھا ہو، يا انسان ايران پر مغلوں كے حملے ، يا فرانس كے عظيم انقلاب يا پہلي اور دوسري عالمي جنگ كا انكار كرسكتا ہے؟!
پس جيسے ان كا انكار اس لئے نہيں كر سكتے كہ يہ تمام واقعات تواتر كے ساتھ ہم نے سنے ہيں، توقرآن كريم كي آيات بھي اسي طرح ہيں ، جس كي تشريح ہم بعد ميں بيان كريں گے۔
لہٰذا جو لو گ اپنے تعصب كے تحت شيعہ اہل سنت كے درميان اختلاف پيدھا كرنے كے لئے تحريف قرآن كي نسبت شيعوں كي طرف ديتے ہيں تو وہ اس نظريہ كو باطل كرنے والے دلائل كيوں بيان نہيں كرتے جو خود شيعہ علماكي كتابوں ميں موجود ہيں ؟!
كيا يہ بات جائے تعجب نہيں ہے كہ ”فخر الدين رازي“ جيسا شخص (جو ”شيعوں“ كي نسبت بہت زيادہ متعصب ہے) سورہ حجر كي آيت نمبر ۹ كے ذيل ميں كہتا ہے كہ يہ :آيہ ٴ شريفہ <إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ> شيعوں كے عقيدہ كو باطل كرنے كے لئے كافي ہے ،جو قرآن مجيد ميں تحريف ( كمي يا زيادتي) كے قائل ہيں۔
تو ہم فخر رازي كے جواب ميں كہتے ہيں: اگر ان كي مراد بزرگ شيعہ محققين ہيں تو ان ميں سے كوئي بھي ايسا عقيدہ نہيں ركھتا ہے، اور اگران كي مرادبعض علما ء كا ضعيف قول ہے تو اس طرح كا نظريہ تو اہل سنت كے يہاں بھي پايا جاتا ہے، جس پر نہ اہل سنت توجہ كرتے ہيں اور نہ ہي شيعہ علماتوجہ كرتے ہيں۔
چنا نچہ مشہور و معروف محقق ”كاشف الغطاء“ اپني كتاب ”كشف الغطاء“ ميں فرماتے ہيں:
”لارَيبَ اٴنَّہُ (اٴي القرآن) محفوظٌ مِنَ النُّقْصَانِ بحفظِ الملك الدَّيان كما دَلَّ علَيہِ صَريحُ القُرآنِ وَإجمَاع العلماء فِي كُلِّ زمان ولا عبرة بنادر“(1)
”اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ قرآن مجيد ميں كسي بھي طرح كي كوئي تحريف نہيں ہوئي ہے، كيونكہ خداوندعالم اس كا محافظ ہے، جيسا كہ قرآن كريم اور ہر زمانہ كے علماكا اجماع اس بات كي وضاحت كرتا ہے اور شاذو نادر قول پر كوئي توجہ نہيں دي جاتي“۔
تاريخ اسلام ميں ايسي بہت سي غلط نسبتيں موجود ہيں جو صرف تعصب كي وجہ سے دي گئي ہيں جبكہ ہم جانتے ہيں كہ ان ميں سے بہت سي نسبتوں كي علت اور وجہ صرف اور صرف دشمني تھي، اور بعض لوگ اس طرح كي چيزوں كو بہانہ بنا كر كوشش كرتے تھے كہ مسلمانوں كے درميان اختلاف كر ڈاليں۔
اورنوبت يہاں تك پہنچي كہ حجاز كا مشہور و معروف موٴلف ”عبد اللہ علي قصيمي “ اپني كتاب ”الصراع“ ميں شيعوں كي مذمت كرتے ہوئے كہتا ہے: 
”شيعہ ہميشہ سے مسجد كے دشمن رہے ہيں! اور يہي وجہ ہے كہ اگر كوئي شيعہ علاقے ميں شمال 
سے جنوب تك اور مشرق سے مغرب تك ديكھے تو بہت ہي كم مسجديں ملتي ہيں“ !!(2)
ذرا ديكھے تو سہي ! كہ شيعہ علاقوں ميں كس قدر مساجد موجود ہيں، شہر كي سڑكوں پر، گليوں ميں اوربازاروں ميں بہت زيادہ مسجديں ملتي ہيں، كہيں كہيں تو مسجدوں كي تعداد اتني ہوتي ہے كہ بعض لوگ اعتراض كرنے لگتے ہيں كہ كافي ہے، ہمارے كانوں ميں چاروں طرف سے اذانوں كي آوازيں آتي ہيں جن سے ہم پريشان ہيں، ليكن اس كے باوجود مذكورہ موٴلف اتني وضاحت كے ساتھ يہ بات كہہ رہے ہيں جس پرہميں ہنسي آتي ہے چونكہ ہم شيعہ علاقوں ميں رہ رہے ہيں، لہٰذا فخر الدين رازي جيسے افراد مذكورہ نسبت دينے لگيں تو ہميں كوئي تعجب نہيں ہونا چاہئے۔(3)

(1)تفسير آلاء الرحمن صفحہ ۳۵ 
2) موصوف كي عربي عبارت يہ ہے: ”والشّيعة ھم اٴبداً اٴعدَاء المساجد ولھذا يقل اٴَن يشاھد الضارب في طول بلادھم و عرضھا مسجداً (الصراع ، جلد ۲، صفحہ ۲۳، علامہ اميني ۺ كي نقل كے مطابق الغدير ، جلد ۳، صفحہ ۳۰۰)
(3) تفسير نمونہ ، جلد۱۱، صفحہ ۱۸
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك