سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:393

پيغمبر اكرم (ص) كي متعدد بيويوں كا فلسفہ كيا ہے؟

پيغمبر اكرم (ص) كا مختلف اور متعدد بيويوں سے عقد كرنا بہت سي اجتماعي اور سياسي مشكلات كا حل تھا۔
كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ جس وقت پيغمبر اكرم (ص) نے اعلان رسالت كيا اور خدا كي وحدانيت كي طرف دعوت دي تو اس وقت آپ تن تنہا تھے، اور ايك طولاني مدت تك چند لوگوں كے علاوہ كوئي ايمان نہيں لايا تھا، آنحضرت (ص) نے اپنے زمانہ كے تمام خرافاتي عقائد كے خلاف قيام كيا تھا، اور سبھي كے لئے اعلان جنگ كرركھا تھا، جس كي وجہ سے تمام اقوام اور قبائل آپ سے مقابلہ كے لئے تيارتھے۔
لہٰذا آنحضرت نے ان كے ناپاك اتحاد كو ختم كرنے كے لئے ہر ممكن راستہ اختيار كيامختلف قبائل ميں شادي كے ذريعہ رشتہ داري قائم كرنا ان ميں سے ايك راستہ تھا، كيونكہ اس وقت كے جاہل عرب كے نزديك سب سے مستحكم رابطہ يہي رشتہ داري تھي، اور قبيلہ كے داماد كو اپنا مانتے تھے، اس كا دفاع كرتے تھے، نيز اس كو تنہا چھوڑ دينا گناہ سمجھتے تھے۔
بہت سے قرائن اس بات كي نشاندہي كرتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) كي شادياں بہت سے موارد ميں سياسي پہلو ركھتي تھيں۔
ان ميں سے بعض شادي( جيسے زينب سے شادي ) زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو ختم كرنے كے لئے تھي، جس كي تفصيل سورہ احزاب آيت نمبر ۳۷ ميں بيان ہوئي ہے۔
ان ميں سے بعض شادي كي وجہ يہ تھي كہ كچھ لوگوں يا چند متعصب اور ہٹ دھرم قبيلوں كے دلوں سے دشمني اور عداوت كو دور كركے ان كے دلوں ميں محبت كا جام بھرديں۔
كيونكہ يہ بات واضح ہے كہ جس نے اپني جواني اور پورے شباب (۲۵ سال كي عمر،) ميں ايك بيوہ سے شادي كي ہو اور ۵۳ سال كي عمر تك اسي ايك بيوہ عورت كے ساتھ زندگي گزار ي ہو، اور اس طرح اس نے اپني زندگي كے دن گزار دئے ہوں اور پيري كا عالم آگيا ہو، تو اگر اس موقع پر مختلف قبائل كي عورتوں سے عقد كريں تو پھر اس كا كوئي نہ كوئي فلسفہ ضرور ہے، اور جنسي رجحان سے اس كا كوئي تعلق نہيں ہے، كيونكہ اس جاہليت كے زمانہ ميں چند شادياں كرلينا ايك عام بات تھي يہاں تك كبھي كبھي پہلي بيوي اپنے شوہر كے لئے دوسري بيوي كا رشتہ لے كر جايا كرتي تھي اور شاديوں كي تعداد ميں كسي طرح كي كوئي حد معين نہيں تھي، پيغمبر اكرم (ص) كے لئے جواني كے عالم ميں متعدد شادياں كرنے ميں نہ تو معاشرہ كے لحاظ سے كوئي ممانعت تھي اور نہ مالي اعتبار سے كوئي مشكل تھي، اور نہ ہي اس كو كسي طرح كا كوئي عيب سمجھا جاتا ۔
تعجب كي بات تو يہ ہے كہ تاريخ نے بيان كيا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے صرف ايك ”باكرہ“ عورت سے نكاح كيا ہے اور وہ عائشہ تھي، اس كے علاوہ آپ كي تمام بيوياں بيوہ تھيں جو فطري طور پر جنسي تحريك كے لئے كوئي خاص رغبت نہيں ركھتيں۔(1)
يہاں تك كہ بعض تواريخ ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے متعدد عقد كئے ، اور صرف عقد خواني كي رسم ادا كي ، اور ان كے ساتھ ہمبسترتك نہ ہوئے ، بلكہ بعض قبائل كي عورتوں سے صرف رشتہ كي حد تك قناعت كي۔(2)
اور وہ لوگ اسي پر فخر و مباہات كيا كرتے تھے كہ ان كے قبيلہ كي عورت پيغمبر اكرم (ص) سے منسوب ہوگئي ہے، اور يہ افتخاران كو مل گياہے، جس كي بنا پر اجتماعي طور پرپيغمبر اكرم (ص) سے رابطہ مستحكم تر ہوجاتا تھا اور آنحضرت (ص) كے دفاع كے لئے مصمم ہوجايا كرتے تھے۔
اس كے علاوہ يہ بات بھي مسلم ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) (خدانخواستہ) عقيم نہيں تھے ليكن تاريخ نے بہت ہي كم آپ كي اولادبتا ئي ہے، جبكہ اگر يہ تمام شادياں اور عقد ،جنسي شہوت كے لئے ہوتيں تو لامحالہ آپ كي اولاد كي تعداد بھي زيادہ ہوتي۔
يہ بات بھي قابل توجہ ہے كہ آنحضرت (ص) كي بعض بيوياں جيسے عائشہ كم سني كے عالم ميں آپ كي زوجيت ميں آئي ہيں اور چند سال كے بعد واقعي طور پر ايك زوجہ قرار پائي ہيں، جو اس بات كا واضح ثبوت ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كا اس طرح كي لڑكي سے عقد كرنے كا مقصد جنسي شہوت نہيں تھا بلكہ ہدف اوراس سے وہي مقصد تھا جو اوپر بيان كيا گيا ہے۔
اگرچہ اسلام كے دشمنوں نے پيغمبر اكرم (ص) كي متعدد بيو يوں كو بہانہ بنا كر آپ كي شخصيت كو تنقيد كا نشانہ بنايا ہے اور نہ جا نے كيسے كيسے جھوٹے افسانے گڑھ ڈالے ہيں، ليكن ان شاديوں كے وقت آنحضرت (ص) كي عمر كا زيادہ ہونا اور مختلف قبائل كي عورتوں كا بيوہ يا ضعيف العمر ہونا ايك طرف اور ان بيويوں كے قبائلي شرائط دوسري طرف، نيز مذكورہ قرائن كے پيش نظر حقيقت بالكل واضح ہوجاتي ہے ، اور دشمنوں كا راز فاش ہوجاتا ہے۔(3)

(1) (2) بحار الانوار ، جلد ۲۲، صفحہ ۱۹۱و۱۹۲ (برّے صغير كے علماء اس سے متفق نہيں ہيں، ان كي تحقيق يہ ہے كہ جناب خديجہ باكرہ تھيں، اور آپ سے پہلے انھوں نے كسي دوسرے شخص سے شادي نہيں كي تھيمترجم)
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۸۱
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك