سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:392

كيا انبياء ميں بھول چوك كا امكان ان كي عصمت سے ہم آہنگ ہے؟

سورہ ٴكہف كي مختلف آيات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جناب موسيٰ عليہ السلام بھول گئے، ايك جگہ پر ارشاد ہوتا ہے كہ جس وقت وہ دونوں (جناب موسيٰ اور ان كے ہم سفر دوست ) دو دريا كے سنگم پر پہنچے تواپني مچھلي بھول گئے، اور وہ مچھلي عجيب طرح سے دريا ميںچلنے لگي!۔
 فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِہِمَا نَسِيَا حُوتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَہُ فِي الْبَحْرِ > ( 1) 
 پھر جب دونوں دو دريا كے سنگم تك پہنچ گئے تو اپني مچھلي بھول گئے اور اس نے سمندر ميں اپنا راستہ نكال ليا“۔
لہٰذا دونوں ہي بھول گئے۔
اور دو آيت كے بعد جناب موسيٰ عليہ السلام كے دوست كي زباني نقل ہوا ہے :
< فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا اٴَنْسَانِيہُ إِلاَّ الشَّيْطَانُ اٴَنْ اٴَذْكُرَہُ>(2) 
”(اس جوان نے كہا كہ كيا آپ نے يہ ديكھا ہے كہ جب ہم پتھر كے پاس ٹھہرے تھے) تو  ميں نے مچھلي وہيں چھوڑ دي تھي اور شيطان نے اس كے ذكر كرنے سے بھي غافل كرديا تھا“۔
اگر جناب موسيٰ عليہ السلام كے دوست يوشع بن نون تھے (جيسا كہ مفسرين كے درميان مشہور ہے) حالانكہ وہ بھي پيغمبر تھے تو معلوم ہوتا ہے كہ انبياء عليہم السلام پر بھول طاري ہوسكتي ہے۔
نيز چند آيتوں كے بعد جناب موسيٰ عليہ السلام كي زباني نقل ہوا ہے كہ جب ان كي ملاقات اس عظيم بندہٴ خدا (جناب خضر) سے ہوئي تو ان سے وعدہ كيا كہ ان كے اسرار آميز اعمال كے بارے ميں كوئي سوال نہيں كريں گے، يہاں تك كہ وہ خود اس كے بارے ميں وضاحت كريں، ليكن جناب موسيٰ عليہ السلام پہلي مرتبہ بھول گئے، كيونكہ جب جناب خضر اس صحيح و سالم كشتي ميں سوراخ كرنے لگے تو جناب موسيٰ نے اعتراض كرديا كہ آپ ايسا كيوں كررہے ہيں؟! تو اس وقت جناب خضر نے ان كاكياہوا وعدہ ياد دلايا جناب موسيٰ عليہ السلام نے كہا: < قَالَ لاَتُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ>(3) ”موسيٰ نے كہا كہ خير جو فروگزاشت ہوگئي اس كا مواخذہ نہ كريں“۔
اور يہي بات دوسري اور تيسري مرتبہ بھي تكرار ہوئي۔ كيا ان تمام مذكورہ آيات كے پيش نظر يہ نتيجہ نہيں نكلتا ہے كہ انبياء عليہم السلام فراموشي اور بھول طاري ہوسكتي ہے؟ اور كيا بھول چوك عصمت كے منافي نہيں ہے؟
اس سوال كے جواب ميں مفسرين نے مختلف راہ حل بيان كي ہيں، بعض مفسرين كہتے ہيں: ”نسيان“ (بھول) كسي چيز كے ترك كرنے كے معني ميں ہے اگرچہ اس كو بھلايا بھي نہ جائے، جيسا كہ جناب آدم عليہ السلام كے واقعہ ميں پڑھتے ہيں:
<وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلَي آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ>(4) 
”اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہدليا مگر انھوں نے اسے ترك كرديا“۔
يہ بات مسلم ہے كہ جناب آدم عليہ السلام ممنوعہ درخت كا پھل كھانے كے بارے ميں عہد الٰہي كو نہيں بھولے ليكن چونكہ اس كي نسبت بے اعتنائي كي لہٰذا ”نسيان“ (بھول) كا لفظ استعمال ہوا ہے۔
بعض مفسرين كہتے ہيں كہ ”بھولنے والے“ در حقيقت جناب موسيٰ عليہ السلام كے دوست تھے نہ خود جناب موسيٰ، اور ان كے بارے ميں يہ معلوم نہيں ہے كہ وہ نبي تھے يا نہيں، كم از كم قرآن مجيد كي رُو سے يہ بات ثابت نہيں ہے، اس كے علاوہ انھيں آيات ميں بيان ہوا ہے كہ جناب موسيٰ عليہ السلام كے دوست نے مچھلي كو دريا ميں گرنے، اس كے زندہ ہونے اور اس كے چلنے كو ديكھا، انھوں نے سوچا كہ جناب موسيٰ عليہ السلام سے اس ماجرے كو بيان كرے ليكن وہ بھول گئے، لہٰذا يہاں پر بھولنے والے جناب مو سيٰ كے ساتھي ہي تھے، كيونكہ صرف انھوں نے اس واقعہ كو ديكھا تھا، اور اگر آيت ميں ”نسيا“ كا لفظ آيا ہے جس ميں دونوں كي طرف بھول كي نسبت دي گئي ہے تو يہ نسبت ايسي ہي ہے جيسے مزدور كے كام كو ٹھيكيدار كي طرف نسبت ديتے ہيں اور ايسا بہت رائج ہے ،(مثلاً عمارت ميں كام كرنے والے مزدور ہوتے ہيں ليكن كہا جاتا ہے كہ فلاں انجينئر نے يہ عمارت بنائي ہے وغيرہ وغيرہ)
ممكن ہے كوئي يہ كہے :يہ كيسے ہوسكتا ہے كہ انسان اتنے اہم مسئلہ (يعني مچھلي كا زندہ ہوجانے) كو بھول جائے، تو اس كے جواب ميں عرض ہے كہ جناب موسيٰ عليہ السلام كے دوست نے اس سے اہم معجزات ديكھے تھے، اس كے علاوہ اس عجيب و غريب سفر ميں اس سے كہيں زيادہ اہم مسائل كي جستجو كي جارہي تھي، اسي وجہ سے اس واقعہ كوبھول جانا جائے تعجب نہيں ہے۔
اور جيسا كہ بھلانے كي نسبت شيطان كي طرف دي گئي ہے،تو اس كي وجہ ممكن ہے يہ ہو مچھلي زندہ ہونے كا واقعہ اس عالم (خضر) كے ملنے سے تعلق ركھتا ہو جن سے جناب موسيٰ عليہ السلام كو علم حاصل كرنا تھا، اور چونكہ شيطان كا كام بہكانا ہے جو ہميشہ يہي چاہتا ہے كہ كوئي بھي اپنے پاك و پاكيزہ مقصد تك نہ پہنچ سكے، يا دير سے پہنچے، لہٰذا اس نے جناب موسيٰ كے دوست كو بھلاديا ہو۔
پيغمبر اكرم (ص) سے بعض احاديث ميں بيان ہوا ہے كہ جس وقت مچھلي زندہ ہوكر دريا ميں كود پڑي، اور پاني ميں چلنے لگي ، اس وقت جناب موسيٰ عليہ السلام سورہے تھے، اور ان كے دوست (جو اس واقعہ كو ديكھ رہے تھے) انھوں نے جناب موسيٰ كو بيدار كر نا نہيں چا ہا ،تا كہ ان سے واقعہ بيان كر ے ليكن جب جناب موسيٰ بيدار ہوگئے تو وہ بھول گئے، اور جناب موسيٰ عليہ السلام سے نہ بتاسكے، جس كي بنا پر ايك روز و شب اپنے راستے پر چلتے رہے، اس كے بعد ان كے دوست كو ياد آيا تو انھوں نے جناب موسيٰ عليہ السلام سے وہ واقعہ بيان كيا، تو انھيں مجبوراً اسي جگہ آنا پڑا كہ جہاں پر مچھلي پاني ميں گري تھي۔(5)
اور بعض مفسرين كا كہنا ہے كہ انبياء عليہم السلام بھول چوك سے معصوم ہوتے ہيں، ليكن وہ بھول چوك جو لوگوں كي ہدايت سے متعلق ہو، ليكن ايسي بھول چوك جو ان كے روز مرہ كے ذاتي كاموں سے متعلق ہو اور جو نبوت، تعليم و تربيت اور تبليغ سے متعلق نہ ہو ، تو ايسي بھول ان كي عصمت كے لئے منافات نہيں ركھتي، اور مذكورہ آيات ميں جو بھول بيان ہوئي ہے وہ اسي طرح كي ہے۔ (6)

(1)سورہٴ كہف ، آيت۶۱
(2) سورہٴ كہف ، آيت ۶۳
(3) سورہٴ كہف ، آيت۷۳ (4) سورہٴ طہ ، آيت۱۱۵
(5) تفسير مراغي ،جلد ۱۵، صفحہ ۱۷۴
(6) تفسير پيام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۲۶
دن كي تصوير
ويڈيو بينك