سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:472

بعض آيات و احاديث ميں غير خدا سے علم غيب كي نفي اور بعض ميں ثابت ہے، اس اختلاف كا حل كيا ہے؟

اس اختلاف كو حل كرنے كے لئے چند راہ حل ہيں:
۱۔ اس اختلاف كے حل كا مشہور و معروف طريقہ يہ ہے كہ جن آيات و روايات ميں علم غيب كو خداوندعالم سے مخصوص كيا گيا ہے ان كا مطلب يہ ہے كہ علم غيب ذاتي طور پر خداوندعالم سے مخصوص ہے، لہٰذا دوسرے افراد مستقل طور پر علم غيب نہيں ركھتے، جو كچھ بھي وہ غيب كي خبريں بتاتے ہيں وہ خداوندعالم كي طرف سے اس كي عنايت سے ہوتي ہيں ،چنا نچہ اس راہ حل كے لئے قرآن مجيد كي آيت بھي شاہد اورگواہ ہے جس ميں ارشاد ہوتا ہے:
<عَالِمُ الْغَيْبِ فَلايُظْہِرُ عَلَي غَيْبِہِ اٴَحَدًا ، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَيٰ مِن رَسُول>(1)
” وہ عالم غيب ہے اور اپنے غيب پر كسي كو بھي مطلع نہيں كرتا ہے مگر جس رسول كو پسند كرے“۔
اسي چيز كي طرف نہج البلاغہ ميں اشارہ ہوا ہے : جس وقت حضرت علي عليہ السلام آئندہ كے واقعات كو بيا ن كررہے تھے (اور اسلامي ممالك پر مغلوں كے حملہ كي خبر دے رہے تھے) تو آپ 
كے ايك صحابي نے عرض كيا: يا امير المومنين! كيا آپ كو غيب كا علم ہے؟ تو حضرت مسكرائے اور فرمايا:”لَيسَ ھُوَ بِعلمِ غَيبٍ ،وَإنَّماھو تَعلّم مِن ذِي عِلم“(2)
”يہ علم غيب نہيں ہے، يہ ايك علم ہے جس كوصاحب علم (يعني پيغمبر اكرم (ص)) سے حاصل كيا ہے“۔
۲۔ غيب كي باتيں دو طرح كي ہوتي ہيں، ايك وہ جو خداوندعالم سے مخصوص ہيں، اور اس كے علاوہ كوئي بھي نہيں جانتا، جيسے قيامت، ميزان وغيرہ اور غيب كي دوسري قسم وہ ہے جس كو خداوند عالم اپنے انبياء اور اولياء كو تعليم ديتا ہے، جيسا كہ نہج البلاغہ كے اسي مذكورہ خطبہ كے ذيل ميں ارشاد ہوتا ہے:
”علم غيب صرف قيامت كا اور ان چيزوں كا علم ہے جن كو خدا نے قرآن مجيد ميں شمار كرديا ہے كہ جہاں ارشاد ہوتا ہے: قيامت كے دن كا علم خداسے مخصوص ہے، اور وہي باران رحمت نازل كرتا ہے، اور جو كچھ شكم مادر ميں ہوتا ہے اس كو جانتا ہے، كسي كو بھي يہ معلوم نہيں ہے كہ كل كيا كام انجام دے گا اور كس سر زمين پر موت آئے گي“۔
اس كے بعد امام علي عليہ السلام نے اس چيز كي مزيد وضاحت كرتے ہوئے فرمايا: خداوندعالم جانتا ہے كہ رحم كا بچہ لڑكا ہے يا لڑكي؟ حسَين ہے يا قبيح؟ سخي ہے يا بخيل؟ شقي ہے يا سعيد؟ اہل دوزخ ہے يا اہل بہشت؟ يہ غيبي علوم ہيں جن كو خدا كے علاوہ كوئي نہيں جانتا، اور اس كے علاوہ دوسرے علوم خداوندعالم نے اپنے پيغمبر كو تعليم دئے ہيں اور انھوں نے مجھے تعليم دئے ہيں“۔(3)
ممكن ہے كہ بعض ماہر افراد بچے يا بارش وغيرہ كے بارے ميں علمِ اجمالي حاصل كرليں ليكن اس كا تفصيلي علم اور اس كي جزئيات صرف خداوندعالم ہي كو معلوم ہے،جيسا كہ قيامت كے بارے ميں 
ہميں علم اجمالي ہے ليكن اس كي جزئيات اور خصوصيات سے بے خبر ہيں، اگربعض روايات ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) يا ائمہ عليہم السلام نے بعض بچوں كے بارے ميں يا بعض لوگوں كي موت كے بارے ميں خبر دي كہ فلاں شخص كي موت كيسے آئے گي تو يہ اسي علم اجمالي سے متعلق ہے۔
۳۔ ان مختلف آيات و روايات كا ايك راہ حل يہ ہے كہ غيب كي باتيں دو مقام پر لكھي ہوئي ہيں: ايك ”لوح محفوظ“ (يعني خداوندعالم كے علم كا مخصوص خزانہ ) ميں جس ميں كسي بھي طرح كوئي تغير و تبدل نہيں ہوتا، اور كوئي بھي اس سے باخبر نہيں ہے، دوسرے ”لوح محو واثبات“ جس ميں صرف مقتضي كا علم ہوتا ہے اور علت تامہ كا علم نہيں ہوتا، اسي وجہ سے اس ميں تبديلي ہوسكتي ہے اور جو كچھ دوسرے حضرات جانتے ہيں اسي حصہ سے متعلق ہے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول حديث ميں پڑھتے ہيں: خداوندعالم كے پاس ايك ايسا علم ہے جو كسي دوسرے كے پاس نہيں ہے، اور دوسراعلم وہ ہے جس كو اس نے ملائكہ، انبياء اور مرسلين كو عطا كيا ہے، اور جو كچھ ملائكہ ، انبياء اور مرسلين كو عطا ہوا ہے وہ ہم بھي جانتے ہيں۔(4)
اس سلسلہ ميں حضرت امام زين العابدين عليہ السلام سے ايك اہم روايت نقل ہوئي ہے، جس ميں امام عليہ السلام نے فرمايا: ”اگر قرآن مجيد ميں ايك آيت نہ ہوتي تو ميں ماضي اور روز قيامت تك پيش آنے والے تمام واقعات بتاديتا ، كسي نے عرض كيا كہ وہ كون سي آيت ہے؟ تو امام عليہ السلام نے درج ذيل آيہٴ شريفہ كي تلاوت فرمائي: < يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ>(5) ”اللہ جس چيز كو چاہتا ہے مٹا ديتا ہے يا برقرار ركھتا ہے، اور ام الكتاب (لوح محفوظ) اس كے پاس ہے۔(6)
اس راہ كے لحاظ سے علوم كي تقسيم بندي ”حتمي ہونے“ اور حتمي نہ ہونے كے لحاظ سے ہے اور گزشتہ راہ حل معلومات كي مقدار كے لحاظ سے ہيں۔ (غور كيجئے )
۴۔ اس مشكل كو حل كرنے كے لئے ايك دوسرا طريقہ يہ ہے كہ خداوندعالم تمام اسرار ِغيب كو بالفعل (ابھي) جانتا ہے، ليكن ممكن ہے كہ انبياء اور اولياء الٰہي ،علم غيب كي بہت سي باتوں كو نہ جانتے ہوں ہاں جس وقت وہ ارادہ كرتے ہيں تو خداوندعالم ان كو تعليم دے ديتا ہے، البتہ يہ ارادہ بھي خداوندعالم كي اجازت سے ہوتا ہے۔
اس راہ حل كي بنا پر وہ آيات و روايات جو كہتي ہيں كہ غيب كي باتوں كو خدا كے علاوہ كوئي دوسرا نہيں جانتا تو ان كا مقصد يہ ہے كہ كسي دوسرے كو بالفعل علم نہيںہے اوريہ آيات وروايات فعلي طور پر نہ جاننے كے بارے ميں ہيں، اور جو كہتي ہيں كہ دوسرے جانتے ہيں وہ امكان كي صورت كو بيان كرتي ہيںيعني دو سروں كے لئے ممكن ہے ۔
يہ بالكل اس شخص كي طرح ہے كہ كوئي شخص كسي دوسرے كو ايك خط دے تاكہ فلاں شخص تك پہنچادے، تو يہاں يہ بھي كہا جاسكتا ہے كہ وہ خط كے مضمون سے آگاہ نہيں ہے، حالانكہ وہ خط كھول كر اس كے مضمون سے باخبر ہوسكتا ہے، ليكن كبھي صاحب خط كي طرف سے خط پڑھنے كي اجازت ہوتي ہے تو وہ اس صورت ميں خط كے مضمون سے آگاہ ہوسكتا ہے اور كبھي كبھي خط كے كھولنے كي اجازت نہيں ہوتي۔
اس راہ حل كے لئے بہت سي احاديث گواہ ہيں جو (عظيم الشان) كتاب اصول كافي باب”إنَّ الاٴَئمَّةَ إذَا شَاوٴا اٴن يَعلَموا عَلِمُوا“ (ائمہ جب كوئي چيز جاننا چاہتے ہيں تو ان كو تعليم ہوجاتا ہے) ميں بيان ہوئي ہيں، ان ميں سے ايك حديث حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے:
”إذَا اٴرادَ الإمامُ اٴن يَعلَمَ شيئًا اٴعلمہُ الله بِذلكَ“(7) 
” جب امام كسي چيز كے بارے ميں علم حاصل كرنا چاہے تو خداوندعالم تعليم كرديتا ہے“۔
يہي راہ حل پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ عليہم السلام كے علم كے سلسلہ ميں بہت سي مشكلات كو حل كرديتا ہے، مثال كے طور پر:كس طرح ائمہ عليہم السلام زہر آلود كھا ناكھاليتے ہيں جبكہ ايك عام انسان كے لئے بھي يہ جائز نہيں ہے كہ نقصان دينے والے كام كو انجام دے اس طرح كے مواقع پر پيغمبر اكرم (ص) يا ائمہ عليہم السلام كو اس بات كي اجازت نہيں تھي كہ وہ ارادہ كريں تاكہ غيب كے اسرار ان كے لئے كشف ہوجائيں۔
اسي طرح كبھي كبھي مصلحت اس بات كا تقاضا كرتي ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) يا ائمہ عليہم السلام كو كسي بات كا علم نہ ہو، يا اس كے ذريعہ ان كا امتحان ہوتا ہے تاكہ ان كے كمال اور فضيلت ميں مزيد اضافہ ہوسكے، جيسا كہ شب ہجرت كے واقعہ ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت علي عليہ السلام پيغمبر اكرم كے بستر پر ليٹ گئے ، حالانكہ خود حضرت كي زباني نقل ہوا ہے كہ ميں نہيں جانتا تھا كہ پيغمبر اكرم كے بستر پر جب مشركين قريش حملہ كريں تو ميں شہيدہوجاؤں گا يا جان بچ جائے گي؟
اس موقع پر مصلحت يہي ہے كہ امام عليہ السلام اس كام كے انجام سے آگاہ نہ ہوں تاكہ خدا امتحان لے سكے اور اگر امام عليہ السلام كو يہ معلوم ہوتا كہ ميري جان كے لئے كوئي خطرہ نہيں ہے تو يہ كوئي افتخار اور فضيلت كي بات نہيں تھي، اس بنا پر قرآن اور احاديث ميں اس قرباني كے فضائل و مناقب بيان ہوتے ہيں وہ قابل توجہ نہ رہتے۔
جي ہاں ! علم ارادي كا مسئلہ اس طرح كے تمام اعتراضات كے لئے بہترين جواب ہے۔
۵۔ علم غيب كے بارے ميں بيان ہوئي مختلف روايات كے اختلاف كا ايك حل يہ ہے
(اگرچہ يہ راہ حل بعض روايات پر صادق ہے) كہ ان روايات كے سننے والے مختلف سطح كے لوگ تھے، جو لوگ ائمہ عليہم السلام كے بارے ميں علم غيب كو قبول كرنے كي استعداد اور صلاحيت ركھتے تھے ،ان كے سامنے حق مطلب بيان كيا گيا، ليكن مخالف يا كم استعداد لوگوں كے سامنے ان كي سمجھ ہي كے اعتبار سے بيان ہوا ہے۔
مثال كے طور پر ايك حديث ميں بيان ہوا كہ ابو بصير اورامام صادق عليہ السلام كے چند اصحاب ايك مقام پر بيٹھے ہوئے تھے امام عليہ السلام حالتغضب ميں وارد مجلس ہوئے اور جب امام عليہ السلام تشريف فرماہوئے تو فرمايا: عجيب بات ہے كہ بعض لوگوں كا گمان ہے كہ ہم علم غيب جانتے ہيں، جبكہ خدا كے علاوہ كوئي بھي علم غيب نہيں ركھتا، ميں چاہتا تھا كہ اپني كنيز كو تنبيہ كروں، ليكن بھاگ گئي اور نہ معلوم گھر كے كس كمرہ ميں چھپ گئي!!“۔(8)
راوي كہتا ہے: جس وقت امام عليہ السلام وہاں سے تشريف لے گئے ،ميں اور بعض دوسرے اصحاب اندرون خانہ وارد ہوئے تو امام عليہ السلام سے عرض كي: ہم آپ پر قربان! آپ نے اپني كنيز كے بارے ميں ايسي بات كہي،، جبكہ ہميں معلوم ہے آپ بہت سے علوم جانتے ہيں اور ہم علم غيب كا نام تك نہيں ليتے؟ امام عليہ السلام نے اس سلسلہ ميں وضاحت فرمائي كہ ہمارا مقصد اسرار غيب كا علم تھا۔
يہ بات واضح رہے كہ اس مقام پر ايسے بھي لوگ بيٹھے تھے جن كے يہاں امام كي معرفت اور علم غيب كے معني كو سمجھنے كي استعداد نہيں پائي جاتي تھي۔
(قارئين كرام!) توجہ فرمائيں كہ يہ پانچ راہ حل آپس ميں كوئي تضاد اور تنا قض نہيں ركھتي اور سبھي صحيح ہوسكتي ہيں۔ (غور كيجئے ) 
۲۔ ائمہ عليہم السلام كے لئے علم غيب ثابت كرنے كے ديگر طريقے
يہاں پر اس حقيقت كو ثابت كرنے كے دو طريقے اور بھي ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليہم السلام اجمالاً غيب كے اسرار سے واقف تھے۔
۱۔ ہم يہ بات جانتے ہيں كہ ان كي نبوت يا امامت كا دائرہ كسي زمان و مكان سے مخصوص نہيں تھا، بلكہ پيغمبر اكرم (ص) كي رسالت اور ائمہ عليہم السلام كي امامت عالمي اور جاويداني ہے، لہٰذا يہ بات كس طرح ممكن ہے كہ كوئي اس قدر وسيع ذمہ داري ركھتا ہو، حالانكہ اس كو اپنے زمانہ اور محدود دائرہ كے علاوہ كسي چيز كي خبر نہ ہو؟ مثال كے طور پر اگر كسي كو كسي بڑے صوبہ كي امارت يا كلكٹري دي جائے اور اسے اس كے بارے ميں آگاہي نہ ہو، تو كيا وہ اپني ذمہ داري كو خوب نبھاسكتا ہے؟!
دوسرے لفظوں ميں يوں كہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ عليہم السلام اپني (ظاہري) زندگي ميں اس طرح احكام الٰہي كو بيان اور نافذ كريں تاكہ ہر زمانہ اور ہر جگہ كے تمام انسانوں كي ضرورتوں كو مد نظر ركھيں، اور يہ ممكن نہيں ہے مگر اسي صورت ميں كہ اسرار غيب كے كم از كم ايك حصہ كو جانتے ہوں۔
۲۔ اس كے علاوہ قرآن مجيد ميں تين آيات ايسي موجود ہيں كہ اگر ان كو ايك جگہ جمع كرديں تو پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليہم السلام كے علم غيب كا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے، پہلي آيت ميں ارشاد ہو تا ہے كہ ايك شخص (آصف بن بر خيا ) نے تخت بلقيس چشم زدن ميں جناب سليمان كے پاس حا ضر كرديا،ارشاد ہوتا ہے:
< قَالَ الَّذِي عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنْ الْكِتَابِ اٴَنَا آتِيكَ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآہُ مُسْتَقَرًّا عِنْدَہُ قَالَ ہَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي>(9)
”ايك شخص نے جس كے پاس كتاب كے ايك حصہ كاعلم تھا اس نے كہا كہ ميں اتني جلدي
لے آؤں گا كہ آپ كي پلك بھي نہ جھپكنے پائے، اس كے بعد سليمان نے تخت كو اپنے سامنے حاضر ديكھا تو كہنے لگے: يہ ميرے پروردگار كا فضل و كرم ہے “۔
دوسري آيت ميں بيان ہوتا ہے:
<قُلْ كَفَي بِاللهِ شَہِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْكِتَابِ >(10)
”(اے رسول آپ ) كہہ ديجئے كہ ہمارے اور تمہارے درميان رسالت كي گواہي كے لئے خدا كافي ہے اور وہ شخص كافي ہے جس كے پاس پوري كتاب كا علم ہے “۔
سني و شيعہ معتبر كتابوں ميں بہت سي احاديث نقل ہوئي ہيں جن ميں بيان ہوا ہے كہ ابو سعيد خدري كہتے ہيں كہ ميں نے رسول خدا (ص) سے ”الذي عندہ علم من الكتاب“ كے بارے ميں سوال كيا ، تو آنحضرت نے فرمايا: وہ ميرے بھائي جناب سليمان بن داؤد كے وصي تھے، ميں نے پھر دوبارہ يہ سوال كيا كہ ”من عندہ علم الكتاب“ سے كون مراد ہے؟ تو آپ نے فرمايا: ”ذاك اٴخِي عليّ بن اٴبي طالب“! ( اس سے مراد ميرے بھائي علي بن ابي طالب ہيں)(11)
اور آيت ” علم من الكتاب“ كے پيش نظر جو كہ آصف بن برخيا كے بارے ميں ہے ”جزئي علم“ كو بيان كرتي ہے، اور ”علم الكتاب“ جو كہ حضرت علي عليہ السلام كے بارے ميں ہے ”كلي علم“ كو بيان كرتي ہے ، لہٰذا اس آيت سے آصف بن برخيا اور حضرت علي عليہ السلام كا علمي مقام واضح ہوجاتا ہے۔
تيسري آيت ميں ارشاد ہوتا ہے:
< وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ>(12)
”اور ہم نے آپ پر كتاب نازل كي ہے جس ميں ہر شئے كي وضاحت موجود ہے“۔
يہ بات واضح ہے كہ ايسي كتاب كے اسرار كا علم ركھنے والا ، اسرار غيب بھي جانتا ہے، اور يہ بھي ممكن ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) يا امام عليہ السلام حكمِ خدا كے ذريعہ اسرارِ غيب سے آگاہ ہوں۔(13)

(1) سورہ جن ، آيت ۲۶  
 (.3.2) -- نہج البلاغہ ، خطبہ   12۸
(4) بحار الانوار ، جلد ۲۶، صفحہ ۱۶۰ (حديث۵)
(5) سورہ رعد ، آيت ۳۹
(6) ”نور الثقلين ، جلد ۲، صفحہ ۵۱۲ ، (حديث۱۶۰)
(7) ” اصول كافي“ باب ”ان الائمة اذا شاوٴا ان يعلموا علموا“ (حديث ۳)اور اسي مضمون كي دوسري روايتيں بھي اسي باب ميں نقل ہوئي ہيں
(8) اصول كافي ، جلد اول، باب نادر فيہ ذكر الغيب حديث   ۳
 (9)سورہٴ نمل ، آيت۴۰
(10) سورہٴ رعد ، آيت۴۳
(11) ”احقا ق الحق“ ، جلد ۳،صفحہ۲۸۰۔ ۲۸۱، اور ”نور الثقلين “ ، جلد ۲، صفحہ ۵۲۳ پر رجو ع كريں 
(12)سورہ نحل ، آيت ۸۹
(13) تفسير نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۴۶
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك