سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:427

كيا معجزہٴ”شق القمر“ سائنس كے لحاظ سے ممكن ہے؟

كيا معجزہٴ”شق القمر“ سائنس كے لحاظ سے ممكن ہے؟  
ہم سورہ قمركي پہلي آيت ميں پڑھتے ہيں: <اقتربت الساعة و انشقّ القمر> (قيامت آگئي اور چاند كے دو ٹكڑے ہوگئے)
اس آيہٴ شريفہ ميں معجزہٴ شق القمر كے بارے ميں گفتگو كي گئي ہے۔
مشہور روايات ميں كہ جن كے سلسلہ ميں بعض لوگوں نے تواتر(1) كا دعويٰ بھي كيا ہے، بيان ہوا ہے كہ مشركين مكہ پيغمبراكرم (ص) كے پاس آئے اور كہا: اگر آپ سچ كہتے ہيں كہ ميں خدا كا رسول ہوں، تو آپ چاند كے دو ٹكڑے كرديجئے! آنحضرت (ص) نے فرمايا: اگر ميں اس كام كو كردوں تو كيا تم ايمان لے آؤگے؟ سب نے كہا: ہاں ، ہم ايمان لے آئيں گے، (وہ چودھويں رات كا چاند تھا) اس وقت پيغمبر اكرم نے خدا كي بارگاہ ميں دعا كي كہ جو يہ لوگ طلب كررہے ہيں وہ عطا كردے، چنانچہ ديكھنے والوں نے ديكھا كہ چاند د و ٹكڑے ہوگيا، اس موقع پر رسول اللہ (ص) ايك ايك كو آواز ديتے جاتے تھے اور فرماتے تھے: ديكھو ديكھو!(2
اس طرح كے سوالات كا جواب دانشوروں اور نجوميوں كے مطالعات او ران كے انكشافات كے پيش نظر كوئي پيچيدہ نہيں ہے، كيونكہ جديد انكشافات كہتے ہيں: اس طرح كي چيز نہ صرف يہ كہ محال نہيں ہے بلكہ اس طرح كے واقعات بارہا رونما ہوئے ہيں، اگرچہ ہر واقعہ ميں مخصوص عوامل كار فرما تھے۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں  
نظام شمسي اور دوسرے آسماني كرّات ميں سے كسي آسماني كرہ كا اس طرح شق ہوجانا اور پھر مل جانا ايك ممكن امر ہے، نمونے كے طور پر چند چيزيں درج ذيل ہيں:
الف۔ پيدائش نظام شمسي: اس نظريہ كو تقريباً سبھي ماہرين نے مانا ہے كہ نظام شمسي كے تمام كرّات ابتدا ميں سورج كے اجزا تھے بعد ميں سورج سے الگ ہوئے ہيں، اور ان ميں سے ہر ايك اپنے اپنے مدار ميں گردش كرنے لگا۔
مسٹر ”لاپلاس“ كا نظريہ يہ ہے كہ كسي چيز كے الگ ہونے كے اس عمل كا سبب مركز سے گريز كي وہ قوت ہے جو سورج كے منطقہ استوائي ميں پائي جاتي ہے وہ اس طرح كہ جس وقت سورج ايك جلانے والي گيس كے ٹكڑے كي شكل ميں تھا، (اور اب بھي ويسا ہي ہے) اور اپنے گرد گردش كرتا تھا تو اس كي گردش كي سرعت منطقہ استوائي ميں اس بات كا سبب بني كہ سورج كے كچھ ٹكڑے اس سے الگ ہوجائيں اور فضا ميں بكھر جائيں، اور مركز ِاصلي يعني خود سورج كے گرد گردش كرنے لگيں۔
ليكن لاپلاس كے بعد بعض دانشوروں نے تحقيقات كيں جس كي بنا پر ايك دوسرا فرضيہ پيش كيا كہ اس جدائي كا سبب سورج كے مقابل سمندر ميں ہونے والے شديد مدر و جزر (1) ہے جوسورج كي سطح پر ايك بہت بڑے ستارے كے گزرنے كے سبب ايجاد ہوتا ہے۔
اس فرضيہ سے اتفاق كرنے والے اس وقت كي سورج كي حركتِ وصفي كو سورج كے ٹكڑوں كے عليحدہ ہونے كي توجيہ كو كافي نہيں سمجھتے وہ اس مفروضہ كي تائيد كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ مذكورہ مدّ و جزر نے سورج كي سطح پر بہت بڑي بڑي لہريں اس طرح پيدا كيں جيسے پتھر كا كوئي بہت بڑا ٹكڑا سمندر ميں گرے اور اس سے لہريں پيدا ہوں، اس طرح سورج كے ٹكڑے يكے بعد ديگرے باہر نكل كر سورج كے گرد گردش كرنے لگے، بہر حال اس عليحدگي كا سبب كچھ بھي ہو اس پر سب متفق ہيں كہ نظام شمسي كي تخليق انشقاق كے نتيجہ ميں ہوئي ہے۔
ب۔ بڑے شہاب: يہ بڑے بڑے آسماني پتھرہيں جو نظام شمسي كے گرد گردش كررہے ہيں اور جو كبھي كبھي چھوٹے كرّات اور سياروں سے مشابہت ركھنے والے قرار دئے جاتے ہيں، بڑے اس وجہ سے كہ ان كا قطر ۲۵ كلو ميٹر ہوتا ہے ليكن وہ عموماً چھوٹے ہوتے ہيں، ماہرين كا نظريہ ہے كہ ”استروئيد ہا“ (بڑے شہاب) ايك عظيم سيارے كے بقيہ جات ہيں جو مشتري اور مريخ كے درميان مدار ميں حركت كررہا تھا اور اس كے بعد نامعلوم اسباب كي بنا پر وہ پھٹ كر ٹكڑے ٹكڑے ہوگيا، اب تك پانچ ہزار سے زيادہ اس طرح كے شہاب كے ٹكڑے معلوم كئے جاچكے ہيں اور ان ميں سے جو بڑے ہيں ان كے نام بھي ركھے جاچكے ہيں، بلكہ اان كا حجم، مقدار اور سورج كے گرد ان كي گردش كا حساب بھي لگايا جاچكا ہے، بعض ماہرين فضا ان استروئيدوں كي خاص اہميت كے قائل ہيں، ان كا 
(۳)مدر و جزر : دريا كے پاني ميں ہونے والي تبديلي كو كہا جاتا ہے ، شب وروز ميں درياكا پاني ايك مرتبہ گھٹتا ہے اس كو ” جزر“ كہا جاتاہے اور ايك مرتبہ بڑھتا ہے جس كو ”مد“ كہا جاتاہے ، اور پاني ميں يہ تبديلي سورج اور چاندكي قوہٴ جاذبہ كي وجہ سے ہوتي ہے(مترجم)  
نظريہ ہے كہ فضا كے د ور دراز حصوں كے جانب سفر كرنے كے لئے اولين قدم كے عنوان سے ان سے استفادہ كيا جاسكتا ہے۔
آ  سماني كرات كے انشقاق كا ايك دوسرانمونہ     شہاب ثاقب ،يہ چھوٹے چھوٹے آسماني پتھر ہيں جو كبھي كبھي چھوٹي انگلي كے برابر ہوتے ہيں، بہر حال وہ سورج كے گرد ايك خاص مدار ميں بڑي تيزي كے ساتھ گردش كررہے ہيں، اور جب كبھي ان كا راستہ مدارِزمين كو كاٹ كر نكلتا ہے تووہ زمين كا رخ اختيار كرليتے ہيں۔
يہ چھوٹے پتھر اس ہوا سے شدت كے ساتھ ٹكرانے كي وجہ سے كہ جو زمين كا احاطہ كئے ہوئے ہے او رتھرتھراہٹ پيدا كرنے والي اس تيزي كي وجہ سے كہ جو ان كے اندر ہے زيادہ گرم ہوكر اس طرح بھڑك اٹھتے ہيں كہ ان ميں سے شعلے نكلتے ہوئے دكھائي ديتے ہيں اور ہم انھيں ايك پرنور اور خوبصورت لكير كي شكل ميں آسماني فضا ميں ديكھتے ہيں اور انھيں ”شہاب كے تير“ كے نام سے موسوم كرتے ہيں اور كبھي يہ خيال كرتے ہيں كہ ايك دور دراز كا ستارہ ہے جو گررہا ہے حالانكہ وہ چھوٹا شہاب ہے كہ جو بہت ہي قريبي فاصلہ پر بھڑك كر خاك ہوجاتا ہے۔
شہابوں كي گردش كا مدار زمين كے مدار سے دو نقطوں پر ملتا ہے اسي بنا پر ستمبر اور اكتو بر ميں جو دو مداروں كے نقطہ تقاطع ہيں شہاب ثاقب زيادہ نظر آتے ہيں۔ ماہرين كا خيال ہے كہ يہ دمدار ستارے كے باقي حصے ہيں جو نا معلوم حوادث كي بنا پر پھٹ كر ٹكڑے ٹكڑے ہوگئے ہيں۔
آسماني كرات كے پھٹنے كا ايك اور نمونہ  بہر حال آسماني كرّات كا انشقاق يعني پھٹنا اور پھٹ كر بكھر نا كوئي بے بنياد بات نہيں ہے اور جديد علوم كي نظر ميں يہ كوئي محال كام نہيں ہے كہ يہ كہا جائے كہ معجزہ كا تعلق امر محال كے ساتھ نہيں ہوا كرتا، يہ سب باتيں انشقاق يعني پھٹنے كے سلسلہ كي ہيں، دو ٹكڑوں ميں قوت جاذبہ ہوتي ہے اس بنا پر اس انشقاق كي بازگشت ناممكن نہيں ہے۔
اگرچہ ہيئت قديم ميں بطليموس كے نظريہ كے مطابق نو آسمان پياز كے تہہ بہ تہہ چھلكوں كي طرح ہيں اور گھومتے رہتے ہيں اور اس طرح يہ نو آسمان ايك دوسرے سے ملے ہوئے ہيں جن كا ٹوٹنا اور جڑنا ايك جماعت كي نظر ميں امر محال تھا، اس لئے اس نظريہ كے حامل افراد معراج آسماني كے بھي منكر تھے اور ”شق القمر“ كے بھي، ليكن اب جبكہ ہيئت بطليموسي كا مفروضہ خيالي افسانوں اور كہانيوں كي حيثيت اختيار كر چكا ہے اور نو آسمانوں كا نام و نشان تك باقي نہيں رہا تو اب ان باتوں كي گنجائش بھي باقي نہيں رہي۔
يہ نكتہ كسي ياد دہاني كا محتاج نہيں ہے كہ ”شق القمر“ ايك عام طبيعي عامل كے زير اثر رونما نہيں ہوا بلكہ اعجاز نمائي كا نتيجہ تھا، ليكن چونكہ اعجاز، محال عقلي سے تعلق نہيں ركھتا ،لہٰذا يہاں اس مقصد كے امكان كو بيان كرنا تھا۔ (غور كيجئے )

(1) علم حديث ميں ”حديث تواتر“ اس حديث كو كہا جاتا ہے جس كے راويوں كي تعداد اس حد تك ہو كہ ان كے ايك ساتھ جمع ہوكر سازش كرنے كا قابلِ اعتماد احتمال نہ ہو (مترجم)
(2) ”مجمع البيان “اور ديگر تفاسير ، مذكورہ آيت كے ذيل ميں يہاں پر ممكن ہے اس طرح كے سوالات كئے جائيں كہ يہ كس طرح ممكن ہے كہ اتنا عظيم كرہ (چاند) دو ٹكڑے ہوجائے، پھر اس عظيم واقعہ كا كرہ زمين اور نظام شمسيپر كيا اثر ہوگا؟ اور چاند كے دو ٹكڑے ہونے كے بعد كس طرح آپس ميں مل گئے، اور كس طرح ممكن ہے كہ اتنا بڑا واقعہ رونما ہو جائے ليكن تاريخ بشريت اس كو نقل نہ كرے؟!
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك