سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:389

جناب آدم كا ترك اوليٰ كيا تھا؟

جيسا كہ ہم سورہ طہ آيت نمبر ۱۲۱ ميں پڑھتے ہيں: <وَ عصيٰ آدمُ ربَّہ فغويٰ>
” اورجناب آدم نے اپنے پروردگار كي نصيحت پر عمل نہ كيا، تو ثواب كے راستہ سے بے راہ ہوگئے“۔
تو يہاں پر يہ سوال اٹھتا ہے كہ جناب آدم عليہ السلام كس ترك اوليٰ كے مرتكب ہوئے؟
اسلامي منابع اس بات پر دلالت كرتے ہيں كہ كوئي بھي پيغمبر گناہ كا مرتكب نہيں ہوا، اور اللہ كے بندوں كي ہدايت كي ذمہ داري كسي گناہگار شخص كو نہيں دي جاسكتي، اور ہم يہ بھي جانتے ہيں كہ جناب آدم عليہ السلام خدا كے بھيجے ہوئے نبيوں ميں سے تھے، مذكورہ آيت اور اس سے مشابہ آيتوں ميں دوسرے انبياء كي طرف عصيان كي نسبت دي گئي ہے ليكن سب جگہ يہ نسبت ” نسبيعصيان“ اور ”ترك اوليٰ“ كے معني ميں ہے، يعني مطلق گناہ كے معني ميں نہيں ہے۔
وضاحت:
گناہ كي دو قسم ہوتي ہيں ”مطلقِ گناہ “ اور ”نسبي گناہ“ مطلق گناہ يعني نہي تحريمي كي مخالفت اور خداوندعالم كے قطعي حكم كي نافرماني كا نام ہے اور ہر طرح كے واجب كو ترك كرنا اور حرام كا مرتكب ہونا مطلقِ گناہ كہلاتا ہے۔
ليكن نسبي گناہ،وہ گناہ ہوتا ہے جو كسي بزرگ انسان كي شان كے خلاف ہے ممكن ہے كہ كوئي مباح كام بلكہ مستحب كام عظيم انسان كي شان كے مطابق نہ ہو، تو اس صورت ميں يہ عمل اس كي شان ميں ”نسبيگناہ “ شمار كيا جائے گا، مثلاً اگر كوئي مالدار مومن كسي غريب كي بہت كم مدد كرے ، تو اگرچہ يہ امداد كم ہے اور كوئي حرام كام نہيں ہے بلكہ مستحب ہے، ليكن جو شخص بھي اس كو سنے گا وہ اس طرح مذمت كرے گا جيسے اس نے كوئي برا كام كيا ہو، كيونكہ ايسے مالدار اور باايمان شخص سے اس سے كہيں زيادہ اميد تھي۔
(دوسرے لفظوں ميں جناب آدم عليہ السلام كا گناہ ان كي حيثيت سے گناہ تھا ليكن مطلق گناہ نہ تھا،مطلق گناہ وہ گناہ ہوتا ہے جس كے لئے سزا معين ہو (جيسے شرك،كفر ،ظلم اور ستم وغير ہ)اور نسبت كے اعتبار سے گناہ كا مفہوم يہ ہے كہ بعض اوقات كچھ مباح اعمال بلكہ مستحب اعمال بھي بڑے لوگوں كي عظمت كے لحاظ سے مناسب نہيں ہوتے ،انہيں چا ہئے كہ ان اعمال سے پر ہيز كريں اور اہم كام بجالائيں ورنہ كہا جائے گا كہ انہوں نے ترك اولي كيا ہے ۔)
اسي وجہ سے انبياء عليہم السلام كے اعمال ايك ممتاز ترازو ميں تولے جاتے ہيں اور كبھي ان پر ”عصيان“ اور ”ذنب“ كا اطلاق ہوتا ہے، مثال كے طور پر ايك نماز عام انسان كے لئے بہترين نماز شمار كي جائے ليكن وہي نماز اولياء الٰہي كے لئے ترك اوليٰ شمار كي جائے، كيونكہ ان كے لئے نماز ميں پَل بھر كي غفلت ان كي شان كے خلاف ہے، بلكہ ان كے علم، تقويٰ اور عظمت كے لحاظ سے ان كو عبادت ميں خدا كے صفات جلال و جمال ميں غرق ہونا چاہئے۔
عبادت كے علاوہ ان كے دوسرے اعمال بھي اسي طرح ہيں، ان كي عظمت اور مقام كے لحاظ سے تولے جاتے ہيں اسي وجہ سے اگر ان سے ايك ”ترك اوليٰ“ بھي انجام پاتا ہے تو خداوندعالم كي طرف سے مورد سرزنش ہوتے ہيں ( ترك اوليٰ سے مراد يہ ہے كہ انسان بہتر كام كو چھوڑ كركم درجہ كاكام انجام دے)
اسلامي احاديث ميں بيان ہوا ہےكہ جناب يعقوب عليہ السلام نے فراق فرزند ميں جس قدر پريشانياں اٹھائيں ہيں اس كي وجہ يہ تھي كہ مغرب كے وقت ايك روزہ دار ان كے در پر آيا، اور اس نے مدد كي درخواست كي ليكن انھوں نے اس سے غفلت كي، وہ فقير بھوكا اور دل شكستہ ان كے در سے واپس چلا گيا۔
يہ كام اگرچہ ايك عام انسان انجام ديتا تو شايد اتنا اہم نہ تھا، ليكن اس عظيم الشان پيغمبر كي طرف سے اس كام كو بہت اہميت دي گئي كہ خداوندعالم كي طرف سے سخت سزا معين كي گئي۔(1)(2)
(2) مذكورہ روايت كي تفصيل يہ ہے
كہ ابو حمزہ ثماليۺ نے ايك روايت امام سجاد عليہ السلام سے نقل كي ہے ابو حمزہ كہتے ہيں :
جمعہ كے دن ميں مدينہ منورہ ميں تھا نماز صبح ميں نے امام سجادعليہ السلام كے ساتھ پڑھي جس وقت امام نماز اور تسبيح سے فارغ ہوئے تو گھر كي طرف چل پڑے ميں آپ كے سا تھ تھا ،آپ نے خادمہ كو آوازدي اور كہا : خيال ركھنا ، جو سائل اور ضرورت مند گھر كے دروازے سے گزرے اسے كھانا دينا كيو نكہ آج جمعہ كا دن ہے ۔
ابو حمزہ كہتے ہيں : ميں نے كہا : ہر وہ شخص جو مدد كا تقاضا كرتا ہے مستحق نہيں ہو تا ، تو امام نے فرمايا :
ٹھيك ہے ، ليكن ميں اس سے ڈر تا ہوں كہ ان ميں مستحق افراد ہوں اور انہيں غذا نہ ديں اور اپنے گھر كے در واز ے سے دھتكار ديں تو كہيں ہمارے گھر والوں پر وہي مصيبت نہ آن پڑے جو يعقوب اور آل يعقوب پر آن پڑي تھي اس كے بعد آپ نے فرمايا : 
ان سب كو كھا نا دو كہ ( كيا تم نے نہيںسنا ہے كہ ) يعقوب كے لئے ہر روز ايك گو سفند ذبح كياجا تا تھا اس كا ايك حصہ مستحقين كو ديا جاتا تھا ايك حصہ وہ خود اور ان كي اولاد كھا تے تھے ايك دن ايك سائل آيا وہ مو من اور روزہ دار تھا خدا كے نزديك اس كي بڑي قدر ومنزلت تھي وہ شہر ( كنعا ن ) سے گزر ا شب جمعہ تھي افطار كے وقت وہ دروازہٴ يعقوب پر آيا اور كہنے لگا بچي كچي غذا سے مدد كے طالب غريب ومسافر بھو كے مہمان كي مدد كرو ،اس نے يہ بات كئي مر تبہ دہرائي انہوں نے سنا تو سہي ليكن اس كي بات كو باور نہ كيا جب وہ مايوس ہوگيا اور رات كي تاريكي ہر طرف چھا گئي تو وہ لوٹ گيا، جاتے ہو ئے اس كي آنكھوں ميں آنسو تھے اس نے بارگا ہ الٰہي ميں بھوك كي شكا يت كي رات اس نے بھوك ہي ميں گزاري اور صبح اسي طرح روزہ ركھا جب كہ وہ صبر كئے ہو ئے تھا اور خدا كي حمدد ثنا كر تا تھا ليكن حضرت يعقوب اور ان كے گھر والے مكمل طور پر سير تھے اور صبح كے وقت ان كا كچھ كھا نا بچ بھي گيا تھا ۔
امام نے اس كے بعد مزيد فرمايا :خدا نے اسي صبح يعقوب كي طرف وحي بھيجي : اے يعقوب ! تو نے ميرے بند ے كو ذليل و خوار كيا ہے اور ميرے غضب كو بھڑكا يا ہے اور تو اور تيري اولاد نزول سزا كي مستحق ہو گئي ہے اے يعقوب ! ميں اپنے دوستوں كو زيادہ جلدي 7
جناب آدم عليہ السلام كو ”شجرہ ممنوعہ“ كے نزديك جانے سے منع كيا گيا تھا جو كہ تحريمي نہي نہيں تھي بلكہ ايك ترك اوليٰ تھا، ليكن جناب آدم عليہ السلام كي عظمت اور شان كے لحاظ سے اہميت دي گئي، اور اس مخالفت (نہي كراہتي) پر اس قدر تنبيہ كي گئي۔(3)
8سر زنش و ملامت كرتا اور سزا ديتا ہوں اور يہ اس لئے كہ ميں ان سے محبت كرتا ہوں ۔
يہ امر قابل توجہ ہے كہ اس حديث كے بعد ابو حمزہ ثما لي كہتے ہيں : ميں نے امام سجاد عليہ السلام سے پوچھا :يو سف نے وہ خواب كس مو قع پر ديكھا تھا ؟ امام نے فرمايا :اسي رات۔ 
اس حديث سے اچھي طرح معلوم ہو تا ہے كہ انبياء واولياء كے حق ميں ايك چھو ٹي سي لغزش يا زيادہ صريح الفاظ ميں ايك ”ترك اوليٰ“ كہ جو گنا ہ اور معصيت بھي شمار نہيں ہو تا ( كيو نكہ اس سائل كي حالت حضرت يعقوب عليہ السلام پر واضح نہيں تھي ) بعض او قات خدا كي طرف سے ان كي تنبيہ كا سبب بنتا ہے اور يہ صرف اس لئے ہے كہ ان كا بلند وبا لا مقام تقاضا كرتا ہے كہ وہ ہميشہ اپني چھوٹي سے چھوٹي بات اور عمل كي طرف متوجہ رہيں كيونكہ:”حسنات الا برار سيئا ت المقربين “(نيك لوگوں كي نيكياں مقربين (خدا) كے لئے برائي ہوتي ہيں)

(1) نور الثقلين ، جلد ۲، صفحہ ۴۱۱، نقل كتاب علل الشرايع
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۱۲۳
3) سورہ طٰہ ، آيت ۵
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك