سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:365

جادوگروں اور رياضت كرنے والوں كے عجيب وغريب كاموں اور معجزہ ميں كيا فرق ہے؟

۱۔ معجزات ، خداداد طاقت كے بل بوتہ پر ہوتے ہيں۔   
جبكہ جادوگري اور ان كے غير معمولي كارنامے انساني طاقت كا سرچشمہ ہوتے ہيں، لہٰذا معجزات بہت ہي عظيم اور نامحدود ہوتے ہيں، جبكہ جادوگروں كے كارنامے محدود ہوتے ہيں۔
دوسرے الفاظ ميں : جادوگر فقط وہي كام انجام دے سكتے ہيں جن كي انھوں نے تمرين كي ہے، اور اس كام كے انجام دينے كے لئے كافي آمادگي ركھتے ہوں، اگر ان سے كو ئي دوسرا كام انجام دينے كے لئے كہا جائے تو وہ كبھي نہيں كرسكتے، اب تك آپ نے كسي ايسے جادوگر اور رياضت كرنے والے كو نہيں ديكھا ہوگا كہ جو يہ كہتا ہوا نظر آئے كہ جو كچھ بھي تم چاہو ميں اس كوكر دكھاؤں گا، كيونكہ جادوگروں كو كسي خاص كام ميں مہارت اور آگاہي ہوتي ہے۔
يہ صحيح ہے كہ انبياء عليہم السلام لوگوں كي درخواست كے بغير خود اپنے طور پر بھي معجزہ پيش كرتے تھے (جيسے پيغمبر اكرم (ص) نے قرآن كريم پيش كيا، جناب موسيٰ عليہ السلام نے عصا كو اژدہا بناديا، اور آپ كا معجزہ ”يد بيضا“ اسي طرح جناب عيسيٰ عليہ السلام كا مردوں كا زندہ كرنا) ليكن جس وقت ان كي امت ايك نئے معجزہ كي فرمائش كرتي تھي جيسے ”شق القمر“ يا فرعونيوں سے بلاؤں كا دور ہونا، يا حواريوں كے لئے آسمان سے غذائيں نازل ہونا وغيرہ، تو انبياء عليہم السلام ہرگز اس سے ممانعت نہيں كرتے تھے (البتہ اس شرط كے ساتھ كہ ان كي فرمائش حقيقت كي تلاش كے لئے ہو ،نہ صرف بہانہ بازي كے لئے)
لہٰذا جناب موسيٰ عليہ السلام كے واقعہ ميں ملتا ہے كہ فرعونيوں نے ايك طولاني مدت كي مہلت مانگي تاكہ تمام جادوگروں كو جمع كرسكيں، اور پروگرام كے تمام مقدمات فراہم كرليں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
<فَاٴَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا>(1)  ”لہٰذا تم لوگ اپني تدبيروں كو جمع كرو اور صف باندھ كر اس كے مقابلہ ميں آجاؤ“۔
اپني تمام طاقت و توانائي كو جمع كرليں اور اس سے استفادہ كريں، جبكہ جناب موسيٰ عليہ السلام كو ان مقدمات كي كوئي ضرورت نہيں تھي، اور ان تمام جادوگروں سے مقابلہ كرنے كے لئے كسي طرح كي كوئي مہلت نہ مانگي، چونكہ وہ قدرت خدا پر بھروسہ كئے ہوئے تھے، اور جادوگر انساني محدود طاقت كے بل پر يہ كام انجام دينا چاہتے تھے۔
اسي وجہ سے انسان كے غير معمولي كام كا مقابلہ كيا جاسكتا ہے يعني اس كي طرح كوئي دوسرا شخص بھي اس كام كو انجام دے سكتا ہے، اسي وجہ سے كوئي بھي جادوگر يہ چيلنج نہيں كرسكتا كہ كوئي دوسرا مجھ جيسا كام انجام نہيں دے سكتا، جبكہ (معصوم كے علاوہ) كوئي دوسرا شخص (انساني طاقت سے)معجزہ نہيں دكھاسكتا، لہٰذا اس ميں ہميشہ چيلنج ہوتا ہے ، جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: اگر تمام جن و انس مل كر قرآن كے مثل لانا چاہيں تو نہيں لاسكتے!
يہي وجہ ہے كہ جب انسان كے غير معمولي كارنامے، معجزہ كے مقابل آتے ہيں تو بہت ہي  جلد مغلوب ہوجاتے ہيں اور جادو كبھي بھي معجزہ كے مقابل نہيں آسكتا، جس طرح كوئي بھي انسان خداوندعالم سے مقابلہ كي طاقت نہيں ركھتا۔
چنا نچہ نمونہ كے طور پر قرآن مجيد ميں جناب موسيٰ عليہ السلام اور فرعون كے واقعہ كو ملاحظہ كيا جاسكتا ہے كہ فرعون نے مصر كے تمام شہروں سے جادوگروں كو جمع كيا اور مدتوں اس كے مقدمات فراہم كرتا رہا تاكہ اپنے پروگرام كو صحيح طور پر چلا سكے ليكن جناب موسيٰ عليہ السلام كے معجزہ كے سامنے چشم زدن ميں مغلوب ہو گيا۔
۲۔ معجزات چونكہ خداوندعالم كي طرف سے ہوتے ہيں لہٰذا خاص تعليم و تربيت كي ضرورت نہيں ہوتي  جبكہ جادوگرمدتوں سيكھتے ہيں اوربہت زيادہ تمرين كرتے ہيں،اس طرح سے كہ اگر شاگرد نے استاد كي تعليمات كو خوب اچھے طريقہ سے حاصل نہ كياہوتو ممكن ہے كہ لوگوں كے سامنے صحيح طور پر كارنامہ نہ دكھاسكے، جس كے نتيجہ ميں وہ ذليل ہوجائے، ليكن معجزہ كسي بھي وقت بغير كسي مقدمہ كے دكھا يا جا سكتا ہے جبكہ غير معمولي كارنامے آہستہ آہستہ مختلف مہارتوں كے ذريعہ انجام دئے جاتے ہيں يعني كبھي بھي اچانك انجام نہيں پاتے۔
جناب موسيٰ عليہ السلام اور فرعون كے واقعہ ميں اس بات كي طرف اشارہ ہوا كہ فرعون نے جادوگروں پر الزام لگايا كہ موسيٰ تمہارا سردار ہے جس نے تمہيں سحر اور جادو سكھايا ہے:
< إِنَّہُ لَكَبِيرُكُمْ الَّذِي عَلَّمَكُمْ السِّحْر> (2) اسي وجہ سے جادوگر اپنے شاگردوں كو مہينوں يا برسوں سكھاتے ہيں اور ان كے ساتھ تمرين كرتے ہيں۔
۳۔ معجزنما كے اوصاف خود ان كي صداقت كي دليل ہوتي ہے۔
سحر و جادو اور معجزہ كي پہچان كا ايك دوسرا طريقہ يہ ہے كہ صاحب معجزہ اور جادوگروں كے صفات كو ديكھا جاتا ہے، كيونكہ معجزہ دكھانے والا خدا كي طرف سے لوگوں كي ہدايت پر مامور ہوتا ہے لہٰذا اسي لحاظ سے اس ميں صفات پائے جاتے ہيں، جبكہ ساحراور جادوگراور رياضت كرنے والے نہ تو لوگوں كي ہدايت پر مامور ہوتے ہيں اور نہ ہي ان كا يہ مقصد ہو تا ہے ، درج ذيل چيزيں ان كا مقصد ہوا كر تي ہيں:
۱۔ سادہ لوح لوگوں كو غافل كرنا۔
۲۔ عوام الناس كے درميان شہرت حاصل كرنا۔
۳۔ لوگوں كو تماشا دكھا كر كسب معاش كرنا۔
جب انبياء عليہم السلام اور جادوگر ميدان عمل ميں آتے ہيں تو طولاني مدت تك اپنے مقاصد كو مخفي نہيں ركھ سكتے، جيسا كہ فرعون نے جن جادوگروں كو جمع كيا تھا انھوں نے اپنا كارنامہ دكھانے سے پہلے فرعون سے انعام حا صل كرنے كي درخواست كي اور فرعون نے بھي ان سے اہم انعام كا وعدہ ديا:
<قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاٴَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ # قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ الْمُقَرَّبِينَ>(3) 
(جادوگر فرعون كے پاس حاضر ہوگئے اور) انھوں نے كہا كہ اگر ہم غالب آگئے تو كيا ہميں اس كي اجرت ملے گي؟ فرعون نے كہا بے شك تم ميرے دربار ميں مقرب ہوجاؤ گے“۔ 
جبكہ انبياء عليہم السلام نے اس بات كا بارہا اعلان كيا ہے:
<وَمَا اٴَسْاٴَلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اٴَجْرٍ> (4)
”ہم تم سے كوئي اجر طلب نہيں كرتے“۔
((قارئين كرام!) ذكورہ آيت قرآن مجيد ميں متعدد انبياء كے حوالہ سے بيان كي گئي ہے۔)
اصولي طور پر اگر جادوگروں كو فرعون جيسے ظالم و جابر كي خدمت ميں ديكھا جا ئے تو ”جادو“ اور ”معجزہ“ كي پہچان كے لئے كافي ہے۔
يہ بات كہے بغير ہي واضح ہے كہ انسان اپنے افكار كو مخفي ركھنے ميں خواہ كتنا ہي ماہر ہو پھر بھي اس كے اعمال و كردار سے اس كا حقيقي چہرہ سامنے آجاتا ہے۔
خلاصہ يہ ہے كہ ان جيسے لوگوں كي سوانح عمري اور ان كے غير معمولي كارناموں كو انجام دينے كے طريقہ كار ، اسي طرح مختلف اجتماعي امور ميں ان كي يكسوئي اور ان كي رفتار و گفتار اور ان كا اخلاق ”سحر و جادو“ اور ”معجزہ“ ميں تميز كرنے كے لئے بہترين رہنما ہے، اور گزشتہ بحث ميں بيان كئے ہوئے فرق كے علاوہ يہ راستہ بہت آسان ہے جس سے انسان سحرو جادو اور معجزہ كے درميان فرق كرسكتا ہے۔
قرآن مجيد نے بہت دقيق و عميق الفاظ كے ساتھ اس حقيقت كي طرف اشارہ كيا ہے، ايك جگہ ارشاد ہوتا ہے:
< قَالَ مُوسَيٰ مَا جِئْتُمْ بِہِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَيُبْطِلُہُ إِنَّ اللهَ لايُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ >(5)
”پھر جب ان لوگوں نے رسيوں كو ڈال ديا تو موسيٰ نے كہا كہ جو كچھ تم لے آئے ہو يہ جادو ہے اور اللہ اس كو بے كار كردے گا كہ وہ مفسدين كے عمل كو درست نہيں ہونے ديتا“۔
جي ہاں جادو گر،مفسد ہوتے ہيں اور ان كے اعمال باطل ہوتے ہيں، اور ان كے اس كام كے ذريعہ معاشرہ كي اصلاح نہيں كي جاسكتي۔
ايك دوسرے مقام پر خداوند عالم نے جناب موسيٰ عليہ السلام سے خطاب فرمايا: <لاَتَخَفْ إِنَّكَ اٴَنْتَ الْاٴَعْليٰ > (6)”(ہم نے كہا كہ) موسيٰ ڈرو نہيں تم بہر حال غالب رہنے والے ہو“۔
اس كے بعد ارشاد ہوتا ہے:
< وَاٴَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلاَيُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اٴَتَيٰ > (7)
” اور جو كچھ تمہارے ہاتھ ميں ہے اُسے ڈال دو يہ ان كے سارے كئے دھرے كو چن لے گا، ان لوگوں نے جو كچھ كيا ہے وہ صرف جادوگر كي چال ہے اور بس،اور جادوگر جہاں بھي جائے كبھي كامياب نہيں ہوسكتا “۔
جي ہاں جادوگر چا ل بازي اور دھوكہ دھڑي سے كام ليتے ہيں اور طبيعي طور پر يہي مزاج ركھتے ہيں، يہ لوگ دھوكہ دھڑي كرتے رہتے ہيں ان كے صفات اور كارناموں كو ديكھ كر بہت ہي جلد ان كو پہچانا جاسكتا ہے، جبكہ انبياء عليہم السلام كا اخلاص، صداقت او رپاكيزگي ان كے لئے ايك سند ہے جو معجزہ كے ساتھ مزيد ہدايت گر ثابت ہوتي ہے۔(8)

(1) سورہٴ طہ ، آيت۶۴
(2) سورہٴ طہ ، آيت۷۱
(3) سورہٴ اعراف ، آيت۱۱۳۔ ۱۱۴ (4)سورہٴ شعراء ، آيت۱۰۹
(5) سورہٴ يونس ، آيت۸۱
(6) سورہٴ طہ ، آيت۶۸
(6)سورہٴ طہ ، آيت۶۹
(8) تفسير پيام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۸۸
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك