سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:400

كيا عصمت انبياء جبري طور پر ہے؟

بہت سے لوگ جب عصمت انبياء كي بحث كا مطالعہ كرتے ہيں تو فوراً ان كے ذہن ميں يہ سوال اٹھتا ہے كہ مقام عصمت ايك الٰہي عطيہ ہے جو انبياء اور ائمہ (عليہم السلام) كو لازمي طور پر ديا جاتا ہے، اور جس كو يہ خدا داد نعمت مل جاتي ہے تو وہ گناہ اور خطاؤں سے محفوظ ہوجاتا ہے، لہٰذا ان كا معصوم ہونا كوئي فضيلت اور قابل افتخار نہيں ہوگا، جو شخص بھي اس الٰہي نعمت سے بہرہ مند ہوجائے تو وہ (خود بخود) تمام گناہوں اور خطاؤں سے پرہيز كرے گا ، اور يہ اللہ كي طرف سے جبري طورپر ہے۔
لہٰذا مقامِ عصمت كے ہوتے ہوئے گناہ اور خطا كا مرتكب ہونا محال ہے، جبكہ يہ بات بھي واضح ہے كہ ”محال كو چھوڑ دينا“ كوئي فضيلت نہيںہوتي، مثال كے طور پر اگر ہم سو سال بعد پيدا ہونے والے يا سو سال پہلے گزرنے والوں پر ظلم و ستم نہيں كرسكتے،تو يہ ہمارے لئے كوئي باعث افتخار نہيں ہے، كيونكہ ايسا كرنا ہمارے امكان سے باہر ہے!!
مذ كورہ اعتراض اگرچہ ”عصمت انبياء“ پر نہيں ہے بلكہ عصمت كي فضيلت گھٹانے كے لئے ہے، ليكن پھر بھي درج ذيل چند نكات پر توجہ كرنے سے اس سوال كا جواب واضح ہوجائے گا۔
۱۔ جو لوگ يہ اعتراض كرتے ہيں، ان كي توجہ ”عصمت انبياء“ پر نہيں ہوتي، بلكہ ان لوگوں كا گمان ہے كہ مقام عصمت ، بيماريوں كے مقابلہ ميں بچاؤ كي طرح ہے، جيسا كہ بعض بيماريوں سے بچنے كے لئے ٹيكے لگائے جاتے ہيں، جن كي بنا پر وہ بيمارياں نہيں آتيں۔
ليكن معصومين ميں گناہ كے مقابل يہ تحفظ ان كي معرفت ،علم اور تقويٰ كي بنياد پر ہوتا ہے، بالكل اسي طرح جس طرح ہم بعض چيزوں كا علم ركھتے ہيں اور يقين ركھتے ہيں كہ يہ كام بُرا ہے، مثلاً ہم كبھي بھي بالكل برہنہ ہوكر گلي كوچوں ميں نہيں گھومتے، اسي طرح جو شخص نشہ آور چيزوں كے استعمال كے نقصان كے بارے ميں كافي معلومات ركھتا ہے كہ اس سے انسان آہستہ آہستہ موت كي آغوش ميں چلاجاتاہے؛ وہ اس كے قريب تك نہيں جاتا، يقينا اس طرح نشہ آور چيزوں كو ترك كرنا انسان كے لئے فضيلت اور كمال ہے، ليكن اس ميں كسي طرح كا كوئي جبري پہلو نہيں ہے، كيونكہ انسان نشہ آورچيزوں كے استعمال ميں آزاد ہے۔
اسي وجہ سے ہم كوشش كرتے ہيں كہ لوگوں ميں تعليم و تربيت كے ذريعہ علم ومعرفت اور تقويٰ كي سطح كو بلند كريں تاكہ ان كو بڑے بڑے گناہوں اوربرے اعمال كے ارتكاب سے بچاليں۔
جو لوگ اس تعليم و تربيت كے نتيجہ ميں بعض بُرے اعمال كو ترك كرتے ہوئے نظر آئيں تو كيا ان كے لئے يہ فضيلت اور افتخاركا مقام نہيں ہے؟!
دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں تو بہتر ہوگا كہ انبياء كے لئے يہ ”محالِ عادّي“ ہے ”محالِ عقلي“ نہيں ، كيونكہ ہم يہ بات جانتے ہيں كہ ”محال عادّي“ انسان كے اختيار ميں ہوتا ہے، ”محال عادّي“ كي مثال اس طرح تصور كريں كہ ايك عالم اور مومن مسجد ميں شراب لے جاسكتا ہے اور نماز جماعت كے دوران شراب پي سكتا ہے،( ليكن عادتاً مومن افراد اس طرح نہيں كرتے) يہ محال عقلي نہيں بلكہ ”محال عادّي“ ہے۔
مختصر يہ كہ انبياء عليہم السلام چونكہ معرفت و ايمان كے بلند درجہ پر فائز ہوتے ہيں جو خود ايك عظيم فضيلت اور افتخار ہے، جو دوسري فضيلت اور افتخار كا سبب ہوتے ہيں اسي فضيلت كو عصمت كہتے ہيں۔(غور فرمائيے گا)
اور اگر يہ كہا جائے كہ يہ ايمان اور معرفت كہاں سے آئي، تو اس كا جواب يہ ہے كہ يہ عظيم ايمان اور معرفت خداوندعالم كي امداد سے حاصل ہوئي ہے، ليكن اس وضاحت كے ساتھ كہ خداوندعالم كي امداد بے حساب و كتاب نہيں ہے، بلكہ ان ميں ايسي لياقت اور صلاحيت موجود تھي ، جيسا كہ قرآن مجيد حضرت ابراہيم خليل خدا كے بارے ميں ارشاد فرماتا ہے كہ جب تك انھوں نے الٰہي امتحان نہ دے ليا تو ان كو لوگوں كا امام قرار نہيں ديا گيا، جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے:
<وَإِذْ ابْتَلَي إِبْرَاہِيمَ رَبُّہُ بِكَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا>(1)
يعني جناب ابراہيم عليہ السلام اپنے ارادہ و اختيار سے ان مراحل كو طے كرنے كے بعد عظيم الٰہي نعمت سے سرفراز ہوئے۔
اسي طرح جناب يوسف عليہ السلام كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: ” جس وقت وہ بلوغ اور طاقت نيز جسم و جان كے تكامل و ترقي تك پہنچے (اور وحي قبول كرنے كے لئے تيار ہوگئے) تو ہم نے ان كو علم و حكمت عنايت فرمايا اور اس طرح ہم نيك لوگوں كو جزا ديتے ہيں“
<وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ آتَيْنَاہُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ> (2)
آيت كا يہ حصہ <َكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ> ہماري بات پربہترين دليل ہے كيونكہ اس ميں ارشاد ہوتا ہے كہ (جناب) يوسف كے نيك اور شائستہ اعمال كي وجہ سے ان كو خدا كي عظيم نعمت حاصل ہوئي۔
اسي طرح جناب موسيٰ عليہ السلام كے بارے ميں ايسے الفاظ ملتے ہيں جو اسي حقيقت كو واضح كرتے ہيں، ارشاد خداوندي ہوتا ہے: ” ہم نے بارہا تمہارا امتحان ليا ہے، اور تم نے برسوں اہل   ”مدين“ كے يہاں قيام كيا ہے (اور ضروري تيار ي كے بعد امتحانات كي بھٹي سے سرفراز اور كامياب نكل آئے) تو آپ كو بلند مقام اور درجات حاصل ہوئے:
<وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي اٴَہْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَي قَدَرٍ يَامُوسَي>(3)(4) ”اور تمہارا باقاعدہ امتحان ليا پھر تم اہل مدين ميں كئي برس تك رہے اس كے بعد تم ايك منزل پر آگئے اے موسيٰ“۔
يہ بات معلوم ہے كہ ان عظيم الشان انبيا ء ميں استعداد اور صلاحيت پائي جاتي تھي ليكن ان كو بروئے كار لانے كے لئے كوئي جبري پہلو نہيں تھا، بلكہ اپنے ارادے و اختيار سے اس راستہ كو طے كيا ہے، بہت سے لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں كہ ان ميں بہت سي صلاحيت اور لياقت پائي جاتي ہيں ليكن ان سے استفادہ نہيں كرتے، يہ ايك طرف ۔
دوسري طرف اگر انبياء عليہم السلام كو اس طرح كي عنايات حاصل ہوئي ہيں تو ان كے مقابل ان كي ذمہ دارياں بھي سخت تر ہيں، يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ خداوندعالم جس مقدار ميں انسان كو ذمہ داري ديتا ہے اسي لحاظ سے اسے طاقت بھي ديتا ہے، اور پھر اس ذمہ داري كے نبھانے پر امتحان ليتا ہے۔
۲۔ اس سوال كا ايك دوسرا جواب بھي ديا جاسكتا ہے وہ يہ كہ فرض كيجئے كہ انبياء عليہم السلام خدا كي جبري امداد كي بنا پرہر طرح كے گناہ اور خطا سے محفوظ رہتے ہيں تاكہ عوام الناس كے اطمينان ميں مزيد اضافہ ہوجائے، اور يہ چيز ان كے لئے چراغ ہدايت بن جائے، ليكن ”ترك اوليٰ“ كا احتمال باقي رہتا ہے، يعني ايسا كام جو گناہ نہيں ہے ليكن انبياء عليہم السلام كي شان كے مطابق نہيں ہے۔  
رسالت حاصل كرنے كے لئے جو زمانہ معين كيا گيا تھا اس كے معني كئے گئے ہيں
انبياء كا افتخار يہ ہے كہ ان سے ترك اوليٰ تك نہيں ہوتا، اور يہ ان كے لئے ايك اختياري چيزہے، اور اگر بعض انبياء عليہم السلام سے بہت ہي كم ترك اوليٰ ہوا ہے تو اسي لحاظ سے مصائب و بلا ميں گرفتار ہوئے ہيں، تو اس سے بڑھ كر اور كيا فضيلت ہوگي كہ وہ اطاعت الٰہي ميں كوئي ترك اوليٰ بھي نہيں كرتے۔
اس بنا پر انبياء عليہم السلام كے لئے با عث افتخارہے كہ خدا كي عطا كردہ نعمتوں كے مقابل ذمہ داري بھي زياہ ہوتي ہے اور ترك اوليٰ كے قريب تك نہيں جاتے، اور اگر بعض موارد ميں ترك اوليٰ ہوتا ہے تو فوراً اس كي تلافي كرديتے ہيں۔(5)

(1) سورہٴ بقرہ ، آيت۱۲۴ 
(2) سورہٴ يوسف ، آيت۲۲
(3)سورہٴ طہ ، آيت۴۰
(4) جملہ < ثُمَّ جِئْتَ عَلَي قَدَرٍ يَامُوسَي ٰ> سے كبھي وحي كے قبول كرنے كي لياقت اور صلاحيت كے معني لئے گئے ہيں اور كبھي
(5) تفسير پيام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۹۳
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك