سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:406

كيا معراج ،آج كے علوم سے ہم آہنگ ہے

گزشتہ زمانے ميں بعض فلاسفہ بطليموس كي طرح يہ نظريہ ركھتے تھے كہ نو آسمان پياز كے چھلكے كي طرح تہہ بہ تہہ ايك دوسرے كے اوپر ہيں واقعہٴ معراج كو قبول كرنے ميں ان كے لئے سب سے بڑي ركاوٹ ان كا يہي نظريہ تھا ان كے خيال ميں اس طرح تويہ ماننا پڑتا ہے كہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پھر آپس ميں مل گئے؟
ليكن” بطليموسي “نظريہ ختم ہو گيا تو آسمانوں كے شگافتہ ہونے كا مسئلہ ختم ہوگيا البتہ علم ہيئت ميں جو ترقي ہوئي ہے اس سے معراج كے سلسلے ميں نئے سوالات ابھر ے ہيں مثلاً:
۱۔ايسے فضائي سفر ميں پہلي ركاوٹ كششِ ثقل ہے جس پر كنٹرول حاصل كرنے كے لئے غير معمولي وسائل و ذرائع كي ضرورت ہے كيونكہ زمين كے مداراور مركزِ ثقل سے نكلنے كےلئے كم از كم چاليس ہزار كلو ميٹر في گھنٹہ رفتار كي ضرورت ہے ۔  
۲۔دوسري ركاوٹ يہ ہے كہ زمين كے باہر خلا ميں ہوا نہيں ہے جبكہ ہوا كے بغير انسان زندہ نہيں رہ سكتا
(1)بعض قديم فلاسفہ كا يہ نظريہ تھا كہ آسمانوں ميں ايسا ہونا ممكن نہيں ہے ، اصطلاح ميں وہ كہتے تھے كہ افلاك ميں --”خرق “(پھٹنا)اور ”التيام“(ملنا)ممكن نہيں 
۳۔ايسے سفر ميں تيسري ركاوٹ اس حصہ ميں سورج كي جلادينے والي تپش ہے جبكہ جس حصہ پر سورج كي بلا واسطہ روشني پڑرہي ہے اور اسي طرح اس حصہ ميں جان ليوا سردي ہے جس ميں سورج كي روشني نہيں پڑرہي ہے۔
۴۔ اس سفر ميں چوتھي ركاوٹ وہ خطرناك شعاعيں ہيں كہ جو فضا ئے زمين كے اوپر موجود ہيں مثلا كا سمك ريز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ريز ultra violet ravsاور ايكس ريز x ravsيہ شعاعيں اگر تھوڑي مقدار ميں انساني بدن پر پڑيں تو بدن كے ارگانزم organismكے لئے نقصان دہ نہيں ہيں ليكن فضائے زمين كے باہر يہ شعاعيں بہت تباہ كن ہوتي ہيں (زمين پر رہنے والوں كے لئے زمين كے اوپر موجودہ فضاكي وجہ سے ان كي تپش ختم ہوجاتي ہے )
۵۔اس سلسلہ ميں ايك اور مشكل يہ ہے كہ خلاميں انسان كا وزن ختم ہوجاتا ہے اگرچہ تدريجاًبے وزني كي عادت پيدا كي جاسكتي ہے ليكن اگر زمين كے باشندہ بغير كسي تياري اور تمہيد كے خلا ميں جا پہنچيں تو اس كيفيت سے نمٹنا بہت ہي مشكل ہے ۔
۶۔اس سلسلہ ميں آخري مشكل زمانہ كي مشكل ہے اور يہ نہايت اہم ركاوٹ ہے كيونكہ دورحاضر كے سائنسي علوم كے مطابق روشني كي رفتار ہر چيز سے زيادہ ہے اور اگر كوئي آسمانوں كي سير كرنا چاہے تو ضروري ہو گاكہ اس كي رفتار اس سے زيادہ ہو ۔ 
ان سوالات كے پيش نظر چندچيزوں پر توجہ ضروري ہے:  
۱۔ہم جانتے ہيں كہ فضائي سفر كي تمام تر مشكلات كے باوجود آخر كار انسان علم كي قوت سے اس پر دسترس حاصل كرچكا ہے اور سوائے زمانے كي مشكل كے باقي تمام مشكلات حل ہوچكي ہيں اور زمانے والي مشكل بھي بہت دور كے سفر سے مربوط ہے ۔
۲۔اس ميں شك نہيں كہ مسئلہ معراج عمومي اور معمولي پہلو نہيں ركھتا تھابلكہ يہ اللہ كي لامتناہي قدرت و طاقت كے ذريعہ صورت پذير ہوا اور انبياء كے تمام معجزات اسي قسم كے تھے۔  
زيادہ واضح الفاظ ميں يہ كہا جاسكتا ہے كہ معجزہ عقلاً محال نہيں ہونا چاہئے اور جب معجزہ بھي عقلاً ممكن ہے ، توباقي معاملات اللہ كي قدرت سے حل ہوجاتے ہيں ۔
جب انسان يہ طاقت ركھتا ہے كہ سائنسي ترقي كي بنياد پر ايسي چيزيں بنالے جو زميني مركز ثقل سے باہر نكل سكتي ہيں ، ايسي چيزيں تيار كرلے كہ فضائے زمين سے باہر كي ہولناك شعاعيں ان پر اثر نہ كرسكيں، اور ايسے لباس پہنے كہ جو اسے انتہائي گرمي اور سردي سے محفوظ ركھ سكيں اور مشق كے ذريعہ بے وزني كي كيفيت ميں رہنے كي عادت پيدا كرلے ،يعني جب انسان اپني محدود قوت كے ذريعہ يہ كام كرسكتا ہے تو پھر كيا اللہ اپني لا محدود طاقت كے ذريعہ يہ كام نہيں كرسكتا ؟
ہميں يقين ہے كہ اللہ نے اپنے رسول كو اس سفر كے لئے انتہائي تيز رفتار سواري دي تھي اور اس سفرميں در پيش خطرات سے محفوظ رہنے كے لئے انہيں اپني مدد كا لباس پہنايا تھا ،ہاں يہ سواري كس قسم كي تھي اور اس كا نام كيا تھا، براق ؟ رفرف ؟ يا كوئي اور ؟يہ مسئلہ قدرت كاراز ہے، ہميں اس كا علم نہيں ۔
ان تمام چيزوں سے قطع نظر تيز ترين رفتار كے بارے ميں مذكورہ نظريہ آج كے سائنسدانوں كے درميان متزلزل ہوچكا ہے اگر چہ آئن سٹائن اپنے مشہور نظريہ پر پختہ يقين ركھتا ہے۔
آج كے سائنسداں كہتے ہيں كہ امواج جاذبہRdvs of at f fion " " زمانے كي احتياج كے بغير آن واحد ميں دنيا كي ايك طرف سے دوسري طرف منتقل ہوجاتي ہيں اور اپنا اثر چھوڑتي ہيں يہاں تك كہ يہ احتمال بھي ہے كہ عالم كے پھيلاؤ سے مربوط حركات ميں ايسے نظام موجودہيں كہ جوروشني كي رفتارسے زيادہ تيزي سے مركزِ جہان سے دور ہوجاتے ہيں (ہم جانتے ہيں كہ كائنات پھيل رہي ہے اور ستارے اورشمسي نظام تيزي كے ساتھ ايك دوسرے سے دور ہورہے ہيں) (غور كيجئے )
مختصر يہ كہ اس سفر كے لئے جو بھي مشكلات بيان كي گئي ہيں ان ميں سے كوئي بھي عقلي طور پر اس راہ ميں حائل نہيں ہے اور ايسي كوئي بنياد نہيں كہ واقعہٴ معراج كو عقلي طورپر محال سمجھا جائے ،اس راستہ ميں درپيش مسائل كو حل كرنے كے لئے جو وسائل دركار ہيں وہ موجود ہوں تو ايسا ہوسكتا ہے ۔
بہرحال واقعہٴ معراج نہ تو عقلي دلائل كے حوالہ سے ناممكن ہے اور نہ دور حاضر كے سائنسي معياروں كے لحاظ سے ، البتہ اس كے غير معمولي اور معجزہ ہونے كو سب قبول كرتے ہيں لہٰذا جب قطعي اور يقيني نقلي دليل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول كرلينا چاہئے۔(1) (2)

 (1)معراج ، شق القمر اور دونوں قطبوں ميں عبادت كے سلسلہ ميں ہماري كتاب ”ہمہ مي خو اہند بدا نند“ ميں رجو ع فر مائيں 
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷
دن كي تصوير
ويڈيو بينك