سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:333

معراج؛ جسماني تھي يا روحاني اور معراج كا مقصد كيا تھا؟

شيعہ ،سني تمام علمائے اسلام كے درميان مشہور ہے كہ رسول اسلام كو يہ عالم بيداري ميں معراج ہوئي، چنا نچہ سورہ بني اسرائيل كي پہلي آيت اور سورہ نجم كي آيات كا ظاہري مفہوم بھي اس بات پر گواہ ہے كہ يہ بيداري كي حالت ميں معراج ہوئي۔
اسلامي تواريخ بھي اس بات پر گواہ ہيں چنا نچہ بيان ہوا ہے : جس وقت رسول اللہ نے واقعہٴ معراج كو بيان كيا تو مشركين نے شدت كے ساتھ اس كا انكار كرديا اور اسے آپ كے خلاف ايك بہانہ بناليا۔
يہ بات خود اس چيز پرگواہ ہے كہ رسول اللہ (ص)ہرگز خواب يا روحاني معراج كے مدعي نہ تھے ورنہ مخالفين اتناشور وغل نہ كرتے ۔
ليكن جيساكہ حسن بصري سے روايت ہے : ”كان في المنام روٴيا رآہا“ (يہ واقعہ خواب ميں پيش آيا )
اور اسي طرح حضرت عائشہ سے روايت ہے : ” والله ما فقد جسد رسول الله (ص) ولكن عرج بروحہ“
”خداكي قسم بدن ِرسول اللہ (ص)ہم سے جدا نہيں ہوا صرف آپ كي روح آسمان پر گئي“۔
ظاہراً ايسي روايات سياسي پہلو ركھتي ہيں۔(1)    
معراج كا مقصد  
يہ بات ہمارے لئے واضح ہے كہ معراج كا مقصد يہ نہيں كہ رسول اكرم ديدار خدا كے لئے آسمانوں پر جائيں، جيسا كہ سادہ لوح افرادخيال كرتے ہيں، افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ بعض مغربي دانشور بھي ناآگاہي كي بنا پر دوسروں كے سامنے اسلام كا چہرہ بگاڑكر پيش كرنے كے لئے ايسي باتيں كرتے ہيں جس ميں سے ايك مسڑ” گيور گيو“ بھي ہيں وہ بھي كتاب ”محمد وہ پيغمبر ہيں جنہيں پھرسے پہچاننا چاہئے“(2) ميں كہتے ہيں:”محمد اپنے سفرِ معراج ميں ايسي جگہ پہنچے كہ انہيں خدا كے قلم كي آواز سنائي دي، انہوں نے سمجھا كہ اللہ اپنے بندوں كے حساب كتاب ميں مشغول ہے البتہ وہ اللہ كے قلم كي آواز تو سنتے تھے مگر انہيں اللہ دكھائي نہ ديتا تھا كيونكہ كوئي شخص خدا كو نہيں ديكھ سكتا خواہ پيغمبر ہي كيوں نہ ہوں“
يہ عبارت نشاندھي كرتي ہے كہ وہ قلم لكڑي كا تھا، اور وہ كاغذ پر لكھتے وقت لرزتاتھا اور اس سے آواز پيدا ہوتي تھي ،اوراسي طرح كي اور بہت سے خرافات اس ميں موجود ہيں “۔ 
جب كہ مقصدِ معراج يہ تھا كہ اللہ كے عظيم پيغمبر كائنات بالخصوص عالم بالا ميں موجودہ عظمت الٰہي كي نشانيوں كا مشاہدہ كريں اور انسانوں كي ہدايت ورہبري كے لئے ايك نيا احساس اور ايك نئي بصيرت حاصل كريں  ۔ معراج كاہدف واضح طورپر سورہٴ بني اسرائيل كي پہلي آيت اور سورہٴ نجم كي آيت ۱۸ ميں بيان ہوا ہے۔
اس سلسلہ ميں ايك روايت امام صادق عليہ السلام سے بيان ہوئي ہے جس ميں آپ سے مقصد معراج پوچھا گيا تو آپ نے فرمايا :
”إنَّ الله لا يُوصف بمكانٍ ،ولايُجري عليہ زمان ،ولكنَّہ عزَّوجلَّ اٴرادَ اٴنْ يشرف بہ ملائكتہ وسكان سماواتہ، و يكرَّمھم بمشاھدتہ ،ويُريہ من عجائب عظمتہ مايخبر بہ بعد ھبوطہ“ (3) 
”خدا ہرگز كوئي مكان نہيں ركھتا اور نہ اس پر كوئي زمانہ گزرتاہے ليكن وہ چاہتا تھا كہ فرشتوں اور آسمان كے باشندوں كو اپنے پيغمبر كي تشريف آوري سے عزت بخشے اور انہيں آپ كي زيارت كا شرف عطاكرے نيزآپ كو اپني عظمت كے عجائبات دكھائے تاكہ واپس آكران كولوگوں كے سا منے بيان كريں“۔ (4)

(1)تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۵
(2)مذكورہ كتاب كے فارسي ترجمہ كا نام ہے “ محمد پيغمبري كہ از نوبايد شناخت “ صفحہ ۱۲۵
(3) تفسير برہان ، جلد ۲، صفحہ ۴۰۰
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۶
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك