سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:362

كيا پيغمبر اكرم (ص) امّي تھے؟

”اُمّي“ كے معني ميں تين مشہور احتمال پائے جاتے ہيں: پہلا احتمال يہ ہے كہ ”اُمّي“ يعني جس نے سبق نہ پڑھا ہو، دوسرا احتمال يہ ہے كہ ”اُمّي“ يعني جس كي جائے پيدائش مكہ ہو اور مكہ ميںظاہر ہوا ہو، اور تيسرے معني يہ ہيں كہ ”اُمّي“ يعني جس نے قوم او رامت كے درميان قيام كيا ہو، ليكن سب سے زيادہ مشہور و معروف پہلے معني ہيں، جو استعمال كے موارد سے بھي ہم آہنگ ہيں، اور ممكن ہے تينوں معني باہم مراد ہوں۔
اس سلسلہ ميں كوئي اختلاف نہيں ہے،كہ”پيغمبر اكرم (ص)كسي مكتب اور مدرسہ ميں نہيں گئے “اور قرآن كريم نے بھي بعثت سے پہلے آنحضرت (ص) كے بارے ميں وضاحت كے ساتھ بيان كيا ہے:< وَمَا كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِہِ مِنْ كِتَابٍ وَلاََتخُطُّہُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ>(1)
”اور اے پيغمبر! آپ اس قرآن سے پہلے نہ كوئي كتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے كچھ لكھتے تھے ورنہ يہ اہل باطل شبہ ميں پڑجاتے“۔
يہ بات حقيقت ہے كہ اس وقت پورے حجاز ميں پڑھے لكھے لوگ اتنے كم تھے كہ ان كي تعداد انگشت شمار تھي اور سبھي ان كوجا نتے تھے، مكہ ميں جو حجاز كا مركز شمار كيا جاتا تھا لكھنے پڑھنے والوں كي تعداد ۱۷/ سے زيادہ نہيں تھي اور عورتوں ميں صرف ايك عورت پڑھي لكھي تھي۔(2)
ايسے ماحول ميں اگر پيغمبر اكرم (ص) نے كسي استاد سے تعليم حاصل كي ہوتي تو يقيني طور پريہ بات مشہور ہوجاتي، بالفرض اگر (نعوذ باللہ) آنحضرت (ص)كي نبوت كو قبول نہ كريں، تو پھر آپ اپني كتاب ميں اس موضوع كي نفي كيسے كرسكتے تھے؟ كيا لوگ اعتراض نہ كرتے كہ تم نے تعليم حاصل كي ہے، لہٰذا يہ بہترين شاہدہے كہ آپ نے كسي كے پاس تعليم حاصل نہيں كي ہے۔
بہر حال پيغمبر اكرم (ص) ميں اس صفت كا ہونا نبوت كے اثبات كے لئے زيادہ بہتر ہے جس سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ جس شخص نے كہيں كسي سے تعليم حاصل نہ كي ہو وہ اس طرح كي عمدہ گفتگوكرتا ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے كہ آنحضرت (ص) كا خداوندعالم اور عالم ماوراء طبيعت سے واقعاً رابطہ ہے۔ 
يہ آنحضرت (ص) كي بعثت نبوت سے پہلے، ليكن بعثت كے بعد بھي كسي تاريخ نے نقل نہيں كيا كہ آپ نے كسي كے پاس لكھناپڑھنا سيكھا ہو، لہٰذا معلوم يہ ہو ا كہ آپ اولِ عمر سے آخر ِعمر تك اسي ”اُمّي“ صفت پر باقي رہے۔
ليكن يہاں پر سب سے بڑي غلط فہمي يہ ہے جس سے اجتناب كرنا ضروري ہے وہ يہ كہ تعليم حاصل نہ كرنے كے معني جاہل ہونا نہيں ہے، اور جو لوگ لفظ ”اُمّي“ كے جاہل معني كرتے ہيں وہ اس فرق كي طرف متوجہ نہيں ہيں۔
اس بات ميں كوئي مانع نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) تعليم الٰہي كے ذريعہ ”پڑھنا“ يا ”پڑھنا  اور لكھنا“ جانتے ہوں، بغير اس كے كہ كسي انسان كے پاس تعليم حاصل كي ہو، بے شك اس طرح كي معلومات انساني كمالات ميں سے ہيں اور مقام نبوت كے لئے ضروري ہيں۔
حضرات ائمہ معصومين عليہم السلام سے منقول روايات اس بات پر بہترين شاہد ہيں، جن ميں بيان ہوا ہے : پيغمبر اكرم (ص) لكھنے پڑھنے كي قدرت ركھتے تھے۔(3)
ليكن ان كي نبوت ميں كہيں كوئي شك نہ كرے اس قدرت سے استفادہ نہيں كرتے تھے،اور جيسا كہ بعض لوگ كہتے ہيں كہ لكھنے پڑھنے كي طاقت كوئي كمال محسوب نہيں ہوتي، بلكہ يہ دونوں علمي كمالات تك پہنچنے كے لئے كنجي كي حيثيت ركھتے ہيں نہ كہ علم واقعي اور كمال حقيقي، تو اس كا جواب بھي اسي ميں مخفي ہے كيونكہ كمالات كے وسائل سے آگاہي ركھنا خود ايك واضح كمال ہے۔ليكن جيسا كہ بعض لوگوں كا تصور ہے جس طرح كہ سورہ جمعہ ميں بيان ہوا ہے:
< يَتْلُوا عَلَيْہِمْ آيَاتِہِ وَيُزَكِّيہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ>(4) يا اس كے ماننددوسري آيات، اس بات كي دليل ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) لوگوں كے سامنے لكھي ہوئي كتاب (قرآن) سے پڑھتے تھے، يہ بھي ايك غلط فہمي ہے، كيونكہ تلاوت كے معني لكھي ہوئي كتاب پڑھنا بھي ہيں اور زباني طور پر پڑھنا بھي، جو لوگ قرآن، اشعار يا دعاؤں كو زباني پڑھتے ہيں ان پر بھي تلاوت كا اطلاق بہت زيادہ ہو تا ہے۔(5)

(1) سورہ عنكبوت ، آيت   ۴۸
(2) فتوح البلدان بلاذري ،مطبوعہ مصر، صفحہ ۴۵۹
(3) تفسير برہان ، جلد ۴، صفحہ ۳۳۲، سورہٴ جمعہ كي پہلي آيت كے ذيل ميں
(4) سورہ جمعہ ، آيت ۲”(وہ رسول) انھيں كے سامنے آيات كي تلاوت كرے ان كے نفوس كو پاكيزہ بنائے اور انھيں كتاب و حكمت كي تعليم دے“۔
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۴۰۰
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك