سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:413

وحي كي اسرار آميز حقيقت كيا ہے؟

اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ ہم ”وحي“ كي حقيقت كے بارے ميں بہت زيادہ معلومات حاصل نہيں كرسكتے، كيونكہ وحي ايك ايسا”ادراك“ ہے جوہمارے ادراك اور سمجھ كي حد سے باہرہے، بلكہ يہ ايك ايسا رابطہ ہے جوہمارے جانے پہچانے ہوئے ارتباط سے باہر ہے، پس ہم عالم وحي سے اس لئے آشنا نہيں ہو سكتے كہ يہ ہماري سمجھ سے باہر ہے۔
لہٰذاايك خاكي انسان عالم ہستي سے كس طرح رابطہ پيداكرسكتا ہے؟ اور خداوندعالم جو ازلي، ابدي اور ہر لحاظ سے لامحدود ہے كس طرح محدود او رممكن الوجود سے رابطہ برقرار كرتا ہے؟ وحي نازل ہوتے وقت پيغمبر اكرم (ص) كس طرح يقين كرتے تھے كہ يہ رابطہ خدا كي طرف سے ہے؟!
يہ تمام ايسے سوالات ہيں جن كا جواب دينا مشكل ہے، اور اس كے سمجھنے كے لئے زيادہ كوشش كرنا (بھي) بے كار ہے۔
ہم يہاں يہ عر ض كرتے ہيں كہ اس طرح كارابطہ موجود ہے،چنانچہ ہمارا يہ نظريہ ہے كہ اس طرح كے رابطہ كي نفي پر كوئي عقلي دليل موجود نہيں ہے، بلكہ اس كے برخلاف اپني اس دنيا ميں بھي كچھ ايسے راز ہوتے ہيں جن كو ہم بيان كرنے سے عاجز ہيں، اور ان خاص رابطوں كے پيش نظر ہميں اندازہ ہوجاتا ہے كہ ہمارے احساس اور رابطہ كے مافوق بھي احساس، ادراك اور آنكھيں موجود ہيں۔
مناسب ہے كہ اس بات كو واضح كرنے كے لئے ايك مثال كا سہارا ليا جائے۔
فرض كيجئے كہ ہم كسي ايسے شہر ميں زندگي بسر كرتے ہوں جہاں پر صرف اور صرف نابينا لوگ رہتے ہوں (البتہ پيدائشي نابينا ) اوروہاں صرف ہم ہي ديكھنے والے ہوں، شہر كے تمام لوگ”چار حسّ “ والے ہوں (اس فرض كے ساتھ كہ انسان كي پانچ حس ہوتي ہيں)اور صرف ہم ہي ”پانچ حس “والے ہوں، ہم اس شہر ميں ہونے والے مختلف واقعات كو ديكھتے ہيں اور شہر والوں كو خبر ديتے ہيں، ليكن وہ سب تعجب كرتے ہيں كہ يہ پانچويں حس كيا چيز ہے،جس كي كاركردگي كا دائرہ اتنا وسيع ہے؟ اور ان كے لئے جس قدر بھي بينائي كے بارے ميں بحث و گفتگو كريں تو بے فائدہ ہے، ان كے ذہن ميں ايك نامفہوم شكل كے علاوہ كچھ نہيں آئے گا، ايك طرف سے اس كا انكار بھي نہيں كرسكتے، كيونكہ اس كے مختلف آثار و فوائد كا احساس كرتے ہيں، دوسري طرف چونكہ بينائي كي حقيقت كو اچھي طرح سمجھ بھي نہيں سكتے ہيں كيونكہ انھوں نے لمحہ بھر كے لئے بھي نہيں ديكھا ہے۔
ہم يہ نہيں كہتے كہ وحي ”چھٹي حسّ“ كا نام ہے بلكہ ہم يہ كہتے ہيں كہ يہ ايك قسم كا ادارك اور عالم غيب اور ذات خداسے رابطہ ہے جوہمارے يہاں نہيں پايا جاتاہے، جس كي حقيقت كو ہم نہيں سمجھ سكتے، اگرچہ اس كے آثار كي وجہ سے اس پر ايمان ركھتے ہيں۔
ہم تو صرف يہي ديكھتے ہيں كہ صاحب عظمت افراد ايسے مطالب جو انساني فكر سے بلند ہيں؛ اس كے ساتھ انسانوں كے پاس آتے ہيں اور ان كو خدا اور دين الٰہي كي طرف بلاتے ہيں، اورايسے معجزات پيش كرتے ہيں جو انساني طاقت سے بلند و بالاہے ، جس سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ ان كا عالم غيب سے رابطہ ہے، جس كے آثار واضح و روشن ہيں ليكن اس كي حقيقت مخفي ہے۔
كيا ہم نے اس دنيا كے تمام رازوں كو كشف كرليا ہے كہ اگر وحي كي حقيقت كو نہ سمجھ سكيں تو اس كا انكار كر ڈاليں؟
تعجب كي بات تو يہ ہے كہ ہم حيوانات كے يہاں بعض پُراسرار چيزيں ديكھتے ہيں جن كي تفسير و توضيح سے عاجز ہيں، مگر مہاجر پرندے جو كبھي كبھي ۱۸۰۰۰/ كلوميٹر كا طولاني سفر طے كرتے ہيں اور قطب شمال سے جنوب كي طرف يا اس كے برعكس جنوب سے شمال كي طرف سفر كرتے ہيں، كيا ان كي پُراسرار زندگي ہمارے لئے واضح ہے؟
يہ پرندے كس طرح سمت كا پتہ لگاتے ہيں اوراپنے راستہ كو صحيح پہچانتے ہيں؟ كبھي دن ميں اور كبھي اندھيري رات ميں دور دراز كا سفر طے كرتے ہيں حالانكہ اگر ہم ان كي طرح بغير كسي وسيلہ اور گائڈ كے ايك في صدبھي سفر كريں تو بہت جلد راستہ بھٹك جائيں گے، يہ وہ چيز ہے جس كے سلسلہ ميں علم و دانش بھي ابھي تك پردہ نہيں اٹھاسكي، اسي طرح بہت سي مچھلياں دريا كي گہرائي ميں رہتي ہيں اور انڈے دينے كے وقت اپني جائے پيدائش تك چلي جاتي ہيں كہ شايد ہزاروں كلو ميٹر كا فاصلہ ہو، يہ مچھلياں كس طرح اپني جائے پيدائش كو اتني آساني سے تلاش كرليتي ہيں؟
ان كے علاوہ اس دنيا ميں ہميں بہت سي مثاليں ملتي ہيں جو ہميں انكار اور نفي سے روك ديتي ہيں،اس جگہ ہميں شيخ الرئيس ابو علي سينا كا قول ياد آتا ہے ”كْلُّ ما قرَع سمَعكَ مِن الغرائبِ فضعہ في بقعة لإمكان مالم يذدكَ عنہ قاطعُ البرہانِ“ (اگر كوئي عجيب و غريب چيز سننے ميں آئے تو اس كا انكار نہ كرو ، بلكہ اس كے بارے ميں يہ كہو كہ ممكن ہے، جب تك كہ اس كے برخلاف كوئي مضبوط دليل نہ مل جائے!)
منكر ِوحي كي دليل
جب بعض لوگوں كے سامنے وحي كا مسئلہ آتا ہے تو جلد بازي ميں جواب ديتے ہوئے كہتے ہيں: يہ چيز علم اور سائنس كے برخلاف ہے!
اگر ان سے سوال كيا جائے كہ يہ كہاں علم اور سائنس كے برخلاف ہے؟ تو يقين كے ساتھ اور مغرور لہجہ ميں كہتے ہيں :جس چيز كوعلوم طبيعي اور سائنس ثابت نہ كرے تو اس كے انكار كے لئے يہي كافي ہے، اصولي طور پر وہي مطلب ہمارے لئے قابل قبول ہے جو علوم اور سائنس كے تجربوں سے ثابت ہوجائے!!
اس كے علاوہ سائنس كي ريسرچ نے اس بات كو ثابت نہيں كيا ہے كہ انسان كے اندر ايك ايسي حس موجود ہے جس سے ماوراء طبيعت كا پتہ لگايا جاسكے، انبياء بھي ہماري ہي طرح انسان تھے ان كي اور ہماري جنس ايك ہي ہے، تو پھر يہ كس طرح ممكن ہے كہ ان كے يہاں ايسا احساس اور ادراك پايا جاتا ہو جو ہم ميں نہ ہو؟
ہميشہ كا اعتراض اور ہميشہ كاجواب مادہ پر ستوں كا اعتراض صرف ”وحي“ كے سلسلہ ميں نہيں ہے وہ تو ”ما وراء طبيعت“ كے تمام مسائل كا انكار كرتے رہتے ہيں، اور ہم اس غلط فہمي كو دور كرنے كے لئے ہر جگہ يہي جواب پيش كرتے ہيں:
يہ بات ذہن نشين رہے كہ سائنس كا دائرہ ،صرف(مادي ) دنيا تك ہے ، اور سائنس كي بحث و گفتگو كا معيار اور آلات :ليبريٹري ، ٹلسكوپ، ميكرواسكوپ وغيرہ ہيں اور اسي دائرے ميں گفتگو ہوتي ہے، سائنس ان معيار اور وسائل كے ذريعہ ”جہان مادہ“ كے علاوہ كوئي بات نہيں كہہ سكتي نہ كسي چيز كو ثابت كرسكتي ہے اور نہ كسي چيز كا انكار كرسكتي ہے، اس بات كي دليل بھي روشن ہے اور وہ يہ ہے كہ يہ تمام وسائل محدود اور خاص دائرے سے مخصوص ہيں۔
بلكہ علم و سائنس كے مختلف آلات كسي دوسرے علم ميں كارگر نہيں ہوسكتے، مثال كے طور پر اگر ”سِل“ كے جراثيم كو بڑي بڑي نجومي ٹلسكوپ كے ذريعہ نہ ديكھا جاسكے تو اس كا انكار نہيں كيا جاسكتا، اسي طرح اگر ”پلوٹن“ ستارے كو ميكروسكوپ اور ذرہ بين كے ذريعہ نہ ديكھا جاسكے تو اس پر اعتراض نہيں ہونا چاہئے!!
كسي چيز كي پہچان اور شناخت كے لئے اسي علم كے آلات اوروسائل ہونا ضروري ہے، لہٰذا ”ماوراء طبيعت“ كي پہچان كے صرف عقلي دلائل ہي كارگر ہوسكتے ہيں جن كے ذريعہ اس عظيم دنيا كے راستے ہمارے لئے كھل جاتے ہيں۔
جو افراد علم كو اس كي حدود سے خارج كرتے ہيں وہ نہ عالم ہيں اور نہ فيلسوف، يہ لوگ صرف دعو يٰ كرتے ہيں حالانكہ خطاكار اور گمراہ ہيں۔
ہم صرف يہي ديكھتے ہيں كہ كچھ عظيم انسان آئے اور ہمارے سامنے كچھ مطالب بيان كئے، جو نوع بشر كي طاقت سے باہر تھے، جس كي بنا پر ہم سمجھ گئے كہ ان كا ”ماوراء طبيعت“ سے رابطہ ہے، ليكن يہ رابطہ كيسا ہے؟ يہ ہمارے لئے بہت زيادہ اہم نہيں ہے، اہم بات يہ ہے كہ ہميں اس بات كا علم ہونا چاہئے كہ ہاں اس طرح كا رابطہ موجود ہے۔(1)

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۹۶
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك