سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:356

بچپن ميں نبوت يا امامت ملنا كس طرح ممكن ہے؟

سا كہ ہم قرآن مجيد ميں پڑھتے ہيں: <يَايَحْيَيٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاہُ الْحُكْمَ صَبِيًّا >(1)
”(اے) يحييٰ! كتاب كو مضبوطي سے پكڑ لو اور ہم نے انھيں بچپنے ہي ميں نبوت عطا كردي“۔
يہاں يہ سوال پيداہوتا ہے كہ يہ كس طرح ممكن ہے كہ انسان كو مقام نبوت يا امامت بچپن ميں ہي مل جائے؟
يہ بات صحيح ہے كہ عام طور پر انسان كي عقل كي ترقي ايك موقع پر ہوتي ہے، ليكن ہم يہ بھي اچھي طرح جانتے ہيں كہ ہميشہ معاشرہ ميں كچھ عجيب و غريب قسم كے افراد پائے جاتے ہيں،ان كي عقل كي پرواز بہت زيادہ ہوتي ہے، تو پھر كيا ممانعت ہے كہ خداوندعالم اس وقت كو بعض مصلحت كي بنا پر مختصر كردے اور بعض انسان كے لئے كم مدت ميں اس مرحلہ كو طے كرالے، كيونكہ عام طور پر بچہ ايك سال كے بعد بولنا شروع كرتا ہے جبكہ ہم جانتے ہيں كہ حضرت عيسيٰ عليہ السلام ولادت كے وقت ہي بولنے لگے اور وہ بھي پُر معني مطالب جو بڑے بڑے ذہين لوگوں كے الفاظ ہوتے ہيں۔   
يہاں سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ جو لوگ يہ اعتراض كرتے ہيں كہ شيعوں كے بعض ائمہ كس طرح بچپن ميں مقام امامت تك پہنچ گئے، ان كا يہ اعتراض بے بنياد ہے۔
حضرت امام محمد تقي عليہ السلام كے صحابي” علي بن اسباط“ نے روايت كي ہے كہ ميں امام عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ہوا (جبكہ امام عليہ السلام كي عمر كم تھي) ميں امام كے قد و قامت كو غور سے ديكھ رہا تھا تاكہ ذہن نشين كرلوں اورجب مصر واپس جاؤں تو دوستوں كے لئے آپ كے قدو قامت كو ہو بہو بيان كروں، بالكل اسي وقت جب ميں يہ سوچ رہا تھا تو امام عليہ السلام بيٹھ گئے (گويا امام ميرے سوال كوسمجھ گئے ) اور ميري طرف متوجہ ہوكر فرمايا: اے علي بن اسباط! خداوندعالم نے امامت كے سلسلہ ميں وہي كيا جونبوت كے بارے ميں انجام ديا ہے، كبھي ارشاد ہوتا ہے: <ٍ وَآتَيْنَاہُ الْحُكْمَ صَبِيًّا > ( ہم نے يحييٰ كو بچپن ميں نبوت و عقل و درايت عطا كي“ اور كبھي انسان كے بارے ميں ارشاد فرماتا ہے: <حَتّٰي إذَا بَلَغَ اَشدہُ وَبَلَغَ اٴرْبَعِيْنَ سَنَة>(احقاف/۱۵) (جب انسان بلوغ كامل كي حد تك پہنچا تو چاليس سال كا ہوگيا) ، پس جس طرح خدا كے لئے يہ ممكن ہے كہ انسان كو بچپن ہي ميں نبوت و حكمت عطا فرمائے جبكہ وہي چيز انسان كي عقل كو چاليس سال ميں مكمل فرمائے۔(2)
مذكورہ آيت ان لوگوں كے لئے ايك دندان شكن جواب ہے جو حضرت علي عليہ السلام كے سلسلہ ميں اعتراض كرتے ہيں كہ مردوں ميں سب سے پہلے ايمان لانے والوں ميں حضرت علي عليہ السلام نہيں ہيں كيونكہ اس وقت آپ كي عمر ۱۰ سال تھي اور دس سال كے بچہ كا ايمان قابل قبول نہيں ہے۔
(قارئين كرام!) يہاں پر اس نكتہ كا ذكر بےجانہ ہوگا جيساكہ ہم حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں پڑھتے ہيں كہ حضرت يحييٰ عليہ السلام كے زمانہ كے كچھ بچے 
ان كے پاس آئے اور كہا: ”اذہب بنا نلعب“( آؤ چلو آپس ميں كھيلتے ہيں) تو جناب يحييٰ عليہ السلام نے فرمايا: ”ما للعب خلقنا“ ( ہم كھيلنے كے لئے پيدا نہيں ہوئے ہيں) اس موقع پر خداوندعالم نے ان كے بارے ميں يہ آيت نازل فرمائي:<وآتَيْنَاہُ الحُكْمَ صَبِيِّاً>(3) 
البتہ اس چيز پر توجہ ركھنا چاہئے كہ يہاں پر ”كھيل“ سے مراد بيہودہ اوربے فائدہ كھيل مراد ہے ورنہ اگر كھيل سے كوئي منطقي اور عاقلانہ فا ئد ہ ہو تو اس كا حكم جدا ہے۔(4)

(1)سورہ مريم ، آيت ۱۲
(2) نور الثقلين ،، جلد ۳، صفحہ ۳۲۵
(3) نور الثقلين ، جلد ۳، صفحہ ۳۲۵(سورہ مريم، آيت ۱۲)
4) تفسير نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۲۷
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك