سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:408

اولوالعزم پيغمبر كون ہيں؟

جيسا كہ سورہ احقاف آيت ۳۵ ميں ہم پڑھتے ہيں: < فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اٴُوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ > اے پيغمبر ! آپ اسي طرح صبر كريں جس طرح پہلے اولوا العزم رسولوں نے صبر كيا ۔
يہاں ايك سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ اولوالعزم پيغمبر كون ہيں؟
اس سلسلہ ميں مفسرين كے درميان بہت زيادہ اختلاف پايا جاتا ہے، قبل اس كے كہ اس سلسلہ ميں تحقيق كريں پہلے ”عزم“ كے معني كو ديكھيں كيونكہ ” اولوالعزم “ يعني صاحبان ”عزم“۔
”عزم“ كے معني مستحكم اور مضبوط ارادہ كے ہيں، راغب اصفہاني اپني مشہورو معروف كتاب ”مفردات“ ميں كہتے ہيں: عزم كے معني كسي كام كے لئے مصمم ارادہ كرنا ہے، ”عقد القلب علي امضاء الامر“
قرآن مجيد ميں كبھي ”عزم“ كے معني صبر كے لئے گئے ہيں، جيسا كہ ارشاد خداوند ہے:
< وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ >(1)
”اور يقينا جو صبر كرے اور معاف كردے تو اس كا يہ عمل بڑے صبركا كام ہے“۔                   
اور كبھي ”وفائے عہد“ كے معني ميں استعمال ہوا ہے، جيسا كہ ارشاد ہوا:
<وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلَي آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْمًا>(2)
”اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہد ليا مگر انھوں نے اسے ترك كرديا اور ہم نے ان كے پاس عزم و ثبات نہيں پايا“۔
ليكن چونكہ صاحب شريعت انبياء عليہم السلام ايك نئي اور تازہ شريعت لے كر آتے تھے، جس كي بنا پر ان كو بہت سي مشكلات پيش آتي تھي، جن سے مقابلہ كرنے كے لئے ان كو مستحكم اور مصمم ارادہ كي ضرورت ہوتي تھي، لہٰذا ان انبياء كو ”اولو العزم“ پيغمبر كہا گيا، اور مذكورہ آيت بھي ظاہراً انھيں معني كي طرف اشارہ كررہي ہے۔
ضمني طور پر ايك اشارہ يہ بھي ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) ان ہي اولو العزم پيغمبر وں ميں سے ہيں، كيونكہ ارشاد ہوا ”آپ بھي اسي طرح صبر كريں جس طرح سے آپ سے پہلے اولوالعزم پيغمبروں نے صبر سے كام ليا ہے“۔
اگر بعض مفسرين نے ”عزم “ اور ”عزيمت“ كے معني ”حكم و شريعت“ مراد ليتے ہيں تو اس كي وجہ بھي يہي ہے ورنہ لغوي اعتبار سے ”عزم“ كے معني ”شريعت“ نہيں ہے۔
بہر حال ان معني كے لحاظ سے ”من الرُسل“ ميں ”من“ ”تبعيضيہ“ ہے جس سے كچھ خاص بزرگ پيغمبر مراد ہيں جو صاحب شريعت تھے، جيسا كہ سورہ احزاب ميں بھي اسي چيز كي طرف اشارہ ہے:
< وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِنْ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَہُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاہِيمَ وَمُوسَي وَعِيسَي ابْنِ مَرْيَمَ وَاٴَخَذْنَا مِنْہُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا>(3)  
”اور اس وقت كو ياد كيجئے جب ہم نے تمام انبياء سے اور بالخصوص آپ سے اور نوح، ابراہيم، موسيٰ اور عيسيٰ بن مريم سے عہد ليا اور سب سے بہت سخت قسم كا عہد ليا “۔
يہاں پر تمام انبياء عليہم السلام كو صيغہ جمع كي صورت ميں بيان كرنے كے بعد ان پانچ اولوالعزم پيغمبروں كا نام لينايہ ان كي خصوصيت پر بہترين دليل ہے۔
اسي طرح سورہ شوريٰ ميں بھي اولوالعزم پيغمبر كے بارے ميں بيان ہوا ہے، ارشاد خداوندعالم ہے:
< شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّيٰ بِہِ نُوحًا وَالَّذِي اٴَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِہِ إِبْرَاہِيمَ وَمُوسَي وَعِيسَي>(4)
”اس نے تمہارے لئے دين ميں وہ راستہ مقرر كيا ہے جس كي نصيحت نوح كو كي ہے اور جس كي وحي اے پيغمبر !تمہاري طرف بھي كي ہے، اور جس كي نصيحت ابراہيم، موسيٰ اور عيسيٰ كو بھي كي ہے“۔
اسي طرح شيعہ اورسني معتبر كتابوں ميں روايات بيان ہوئي ہيں كہ اولوالعزم يہي پانچ پيغمبر تھے،جيسا كہ حضرت امام محمد باقر عليہ السلام اور امام جعفر صادق عليہ السلام سے ايك حديث كے ضمن ميں بيان ہواہے:
”مِنُھُم خَمْسةٌ :اٴوّلھُم نُوح، ثُمَّ إبراہِيمَ ،ثُمَّ موسيٰ ، ثُمَّ عِيسيٰ ، ثُمَّ مُحَمَّد (ص)“(5) 
”اولوالعزم پيغمبر پانچ ہيں، پہلے جناب نوح ، ان كے بعد جناب ابراہيم ، ان كے بعد جناب موسيٰ ،ان كے بعد حضرت عيسيٰ اور آخر ميں حضرت محمد (ص)“۔
اور جب سائل نے سوال كيا : ”لم سموا اولوالعزم“ ان كو اولوالعزم كيوں كہا جاتا ہے؟ تو امام عليہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا:
”لاٴنَّھُم بَعثُوا إليٰ شَرقِھَا وَ غَرْبِھَا وَجِنِّھا وَ إنْسِھا“6) 
”كيونكہ (يہ اولوالعزم) پيغمبر مشرق و مغرب اور جن و انس كے لئے مبعوث ہوئے ہيں“۔
اسي طرح ايك دوسري حديث ميں حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا:
”سَادَةُ النبيّين وَالمُرسَلِينَ خَمْسةٌ وَھُمْ اولوا العزمِ مِنَ الرُّسِل و عليھم دارة الرَّحي نوح و إبراہيم وموسيٰ و عيسيٰ ومحمد (ص)“(7) 
”انبياء و مرسلين كے سردار پانچ نبي ہيں اور نبوت و رسالت كي چكي ان ہي كے دم پر چلتي ہے، اور وہ يہ ہيں جناب نوح، جناب ابراہيم، جناب موسيٰ، جناب عيسيٰ اور حضرت محمد مصطفي (ص) “۔
تفسير ”الدر المنثور “ ميں ابن عباس سے يہي روايت كي گئي ہے كہ اولوالعزم يہي پانچ پيغمبر ہيں۔(8)
ليكن بعض مفسرين نے ان انبياء كو اولو العزم پيغمبر بتايا ہے جو دشمنوں سے جنگ كرنے پر مامور ہوئے ہيں۔
اسي طرح بعض مفسرين نے اولو العزم پيغمبر كي تعداد ۳۱۳ /بيان كي ہے، (۴) جبكہ بعض مفسرين نے تمام انبياء عليہم السلام كو اولو العزم پيغمبر قرار ديا ہے(9) اور اس نظريہ كے مطابق ”مِن الرُسل“ ميں ”من“”بيانيہ“ ہوگا”تبعيضيہ“ نہيں، ليكن پہلي تفسير سب سے زيادہ صحيح ہے اور اسلامي روايات سے بھي اس كي تاكيد ہوتي ہے۔(10)

(1) سورہٴ شوريٰ ، آيت۴۳
(2) سورہٴ طہ ، ، آيت۱۱۵ (3) سورہ احزاب ، آيت ۷
(4) سورہٴ شوريٰ ، آيت۱۳
(5) ”مجمع البيان محل بحث آيات كے ذيل ميں ،(جلد ۹، صفحہ ۹۴)
(6) بحا رالانوار ، جلد ا۱، صفحہ ۵۸، (حديث ۶۱) ،اور اسي جلد ميں صفحہ ۵۶ ،حديث ۵۵، ميں بھي صراحت كے ساتھ بيان ہوا ہے
(7) اصول كافي ، جلد ۱،باب”طبقات الانبياء والرسل “حديث۳
(10،9،8) الدرالمنثور ، جلد ۶، صفحہ ۴۵ (۶) تفسير نمونہ ، جلد ا۲، صفحہ ۳۷۷
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك