سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:467

كيا توريت اور انجيل ميں پيغمبر اكرم كي بشارت دي گئي ہے؟

جيسا كہ ہم سوہ اعراف ميں پڑھتے ہيں: <الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْاٴُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَہُ مَكْتُوبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ>(1) ”جو لوگ ہمارے رسول نبيِّ امي كا اتباع كرتے ہيں جس (كي بشارت ) كو وہ اپنے پاس توريت اور انجيل ميں لكھا ہوا پاتے ہيں “۔
مذكورہ آيت كے پيش نظر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا توريت اور انجيل ميں پيغمبر اكرم (ص) كے ظہور كي بشارت دي گئي ہے؟
اگرچہ يقيني قرائن اور اسي طرح يہوديوں اور عيسائيوں كے يہاں دور حاضر كي موجودہ ”مقدس كتابوں “ (توريت و انجيل) كے مطالب اس بات پر يہ دونوں گواہ ہيں كہ جناب موسيٰ عليہ السلام اور جناب عيسيٰ عليہ السلام پر نازل ہونے والي آسماني يہ دونوں كتابيں اصل نہيں ہيں ، بلكہ ان ميں بہت زيادہ تبديلي كردي گئي ہے، يہاں تك كہ بعض تو بالكل ہي ختم ہوگئي ہے، اور جو كچھ اس وقت كي موجودہ مقدس كتابوں ميں موجود ہے وہ انساني فكر اور بعض خدا كي طرف سے موسيٰ و عيسيٰ عليہماالسلام پر نازل ہونے والے مطالب كا ايك مركب مجموعہ ہے، جس كو ان كے بعض شاگردوں نے جمع كيا ہے۔(2)
اس بنا پر؛ ان مو جودہ كتا بوں ميں اگر كوئي ايسا جملہ نہ ملے جس ميں صراحت كے ساتھ پيغمبر اكرم (ص) كے ظہور كي بشارت دي گئي ہو ، تو كوئي تعجب كي بات نہيں ہے۔
ليكن تحريف كے باوجود بھي ان كتابوں ميں ايسے الفاظ ملتے ہيں جو پيغمبر اكرم (ص) كے ظہور كي بشارت پردلالت كرتے ہيں، جن كو مسلمان دانشوروں نے اپني كتابوں اور مضا مين ميں تحرير كيا ہے،چونكہ ان تمام مطالب كو ذكر كرنااس كتاب كي گنجائش سے باہر ہے لہٰذا نمونہ كے طور پر چند چيزوں كو بيان كرتے ہيں:
۱۔ توريت كے سِفْر تكوين فصل ۱۷،نمبر ۱۷ سے۲۰ تك ميں اس طرح مر قوم ہے:
”اور ابراہيم نے خداوندعالم سے فرمايا :كہ اے كاش !اسماعيل تيرے حضور ميں زندگي كرت اور اسماعيل كے حق ميں تيري دعاكو سنا، اس وجہ سے اس كو صاحب بركت قرار ديا اور اس كو پھل دار بناديا ہے، اور آخر كا راس كي اولاد كو كثير قرار ديا، اس كے بارہ سردار پيدا ہوں گے اور اس كو ايك عظيم امت قرار دوں گا“۔
۲۔ سِفْر پيدائش باب ۴۹، نمبر ۱۰ ميں وارد ہوا ہے: 
عصاي سلطنت يہودا سے اور ايك فرمان روا اس كے پيروں كے آگے سے قيام كرے گا تااينكہ ”شيلوہ“ آجائے كہ اس پر تمام امتيں اكٹھا ہوجائيں گي۔
يہاں پر قابل توجہ بات يہ ہے كہ شيلوہ كے ايك معني ”رسول“ يا ”رسول اللہ“ كے ہيں، جيسا كہ مسٹر ہاكس نے كتاب ”قاموس مقدس“ ميں بيان كيا ہے۔
۳۔ كتاب انجيل يوحنا، باب ۱۴ ،نمبر ۱۵، ۱۶ ميں يوں بيان ہوا ہے:
”اگر تم لوگ مجھے دوست ركھتے ہو تو ميرے احكام كي رعايت كرو، ميں پدر سے درخواست كروں گا وہ تمہيں ايك اور تسلي دينے والا عطا كرے گا جو ہميشہ تمہارے ساتھ رہے گا“۔
۴۔اسي طرح مذكورہ كتاب انجيل يوحنا، باب ۱۵ ،نمبر ۲۶ ميں اس طرح وارد ہوا ہے: 
”جب وہ تسلي دينے والا آجائے گا جس كو ميں پدر كي طرف سے بھجواؤں گا يعني وہ سچي روح جو پدر كي طرف سے آئے گي، وہ ميرے بارے ميں شہادت دي گي“۔
۵۔ نيز اسي انجيل يوحنا باب ۱۶ ،نمبر ۱۷ كے بعد ميں وارد ہوا ہے:
”ليكن ميں تم سے سچ كہتا ہوں كہ اگر ميں تمہارے درميان سے چلاجاؤں تويہ تمہارے لئے مفيد ہے كيونكہ اگر ميں نہ جاؤں گا تو تمہارے پاس وہ تسلي دينے والا نہيں آئے گا، اور اگر ميں چلا گيا تو اس كو تمہارے لئے بھيج دوں گا  ليكن جب وہ سچي روح تمہارے پاس آجائے گي تو تمہيں تمام سچائيوں كي طرف ہدايت كردے گي، كيونكہ وہ اپني طرف سے كچھ كلام نہيں كرے گا بلكہ جو كچھ اس كو سنائي دے گا وہي كہے گا، اور تمہيں آئندہ كے بارے ميں خبر(بھي) دے گا“(3)
قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ فارسي انجيل ميں ”تسلي دينے والے “ كي جگہ عربي انجيل مطبوعہ لندن ( ويليام وٹس پريس ، ۱۸۵۷ءء) ميں اس كي جگہ ”فارقليطا“ ذكر ہوا ہے۔ (4)
ايك اور زندہ گواہ 
”فخر الاسلام “جو كتاب ”انيس الاعلام “كے موٴلف ہيںپہلے عيسا ئي عالم تھے ،انھوں نے اپني تعليم عيسائي پادريوں ميں مكمل كي تھي اور ان كے درميان ايك بلند مقام حاصل كر لياتھا وہ انيس الا علام كے مقدمہ ميں اپنے مسلمان ہونے كے عجيب و غريب واقعہ كو اس طرح بيان كرتے ہيں:
”بڑي جستجو ،زحمتوں اور كئي ايك شہر وں ميں گردش كے بعد ميں ايك عظيم پادري كے پاس پہنچا جو زہد و تقويٰ ميں ممتاز تھا ، ”كيتھولك‘ فرقہ كے بادشاہ و غيرہ اپنے مسائل ميں اس كي طرف رجوع كرتے تھے ،ايك مدت تك ميں اس كے پاس نصاريٰ كے مختلف مذاہب كي تعليم حاصل كرتا رہا ،اس كے بہت سے شاگر د تھے ليكن اتفاقاً مجھ سے اسے كچھ خاص ہي لگاوٴ تھا ،اس كے گھر كي تمام كنجياں ميرے ہاتھ ميں تھيں، صرف ايك صندوق خانے كي كنجي اس كے پاس ہوا كرتي تھي ۔
اس دوران وہ پادري بيمار ہو گيا تواس نے مجھ سے كہا كہ شاگردوں سے جاكر كہہ دو كہ آج ميں درس نہيں دے سكتا ،جب ميں طالب علموں كے پاس آيا تو ديكھا كہ وہ سب بحث و مباحثے ميں مصروف ہيں يہ بحث سرياني كے لفظ ”فارقليطا“ اور يوناني زبان كے لفظ ”پريكلتوس “كے معني تك جاپہنچي اور وہ كافي دير تك جھگڑتے رہے ،ہر ايك كي الگ رائے تھي ،واپس آنے پر استاد نے مجھ سے پوچھا تم لوگوں نے آج كيا بحث كي ہے؟تو ميں نے لفظ فارقليطا كا اختلاف اس كے سامنے بيان كيا وہ كہنے لگا :تونے ان ميں كس قول كا انتخاب كيا ہے ،ميں نے كہا كہ فلاں مفسركے قول كوپسند كيا ہے ۔
استاد پادري كہنے لگا :تونے كوتاہي تو نہيں كي ليكن حق و حقيقت ان تمام اقوال كے خلاف ہے كيونكہ اس كي حقيقت كو ” رَاسِخُونَ فِي العِلمِ“كے علاوہ دوسرے لوگ نہيں جانتے اور ان ميں سے بھي بہت كم اس حقيقت سے آشنا ہيں ،ميں نے اصرار كيا كہ اس كے معني مجھے بتائےے، وہ بہت رويا اور كہنے لگا:ميں كوئي چيز تم سے نہيں چھپاتا ،ليكن اس نام كے معني معلوم ہو جانے كا نتيجہ تو بہت سخت ہوگا كيونكہ اس كے معلوم ہونے كے ساتھ ساتھ مجھے اور تمہيں قتل كر ديا جائے گا،اب اگر تم وعدہ كرو كہ كسي سے نہيں كہو گے تو ميں اسے ظاہر كر ديتا ہوں۔
ميں نے تمام مقدسات مذہبي كي قسم كھائي كہ اسے فاش نہيں كروں گا تو اس نے كہا كہ يہ مسلمانوں كے پيغمبر كے ناموں ميںسے ايك نام ہے اور اس كے معني ”احمد“اور ”محمد“ہيں ۔
اس كے بعد اس نے اس چھوٹے كمرے كي كنجي مجھے دي اور كہا كہ فلاں صندوق كا دروازہ كھولو اور فلاں فلاں كتاب لے آوٴ ، چنا نچہ ميںوہ كتابيں اس كے پاس لے آيا ، يہ دونوں كتابيں رسول اسلام (ص) كے ظہور سے پہلے كي تھيں اور چمڑے پر لكھي ہوئي تھيں۔
دونوں كتابوں ميں لفظ ”فارقليطا“كا ترجمہ ”احمد“اور” محمد“كيا گيا تھا اس كے بعد استاد نے مزيد كہا كہ آنحضرت كے ظہور سے پہلے علمائے نصاريٰ ميں كوئي اختلاف نہ تھا كہ فارقليطا كے معني احمد و محمد ہيں، ليكن ظہور محمد( (ص))كے بعد اپني سرداري اور مادي فوائد كي بقا كے لئے اس كي تاويل كر دي اور اس كے لئے دوسرے معني گڑھ لئے حالانكہ صا حب انجيل كي مراد وہ معني يقينا نہيں ہيں۔
ميں نے سوال كيا كہ دين ِنصاريٰ كے متعلق آپ كيا كہتے ہيں ،اس نے كہا دين اسلام كے آنے سے منسوخ ہوگيا ہے اس جملہ كي اس نے تين مرتبہ تكرار كي ۔
پس ميں نے كہا كہ اس زمانہ ميں طريقِ نجات اور صراطِ مستقيم ،كونساراستہ ہے ؟۔
اس نے كہا :مختصر يہ ہے كہ محمد (ص) كي پيروي و اتباع كرو ۔
ميں نے كہا :كيا اس كي پيروي كرنے والے اہل نجات ہيں ؟ اس نے كہا :ہاں !خدا كي قسم (اور تين مرتبہ قسم كھائي )
پھر استاد نے گريہ كيا اور ميں بھي بہت رويا اور اس نے كہا : اگر آخرت اور نجات چاہتے ہوتودين حق ضرور قبول كر لو،ميں ہميشہ تمہارے لئے دعا كروں گا اس شرط كے ساتھ كہ قيامت كے دن گواہي دو كہ ميں باطن ميں مسلمان اور حضرت محمد (ص) كا پيروكار ہوں اور علمائے نصاريٰ كے ايك گروہ كي باطن ميں مجھ جيسي حالت ہے اور ظاہراً ميري طرح اپنے دنياوي مقام سے كنارہ كش نہيں ہو سكتے ورنہ اس ميں كوئي شك و شبہ نہيں كہ اس وقت روئے زمين پر دين خدا دين اسلام ہي ہے ۔“!!(5)
آپ ديكھيں كہ علمائے اہل كتاب نے پيامبراسلام (ص)كے ظہور كے بعد اپنے ذاتي مفاد كے لئے آنحضرت (ص) كے نام اور نشانيوں كو بدل ڈالا ۔!!(6)

(1) سورہ اعراف ، آيت ۱۵۷ 
(2) اس سلسلہ ميں مزيد آگاہي كے لئے كتاب ”رہبر سعادت يا دين محمد“ اور كتاب ”قرآن و آخرين پيامبر“ كو ملاحظہ فرمائيں
(3) مذكورہ تمام تحريريں، جن كو عہد قديم اور عہد جديد سے نقل كيا گيا ہے ، اس فارسي ترجمہ سے ہے جو ۱۸۷۸ءء ميں لندن سے عيسائي مترجمين كے ذريعہ عبراني زبان سے فارسي ميں ترجمہ كيا گيا ہے 
(4)تفسير نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۴۰۳
(5) اقتباس از كتاب ہدايت دوم ،مقدمہ كتاب انيس الاعلام، اختصار كے ساتھ
(6) تفسير نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۲۱۱
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك