سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:308

ثابت قوانين،آج كل كي مختلف ضرورتوں سے كس طرح ہم آہنگ ہے؟

ہم يہ بات اچھي طرح جانتے ہيں كہ زمان و مكان كے لحاظ سے ضرورتيں الگ الگ ہوتي ہيں، دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ انسان كي ضرورت ہميشہ بدلتي رہتي ہے، حالانكہ خاتم النبين كي شريعت ثابت اور غير قابل تبديل ہے، كيا يہ ثابت شريعت زمانہ كے لحاظ سے مختلف ضرورتوں كو پورا كرسكتي ہے۔؟
اگر اسلام كے تمام قوانين جزئي اور انفرادي ہوتے اور ہر موضوع كا حكم مكمل طور پر معين، مشخص اور جزئي ہوتا تو اس سوال كي گنجائش ہوتي، ليكن كيونكہ اسلام كے احكام و قوانين بہت وسيع اور كلي اصول پر مبني ہيں جن پر ہر زمانہ كي مختلف ضرورتوں كو منطبق كيا جاسكتا ہے، اور اس كے لحاظ سے جواب ديا جاسكتا ہے، لہٰذا اس طرح كے سوال كي كوئي گنجائش باقي نہيں رہتي، مثال كے طور پر عصر حاضر ميں مختلف معاملات انساني معاشرہ كي ضرورت بنتے جارہے ہيں جب صدر اسلام ميں ايسے معاملات نہيں تھے جيسے ”بيمہ“ يا اس كي مختلف شاخيں، جو اس زمانہ ميں نہيں تھيں،اسي طرح آج كل كي (1) البتہ اسلام ميں ”بيمہ“ سے مشابہ موضوعات موجود ہيں ليكن خاص محدوديت كے ساتھ جيسے ”ضمان الجريرہ“ يا “تعلق ديہ خطاء محض بہ عاقلہ“ ليكن يہ مسائل صرف شباہت كي حد تك ہيں ضرورت كے تحت بڑي بڑي كمپنياں بنائي جاتي ہيں ، ان تمام چيزوں كے لئے اسلام ميں ايك كلي اصل موجود ہے، جو سورہ مائدہ كے شروع ميں بيان ہوئي ہے جسے ”وفائے عہد “ كہا جاتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:<يَا اٴَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ >(2) ”اے وہ لوگو! جو ايمان لائے اپنے معاملات ميںوفائے عہد كرو“۔
ہم ان تمام معاملات كو اس كے تحت قرار دے سكتے ہيں، البتہ بعض قيود اور شرائط اس اصل ميں بيان ہوئي ہيں، جن پر توجہ ركھنا ضروري ہے، لہٰذا يہ عام قانون اس سلسلہ ميں موجود ہے، اگرچہ اس كے مصاديق بدلتے رہتے ہيں اور ہرروزاس كا ايك نيا مصداق پيدا ہوتا رہتا ہے۔
دوسري مثال: ہميں اسلام ميں ايك مسلّم اور ثابت قانون ملتا ہے جو ”قانونِ لاضرر“ كے نام سے ياد كيا جاتا ہے(يعني كسي كا كوئي نقصان نہيں ہونا چاہئے) جس كے ذريعہ اسلامي معاشرہ ميں كسي بھي طرح كے نقصان كے سلسلہ ميں حكم لگايا جاسكتا ہے، اور اس كے تحت معاشرہ كي بہت سي مشكلوں كو حل كيا جاسكتا ہے۔
اس كے علاوہ ”معاشرہ كا تخفظ “، ”مقدمہٴ واجب كا واجب ہونا“اور”اہم و مہم“ جيسے مسائل كے ذريعہ بھي بہت سي مشكلات كو حل كيا جاسكتا ہے، ان تمام چيزوں كے علاوہ اسلامي حكومت ميں ”ولي فقيہ“ بہت سے اختيارات اور امكانات ہوتے ہيں اسلامي كلي اصول كے تحت بہت سي مشكلات كوحل كيا جاسكتا ہے ، البتہ ان تمام امور كے بيان كے لئے بہت زيادہ بحث و گفتگو كي ضرورت ہے خصوصاً جب كہ ”باب اجتہاد“(3) كھلا ہے ، جس كي تفصيل بيان كرنے كايہ موقع نہيں ہے، ليكن جن چيزوں كي طرف ہم نے اشارہ كيا ہے وہ مذكورہ اعتراض كے جواب كے لئے كا في ہيں۔

(1) سورہ مائدہ ،آيت ۱
(۲) اجتہاد يعني اسلامي منابع و مآخذ كے ذريعہ الٰہي احكام حاصل كرن
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۶
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك