سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:371

خاتميت انساني تدريجي ترقي كے ساتھ كس طرح ہم آہنگ ہے؟

كيا انساني معاشرہ كسي ايك جگہ پر رُك سكتا ہے؟ كيا انسان كے كمال اور ترقي كے لئے كوئي حد معين ہے؟ كيا ہم اپني آنكھوں سے نہيں ديكھ رہے ہيں كہ آج كا انسان گزشتہ لوگوں كي نسبت بہت زيادہ آگے بڑھتا چلا جارہا ہے؟
ان حالات كے پيش نظر يہ كس طرح ممكن ہے كہ دفتر نبوت بالكل ہي بند ہوجائے اور انسان اس ترقي كے زمانہ ميں اپنے كسي نئے رہبر اور نبي سے محروم ہوجائے؟
اس سوال كا جواب ايك نكتہ پر توجہ كرنے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ ہے كہ: انسان فكر و ثقافت كے مرحلہ ميں اس منزل پر پہنچ چكا ہے كہ وہ پيغمبر خاتم (ص) كے بتائے ہوئے اصول اور تعليمات كے پيش نظر كسي نئي شريعت كے بغير اپني ترقي كے مراحل كو طے كرسكتاہے۔
يہ بالكل ايسا ہي ہے جيسے انسان كو تعليم كے ہر مرحلہ ميں ايك نئے استاد كي ضرورت ہوتي ہے، تاكہ تعليم كے مختلف مراحل سے گزر كر آگے بڑھ سكے، ليكن جب انسان ڈاكٹر بن جاتا ہے يا كسي دوسرے علم ميں صاحب نظر بن جاتا ہے تو پھر انسان كسي نئے استاد سے تعليم حاصل نہيں كرتا بلكہ اپنے گزشتہ اساتذہ خصوصاً آخري استاد سے حاصل كئے ہوئے مطالب پر بحث و تحقيق كرتا ہے اور تعليمي ميدان ميں آگے بڑھتا جاتاہے نئي نئي تحقيق اور نئے نئے نظريات پيش كرتا ہے ، دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ اپنے گزشتہ اساتذہ كے بتائے ہوئے عام اصول كي بنا پر راستے كي مشكلات كو حل كر تاہے لہٰذا اس بات كي كوئي ضرورت نہيں ہے كہ زمانہ كے ساتھ ساتھ كوئي نيا دين اور نيا مذہب وجود ميں آئے۔ (غور فرمائےے گا)
بالفاظِ ديگر: روحاني اور معنوي ترقي كي راہ ميں موجود نشيب و فر از كے سلسلہ ميں گزشتہ انبياء نے باري باري انسان كي ہدايت كے لئے نقشہ پيش كيا تاكہ انسان ميں اتني صلاحيت پيدا ہوجائے كہ اس راستہ كا جامع اور كلي نقشہ خداوندعالم كي طرف سے پيغمبر آخرالزمان (ص) پيش فرماديں۔
يہ بات واضح ہے كہ جامع اور كلي نقشہ حاصل كرنے كے بعد پھر كسي نقشہ كي ضرورت نہيں ہوتي ہے ، اور يہ حقيقت خاتميت كے سلسلہ ميں بيان ہوئي احاديث ميں موجود ہے، اور پيغمبر اكرم كو رسالت كي آخري اينٹ يا خوبصورت محل كي آخري اينٹ ركھنے والے كے عنوان سے ياد كيا گيا ہے۔
يہ تمام چيزيں كسي نئے دين و مذہب كي ضرورت نہ ہونے كے لئے كافي ہيں، (يعني مذكورہ باتوں كے پيش نظر اب كسي نئے دين كي ضرورت نہيں ہے) ليكن رہبري اور امامت كا مسئلہ انھيں كلي اصول و قوانين پر عمل در آمد ہونے پر نظارت اور اس راہ ميں پيچھے رہ جانے والوں كو امداد پہنچانے كے عنوان سے ہے،البتہ يہ ايك الگ مسئلہ ہے كہ انسان كبھي بھي ان سے بے نياز نہيں ہوسكتا ہميشہ امام اور رہبر كي ضرورت رہے گي، اس دليل كي بنا پر سلسلہٴ نبوت كے ختم ہونے كے يہ معني نہيں ہيں كہ سلسلہ امامت بھي ختم ہوجائے، كيونكہ ”ان اصول كي وضاحت “، ”ان كا بيان كرنا“ اور ”ان كو عملي جامہ پہنانا“ بغير كسي معصوم رہبركے ممكن نہيں ہے۔(1)

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۵
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك