سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:381

خداوندعالم نے شيطان كو كيوں پيدا كيا؟

بہت سے لوگ يہ سوال كرتے ہيں كہ اگر انسان خدا كي عبادت كے ذريعہ سعادت اور كمال تك پہنچنے كے لئے پيدا كيا گيا ہے تو پھر كمال اور سعادت كے مخالف شيطان كو كيوں پيدا كيا گيا، اس كي كيا دليل ہوسكتي ہے؟ اور وہ بھي ايك ايسا وجود جو بہت ہوشيار، كينہ اور حسد ركھنے والا، مكار ، فريب كار اور اپنے ارادہ ميں مصمم ہے!
(قارئين كرام!) اگر ذرا بھي غور و فكر سے كام ليں تو اس دشمن كا وجود انسانوں كے كمال اورسعادت تك پہنچنے كے لئے مددگار ہے۔
كہيں دور جانے كي ضرورت نہيں ہے دفاع كرنے والي (ہماري ) فوج ،دشمن كے مقابلہ ميں بہت زيادہ شجاع او ردلير بن جاتي تھي، اور كاميابي كي منزلوں تك پہنچ جاتي تھي۔
طاقتور اور تجربہ كار وہي سپاہي اور سردار ہوتے ہيں جو بڑي بڑي جنگوں ميں دشمن كے سامنے ڈٹ جاتے ہيں اور گھمسان كي جنگ لڑتے ہيں۔
وہي سياستمدار تجربہ كار اور طاقتور ہوتے ہيں جو بڑے سے بڑے سياسي بحران ميںسختي كے ساتھ دشمن سے مقابلہ كرتے ہيں۔
نامي پہلوان وہي ہوتے ہيں جو اپنے مد مقابل طاقتور پہلوان سے زور آزمائي كرتے ہيں۔
اس وجہ سے كوئي تعجب كي بات نہيں ہے كہ خداوندعالم كے نيك اور صالح بندے شيطان سے ہر روز مقابلہ كرتے كرتے دن بدن طاقتور اور قدرت مند ہوتے چلے جاتے ہيں!
آج كل كے دانشورانساني جسم ميں پائے جانے والے خطرناك جراثيم كے بارے ميں كہتے ہيں: اگر يہ نہ ہوتے تو انسان كے خليے(Cells) سست اورناكارہ ہوجاتے اور ايك احتمال كي بنا پر انسان كي رشد و نمو ۸۰سينٹي ميٹر سے زيادہ نہ ہوتي، اور سب كوتاہ قد نظر آتے، ليكن آج كا انسان مزاحم ميكروب سے لڑتے لڑتے بہت طاقتور بن گيا ہے۔
بالكل اسي طرح انسان كي روح ہے جو ہوائے نفس اور شيطان سے مقابلہ كرتے كرتے طاقتور ہوجاتي ہے۔
ليكن اس كے يہ معني نہيں ہيں كہ شيطان كي ذمہ داري ہے كہ وہ خدا كے بندوں كو بہكائے، پہلے شيطان كي خلقت دوسري مخلوق كي طرح پاك و پاكيزہ تھي انسان ميں انحراف، گمراہي ، بدبختي اور شيطنت اس كے اپنے ارادہ سے ہوتي ہيں، لہٰذا خداوندعالم نے ابليس كو شيطان نہيں پيدا كيا تھا اس نے خود اپنے آپ كو شيطان بنايا، ليكن شيطنت كے باوجود خدا كے حق طلب بندوں كو نہ صرف يہ كہ كوئي نقصان نہيںپہنچاتا بلكہ ان كي ترقي اور كاميابي كا زينہ ہے۔ (غور كيجئے )
ليكن يہاں پر يہ سوال باقي رہ جاتا ہے كہ خداوندعالم نے اسے قيامت تك كي زندگي كيوں ديدي، كيوں فوراً ہي اس كو نيست و نابود كيوں نہ كرديا؟!
اگرچہ گزشتہ گفتگو سے اس سوال كا جواب واضح ہوجاتا ہے ليكن ہم ايك اور چيز عرض كرتے ہيں:
دنيا امتحان اور آزمائش كي جگہ ہے، (انسان كي كاميابي اور ترقي كا باعث امتحان او رآزمائش ہے) اور ہم جانتے ہيں كہ يہ امتحان اور آزمائش ،بڑے دشمن اور طوفان سے مقابلہ كئے بغير ممكن ہي نہيں ہے۔
البتہ اگر شيطان نہ ہوتا تو بھي انسان كي ہوائے نفس اور نفساني وسوسہ كے ذريعہ انسان كا امتحان ہوسكتا تھا، ليكن شيطان كے ہونے سے اس تنور كي آگ اور زيادہ بھڑك گئي ہے، كيونكہ شيطان باہر سے بہكانے والا ہے اور ہوائے نفس انسان كو اندر سے بہكاتي ہے۔(1) 
ايك سوال كا جواب: 
يہاں ايك سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ يہ كيسے ممكن ہے كہ خداوندعالم ايسے بے رحم اور طاقتور دشمن كے مقابلہ ميں ہميں تن تنہا چھوڑ دے؟ اور كيا يہ چيز خداوندعالم كي حكمت اور اس كے عدل و انصاف سے ہم آہنگ ہے؟
اس سوال كا جواب درج ذيل نكتہ سے واضح ہوجائے گا اور جيسا كہ قرآن مجيد ميں بھي بيان ہوا ہے كہ خداوندعالم مومنين كے ساتھ فرشتوں كا لشكر بھيجتا ہے اور غيبي اور معنوي طاقت عطا كرتا ہے جس سے جہاد بالنفس اور دشمن سے برسرِ پيكار ہونے ميں مدد ملتي ہے:
< إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْہِمْ الْمَلَائِكَةُ اٴَلاَّ تَخَافُوا وَلاَتَحْزَنُوا وَاٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُون # نَحْنُ اٴَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ >(2)
”بيشك جن لوگوں نے يہ كہا كہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر جمے رہے ان پر ملائكہ يہ پيغام لے كر نازل ہوتے ہيں كہ ڈرو نہيں اور رنجيدہ بھي نہ ہواور اس جنت سے مسرور ہو جاوٴ جس كا تم سے وعدہ كيا جا رہا ہے ،ہم زندگاني دنياميں بھي تمہارے ساتھي تھے اور آخرت ميں بھي تمہارے ساتھي ہيں“۔
ايك دوسرا اہم نكتہ يہ ہے كہ شيطان كبھي بھي ہمارے دل ميں اچانك نہيں آتا، اور ہماري روح كے باڈر سے بغير پاسپورٹ كے داخل نہيںہو سكتا، اس كا حملہ كبھي بھي اچانك نہيں ہوتا، وہ ہماري اجازت سے ہم پر سوار ہوتا ہے، جي ہاں وہ دروازہ سے آتا ہے نہ كہ كسي مورچہ سے، يہ ہم ہي ہيں جو اس كے لئے دروازہ كھول ديتے ہيں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
< إِنَّہُ لَيْسَ لَہُ سُلْطَانٌ عَلَي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُونَ ،إِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَي الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِينَ ہُمْ بِہِ مُشْرِكُونَ>(3)
” شيطان ہرگز ان لوگوں پر غلبہ نہيں پاسكتا جو صاحبان ايمان ہيں اور جن كا اللہ پر توكل اور اعتماد ہے، اس كا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہيں اور اللہ كے بارے ميں شرك كرنے والے ہيں“۔
اصولي طور پر يہ انسان كے اعمال ہوتے ہيں جوشيطان كے سوار ہونے كا راستہ ہموار كرتے ہيں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:<إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ>(4) ”اسراف كرنے والے شياطين كے بھائي ہيں“۔
ليكن بہرحال شيطان اور اس كے مختلف سپاہيوں كے رنگارنگ جال، مختلف شہوتيں، فساد كے ٹھكانے ، استعماري سياست، انحرافي مكاتب اور منحرف ثقافت سے نجات كے لئے ايمان و تقويٰ، اور لطف الٰہي اور خدا پر بھروسہ كرنے كے علاوہ اور كوئي راستہ نہيں ہے، جيسا كہ قرآن كريم ميں ارشاد ہوتا ہے:
<وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّيْطَانَ إِلاَّ قَلِيلًا>(5)
”اور اگر تم لوگوں پر خدا كا فضل اور اس كي رحمت نہ ہوتي تو چند افراد كے علاوہ سب شيطان كا اتباع كرليتے“۔(6)
انبياء عليہم السلام

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۱۹ صفحہ ۳۴۵
(2) سورہٴ فصلت ، آيت۳۰۔ ۳۱
(3) سورہ نحل ، آيت ۹۹، ۱۰۰
(4) سورہٴ اسراء ، آيت۲۷
(5)سورہٴ نساء ، آيت۸۳
(6) تفسير پيام قرآن ، جلد اول صفحہ ۴۲۳
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك