سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:383

انسان كو پيش آنے والي پريشانيوں اور مصيبتوں كا فلسفہ كيا ہے؟

يسا كہ سورہ شوريٰ آيت نمبر ۳۰ ميں ارشاد ہوا: < وَمَا اٴَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اٴَيْدِيكُمْ> ”جو مصيبت بھي تم پر پڑتي ہے وہ تمہارے كئے ہوئے اعمال كي وجہ سے ہوتي ہے“۔
مذكورہ آيت كے پيش نظر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ ہم پر پڑنے والي مصيبتوں كا سرچشمہ كيا ہے؟
اس آيت سے متعلق چند نكات كے بارے ميں غور كرنے سے بات واضح ہوجاتي ہے:
۱۔ آيہٴ كريمہ سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ انسان پر پڑنے والي مصيبتيں ايك طرح سے خدا كي طرف سے سزا اور ايك چيلنج ہوتي ہيں، (اگرچہ بعض مقامات جدا ہيں جن كي طرف ہم بعد ميں اشارہ كريں گے) اس وجہ سے دردناك حادثات اور زندگي ميں آنے والي پريشانيوں كا فلسفہ سمجھ ميں آجاتا ہے۔
جيسا كہ حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے منقول حديث ميں آيا ہے كہ آپ پيغمبر اكرم سے نقل كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے فرمايا:
يہ آيہٴ شريفہ < وَمَا اٴَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ > قرآن كريم كي بہترين آيت ہے، يا علي! انسان كے جسم ميں كوئي خراش نہيں آتي، اور نہ ہي كسي قدم ميں لڑگھڑاہٹ پيدا ہوتي مگر اس كے انجام دئے گناہوں كي بنا پر آتي ہے، اور جو كچھ خداوندعالم اس دنيا ميں معاف كرديتا ہے اس سے كہيں زيادہ قيامت كے دن معاف فرمائے گا، اور جو كچھ اس دنيا ميں عقوبت اور سزا دي ہے تو خدا اس سے كہيں زيادہ عادل ہے كہ روز قيامت اس كو دوبارہ سزا دے“۔(1)
لہٰذا اس طرح كے مصائب اور پريشانياں نہ صرف يہ كہ انسان كے بوجھ كو كم كرديتي ہيں بلكہ آئندہ كے لئے بھي اس كو كنٹرول كرتي رہتي ہيں۔
۲۔ اگرچہ آيت كے ظاہر سے عموميت كا اندازہ ہوتا ہے يعني تمام مصيبتوں اور پريشانيوں كو شامل ہے، ليكن مشہور قاعدہ كے مطابق تمام عموم ميں ايك مستثنيٰ ہوتا ہے، جيسا كہ انبياء اور ائمہ عليہم السلام كو بہت سے مصائب اور پريشانياں پيش آئي ہيں، جن كي وجہ سے ان حضرات كا امتحان ہوا ہے جس سے ان كا مقام رفيع و بلند ہواہے ۔
اسي طرح جن مصائب سے غير معصومين دوچار ہوئے ہيں ان ميں بھي امتحان اور آزمائش كا پہلو رہا ہے۔
يا جو مصائب جہالت كي بنا پر يا غور و فكر اورمشورہ نہ كرنے كي وجہ سے يا كاہلي اور سستي كي بناپر پيش آتے ہيں وہ خود انسان كے اعمال كا اثر ہوتا ہے۔
بالفاظ ديگر: قرآن مجيد كي مختلف آيات اور معصومين عليہم السلام سے منقول روايات كے پيش نظر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ مذكورہ آيت كي عموميت سے بعض مقامات مستثنيٰ ہيں، اور يہ كوئي نئي بات نہيں ہے بلكہ بعض مفسرين نے اس سلسلہ ميں مستقل باب ميں بحث وگفتگو كي ہے۔
خلاصہ يہ كہ بڑے بڑے مصائب اور پريشانيوں كے مختلف فلسفے ہوتے ہيں جن كے بارے ميں توحيد اور عدل الٰہي كي بحث ميں اشارہ كيا جا چكا ہے۔
مصائب اور مشكلات ؛ استعداد كي ترقي، آئندہ كے لئے چيلنج، امتحان الٰہي، غفلت ،غرور كا خاتمہ او رگناہوں كا كفارہ ہوتے ہيں۔
ليكن چونكہ يہ مصائب اور مشكلات اكثر افراد كے لئے كفارہ اور سزا كا پہلو ركھتے ہيں لہٰذا مذكورہ آيت نے عام طور پر بيان كيا ہے، اسي طرح حديث ميں بھي وارد ہوا ہے كہ جس وقت حضرت امام زين العابدين عليہ السلام يزيد كے دربار ميں پہنچے تو يزيد نے آپ كي طرف ديكھا اور كہا:
”يا عليّ! وَمَا اٴَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اٴَيْدِيكُمْ!“
(يعني كربلا كا واقعہ تمہارے اعمال كا نتيجہ ہے)
ليكن امام زين العابدين عليہ السلام نے فوراً اس كے جواب ميں فرمايا: 
”نہيں ايسا نہيں ہے، يہ آيہٴ شريفہ ہماري شان ميں نازل نہيں ہوئي ہے، ہماري شان ميں نازل ہونے والي دوسري آيت ہے ، جس ميں ارشاد ہوتا ہے:ہر وہ مصيبت جو زمين يا تمہارے جسم و جان پر آتي ہے ، خلقت سے پہلے كتاب (لوح محفوظ) ميں موجود تھي، خداوندعالم ان چيزوں سے باخبر ہے، يہ اس لئے ہے تاكہ تم مصيبتوں ميں غمگين نہ ہو اور جو كچھ تمہارے پاس ہے اس پر بہت زيادہ خوش نہ ہو، ( ان مصائب كا مقصد يہ ہے كہ تم جلد فناہونے والي اس دنيوي زندگي سے دل نہ لگاؤ، يہ چيزيں تمہارے لئے ايك امتحان اور آزمائش ہے)
اس كے بعد امام عليہ السلام نے فرمايا: ”ہم كسي چيز كے نقصان پر كبھي غمگين نہيں ہوتے ، اور جو كچھ ہمارے ہاتھ ميں ہوتا ہے اس پر خوش نہيں ہوتے، (ہم سب چيزوں كو جلد ختم ہونے والي مانتے ہيں، اور خداوندعالم كے لطف و كرم كے منتظر رہتے ہيں) (2).
۳۔بعض اوقات مصائب، اجتماعي پہلو ركھتے ہيں اور تمام لوگوں كے گناہوں كا نتيجہ ہوتے 
ہيں جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوا :
<ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اٴَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَہُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُونَ>(3)
”لوگوں كے ہاتھوں كي كمائي كي بنا پر فساد خشكي اور تري ہر جگہ غالب آگيا ہے تا كہ خدا ان كے كچھ اعمال كا مزہ چكھا دے تو شايد يہ لوگ پلٹ كر راستہ پر آجائيں“۔
يہ بات واضح ہے كہ يہ سب اس انساني معاشرہ كے لئے ہے جو اپنے كئے ہوئے اعمال كي وجہ سے عذاب اور مشكلات ميں گرفتار ہوجاتا ہے۔
اسي طرح سورہ رعد آيت نمبر ۱۱/ ميں ارشاد ہوتا ہے:
< إِنَّ اللهَ لاَيُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّي يُغَيِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِہِمْ> 
”اور خدا كسي قوم كے حالات كو اس وقت تك نہيں بدلتا جب تك وہ خود اپنے كوتبديل نہ كرلے“۔
اور اسي طرح كي ديگر آيات اس بات كي گواہي ديتي ہيں كہ انسان كے اعمال اور اس كي زندگي كے درميان ايك خاص رابطہ ہے كہ اگر فطرت اور خلقت كے اصول كے تحت قدم اٹھائے تو خداوندعالم كي طرف سے بركت عطا ہوتي ہے،اور جب انسان ان اصول سے گمراہ ہوجاتاہے تو اس كي زندگي بھي تباہ و برباد ہوجاتي ہے ۔(14)
اس سلسلہ ميں اسلامي معتبر كتابوں ميں بہت سي روايات بيان ہوئي ہيں ہم ان ميں سے بعض كي طرف اشارہ كركے اپني بحث كو مكمل كرتے ہيں:
۱۔حضرت علي عليہ السلام اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرماتے ہيں:
 
”مَاكَانَ قَطْ فِي غَضِ نِعمَةٍ مِنْ عيشٍ ،فَزَالَ عَنْھُم، إلاَّ بِذنوبِ اجترحُوھا، لاٴَنَّ اللهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِيْدِ، ولَو كَانَ النَّاسُ حِينَ تنزلُ بِھم النقم ،وَ تَزُوْلُ عَنْھُم النِعَمِ ،فَزَعُوا إليٰ رَبِّھِم بِصِدقٍ مِنْ نِيَاتِھِمْ وَوَلَّہُ مِنْ قُلُوبِھِم، لَردَّ عَلَيھِمْ كُلَّ شاردٍ،وَاٴصْلَحَ لَھُمْ كُلَّ فَاسِدٍ“(4) 
”خدا كي قسم كوئي بھي قوم جو نعمتوں كي تر و تازہ اور شاداب زندگي ميں تھي اور پھر اس كي وہ زندگي زائل ہوگئي تو اس كا كوئي سبب ان گناہوں كے علاوہ نہيں ہے جن كا ارتكاب اس قوم نے كيا ہے، اس لئے كہ پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہيں كرتا ہے، پھر بھي جن لوگوں پر عتاب نازل ہوتا ہے اور نعمتيں زائل ہوجاتي ہيں اگر صدق نيت اور تہِ دل سے پروردگار كي بارگاہ ميں فرياد كريں تو وہ گئي ہوئي نعمت واپس كردے گا اور بگڑے كاموں كو بنادے گا“۔
۲۔ كتاب ”جامع الاخبار“ ميں حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے ايك دوسري روايت نقل ہوئي ہے كہ آپ نے فرمايا:
”إنَّ البَلاءَ لِلظَّالِمِ اٴدَبٌ،وَلِلْمُوٴمنِ إمْتِحَانٌ، وَلِلْاٴنْبِيَاءِ دَرجةٌ وَلِلْاٴوْلياءِ كَرَامَةٌ“(5) 
”انسان پر پڑنے والي يہ مصيبتيں؛ظالم كے لئے سزا، مومنين كے لئے امتحان، انبياء اور پيامبروں كے لئے درجات (كي بلندي) اور اولياء الٰہي كے كرامت و بزرگي ہوتي ہيں“۔
يہ حديث اس بات پر ايك بہترين گواہ ہے كہ مذكورہ آيت ميں كچھ مقامات مستثنيٰ ہيں۔
۳۔ ايك دوسري حديث اصول كافي ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے كہ آپ نے فرماي
إنَّ الْعَبدَ إذَا كَثُرَتْ ذُنوبُہ ،وَلَمْ يَكُن عِنْدَہُ مِنَ الْعَمِلِ مَا يكفّرُھَا، ابتلاہُ بِالحُزْنِ لِيكفّر ھا“(6
”جس وقت انسان كے گناہ زيادہ ہوجاتے ہيں اور جبران وتلافي كرنے والے اعمال اس كے پاس نہيں ہوتے تو خداوندعالم اس كو غم و اندوہ ميں مبتلا كرديتا ہے تاكہ اس كے گناہوں كي تلافي ہوجائے“۔
۴۔ اصول كافي ميں اس سلسلہ ميں ايك خاص باب قرار ديا گيا ہے جس ميں ۱۲ حديثيں بيان ہوئي ہيں۔(7)
البتہ يہ تمام ان گناہوں كے علاوہ ہے جن كو خداوندعالم مذكورہ آيت كے مطابق معاف كرديتا ہے اور انسان پر رحمت كي بارش برساتا ہے جو خود ايك عظيم نعمت ہے۔
ايك غلط فہمي كا ازالہ
ممكن ہے كہ بعض لوگ اس قرآني حقيقت سے غلط فائدہ اٹھائيں اور وہ يہ كہ جو مصيبت بھي ان پر پڑے اس كا پُر جوش استقبال كريں اور كہيں كہ ہميں ان تمام مصائب كے سامنے تسليم ہونا چاہئے ، اور اس درس آموز اصل اور قرآني حقيقت كے برعكس نتيجہ اخذ كريں، يعني اس سے غلط نتيجہ اخذ كريں كہ جو بہت زيادہ خطرناك ہے۔
كبھي بھي قرآن كريم يہ نہيں كہتا كہ مصيبتوں كے سامنے تسليم ہوجائيں اور ان كو دور كرنے كے لئے كوشش نہ كريں، اور ظلم و ستم اور بيماريوں كے مقابلہ ميں خاموش رہيں، بلكہ قرآن كا فرمان 
ہے: اگر اپني تمام تر كوشش كے باوجود مشكلات دور نہ ہوں تو سمجھ لو كہ كوئي ايسا گناہ كيا ہے جس كي يہ سزا مل رہي ہے،لہٰذا اپنے گزشتہ اعمال كي طرف توجہ كريں اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار كريں، اور اپني اصلاح كريں اپنے كو برائيوں سے دور كريں۔
چنانچہ ہم ديكھتے ہيں كہ بعض روايات ميں مذكورہ آيت كو انھيں بہترين اور اہم تربيتي آثار كي بناپر ”بہترين آيت“ شمار كيا گيا ہے ،اور دوسري طرف اس سے انسان كا بوجھ بھي كم ہوتا ہے، اس كے دل ميں اميد كي كرن پيدا ہو تي ہے اور خدا كا عشق بھي پيدا ہو جاتا ہے۔(8)

(1) ”مجمع البيان“ ، جلد ۹، صفحہ ۳۱، اس حديث كو ”درالمنثور “ اور تفسير ”روح المعاني “ميں مختصر فر ق كے ساتھ بيان كيا ہے اوراس طرح كي حديثيں بہت زيادہ ہيں
(2) تفسير ”علي بن ابراہيم“ مطابق ”نور الثقلين“ ، جلد ۴، صفحہ ۵۸۰
(3) سورہ روم ، آيت ۴۱ 
(4)تفسير الميزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۶۱
(5) نہج البلاغہ، خطبہ: ۱۷۸ 
(6) ”اصول كافي“، جلد دوم، كتاب الايمان والكفر باب تعجيل عقوبة الذنب حديث۲
(7) ”اصول كافي“، جلد دوم، كتاب الايمان والكفر باب، تعجيل عقوبة الذنب حديث۲
(8) تفسير نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۴۰
دن كي تصوير
ويڈيو بينك