سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:369

كيا روزي كے لحاظ سے لوگوں ميں موجودہ فرق ، عدالت الٰہي سے ہم آہنگ ہے؟

قرآن كريم كے سورہ نحل ميں ارشاد ہوتا ہے: <وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ> (1) ”خداوندعالم نے تم ميں سے بعض لوگوں كو روزي كے لحاظ سے بعض دوسرے لوگوں پر برتري دي ہے“۔
يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ انسانوں كے درميان رزق و روزي كے لحاظ سے فرق قرار دينا ؛ كيا خداوندعالم كي عدالت اور معاشرہ كے لئے ضروري مساوات سے ہم آہنگ ہے؟
(قارئين كرام!) اس سوال كے جواب ميں دو نكتوں كي طرف توجہ كرنا ضروري ہے:
۱۔ اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ مادي اسباب اور مال و دولت كے لحاظ سے انسانوں كے درميان پائے جانے والے فرق كي اہم وجہ خودانسانوں كي استعداد اور صلاحيت ہے، انسان ميں موجودہ جسمي اور عقلي يہي فرق ہي باعث ہوتا ہے كہ بعض لوگوں كے پاس بہت زيادہ مال وs دولت جمع ہوجائے اور بعض دوسروں كے پاس نسبتاً كم رہے۔  
البتہ اس ميں بھي كوئي شك نہيں ہے كہ بعض لوگ اتفاقات كي بنا پر مالدار بن جاتے ہيں جو كہ خود ہمارے نظريہ كے مطابق صرف ايك اتفاق ہوتا ہے ليكن ايسي چيزوں كومستثنيٰ شمار كيا جاسكتا ہے، ہاں جو چيز اكثر اوقات قاعدہ و قانون كے تحت ہوتي ہے تو وہ استعداد وصلاحيت اور انسان كي كاركردگي كا فرق ہے (البتہ ہماري گفتگو ايسے سالم معاشرہ كے بارے ميں ہے جس ميں ظلم و ستم نہ ہو اور نہ ہي استثمار، اور نہ ہي ايسا معاشرہ جو قوانين خلقت اور انساني نظام سے بالكل دور ہو)
تعجب كي بات تو يہ ہے كہ كبھي كبھي ہم جن لوگوں كو اپاہج (لولا او رلنگڑا) اور كم اہميت سمجھتے ہيں وہ بہت زيادہ مال و دولت جمع كرليتے ہيں اور اگر ان كے جسم و عقل كے بارے ميں مزيد غور و فكر كريں اور ظاہري طور پر فيصلہ كرنے كے بجائے گہرائي سے سوچيں تو ہميں يہ بات معلوم ہوجائے گي كہ ان كے اندر كچھ ايسي طاقتور چيزيںپائي جاتي ہيں جن كي وجہ سے وہ اس مقام تك پہنچے ہيں، (ايك بار پھر اس بات كي تكرار كرتے ہيں كہ ہماري بحث ايك سالم اور ظلم و ستم سے دور معاشرہ كے بارے ميں ہے)۔
بہر حال استعداد اور صلاحيت كي وجہ سے آمدني ميں فرق ہوتا ہے، اور استعداد خداوندعالم كي عطا كردہ نعمت ہے، ہوسكتا ہے بعض مقامات ميں انسان سعي و كوشش كے ذريعہ كسب كرلے، ليكن ديگر مواقع پر انسان كسب نہيں كرسكتا، يہاں تك كہ ايك سالم معاشرہ ميں بھي اقتصادي لحاظ سے درآمد ميں فرق پايا جانا چاہئے، مگر يہ كہ ايك جيسے انسان، ايك جيسي استعداد اور ايك جيسے رنگ كے انسان بن جائيں كہ جن ميں ذرہ برابر بھي كوئي فرق نہ ہو، جو خود مشكلات اور پريشانيوں كي ابتدا ہے!
۲۔ كسي انسان كے بدن، يا كسي درخت يا كسي پھول كو مد نظر ركھيں ، كيا يہ ممكن ہے كہ ان تمام چيزوں كے جسم كے تمام اعضا ہر لحاظ سے ايك جيسے ہوجائيں؟ 
تو كيا درختوں كي جڑوں كي طاقت نازك پتوں كي طرح يا انسان كے پير كي ايڑي ،آنكھ كے نازك پردہ كي طرح ہوسكتي ہے؟ اگر ہم ان كو ايك جيسا بناديں تو كيا ہمارے اس كام كو صحيح كہا جاسكے گا؟! (اگر يہ نازك آنكھ، ايڑي كي طرح سخت يا ايڑي ،آنكھ كي طرح نرم ہوجائے تو انسان كتنے دن زندہ رہ سكتا ہے؟!!)
اگر جھوٹے نعرے اور شعور سے خالي نعروں كو دور ركھ كر فرض كريں كہ اگر ہم نے كسي روز تمام انسانوں كو ايك طرح بناديا جو ہر لحاظ سے ايك جيسے ہوں ، اور دنيا كي آبادي پانچ ارب فرض كريں اور وہ سبھي ذوق، فكر اور صلاحيت بلكہ ہر لحاظ سے ايك جيسے ہوں، بالكل ايك كارخانہ سے بننے والي سگريٹ كي طرح۔
تو كيا اس وقت انسان بہتر طور پر زندگي گزار سكے گا؟ قطعي طور پر جواب منفي ہوگا، يہي نہيں بلكہ دنيا ايك جہنم بن جائے گي، سب لوگ ايك چيز كي طرف دوڑيں گے، ايك ہي عہدہ كے طالب ہوں گے، سب كو ايك ہي كھانا اچھا لگے گا، اور سب ايك ہي كام كرنا چاہيں گے!
يہ بات مكمل طور پرواضح ہے كہ اس طرح زندگي كي گاڑي نہيں چل سكتي، اور اگر يہ گاڑي چلي بھي تو واقعاً بور كرنے والي ، بے مزہ اور ايك طرح كي ہوگي، جس كا موت سے كوئي زيادہ فرق نہيں ہوگا۔
اجتماعي زندگي كي بقا بلكہ مختلف استعداد كي پرورش كے لئے نہايت ضروري ہے كہ استعداد اور صلاحيت ميں فرق ہو، جھوٹے نعرے اس حقيقت پر پردہ نہيں ڈال سكتے۔
ليكن اس بات سے كوئي يہ مطلب نہ نكالے كہ ہم طبقاتي نظام يا استعماري نظام كو قبول كرتے ہيں، نہيں ، ہرگز نہيں، ہماري مراد طبيعي فرق ہے نہ كہ مصنوعي، اور وہ فرق مراد ہے جو ايك دوسرے كے تعاون كا باعث ہو، نہ كہ ايك دوسرے كي ترقي ميں ركاوٹ بنے، اورجس سے ايك دوسرے پر ظلم و ستم كيا جائے۔
طبقاتي اختلاف (توجہ رہے كہ طبقات سے مراد وہي استثماري نظام اور استثماري نظام كو قبول كرنے والے لوگ ہيں) نظام خلقت كے موافق نہيں ہے ، بلكہ نظام خلقت سے موافق استعداد اور صلاحيت اور سعي و كوشش كا فرق ہے، او ران دونوں كے درميان زمين تا آسمان فرق ہے۔ (غور كيجئے )
دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ استعداد اور لياقت كے فرق سے اپني اور معاشرہ كي فلاح و بہبود كے راستہ ميں مدد لي جائے، بالكل ايك بدن كے اعضا كے فرق كي طرح، يا ايك پھول كے مختلف حصوں كي طرح، جو اپنے فرق كے ساتھ ساتھ ايك دوسرے كے مددگار ہيں نہ كہ ايك دوسرے كے لئے باعث زحمت و پريشاني۔
المختصر : استعداد اور صلاحيت كے فرق سے غلط فائدہ نہيں اٹھانا چاہئے ، اور نہ ہي اس كو طبقاتي نظام بنانے ميں بروئے كار لانا چاہئے۔
اسي وجہ سے قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ يَجْحَدُون> (2) ”كيا خداوندعالم كي عطا كردہ نعمتوں كا انكار كرتے ہو؟“۔
اس آيت ميں طبيعي طور پر فرق (نہ كہ مصنوعي اور ظالمانہ فرق) خداوندعالم كي ان نعمتوں ميں سے ہے جس كو معاشرہ كي بقا كے لئے ضروري قرار ديا گيا ہے۔(3)

(1) سورہ نحل ، آيت ۷۱
(2) سورہ نحل ، آيت ۷۱
(3) تفسير نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۳۱۲
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك