سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:382

كيا انسانوں ميں پيدائشي فرق ؛ خدا وندعالم كي عدالت سے ہم آہنگ ہے؟

جيسا كہ ہم قرآن كريم ميں پڑھتے ہيں :<وَلٰا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِہِ بَعْضَكُمْ عَلَي بَعْضٍ > (1)
”اور خبر دار جو خدا نے بعض افراد كو بعض سے كچھ زيادہ ديا ہے اس كي تمنا اور آرزو نہ كرنا“۔
اس آيہٴ --شريفہ كے پيش نظر بہت سے لوگوں كے ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ بعض لوگوں كي استعداد اور قابليت زيادہ اور بعض لوگوں كي استعداد كم كيوں ہے؟ اسي طرح بعض لوگ دوسروں سے زيادہ خوبصورت اور بعض كم خوبصورت ہيں، نيز بعض لوگ بہت زيادہ طاقتور اور بعض معمولي طاقت ركھتے ہيں، كيا يہ فرق خداوندعالم كي عدالت كے منافي نہيںہے؟
اس سوال كے ذيل ميں ہم چند نكات كي طرف اشارہ كرتے ہيں:
۱۔ بعض لوگوں ميں جسماني يا روحاني فرق كا ايك حصہ طبقاتي نظام، اجتماعي ظلم و ستم يا ذاتي سستي اور كاہلي كا نتيجہ ہوتا ہے جس كا نظام خلقت سے كوئي سروكار نہيں، مثال كے طور پر بہت سے  
مالدار لوگوں كي اولاد غريب لوگوں كي اولاد كي نسبت جسمي لحاظ سے طاقتور، خوبصورتي كے لحاظ سے بہتر اور استعداد و قابليت كے لحاظ سے بہت آگے ہوتي ہے، كيونكہ ان كے يہاں غذائي اشياء كافي مقدار ميں ہوتي ہيں اور صفائي كا بھي خيال ركھا جاتا ہے، جبكہ غريب لوگوں كے يہاں يہ چيزيں نہيں ہوتيں، يا بہت سے لوگ سستي اور كاہلي سے كام ليتے ہيں اور اپني جسماني طاقت كھوبيٹھتے ہيں، لہٰذا اس طرح كے فرق كو ”جعلي اور بے دليل“ كہا جائے گا جو طبقاتي نظام كے خاتمہ اور معاشرہ ميں عدل و انصاف كا ماحول پيدا ہونے سے خود بخود ختم ہوجائے گا ، قرآن كريم نے اس طرح كے فرق كو كبھي بھي صحيح نہيں مانا ہے۔
۲۔ اس فرق كا ايك حصہ انساني خلقت كا لازمہ اور ايك طبيعي چيز ہے يعني اگر كسي معاشرہ ميں مكمل طور پر عدل و انصاف پايا جاتا ہو تو بھي تمام لوگ ايك كارخانہ كي مصنوعات كي طرح ايك جيسے نہيں ہوسكتے، طبيعي طور پر ايك دوسرے ميں فرق ہونا چاہئے ، ليكن يہ بات معلوم ہونا چاہئے كہ معمولاً خداداد صلاحتيں اور روحي و جسمي استعداد اس طرح تقسيم ہوئي ہيں كہ ہر انسان ميں استعدادكا ايك حصہ پايا جاتا ہے يعني بہت ہي كم لوگ ايسے مليں گے كہ يہ تمام چيزيں ان ميں جمع ہوں، ايك انسان، جسماني طاقت سے سرفرازہے تو دوسرا علم حساب ميں بہترين استعداد كا مالك ہے، كسي انسان ميں شعركہنے كي صلاحيت ہوتي ہے تو دوسرے ميں تجارت كا سليقہ پاياجاتا ہے، بعض ميں زراعتي امور انجام دينے كي طاقت پائي جاتي ہے، اور بعض دوسرے لوگوں ميں دوسري مخصوص صلاحتيں ہوتي ہيں، اہم بات يہ ہے كہ معاشرہ يا انسان اپني صلاحيت كوبروئے كار لائے اور صحيح ماحول ميں اس كي پرورش كرے تاكہ ہر انسان اپني صلاحيت كو ظاہر كرسكے اور اس سے حتي الامكان سرفرازہوسكے۔
۳۔ اس نكتہ پر بھي توجہ كرني چاہئے كہ ايك معاشرہ كے لئے انساني بدن كي طرح مختلف چيزوں كي ضرورت ہوتي ہے يعني اگر ايك بدن كے تمام اعضا اور خليے (Cells)ظريف اور لطيف ہوں گے جيسے آنكھ، كان اور مغز وغيرہ كے خليے تو انسان ميں دوام پيدا نہيں ہوسكے گا، يا اگر انساني جسم كے تمام اعضا نرم نہ ہوں بلكہ ہڈيوں كے خليوں كي طرح سخت ہوں تو وہ مختلف كاموں كے لئے بے كار ہيں(اور اس صورت ميں انسان زيادہ دن زندہ نہيں رہ سكتا) بلكہ انسان كے جسم كے لئے مختلف خُليوں كي ضرورت ہوتي ہے، ايك عضو ميں سننے كي صلاحيت ہوتي ہے تو دوسرے ميں ديكھنے كي صلاحيت ہوتي ہے زبان سے گفتگو كي جاتي ہے، پيروں سے ادھر ادھر جانا ہوتا ہے، لہٰذا جس طرح انسان كے لئے مختلف اعضا و جوارح كي ضرورت ہوتي ہے اسي طرح ايك ”عمدہ معاشرہ“ كے لئے مختلف صلاحيتوں اور استعداد كي ضرورت ہوتي ہے جن ميں سے بعض لوگ بدني طور پر كام كريں اوربعض لوگ علمي اور غور و فكر كا كام انجام ديں، ليكن يہ نہيں كہ معاشرہ ميں كچھ لوگ غربت اور پريشاني كي زندگي بسر كريں، يا ان كي خدمات كو اہميت نہ دي جائے يا ان كو ذلت كي نگاہ سے ديكھا جائے ، جس طرح سے انساني اعضا و جوارح اپنے تمام تر فرق كے باوجود ہر قسم كي غذا اور دوسري ضرروتوں سے فيضياب ہوتے ہيں۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ انسان ميں روحي اور جسمي طبيعي اختلاف خداوندعالم كي حكمت كے عين مطابق ہے اور خداوندعالم كي عدالت، حكمت سے كبھي جدا نہيں ہوتي ، مثال كے طور پر اگر انسان كے تمام اعضا ايك ہي طرح كے خلق كئے جاتے تو اس كي حكمت كے منافي تھااور يہ عدالت نہ ہوتي، جبكہ عدالت كے معني ہر چيز كو اس كي جگہ پر قرار دينے كے ہيں، اسي طرح اگر معاشرہ كے تمام لوگ ايك روز ايك ہي بات سوچيں اور ايك دوسرے كي استعداد برابر ہوجائے تو اسي ايك دن ميں معاشرہ كي حالت درہم و برہم ہوجائے گي! (2)
 

(1) سورہ نساء ، آيت نمبر ۳۲
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۵ ۳۶
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك