سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:438

دعا كرتے وقت آسمان كي طرف ہاتھ كيوں بلند كرتے ہيں؟

اكثر اوقات عوام الناس كے ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ جب خداوندعالم كے لئے كوئي (خاص) محل و مكان نہيں ہے تو پھر دعا كرتے وقت آسمان كي طرف ہاتھ كيوں اٹھاتے ہيں؟ كيوں آسمان كي طرف آنكھيں متوجہ كي جاتي ہيں؟ نعوذ بالله كيا خداوندعالم آسمان ميں ہے؟
(قارئين كرام!) يہ سوال حضرات ائمہ معصومين عليہم السلام كے زمانہ ميں بھي ہوتا تھا، جيسا كہ ہميں تاريخ ميں ملتا ہے كہ ”ہشام بن حكم“ كہتے ہيں: ايك زنديق حضرت امام صادق عليہ السلام كي خدمت ميں آيا اور اس نے درج ذيل آيت كے بارے ميں سوال كيا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَويٰ>
”وہ رحمن عرش پر اختيار اور اقتدار ركھنے والا ہے“۔
امام عليہ السلام نے وضاحت كرتے ہوئے فرمايا: خداوندعالم كو كسي جگہ اور كسي مخلوق كي كوئي ضرورت نہيں ہے، بلكہ تمام مخلوقات اس كي محتاج ہے۔
سوال كرنے والے نے عرض كي: تو پھر كوئي فرق نہيں ہے كہ (دعا كے وقت) چاہے ہاتھ آسمان كي طرف بلند ہوں يا زمين كي طرف؟!
اس وقت امام عليہ السلام نے فرمايا: يہ موضوع خداوندعالم كے علم و احاطہ ميں برابر ہے (اور كوئي فرق نہيں ہے) ليكن خداوندعالم نے اپنے انبياء اور صالح بندوں كو خود حكم ديا كہ اپنے ہاتھوں كو آسمان اور عرش كي طرف اٹھائيں، كيونكہ معدنِ رزق وہيں ہے، جو كچھ قرآن كريم اور احاديث سے ثابت ہے ہم اس كو ثابت مانتے ہيں جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں كو خداوندعالم كي بارگاہ ميں بلند كرو، اس بات پر تمام امت كا اتفاق اور اجماع ہے۔
اسي طرح كتاب خصال (شيخ صدوق عليہ الرحمہ) ميں حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدكُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَليرفعُ يديہِ إليٰ السَّمَاءِ، ولينصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں كو آسمان كي طرف بلند كرو اور دعا ميں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ايك شخص نے عرض كيا: يا امير المومنين! كيا خداوندعالم سب جگہ موجود نہيں ہے؟
امام عليہ السلام نے فرمايا: جي ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض كيا: تو پھر بندے آسمان كي طرف اپنے ہاتھوں كوكيوں اٹھائيں؟
اس موقع پر امام عليہ السلام نے درج ذيل آيہٴ شريفہ كي تلاوت فرمائي:
<وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ>
” اور آسمان ميں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں كا تم سے وعدہ كيا گيا ہے (سبب كچھ موجودہے)“۔
ان روايات كے مطابق چونكہ انسان كا اكثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمين زراعت كے لائق ہوجاتي ہے، آسمان سے نازل ہوتي ہے، سورج كي روشني جو كہ زندگي اور حيات كا مركز ہے، آسمان سے آتي ہے ، ہوا بھي آسمان ميں ہے جو كہ زندگي كے لئے تيسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور بركات الٰہي كا معدن و مركز ہے، لہٰذا دعا كے وقت آسمان كي طرف توجہ كي جاتي ہے اور رزق و روزي كے مالك و خالق سے اپني مشكلات كے حل كي دعا كي جاتي ہے۔
بعض روايات ميں اس كام كے لئے ايك دوسرا فلسفہ بھي بيان كيا گيا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم كي بارگاہ ميں خضوع و تذلل كرنا، كيونكہ ہم كسي شخص يا كسي شئے كے سامنے تواضع كے اظہار كے وقت اور تسليم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں كو بلند كرتے ہيں۔
دن كي تصوير
ويڈيو بينك