سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:349

كيا اولياء اللہ كو وسيلہ قراردينا توحيد خداكے مخالف ہے؟

 (قارئين كرام!) پہلے ہي يہ نكتہ عرض كردينا ضروري ہے كہ توسل سے مراد يہ نہيں ہے كہ انسان پيامبر اكرم (ص) يا ائمہ عليہم السلام سے مستقل طور پر كوئي چيز طلب كرے بلكہ توسل سے مراد يہ ہے كہ اعمال صالحہ يا پيغمبر اور امام كي اطاعت و پيروي كے ذريعہ يا ان حضرات كي شفاعت يا خداوندعالم كو ان حضرات كے عظيم مرتبہ كي قسم دے كر( جو خود ايك طرح سے ان كي عظمت اور بلندي كا احترام كرنا ہے اور ايك طرح سے خداكي عبادت ہے) خداوندعالم سے كوئي چيز مانگي جائے تو اس ميں نہ كسي طرح كا كوئي شرك ہے اور نہ ہي يہ قرآني آيات كے مخالف ہے۔
اس كے علاوہ قرآني آيات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے كہ خداوندعالم كو كسي صالح اور نيك انسان كي عظمت كا واسطہ دے كر اس سے كوئي چيز طلب كرنے ميں كوئي قباحت نہيں اور توحيد خدا سے بھي منافي نہيں ہے، جيسا كہ سورہ نساء ميں ارشاد ہوتا ہے: <وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاوٴُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِيمًا>(1)
”اور كا ش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم كيا تھا تو آپ كے پاس آتے اور خود بھي اپنے گناہوں كے لئے استغفار كرتے اور رسول بھي ان كے حق ميں استغفار كرتا تو يہ خدا كو بڑا ہي توبہ قبول كرنے والا اور مہربان پاتے“۔ 
 
توسل اور اسلامي روايات 
توسل كے سلسلہ ميں اہل سنت اور شيعہ كتابوں ميں بہت سي روايات بيان ہوئي ہيں جن سے مكمل طور پر يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ توسل اور وسيلہ قرار دينے ميں كوئي اشكال نہيں پايا جاتا، بلكہ ايك نيك كام ہے، اس سلسلہ ميں بہت زيادہ روايات ہيں اور بہت سي كتابوں ميں نقل بھي ہوئي ہيں، ہم نمونہ كے طور پراہل سنت كي مشہور و معروف كتابوں سے چند روايات كو نقل كرتے ہيں:
۱۔ مشہور ومعروف سني عالم دين ”سمہودي“ اپني كتاب ”وفاء الوفاء“ ميں رقمطراز ہيں: پيغمبر اكرم (ص) يا آپ كي عظمت و بزرگي كے واسطہ سے خدا كي بارگاہ ميں مدد طلب كرنا، شفاعت چاہنا ، آنحضرت كي خلقت سے پہلے بھي جائز تھا ،آپكي پيدائش كے بعد اور آپكي وفات كے بعد ، عالم برزخ اور روز قيامت ميں بھي جائز ہے، اس كے بعد حضرت عمر بن خطاب سے روايت نقل كرتے ہيں كہ حضرت آدم عليہ السلام نے پيغمبر اكرم (ص) سے توسل كيا: جناب آدم عليہ السلام پيغمبر اكرم كي خلقت كے بارے ميں علم حاصل كرنے كے بعد خداوندعالم كي بارگاہ ميں اس طرح عرض كرتے ہيں:
”يَا ربِّ اٴسئلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفرتَ لِي“(2) 
”پالنے والے! تجھے محمد( (ص) )كا واسطہ، تجھ سے سوال كرتا ہوں كہ مجھے معاف كردے“۔
اس كے بعد اہل سنت كے مشہور و معروف دانشوروں جيسے ”نسائي“ اور ”ترمذي“ سے ايك حديث نقل كرتے ہيں او ر اس كو توسل كے جواز پر شاہد كے عنوان سے نقل كرتے ہيں، جس حديث كا خلاصہ يہ ہے:ايك نابينا شخص نے پيغمبر اكرم (ص) سے اپني بيماري كي شفاء كے لئے درخواست كي تو پيغمبر اكرم (ص) نے حكم ديا كہ اس طرح دعا كرو:
”اَللَّھُمَّ إنِّي اٴسئلُكَ وَاٴتَوجَّہُ إلَيْكَ بِنَيِّكَ مُحَمَّد نَبِيِّ الرَّحمةِ يَا مُحمَّد إنِّي تَوجھتُ بِكَ إليٰ ربّي فِي حَاجَتِي لِتقضي لِي اٴللَّھُمَّ شَفِّعْہُ فِيّ“(1) 
”پالنے والے! تيرے پيغمبر رحمت كے واسطہ سے تجھ سے درخواست كرتا ہوں اور اے محمد! آپ كي طرف متوجہ ہوتا ہوں اور آپ ہي كے واسطہ سے اپني حاجت روائي كے لئے خدا كي بارگاہ ميں متوجہ ہوتا ہوں، پالنے والے! آنحضرت ( (ص)) كو ميرا شفيع قرار دے“۔
اس كے بعد پيغمبراكرم (ص) كي وفات كے بعد توسل كے جواز كو ثابت كرنے كے لئے يوں بيان كرتے ہيں: حضرت عثمان كے زمانہ ميں ايك حاجت مند پيغمبر اكرم (ص) كي قبر كے نزديك آيا اور اس نے نماز پڑھي اور اس طرح دعا كرنے لگا:
”اَللَّھُمَّ إنِّي اٴسئلُكَ وَاٴتَوجَّہُ إلَيْكَبِنَبِيِّنَا مُحَمَّد نَبِيِّ الرَّحمةِ يَا مُحمَّد إنِّي اٴتوجہ إليٰ رَبكَ اَنْ تَقْضي حَاجَتِي“(3) 
”پالنے والے! تيري بارگاہ ميں پيغمبر اكرم( (ص) )، پيغمبر رحمت كے وسيلہ سے درخواست كرتا ہوں اور تيري طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! آپ كے وسيلہ سے خدا كي بارگاہ ميں متوجہ ہوتا ہوں تاكہ ميري مشكل آسان ہوجائے“۔
كچھ ہي دير گزري تھي كہ اس كي مشكل آسان ہوگئي۔(4)
۲۔ ”التوصل الي حقيقة التوسل“ كے موٴلف مختلف منابع و مآخذ سے ۲۶/ احاديث نقل كرتے ہيں جن سے توسل كا جائز ہونا سمجھ ميں آتا ہے، اگرچہ موصوف نے ان احاديث كي سند ميں اشكال كرنا چاہا ہے، ليكن يہ بات واضح ہے كہ جب روايات زيادہ ہوجاتي ہيں اور تواتر(5) كي حد تك پہنچ جاتي ہيں تو پھر سند ميں اشكال و اعتراض كي گنجائش نہيں رہتي، اور مخفي نہ رہے كہ توسل كے سلسلہ ميں احاديث تواتر كي حد سے بھي زيادہ ہيں، ان كي نقل كي ہوئي روايات ميں سے ايك يہ ہے:
”ابن حجر مكي“ اپني كتاب ”الصواعق المحرقہ“ ميں اہل سنت كے مشہور و معروف”امام شافعي“ سے نقل كرتے ہيں كہ انھوں نے اہل بيت پيغمبر سے توسل كيا اور اس طرح كہا:
آل النَبِيّ ذَريعَتِي وَھُمْ إلَيہ وَسيلتي
اٴرْجُوْبِھمْ اٴعطي غَداً ِبيَدِ اليَمِينِ صَحِيفَتِي(6) 
”آل پيغمبر ميرا وسيلہ ہيں ، اور وہي خدا كي بارگاہ ميں ميرے لئے باعث تقرب ہيں “
” ميں اميدوار ہوں كہ ان كے وسيلہ سے ميرا نامہ اعمال ميرے داہنے ہاتھ ميں ديا جائے“
اسي طرح ”بيہقي“ بھي نقل كرتے ہيں كہ ايك مرتبہ خليفہ دوم كي خلافت كے زمانہ ميں قحط پڑا، جناب بلال چند اصحاب كے ساتھ پيغمبر اكرم (ص) كي قبر مبارك پر آئے اور اس طرح عرض كي:
”يَا رَسُولَ الله استسق لاٴمّتك  فَإنَّہُم قَد ہَلَكُوا “ (7)
”يا رسول اللہ! اپني امت كے لئے باران رحمت طلب فرمائيے  كيونكہ آپ كي امت ہلاك ہوا چاہتي ہے“۔
يہاں تك كہ ابن حجر اپني كتاب ”الخيرات الحسان“ ميں نقل كرتے ہيں كہ ”امام شافعي“ بغداد ميں قيام كے دوران ”ابو حنيفہ“كي زيارت كے لئے جاتے تھے، اور اپني حاجتوں ميں ان كو وسيلہ بناتے تھے اور ان سے متوسل ہوتے تھے۔(8)
نيز ”صحيح دارمي“ ميں ”ابي الجوزاء“ سے نقل ہوا ہے كہ ايك سال مدينہ ميں بہت سخت قحط پڑگيا، بعض افراد جناب عائشہ كي خدمت ميں جاكر شكايت كرنے لگے، اور ان سے درخواست كي كہ قبر پيغمبر كي چھت ميں سوراخ كرديا جائے تاكہ قبر پيغمبر كي بركت سے خداوندعالم باران رحمت نازل فرمادے، چنانچہ ايسا ہي كيا گيا اور اس وقت بہت زيادہ بارش ہوئي!
تفسير ”آلوسي“ ميں اس سلسلہ ميں بہت سي احاديث نقل ہوئي ہيں اور پھر ان احاديث كا مفصل طريقہ سے تجزيہ و تحليل كرنے كے بعد اور مذكورہ احاديث ميں بہت سخت رويہ اختيار كرنے كے بعد ان كا اعتراف كرتے ہوئے اس طرح كہتے ہيں:
”اس گفتگو كے تمام ہونے كے بعد ميرے نزديك كوئي مانع نہيں ہے كہ خداوندعالم كي بارگاہ ميں پيغمبر اكرم (ص) كو وسيلہ قرار ديا جائے، چاہے پيغمبر اكرم كي زندگي ميں ہو يا آنحضرت كے انتقال كے بعد “ موصوف اس سلسلہ ميں كافي بحث كرنے كے بعد مزيد فرماتے ہيں: ”خداوندعالم كي بارگاہ ميں پيغمبر كے علاوہ كسي دوسرے سے توسل كرنے ميں بھي كوئي ممانعت نہيں ہے، ليكن اس شرط كے ساتھ كہ پيغمبر كے علاوہ جس كو خدا كي بارگاہ ميں وسيلہ بنايا جائے اس كا مرتبہ خدا كي نظر ميں بلند و بالا ہو۔ (9)
ليكن شيعہ منابع و مآخذ ميں وسيلہ اور توسل كا موضوع اس قدر واضح ہے كہ اس كو بيان كرنے كي (بھي) ضرورت نہيں ہے۔
 
چند ضروري نكات:
(قارئين كرام!) يہاں پر چند نكات كي طرف توجہ كرنا ضروري ہے:
۱۔ توسل اور وسيلہ سے يہ مراد نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) يا ائمہ معصومين عليہم السلام سے كوئي شخص اپني حاجات طلب كرے ، بلكہ مراد يہ ہے كہ خدا كي بارگاہ ميں پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليہم السلام كي عظمت اور بلندي كے ذريعہ متوسل ہو، اور يہ كام درحقيقت خداو ندعالم كي طرف توجہ كرنا ہے، كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) كا احترام بھي خداكي وجہ سے ہے كہ آپ خدا كے رسول ہيں، اس كي راہ پر چلے، ان باتوں كے باوجود ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو اس طرح كے توسل كو شرك كي ايك قسم كہہ ديتے ہيں جبكہ شرك يہ ہے كہ خدا كي صفات اور اس كے اعمال ميں كسي كو شريك مانيں ، جبكہ اس طرح كا توسل شرك سے كوئي شباہت نہيں ركھتا۔
۲۔ بعض لوگوں نے اس بات كي بہت كوشش كي ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ عليہم السلام كي حيات اور وفات ميں فرق قرارديں ، حالانكہ مذكورہ روايات جن ميں بہت سي روايات وفات كے بارے ميں ہيں؛ لہٰذا ان كے پيش نظر مسلمانوں كا عقيدہ يہ ہے كہ انبياء اور صالحين وفات كے بعد ”برزخي حيات “ ركھتے ہيں جو كہ دنياوي زندگي سے وسيع تر ہے جيسا كہ شہداء كے بارے ميں وضاحت كے ساتھ بيان ہوا ہے كہ ان كو مردہ تصور نہ كرو وہ زندہ ہيں اور خدا كي طرف سے رزق پاتے ہيں۔(10)
۳۔ بعض لوگ اس بات پر اصرار كرتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) سے دعا كي درخواست اور خدا كي بارگا ہ ميں ان كي عظمت كي قسم دينے ميں فرق ہے، لہٰذا دعا كي درخواست كو جائز اور خدا كي بارگاہ ميں ان كي عظمت كي قسم دينے كو حرام جانتے ہيں، حالانكہ ان دونوں كے درميان كسي بھي طرح كا كوئي منطقي فرق دكھائي نہيں ديتا۔
۴۔ بعض علمائے اہل سنت خصوصاً ”وہابي علماء“ اپني خاص ہٹ دھرمي كي بنا پر كوشش كرتے ہيں كہ وسيلہ اور توسل كے بارے ميں بيان ہونے والي تمام احاديث كو ضعيف اور كمزور ثابت كرڈاليں، اس سلسلہ ميں بے بنياد اعتراضات كرتے ہيں جو درحقيقت بہت پرانے ہوچكے ہيں، جن كو مدّ نظر ركھتے ہوئے ايك انصاف پسند انسان يہ محسوس كرتا ہے كہ ان لوگوں نے پہلے اپنا عقيدہ معين كرليا ہے اور پھر اپنے عقيدہ كو اسلامي روايات پر ”تھوپنا“ چاہتے ہيں، اور ايسا ہي كرتے ہيں اور جو كچھ ان كے عقيدہ كے خلاف ہوتا ہے اس كو چھوڑديتے ہيں، جبكہ ايك تحقيق كرنے والا محقق انسان اس طرح كي غير منطقي اور تعصب آميز بحث كو قبول نہيں كرسكتا۔
۵۔ ہم بيان كرچكے ہيں كہ توسل كے سلسلہ ميں بيان شدہ روايات حدّ تواتر تك پہنچي ہوئي ہيں، يعني اس قدر ہيں كہ ان كي سند ميں بحث كي كوئي ضرورت نہيں رہتي، اس كے علاوہ ان كے درميان بہت زيادہ صحيح روايات بھي ہيں، لہٰذا ان كي اسناد ميں اعتراض و اشكال كي گنجائش ہي نہيں رہتي۔
۶۔ ہم نے جو كچھ بيان كيا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے كہ آيہٴ شريفہ كے ذيل ميں بيان ہونے والي روايات كا مفہوم يہ ہے كہ پيغمبر اكرم نے اصحاب سے فرمايا: ”خداوندعالم سے ميرے لئے ”وسيلہ“ طلب كرو“ يا جيسا كہ اصول كافي ميں حضرت علي عليہ السلام سے منقول ہے كہ بہشت ميں وسيلہ سب سے بلند و بالا مقام ہے، اور جيسا كہ ہم نے آيت كي تفسير ميں بيان كيا ہے؛ ان كے درميان كسي طرح كا كوئي فرق نہيں ہے كيونكہ ہم نے بارہا عرض كيا ہے كہ ہر طرح كے تقربِ خدا پر ”وسيلہ“ صادق آتا ہے اور پيغمبر اكرم (ص)كے ذريعے تقرب خداحاصل كرنے كانام وسيلہ ہے جو كہ جنت ميں سب سے بلند و بالا مقام ہے ۔(11).

(1)سورہ نساء ، آيت ۶۴.
(2) وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ كتاب (التوصل الي حقيقة التوسل ميں ، صفحہ ۲۱۵، مذكورہ حديث كو -” دلائل النبوة“ ميں بيہقي نے بھي نقل كيا ہے.
(3) وفاء الوفاء ،صفحہ۱۳۷۲.
(4) وفاء الوفاء ، صفحہ ۱۳۷۳.
(5) علم حديث ميں ”حديث تواتر“ اس حديث كو كہا جاتا ہے جس كے راويوں كي تعداد اس حد تك ہو كہ ان كي ايك ساتھ جمع ہوكر سازش كا قابل اعتماد احتمال نہ ہو (مترجم).
(6) التوصل الي حقيقة التوسل، صفحہ ۳۲۹.
(7) التوصل الي حقيقة التوسل، صفحہ ۳۵۳.
(8) التوصل الي حقيقة التوسل، صفحہ ۳۳۱
(9) روح المعاني ، جلد ۴۔۶، صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۵
(10) سورہٴ آل عمران ، آيت۱۶۹.
(11) تفسير نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۶.
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك