سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:368

بدا ء كيا ہے؟

جيسا كہ ہم قرآن كريم ميں پڑھتے ہيں: < يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْكِتَابِ> (1)
”اللہ جس چيز كو چاہتا ہے مٹا ديتا ہے يا برقرار ركھتا ہے كہ اصل كتاب اسي كے پاس ہے“۔
مذكورہ بالا آيت كے ذيل ميں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ خداوندعالم كے سلسلہ ميں ”بداء“ سے كيا مراد ہے؟
”بداء“ كا مسئلہ شيعہ و سني علماكے درميان ہونے والي معركة الآراء بحثوں ميں ايك اہم بحث ہے، چنانچہ علامہ فخر الدين رازي اپني تفسير ميں محل بحث آيت كے ذيل ميں كہتے ہيں: ”شيعہ ؛خداوندعالم كے لئے ”بداء“ كو جائز مانتے ہيں، اور ان كے نزديك بداء كي حقيقت يہ ہے كہ جيسے كوئي شخص كسي چيز كا معتقد ہوجائے ليكن اس كے بعد معلوم ہو كہ وہ چيزاس كے عقيدہ كے برخلاف ہے اور پھر اس سے پھر جائے، اور شيعہ لوگ اپنے اس عقيدہ كو ثابت كرنے كے لئے آيہٴ مباركہ < يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْكِتَابِ> سے استدلال كرتے ہيں، اس كے بعد فخر رازي مزيد كہتے ہيں كہ يہ عقيدہ باطل اور بے بنياد ہے، كيونكہ خداوندعالم كا علم ذاتي ہے جس ميں تغير و تبديلي محال ہے“۔
افسوس كي بات ہے كہ ”بداء“ كے سلسلہ ميں شيعوں كے عقيدہ سے مطلع نہ ہونا اس بات كا سبب بنا كہ بہت سے برادران اہل سنت، شيعہ حضرات پر اس طرح كي ناروا تہمتيں لگائيں!
وضاحت: لغت ميں ”بداء“ كے معني واضح يا آشكار ہونے كے ہيں، البتہ پشيمان ہونے كے معني ميں بھي آيا ہے، كيونكہ جو شخص پشيمان ہوتا ہے اس كے لئے كوئي نئي بات سامنے آتي ہے (تب ہي وہ گزشتہ بات پر پشيمان ہوتا ہے)
اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ ان معني ميں ”بداء“ خداوندعالم كے بارے ميں صحيح نہيں ہے، اور كوئي بھي عاقل انسان خدا كے بارے ميں يہ احتمال نہيں دے سكتا كہ اس سے كوئي چيز مخفي اور پوشيدہ ہو، اور ايك مدت گزرنے كے بعد خدا كے لئے وہ چيز واضح ہوجائے، اصولاً يہ چيز كھلا ہوا كفر اور خدا كے بارے ميں بہت بُري بات ہے، كيونكہ اس سے خداوندعالم كي ذات پاك كي طرف جہل و ناداني كي نسبت دينا اور اس كي ذات اقدس كو محل تغير و حوادث ماننا لازم آتاہے، لہٰذا ہر گزايسا نہيں ہے كہ شيعہ اثنا عشري خداوندعالم كي ذات مقدس كے بارے ميں اس طرح كا عقيدہ ركھتے ہوں۔
”بداء“ كے سلسلہ ميں شيعوں كا جو عقيدہ ہے اور جس بات پر وہ زور ديتے ہيں وہ يہ ہے جيسا كہ اہل بيت عليہم السلام كي احاديث ميں بيان ہوا ہے :”مَاعَرفَ اللهُ حَقّ معرفتِہ مَنْ لَمْ يعرفہُ بِالبداءِ“ (جو شخص خدا كو ”بداء“ كے ذريعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا كو صحيح طريقہ سے نہيں پہچانا) چنانچہ ”بداء“ كے سلسلہ ميں اس حديث كے مطابق شيعوں كا يہي عقيدہ ہے:
اكثر اوقات ايسا ہوتا ہے كہ ظاہري اسباب و علل كے پيش نظر ہم كو يہ احساس ہوتا ہے كہ كوئي واقعہ پيش آنے والا ہے، يا خداوندعالم نے كسي واقعہ كے بارے ميں اپنے نبي يا رسول كے ذريعہ آگاہ فرمايا ديا تھا ليكن بعد ميں وہ واقعہ پيش نہيں آياتو، ايسے موقع پر ہم كہتے ہيں كہ ”بداء“ حاصل ہوا، يعني جيسا كہ ظاہري اسباب و علل كے لحاظ سے كسي واقعہ كے بارے ميں احساس كررہے تھے اور اس واقعہ كے وقوع كو لازمي اور ضروري سمجھ رہے تھے ايسا نہ ہو بلكہ اس كے خلاف ظاہر ہو۔
اس كي اصلي علت يہ ہے كہ كبھي كبھي ہميں صرف علت ناقصہ كا علم ہوتا ہے، اور ہم اس كے شرائط و موانع كو نہيں ديكھ پاتے، اسي لحاظ سے فيصلہ كربيٹھتے ہيں، بعد ميں اس كي شرط حاصل نہ ہو يا كوئي مانع اور ركاوٹ پيش آجائے اور ہمارے فيصلہ كے برخلاف مسئلہ پيش آئے تو اس طرح كے مسائل كي طرف متوجہ ہوتے ہيں۔
اسي طرح بعض اوقات پيغمبر يا امام ”لوح محو و اثبات“ سے مطلع ہوتے ہيں جوطبيعي طور پر قابل تغير و تبدل ہے ، اور كبھي بعض موانع كي بناپريا شرط كے نہ ہونے سے وہ واقعہ پيش نہيں آتا۔
اس حقيقت كو واضح كرنے كے لئے ہم ”نسخ“ اور ”بداء“ كے درميان ايك موازنہ كرتے ہيں: ہم اس بات كو جانتے ہيں كہ ”نسخِ احكام “ تمام مسلمانوں كي نظر ميں جائز ہے، يعني يہ بات ممكن ہے كہ كوئي حكم گزشتہ شريعت ميں نازل ہوا ہو اور لوگوں كو بھي اس بات كا يقين ہو كہ يہ حكم ہميشہ باقي رہے گا ليكن ايك مدت كے بعد پيغمبر اكرم (ص)كے ذريعہ وہ حكم منسوخ ہوجائے ، اور اس كي جگہ كوئي دوسرا حكم آجائے، (جيسا كہ تفسير، فقہ اور تاريخي كتابوں ميں ”تحويل وتبديل قبلہ“ كا واقعہ موجود ہے)۔
در اصل يہ (نسخ) بھي ايك قسم كا ”بداء“ ہے، ليكن تشريعي امورميں، قوانين اورا حكام ميں ”نسخ“ كہا جاتا ہے، جبكہ تكويني امورميں اسي كو ”بداء“ كہا جاتا ہے۔
اسي وجہ سے بعض اوقات كہا جاتا ہے: ”احكام ميں نسخ ايك قسم كا ”بداء“ ہے، اور تكويني امورميں”بداء“ ايك قسم كا نسخ ہے“۔
كيا كوئي اس منطقي بات كا انكار كرسكتا ہے؟ صرف وہي اس بات كا انكار كرسكتا ہے جو علت تامہ اور علت ناقصہ كو صحيح طور پر سمجھ نہ سكے، يا شيعہ مخالف گروپ كے غلط پروپيگنڈے سے متاثر ہو ، اور اس كا تعصب اس حد تك بڑھ چكا ہو كہ شيعہ عقائد كے سلسلہ ميں شيعہ كتابوں كا مطالعہ نہ كرسكے، تعجب كي بات يہ ہے كہ فخر رازي نے < يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْكِتَابِ>كے ذيل ميں بداء كے مسئلہ كو بيان كيا ہے ليكن اس بات پر ذرا بھي توجہ نہيں وي كہ بداء ”محو و اثبات“ كے علاوہ كوئي دوسري چيز نہيں ہے، اپنے مخصوص تعصب كي بنا پر شيعوں كونشانہ بنايا ہے كہ شيعہ كيوں ”بداء“ كے قائل ہيں؟
(قارئين كرام!) آپ حضرات كي اجازت سے ہم چند ايسے نمونہ بيان كرتے ہيں جن كوسبھي نے قبول كيا ہے۔
۱۔ ہم جناب يونس عليہ السلام كے واقعہ ميں پڑھتے ہيں كہ آپ كي قوم كي نافرماني كي وجہ سے عذاب الٰہي طے ہوگيا، اور جناب يونس عليہ السلام جو اپني قوم كو قابل ہدايت نہيں جانتے تھے اور ان كو مستحق عذاب جانتے تھے لہٰذا وہ بھي ان كو چھوڑ كر چلے گئے، ليكن اچانك (بداء واقع ہوا) اس قوم كي ايك بزرگ شخصيت نے عذاب الٰہي كے آثار ديكھے تو اپني قوم كو جمع كيا اور ان كو توبہ كي دعوت دي، سب لوگوں نے توبہ كرلي، ادھر عذاب الٰہي كے جو آثار ظاہر ہوچكے تھے ختم ہوگئے جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہے:
< فَلَوْلاَكَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَہَا إِيمَانُہَا إِلاَّ قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاہُمْ إِلَي حِينٍ> (2)
”پس كوئي بستي ايسي كيوں نہيںہے جو ايمان لے آئے اور اس كا ايمان اسے فائدہ پہنچائے ،علاوہ قوم يونس كے كہ جب وہ ايمان لے آئي تو ہم نے ان سے زندگاني دنيا ميں رسوائي كا عذاب دفع كرديا اور انھيں ايك مدت تك سكون سے رہنے ديا“۔
۲۔ اسلامي تواريخ ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت عيسيٰ عليہ السلام نے ايك دلہن كے بارے ميں خبر دي تھي كہ وہ شبِ وصال ہي مرجائے گي ليكن حضرت عيسيٰ عليہ السلام كي پيشين گوئي كے برخلاف وہ دلہن زندہ رہي! جس وقت اس سے تفصيل معلوم كي اور سوال كيا: كيا تو نے راہ خدا ميں صدقہ ديا ہے؟ تو اس نے كہا: ہاں، ميں نے صدقہ ديا تھا، تو حضرت عيسيٰ عليہ السلام نے فرمايا: صدقہ، يقيني بلاؤں كو بھي دور كرديتا ہے!(3)
در اصل حضرت عيسيٰ عليہ السلام لوح محفوظ سے باخبر تھے جس كي بنا پر انھوں نے اس واقعہ كي خبر دي تھي، جبكہ يہ واقعہ اس شرط پر موقوف تھا (كہ اس راہ ميں كوئي مانع پيش نہ آئے مثال كے طور پر”صدقہ“) ليكن جيسے ہي اس راہ ميں مانع پيش آگيا تو فوراً نتيجہ بھي بدل گيا۔
۳۔ہم حضرت ابراہيم عليہ السلام بت شكن بہادر كے واقعہ كو قرآن ميں پڑھتے ہيں كہ انھيں اسماعيل كو ذبح كرنے كا حكم ديا گيا، لہٰذا وہ اس حكم كي تعميل كے لئے اپنے فرزند ارجمند كو قربانگاہ ميں لے گئے، ليكن جب حضرت ابراہيم عليہ السلام كي مكمل تياري واضح ہوگئي تو ”بداء“ ہوگيا، اور يہ بات واضح ہوگئي كہ يہ ايك امتحاني حكم تھا، تاكہ جناب ابراہيم عليہ السلام اور ان كے فزرند ارجمند كي اطاعت و تسليم كي حد كو آزمايا جاسكے۔
۴۔ حضرت موسيٰ عليہ السلام كے واقعہ ميں بھي بيان ہوا ہے كہ پہلے انھيں حكم ديا گيا كہ تيس دن تك كے لئے اپني قوم كوچھوڑ ديں اور احكام توريت حاصل كرنے كے لئے الٰہي وعدہ گاہ پر جائيں، ليكن بعد ميں اس مدت ميں دس دن كا اور اضافہ كيا (تاكہ بني اسرائيل كي آزمائش ہوسكے)
(قارئين كرام!) يہاں پر يہ سوال سامنے آتا ہے كہ ”بداء“ كا فائدہ كيا ہے؟
اس سوال كا جواب گزشتہ مطالب كے پيش نظر كوئي مشكل كام نہيں ہے، كيونكہ كبھي كبھي اہم مسائل جيسے كسي شخص يا قوم و ملت كا امتحان، يا توبہ و استغفار كي تاثير(جيسا كہ حضرت يونس عليہ السلام كے واقعہ ميں بيان ہوا ہے) يا صدقہ ، غريبوں كي مدد كرنا يا نيك كام انجام دينا يہ سب خطرناك واقعات كو برطرف كرنے ميں موثر ہوتے ہيں ، يہ امور باعث بنتے ہيں كہ آئندہ كے وہ حادثات جو 
پہلے دوسرے طريقہ سے طے ہوتے ہيں ليكن بعد ميں خاص شرائط كے تحت ان كو بدل ديا جاتا ہے تاكہ عام لوگوں كو يہ معلوم ہوجائے كہ ان كي زندگي كے حالات ان كے ہاتھوں ميں ہے، اور اپنے چال چلن اور راہ و روش كو تبديل كركے اپني زندگي كے حالات بدل سكتے ہيں، اور يہي ”بداء“ كا سب سے بڑا فائدہ ہے (غور كيجئے )
جيسا كہ ہم نے گزشتہ حديث ميں پڑھا ہے كہ ”جو شخص خدا كو ”بداء“ كے ذريعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا كو صحيح طريقہ سے نہيں پہچانا“ اس حديث ميں انھيں حقائق كي طرف اشارہ ہے۔
لہٰذا حضرت امام صادق عليہ السلام كي ايك حديث ميں وارد ہوا ہے كہ آپ نے فرمايا:
”مَا بَعَثَ اللهعزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا حَتّٰي ياٴخذ ُعلَيہِ ثلاثُ خِصَالٍ، الإقرار بالعبودية، وَخلع الاٴنداد ،وإنَّ الله يقدِّم مَا يَشاءُ وَيوٴخِّرُ مَا يشاءُ“(4) 
”خداوندعالم نے كسي نبي يا پيغمبر كو نہيں بھيجا مگر يہ كہ ان سے تين چيزوں كے بارے ميں عہد و پيمان ليا: خداوندعالم كي بندگي كا اقرار، ہر طرح كے شرك كي نفي، اور يہ كہ خداوندعالم جس چيز كو چاہے مقدم و موخر كرے“۔
در اصل سب سے پہلا عہد و پيمان خداوندعالم كي اطاعت اور اس كے سامنے تسليم رہنے سے متعلق ہے، اور دوسرا عہد و پيمان شرك سے مقابلہ ہے اور تيسرا عہد و پيمان ”بداء“ سے متعلق ہے، جس كا نتيجہ يہ ہے كہ انسان كي سرگزشت خود اپنے ہاتھوں ميں ہوتي ہے يعني اگرانسان اپني زندگي كے حالات اور شرائط كو بدل دے تو اس پر يا رحمت خدا نازل ہوتي ہے يا وہ عذاب الٰہي سے دوچار ہوتا ہے۔
(قارئين كرام!) آخر كلام ميں عرض كيا جائے، گزشتہ وجوہات كي بنا پر علمائے شيعہ كہتے ہيں كہ جس ”بداء“كي نسبت خداوندعالم كي طرف دي جاتي ہے تو اس كے معني ”ابداء“ كے ہيں يعني كسي 
چيز كو واضح اور ظاہر كرنا جو كہ پہلے ظاہر نہيں تھي اور اس كے بارے ميں پيشين گوئي نہيں كي گئي تھي۔
ليكن شيعوں كي طرف يہ نسبت دينا كہ ان لوگوں كا عقيدہ ہے كہ خدا كبھي كبھي اپنے كاموں پر پشيمان اور شرمندہ ہوجاتا ہے يا بعد ميں ايسي چيز سے باخبر ہوتا ہے جو پہلے معلوم نہ ہو، تو يہ سب سے بڑا ظلم و خيانت ہے اور ايك ايسي تہمت ہے جس كو كبھي معاف نہيں كيا جاسكتا۔
اسي وجہ سے ائمہ معصومين عليہم السلام سے نقل ہوا ہے:
”مَنْ زَعَمَ اٴَنَّ اللهَ عزَّ وَجَلَّ يبدو لَہُ فِي شَيءٍ لَمْ يعلمُہُ اٴمس فابرؤا منہ“(5)(6) 
”جو شخص گمان كرے كہ خداوندعالم كے لئے آج وہ چيز واضح و آشكار ہوگئي ہے جو كل واضح نہيں تھي تو ايسے شخص سے نفرت اور بيزاري اختيار كرو“۔

(1) سورہ رعد ، آيت ۳۹ .
(2) سورہ يونس ، آيت ۹۸.
(3) بحار الانوار ،، جلد ۲ ، صفحہ ۱۳۱، ۔چاپ قديم ،از امالي شيخ صدوق.
(4) اصول كافي ، جلد اول، صفحہ ۱۱۴، سفينة البحار ، جلد اول، صفحہ ۶۱.
(5) سفينة البحار ، جلداول، صفحہ ۶۱.
(6) تفسير نمونہ ، جلد۱۰، صفحہ ۲۴۵.
دن كي تصوير
گنبد حرم كاظمين عليهما السلام   
ويڈيو بينك