سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:450

كيا خداوندعالم كسي چيز ميں حلول كرسكتا ہے؟

 بعض عيسائيوں كا يہ عقيدہ ہے كہ خداوندعالم ”عيسيٰ مسيح“ ميں حلول كئے ہوئے ہے، اور بعض صوفي لوگ بھي اپنے پيرو مرشد كے بارے ميں يہي نظريہ ركھتے ہيں اور كہتے ہيں كہ خداوندعالم ان ميں حلول كئے ہوئے ہے۔
كتاب ”كشف المراد“ ميں علامہ حلّي عليہ الرحمہ كے قول كے مطابق اس عقيدہ كے باطل و بے بنياد ہونے ميں ذرہ برابر بھي شك و شبہ نہيں ہے، كيونكہ حلول سے جو چيز تصور كي جاتي ہے وہ يہ ہے كہ ايك موجود دوسرے موجود كے ذريعہ قائم ہو، (مثال كے طور پر كہاجا ئے كہ گلاب كے پھول ميں خوشبو حلول كئے ہوئے ہے) ، مسلم طور پر خداوندعالم كے سلسلہ ميں يہ معني قابل تصور نہيںہيں، كيونكہ اس كا لازمہ مكان، نياز اور ضرورت ہے جو ”واجب الوجود“كے لئے ”غير ممكن“ ہے، اور جو لوگ خداوندعالم كے حلول كے معتقد ہيں آخر كار وہ شرك ميں گرفتار ہوكر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہيں۔
تصوّف اور اتحاد و حلول كا مسئلہ
مرحوم علامہ حلّي عليہ الرحمہ اپني كتاب ”نہج الحق“ ميں فرماتے ہيں كہ كسي دوسري چيز ميں خداوندعالم كااس طرح سے حلو ل كرنا كہ دونوں شئي ايك چيز بن جائيں، يہ عقيدہ باطل ہے،اور اس كا باطل و بے بنياد ہونا بالكل واضح ہے، اس كے بعد فرماتے ہيں: ”اہل سنت كے صوفيہ فرقہ نے اس سلسلہ ميں قرآن و حديث كي مخالفت كي ہے، اور كہتے ہيں كہ خداوندعالم، عرفاء كے بدن ميں حلول كرجاتا ہے!! يہاں تك كہ ان ميں سے بعض لوگ كہتے ہيں: خداوندعالم عين موجودات ہے، اور ہر موجود خدا ہے، (وحدت مصداقي وجود كے مسئلہ كي طرف اشارہ ہے) ، اس كے بعد علامہ موصوف فرماتے ہيں: يہ عقيدہ عين كفر و دہريت ہے، خدا كا شكر ہے كہ اس نے ہميں اہل بيت عليہم السلام كي بركت سے اس باطل عقيدہ سے دور ركھا ہے“۔
علامہ موصوف ”حلول“ كي بحث ميں فرماتے ہيں:”يہ ايك مسلّم مسئلہ ہے كہ اگر كوئي چيز كسي چيز ميں حلول كرنا چاہے تو اس كو ”محل“ كي ضرورت ہوتي ہے اور چونكہ خداوندعالم واجب الوجود ہے اور اسے كسي چيز كي ضرورت نہيں ہے، لہٰذا اس كا كسي چيز ميں حلول كرنا غير ممكن ہے“ اس كے بعد فرماتے ہيں: ”اہل سنت كے صوفيہ فرقہ نے اس سلسلہ ميں مخالفت كي ہے، اور خداوندعالم كے حلول كو، عرفاء كے بدن ميں ممكن شمار كرتے ہيں“ اس كے بعد علامہ موصوف ان لوگوں كي بہت زيادہ مذمت كرتے ہوئے فرماتے ہيں: ہم نے خود صوفيہ كے ايگ گروہ كو حضرت امام حسين عليہ السلام كے روضہٴ مبارك ميں ديكھا ہے كہ ايك شخص كے علاوہ سب نے نماز مغرب پڑھي، اس كے بعدسبھي نے نماز عشاء پڑھي سوائے اسي ايك شخص كے، چنانچہ وہ يونہي بيٹھا رہا!! 
ہم نے سوال كيا كہ اس نے نمازكيوں نہيں پڑھي؟ تو جواب ديا كہ اس كو نماز كي كيا ضرورت ہے؟ وہ تو خدا سے پيوستہ ہے! كيا يہ بات جائز ہے كہ خدا اور اس كے درميان كوئي چيز پردہ بن جائے، نماز ان كے اور خدا كے درميان ايك پردہ ہے!(1)
يہي معني ”مثنوي “كي پانچويں جلد ميں ايك دوسري طرح پيش كئے گئے ہيں: جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو وہي حقيقت ہے، اور اس كي وجہ يہ بتائي ہے:
”لَو ظَھرتْ الحقائقُ بَطَلَتِ الشّرائعُ“
”جب حقائق ظاہر ہوجاتے ہيں تو شريعتيں باطل ہوجاتي ہيں“۔
اس كے بعد شريعت كو علم كيميا سے مشابہ قرار ديا ہے ( جس علم كے ذريعہ تانباكو سونے ميں تبديل كيا جاتا ہے) اور كہا ہے: جو چيز اصل ميں ہي سونا ہے ، يا سونا بن چكا ہے تو اسے علم كيميا كي كيا ضرورت ہے؟! جيسا كہ كہتے ہيں: ”طَلبُ الدَليلِ بعدَ الوُصُولِ إليٰ المدلولِ قبيحٌ!“(2) 
”منزل مقصود تك پہنچنے كے بعد دليل طلب كرنا قبيح اور برا ہے“۔
كتاب ”دلائل الصدق“ شرح ”نہج الحق“ ميں بھي ”صاحب مواقف“ سے نقل كيا گيا ہے كہ نفي ”حلول“ اور ”اتحاد“ كے سلسلہ ميں مخالفوں كے تين گروپ ہيں، اس كے بعد دوسرے گروہ كے بعض صوفيوں كا نام ليتے ہوئے كہتے ہيں كہ ان كي باتيں حلول و اتحاد كے بارے ميں مردد ہيں، ( حلول سے مراد خداوندعالم كا كسي چيز ميں نفوذ كرنا ہے، اور اتحاد و وحدت سے مراد خدا اور دوسري چيزوں كا ايك ہوجانا ہے)
اس كے بعد موصوف مزيد فرماتے ہيں: ہم نے بعض ”صوفيہ وجوديہ“ كو ديكھا ہے جو حلول و اتحاد كا انكار كرتے ہيں، اور كہتے ہيں كہ يہ دونوں الفاظ خدا اور مخلوق ميں مغايرت (جدائي) كي طرف اشارہ كرتے ہيں اور ہم اس چيز كے قائل نہيں ہيں! بلكہ ہماراكہنا يہ ہے :
”لَيسَ فِي دارِالوجودِ غيرہُ ديّار“، (وجود كي وادي ميں اس كے علاوہ كوئي چيز موجود ہي نہيں ہے“!)
اس موقع پر صاحب مواقف كہتے ہيں كہ يہ عذر،گناہ سے بھي بدتر ہے۔(3)
البتہ اس سلسلہ ميں صوفيوں كي بہت سي بے تُكي باتيں ہيں جو نہ اصول و منطق سے ہم آہنگ ہيں اور نہ ہي شريعت كے موافق۔
بہر حال دو چيزوں كے درميان حقيقي ”اتحاد “ محال اور ناممكن ہے جيساكہ ”علامہ مرحوم“ نے بيان فرمايا ہے چونكہ يہ بات بالكل تضاد اورٹكراؤ پر مشتمل ہے، يہ كيسے ممكن ہے كہ دو چيزيں ايك ہوجائيں، اس كے علاوہ اگر كوئي خدا كا دوسري مخلوق بالخصوص عارفوں سے اتحاد كے عقيدہ كا قائل ہو، تو اس كا لازمہ يہ ہے كہ خداوندعالم ميں ممكنات كے صفات پائے جائيں جيسے زمان و مكان اور تغير وغيرہ۔
اور اسي طرح خداوندعالم كا دوسري چيزوں ميں ”حلول“ كا لازمہ بھي زمان و مكان ہے جبكہ يہ چيزيں خداوندعالم كے واجب الوجود ہونے سے ہم آہنگ نہيں ہيں۔(4)
اصولي طور پر خود صوفي بھي اس بات كے قائل ہيں كہ اس طرح كي باتوں كو عقلي دلائل كے ذريعہ ثابت نہيں كيا جاسكتا، اور غالباً اپنے راستہ كو عقلي راستہ سے الگ كرليتے ہيں، اور اس سلسلہ ميں اپني مرضي جس كو ”راہ دل“ كہتے ہيں اس كے ذريعہ اپنے عقائد كو ثابت كرنے كي ناكام كوشش كرتے ہيں، اور مسلّم طور پر اگر كوئي عقلي منطق كو نہ مانے تو اس سے اس طرح كي ضد و نقيض باتوں كے علاوہ اور كوئي اميد بھي نہيں كي جاسكتي۔
يہي وجہ ہے كہ ہميشہ تاريخ ميں بڑے بڑے علمائے كرام نے ان لوگوں سے دوري اختيار كي ہے، اور ان كو اپنے سے دور ركھا ہے۔
قرآن كريم نے بہت سي آيات ميں عقل و برہان اور غور وخوض كے بارے ميں توجہ دلائي ہے اور اسي كو ”معرفة اللہ“ كا راستہ بتايا ہے۔(5)

(1) نہج الحق ، ص۵۸ و۵۹.
(2) دفترپنجم مثنوي ص۸۱۸،طبع سپہر ، تہران.
(3) دلائل الصدق ، جلد اول، صفحہ ۱۳۷.
(4) قابل توجہ بات يہ ہے كہ حلول واتحاد كے باطل ہونے كے سلسلہ ميں علامہ حلي عليہ الرحمہ نے شرح تجريد الاعتقاد ميں مفصل استدلال كے ساتھ بيان كيا ہے، (كشف المراد، صفحہ۲۲۷،باب انہ تعاليٰ ليس بحال في غيرہ ونفي الاتحاد عنہ).
(5) تفسير پيام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۲۶۷ ، ۲۸۱
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك