سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:328

كس طرح كائنات كي ہر شئي خداكي تسبيح كرتي ہے؟

قرآن مجيد كي مختلف آيات ميں بيان ہوا ہے كہ اس كائنات كي تمام موجودات خدا كي تسبيح كرتي ہيں ، ان ميں سب سے زيادہ واضح آيت سورہ اسراء (بني اسرائيل) آيت نمبر ۴۴ ہے كہ جہاں ارشاد ہوتا ہے:
< وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ وَلَكِنْ لَاتَفْقَہُونَ تَسْبِيحَہُمْ>
”اور كوئي شئي ايسي نہيں ہے جو اس كي تسبيح نہ كرتي ہويہ اور بات ہے كہ تم ان كي تسبيح كو نہيں سمجھتے “۔
اس آيت كي بناپر كائنات كي تمام موجوات بغير كسي استثنا كے خداوندعالم كي اس عام تسبيح ميں شامل ہيں۔
اس حمد و تسبيح كي حقيقت كي تفسير كے بارے ميں علماو فلاسفہ كے درميان بہت زيادہ بحث و گفتگو ہے۔
بعض افراد نے اس حمد و تسبيح كو ”حالي“ (يعني زبان حال) مانا ہے، جبكہ بعض دوسرے افراد نے اس سے ”قولي“ تسبيح مراد لي ہے، ہم يہاں پر ان تمام نظريات كا خلاصہ اور اپنا نظريہ بيان كرتے ہيں:
۱۔بعض گروہ كا كہنا يہ ہے كہ اس كائنات كے تمام ذرات چاہے وہ جاندار اور عاقل ہوں يا بے جان اور غير عاقل؛ سب كي سب ايك طرح كا شعور اور ادراك ركھتي ہيں، اور يہ سب چيزيں خداوندعالم كي حمد و تسبيح كرتي ہيں، اگرچہ ہم ان كي حمد و تسبيح كو سمجھ نہيں پاتے، اور نہ ہي سن پاتے ہيں۔
قرآن مجيد كي بہت سي آيات اس عقيدہ پر شاہد اور گواہ ہيں، نمونہ كے طور پر:
< وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا يَہْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ >(1)
”اور بعض خوف خدا سے گر پڑتے ہيں“۔
<فَقَالَ لَہَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا اٴَوْ كَرْہًا قَالَتَا اٴَتَيْنَا طَائِعِينَ>(۲)
”اور اسے اور زمين كو حكم ديا كہ بخوشي يا بكراہت ہماري طرف آؤ تو دونوں نے عرض كي كہ ہم اطاعت گزار بن كر حاضر ہيں“۔
۲۔ بہت سے افراد كا عقيدہ ہے كہ يہ حمد و تسبيح وہي ہے جس كو ہم ”زبان حال“ كہتے ہيں، اور يہ حمد و تسبيح حقيقي طور پر ہے، مجازي طور پر نہيں، ليكن زبان حال سے ہے نہ كہ زبان قال سے۔ (غور كيجئے )
وضاحت: بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ انسان كے چہرے پر پريشاني اور ناراحتي يا درد و غم كے آثار پائے جاتے ہيں يا اس كي آنكھوں سے بيداري كے آثار واضح طور پر دكھائي ديتے ہيں،چنانچہ ايسے موقع پر كہاجاتا ہے: اگرچہ تم اپني زبان سے پريشاني اور مشكل نہيں بتارہے ہو، ليكن تمہارے چہرے سے پريشاني كے آثار دكھائي دے رہے ہيں، يا كہتے ہيں كہ تمہيں رات ميں نيند نہيں آئي ہے!!
كبھي كبھي يہ ”زبان حال“ اس قدر واضح اورروشن ہوتي ہے كہ ”زبان قال“ كو موثر بنا دےتي ہے، اور زبان قال كو جھٹلاديتي ہے، جيسا كہ ايك شاعر نے كيا خوب كہا ہے:
گفتم كہ با مكر و فسون پنہان كنم راز درون!
پنہان نمي گردد كہ خون از ديدگانم مي رود!
”ميں نے كہا كہ مكر و فريب سے اپنے اندروني راز كو چھپالوں ليكن خون كبھي چھپائے سے نہيں چھپتا ، اور ميري آنكھوں سے خون برستا دكھائي ديتا ہے“۔
اسي چيز كي طرف حضرت امير المومنين علي عليہ السلام نے اپنے مشہور و معروف قول ميں اشارہ فرمايا ہے:
”مَا ضمَر اٴحد شيئًا اِلاَّ ظھر في فلتاتِ لسانِہ وَصفحاتِ وَجھہِ“(3) 
”كوئي بھي راز دل ميں چھپائے سے چھپ نہيں سكتا، اور ايك نہ ايك دن اس كي زبان يا چہرے پر ظاہر ہوہي جاتا ہے“۔
دوسري طرف كيا يہ ممكن ہے كہ ايك بہترين مصور كي بنائي ہوئي تصوير اس كي مہارت اور ذوق كي گواہي نہ دے اور اس كي مدح و ثنا نہ كرے؟
كيا اس بات سے انكار كيا جاسكتا ہے كہ ايك مشہور و معروف شاعر كا كلام اس كے بہترين ذوق كي عكاسي نہ كرے اور ہميشہ اس كي مدح و ثنا نہ كرے؟
كيا اس بات كا منكر ہوا جاسكتا ہے كہ ايك عظيم الشان عمارت اوربڑے بڑے كارخا نے وغيرہ اپني بے زباني سے اپنے بنانے والے كے خلاق ذہن اور ايجادات كرنے والے ذہن كي تعريف نہ كريں اور ان كي ذہنيت كي قصيدہ خواني نہ كريں؟
لہٰذا ہم كو يہ بات مان لينا چاہئے كہ كائنات كايہ عجيب و غريب نظام اور چكاچوند كردينے والي چيزيں خداوندعالم كي ”حمد و تسبيح“ كرتي ہيں۔
كيا ”تسبيح“ پاك و پاكيزہ ماننے كے علاوہ كسي اور چيز كا نام ہے، اس كائنات كا نظام اپنے پورے وجود كے ساتھ يہ اعلان كررہا ہے كہ اس كا خالق ہر طرح كے نقص و عيب سے پاك و پاكيزہ ہے۔
كيا ”حمد“ صفاتِ كمال بيان كرنے كے علاوہ كسي اور چيز كو كہتے ہيں؟ يہ كائنات كا نظام خدا وندعالم كي صفات كمال( بے كراں علم و قدرت ،اور مكمل حكمت )كي گفتگو نہيں كررہا ہے۔
(قارئين كرام!) ”حمد و تسبيح “ كے يہ معني تمام موجوات كے لئے قابل فہم ہيں اور اس بات كي بھي كوئي ضرورت نہيں ہے كہ ہم تمام مخلوقات كے ذروں كو صاحب عقل و شعور فرض كريں، كيونكہ كوئي قطعي دليل ان كے بارے ميں موجود نہيں ہے، اور مذكورہ آيات بھي قوي احتمال كي بنا پر ”زبان حال“ كو بيان كرتي ہيں۔
ليكن يہاں پر ايك سوال باقي رہ جاتا ہے اور وہ يہ كہ اگر خداوندعالم كي ”حمد و تسبيح“ سے مراد نظام كائنات كا خدا كي عظمت اور اس كي پاكيزگي و عظمت كي حكايت كرنا ہے اور ”صفات سلبيہ“ و ”صفات ثبوتيہ“ اس كي وضاحت كرتي ہيں، تو پھر قرآن مجيد ميں كيوں ارشاد ہوا ہے كہ تم ان كي حمد و تسبيح كو نہيں سمجھتے؟ 
اگر بعض عوام الناس نہيں سمجھ سكتے تو كم سے كم دانشوروں كو تو سمجھنا چاہئے؟
اس سوال كے دو جواب دئے جاسكتے ہيں:
پہلا جواب: يہ ہے كہ قرآن مجيد ميں خطاب اكثر جاہلوں خصوصاً مشركين سے ہے اور مومن دانشوروں كي اقليت اس عموم سے مستثنيٰ ہے كيونكہ ہر عام كے لئے ايك استثنا ہوتا ہے۔
دوسرا جواب: يہ ہے كہ اس كائنات كے جن اسرار كو ہم جانتے ہيں وہ نامعلوم اسراركے مقابل سمندر كے مقابل ايك قطرہ يا پہاڑ كے مقابلہ ميں ايك ذرّہ كي حيثيت ركھتے ہيں كہ اگر صحيح غور و فكر كريں تو اس كو كسي علم و دانش كا نام تك نہيں ديا جاسكتا ۔
تا بدانجا رسيد دانش من كہ بدانستمي كہ نادانم
”ميري عقل آخر ميں اس بات كو سمجھ پائي ہے كہ ميں نادان اور جاہل ہوں“
لہٰذا حقيقت تو يہ ہے كہ اگرچہ ہم كتنے ہي بڑے عالم كيوں نہ ہوں اس كائنات كے ذروں كو نہيں سمجھ سكتے، كيونكہ جو كچھ ہم سنتے ہيں وہ كسي بڑي كتاب كا ايك لفظ ہے، اس بنا پر تمام عوام الناس كے لئے يہ اعلان عام كيا جاسكتا ہے كہ تم اس كائنات كي موجودات كي حمد و تسبيح كو نہيں سمجھ سكتے كيونكہ وہ زبان حال سے خداوندعالم كي حمد و تسبيح كرتے ہيں اور جو چيزيں ہم سمجھتے ہيں وہ اس قدر كم اور ناچيز ہيں كہ ان كا كوئي شمار ہي نہيں ہے۔
۳۔بعض مفسرين نے يہ بھي احتمال ديا ہے كہ اس كائنات كي موجودات كي حمد و تسبيح زبان ”حال“ اور زبان ”قال“ دونوں سے مركب ہے يا دوسرے الفاظ ميں ”تكويني اور تشريعي تسبيح“ ہے، كيونكہ بہت سے انسان اور تمام ملائكہ اپني عقل و شعور كے لحاظ سے خداوندعالم كي حمد و تسبيح كرتے ہيں ليكن اس كائنات كے تمام ذرے اپني زبان بے زباني سے خداوندعالم كي عظمت و كبريائي كي گواہي دے رہے ہيں۔
اگرچہ” حمد و تسبيح“كے دونوں معني آپس ميں مختلف ہيں ليكن ”ايك مشترك پہلو بھي ركھتے ہيں“ يعني حمد و تسبيح كے عام اور وسيع معني (يعني اعلان پاكيزگي اور مدح و ثنا) ميں مشترك ہيں۔
ليكن جيسا كہ ظاہر ہے كہ مذكورہ دوسري تفسير سب سے بہتر ہے۔(4).

(1)سورہ بقرہ ، آيت ۷۴
(۲) سورہ فصلت ، آيت ۱۱
(3) نہج البلاغہ كلمات قصار نمبر ۲۶.
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۳۴
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك