سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:379

خداوندعالم كي طرف سے ہدايت و گمراہي كے كيا معني ہيں؟

لغت ميں ہدايت كے معني دلالت اور رہنمائي كے ہيں(1) اور اس كي دو قسميں ہيں
۱)”ارائة الطريق“ (راستہ دكھانا) ۲) ”إيصالٌ إليٰ المطلوبِ“ (منزل مقصود تك پہنچانا) دوسرے الفاظ ميں يوں كہئے: ”تشريعي اور تكو يني ہدايت“۔(۲)
وضاحت: كبھي انسان راستہ معلوم كرنے والے كو اپني تمام دقت اور لطف و كرم كے ساتھ راستہ كا پتہ بتاتا ہے، ليكن راستہ طے كرنا اور منزل مقصود تك پہنچنا خود اس انسان كا كام ہوتا ، اور كبھي انسان راستہ معلوم كرنے والے كا ہاتھ پكڑتا ہے اور راستہ كي رہنمائي كے ساتھ ساتھ اس كو منزل مقصود تك پہنچا ديتا ہے، دوسرے الفاظ ميںيوں كہيں كہ انسان پہلے مرحلہ ميں صرف قوانين بيان كرتا ہے،اور منزل مقصودتك پہنچنے كے شرائط بيان كرديتا ہے، ليكن دوسرے مرحلہ ميں ان چيزوں كے علاوہ سامان سفر بھي فراہم كرتا ہے اور اس ميں پيش آنے والي ركاوٹوں كو بھي برطرف كرديتا ہے، نيز اس كے مشكلات كو دور كرتاہے اور اس راہ پر چلنے والوں كے ساتھ ساتھ ان كو منزل مقصود تك پہنچنے ميں حفاظت بھي كرتا ہے۔
اگر انسان قرآن مجيد كي آيات پر ايك اجمالي نظرڈالے تو يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ قرآن كريم نے ہدايت اور گمراہي كو فعل خدا شمار كيا ہے، اور دونوں كي نسبت اسي كي طرف دي گئي ہے، اگر ہم اس سلسلہ كي تمام آيات كو يكجا كريں تو بحث طولاني ہوجائے گي، صرف اتناہي كافي ہے، چنانچہ ہم سورہ بقرہ كي آيت نمبر ۲۱۳ ميں پڑھتے ہيں:
<ِ وَاللهُ يَہْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَي صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ>
”اور خدا جس كو چاہتا ہے صراط مستقيم كي ہدايت دے دےتا ہے“۔
سورہ نحل كي آيت نمبر ۹۳ ميں ارشادہوتا ہے:
<وَلَكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَہْدِي مَنْ يَشَاءُ>
”خدا جسے چاہتا ہے گمراہي ميں چھوڑ ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے منزل ہدايت تك پہنچا ديتا ہے“۔
ہدايت و گمراہي كے حوالہ سے قرآن مجيدميں بہت سي آيات موجود ہيں(3)
بلكہ اس كے علاوہ بعض آيات ميں واضح طور پر پيغمبر اكرم (ص) سے ہدايت كي نفي كي گئي ہے اور خدا كي طرف نسبت دي ہے، جيسا كہ سورہ قصص آيت نمبر ۵۶ ميں بيان ہوا ہے:
< إِنَّكَ لَاتَہْدِي مَنْ اٴَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَہْدِي مَنْ يَشَاءُ>
”(اے ميرے پيغمبر!) آپ جسے چاہيں اسے ہدايت نہيں دے سكتے بلكہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدايت دےتا ہے“۔
سورہ بقرہ آيت نمبر ۲۷۲ ميں بيان ہوا ہے:
< لَيْسَ عَلَيْكَ ہُدَاہُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَہْدِي مَنْ يَشَاءُ>
”اے پيغمبر ! ان كے ہدايت پانے كي ذمہ داري آپ پر نہيں ہے، بلكہ خدا جس كو چاہتا ہے ہدايت دے ديتا ہے“۔
ان آيات كے عميق معني كو نہ سمجھنے كي وجہ سے بعض افراد ان كے ظاہري معني پر تكيہ كرتے ہو ئے ان آيات كي تفسير ميں ايسے ”گمراہ“اور راہ ”ہدايت“ سے بھٹكے كہ”جبريہ“ فرقہ كي آتشِ عقا ئد ميں جا گرے اور يہي نہيں بلكہ بعض مشہور مفسرين بھي اس آفت سے نہ بچ سكے، اوراس فر قہ كي خطرناك وادي ميں پھنس گئے ہيں، يہاں تك كہ ہدايت و گمراہي كے تمام مراحل كو ”جبري“ طريقہ پر مان بيٹھے، اور تعجب كي بات يہ ہے كہ جيسے ہي انھوں نے اس عقيدہ كو خدا كي عدالت و حكمت كے منافي ديكھا تو خدا كي عدالت ہي كے منكر ہوگئے، تاكہ اپني كي ہوئي غلطي كي اصلاح كرسكيں،ليكن حقيقت يہ ہے كہ اگر ہم ”جبر“ كے عقيدہ كو مان ليں تو پھر تكاليف و فرائض اور بعثت انبياء،اورآسماني كتابوں كے نزول كا كوئي مفہوم ہي نہيں بچتا۔
ليكن جو افراد نظريہٴ ”اختيار“ كے طرفدار ہيں ،وہ يہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ كوئي بھي عقل سليم اس بات كو قبول نہيں كرسكتي كہ خداوندعالم كسي كو گمراہي كا راستہ طے كرنے پر مجبور (بھي) كرے اور پھر اس پر عذاب بھي كرے، يا بعض لوگوں كو ”ہدايت“ كے لئے مجبور كرے اور پھر بلاوجہ ان كو اس كام كي جزا اور ثواب بھي دے، اور ان كو ايسے كام كي وجہ سے دوسروں پر فوقيت دے جو انھوں نے انجام نہيں د يا ہے۔
لہٰذا انھوں نے ان آيات كي تفسير كے لئے ايك دوسرا راستہ اختيار كيا ہے اور اس سلسلہ ميں بہت ہي دقيق تفسير كي ہے جو ہدايت و گمراہي كے سلسلے ميں بيان ہونے والي تمام آيات سے ہم آہنگ ہے اور بغير كسي ظاہري خلاف كے بہترين طريقہ سے ان تمام آيات كي تفسير كرتي ہے، اور وہ تفسير يہ ہے:
” تشريعي ہدايت“يعني عام طور سے سبھي كو راستہ دكھاديا گيا ہے اس ميں كسي طرح كي كوئي قيد و شرط نہيں ہے، جيسا كہ سورہ دہر آيت نمبر ۳ ميں وارد ہوا ہے:
< إِنَّا ہَدَيْنَاہُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا>
”يقينا ہم نے اس (انسان) كو راستہ كي ہدايت ديدي ہے چاہے وہ شكر گزار ہوجائے يا كفران نعمت كرنے والا ہوجائے“۔
اسي طرح سورہ شوريٰ كي آيت نمبر ۵۲ ميں پڑھتے ہيں:
<وَإِنَّكَ لَتَہْدِي إِلَي صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ>
” اور بے شك آپ لوگوں كو سيدھے راستہ كي ہدايت كرر ہے ہيں“۔
ظاہر ہے كہ انبياء عليہم السلام كي دعوت حق خداوندعالم كي طرف سے ہے كيونكہ انبياء كے پاس جو كچھ بھي ہوتاہے وہ خدا كي طرف سے ہوتا ہے۔
بعض منحرف اور مشركين كے بارے ميں سورہ نجم آيت نمبر ۲۳ ميں بيان ہوا ہے:
<وَلَقَدْ جَائَہُمْ مِنْ رَبِّہِمْ الْہُدَي>
”اور يقينا ان كے پروردگار كي طرف سے ان كے پاس ہدايت آچكي ہے“۔
ليكن ”تكويني ہدايت “يعني منزل مقصود تك پہنچانا ، راستہ كي تمام ركاوٹوں كو دور كرنا اور ساحل نجات پر پہنچنے تك ہر طرح كي حمايت و حفاظت كرنا،جيسا كہ قرآن مجيد كي بہت سي آيات ميں بيان ہوا ہے، يہ موضوع بدون قيد و شرط نہيں ہے، اور يہ ہدايت ايك ايسے خاص گروہ سے مخصوص ہے جس كے صفات خود قرآن مجيد ميں بيان ہوئے ہيں، اور اس كے مدمقابل ”ضلالت و گمراہي“ ہے وہ بھي خاص گروہ سے مخصوص ہے جس كے صفات بھي قرآن مجيد ميں بيان ہوئے ہيں۔
اگرچہ بہت سي آيات مطلق ہيں ليكن دوسري بہت سي آيات ميں وہ شرائط واضح طور پر بيان ہوئے ہيں، اور جب ہم ان ”مطلق“ اور ”مقيد“ آيات كو ايك دوسرے كے برابر ركھتے ہيں تو مطلب بالكل واضح ہوجاتا ہے اور آيات كے معني و تفسير ميں كسي طرح كے شك و ترديد كي گنجائش باقي نہيں رہتي، اور نہ صرف يہ كہ انسان كے اختيار ، آزادي اور ارادہ كے مخالف نہيں ہے بلكہ مكمل اور دقيق طور پر ان كي تاكيد كرتي ہے۔
(قارئين كرام!) يہاں درج ذيل وضاحت ملاحظہ فرمائيں:
قرآن مجيد ميں ايك جگہ ارشاد ہوتا ہے:
< يُضِلُّ بِہِ كَثِيرًا وَيَہْدِي بِہِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِہِ إِلاَّ الْفَاسِقِينَ >(4)
”خدا ا سي طرح بہت سے لوگوں كو گمراہي ميں چھوڑ ديتا ہے اور بہت سوں كو ہدايت دے ديتا ہے اور گمراہي صرف انھيں كا حصہ ہے جو فاسق ہيں “۔
يہاں پر ضلالت و گمراہي كا سرچشمہ، فسق و فجور اور فرمان الٰہي كي مخالفت بيان كي گئي ہے۔
ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<وَاللهُ لاَيَہْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ > (5)
”اوراللہ ظالموں كي ہدايت نہيں كرتا “۔
اس آيت ميں ظلم پرتوجہ دلائي گئي ہے اور اس كو ضلالت و گمراہي كا راستہ ہموار كرنے والا بتايا گيا ہے۔
ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<وَاللهُ لاَيَہْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ> (6)
”اوراللہ كافروں كي ہدايت بھي نہيں كرتا “۔
يہاں پر كفر كو گمراہي كاسبب قرارديا گيا ہے۔
ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<إِنَّ اللهَ لاَيَہْدِي مَنْ ہُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ> (7)
”اللہ كسي بھي جھوٹے اور نا شكري كرنے والے كو ہدايت نہيں ديتا ہے “۔
اس آيت ميں جھوٹ اور كفر كو ضلالت و گمراہي كا پيش خيمہ شمار كيا گيا ہے۔
نيز ارشاد ہوتا ہے:
<إِنَّ اللهَ لاَيَہْدِي مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ >(8)
”بيشك اللہ كسي زيادتي كرنے والے اور جھوٹے كي رہنمائي نہيں كرتا ہے “۔
اس كا مطلب يہ ہے كہ فضول خرچي اور جھوٹ گمراہي كا باعث ہے۔
(قارئين كرام!) ہم نے يہاں تك اس سلسلہ ميں بيان ہونے والي چند آيات كو بيان كيا ہے، اسي طرح دوسري آيات قرآن مجيد كے مختلف سوروں ميں بيان ہوئي ہيں۔
نتيجہ يہ ہوا كہ قرآن مجيد نے خدا كي طرف سے ضلالت و گمراہي انھيں لوگوں كے لئے مخصوص كي ہے جن ميں يہ صفات پائے جاتے ہوں: ”كفر“ ، ”ظلم“، ”فسق“، ”جھوٹ“، ”فضول خرچي“ اور ”كفران نعمت “۔
كيا جن لوگوں ميں يہ صفات پائے جاتے ہيں وہ ضلالت و گمراہي كے سزاوار نہيں ہيں؟!
بالفاظ ديگر: جو لوگ ان برائيوں كے مرتكب ہوتے ہيں كيا ان كے دلوں پر ظلمت و تاريكي اثرنہيں كرتي؟!
صاف و شفاف الفاظ ميں يوں كہيں كہ اس طرح كے اعمال اور صفات كچھ خاص اثرركھتے ہيں جو آخركار انسان ميں موثر ہوتے ہيں،اور اس كي عقل، آنكھ اور كان پر پردہ ڈال ديتے ہيں، اس كو ضلالت و گمراہي كي طرف كھينچتے ہيں، اور چونكہ تمام چيزوں كي خاصيت اور تمام اسباب كے اثرات خدا كے حكم سے ہيں لہٰذا ضلالت و گمراہي كو ان تمام موارد ميں خدا كي طرف نسبت دي جاسكتي ہے، ليكن يہ نسبت خود انسان كے ارادہ و اختيار كي وجہ سے ہے۔
يہ سب كچھ ضلالت و گمراہي كے سلسلہ ميں تھا، اُدھر ”ہدايت“ كے سلسلہ ميں بھي قرآن كريم نے كچھ شرائط اور اوصاف بيان كئے ہيں جن سے پتہ چلتا ہے كہ يہ بھي بغير كسي علت اور حكمت الٰہي كے خلاف نہيں ہے۔
بعض وہ صفات جن كي وجہ سے انسان ہدايت اور لطف الٰہي كا مستحق ہوتا ہے ؛ درج ذيل آيات ميں بيان ہوئي ہيں:
< يَہْدِي بِہِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَي النُّورِ بِإِذْنِہِ وَيَہْدِيہِمْ إِلَي صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ >(9)
”جس كے ذريعہ خدا اپني خوشنودي كا ابتاع كرنے والوں كو سلامتي كے راستوں كي ہدايت كرتا ہے اور انھيں تاريكيوں سے نكال كر اپنے حكم سے نور كي طرف لے آتا ہے اور انھيں صراط مستقيم كي ہدايت كرتا ہے “۔
آيہٴ مباركہ سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ حكم خدا كي پيروي اور اس كي رضا حاصل كرنے سے ہدايت كا راستہ ہموار ہو جاتا ہے ۔
دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<إِنَّ اللهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَہْدِي إِلَيْہِ مَنْ اٴَنَابَ> (10)
”بيشك اللہ جس كو چاہتا ہے گمراہي ميں چھوڑ ديتا ہے اور جو اس كي طرف متوجہ ہوجاتے ہيں انھيں ہدايت ديتا ہے “۔
يہاں ”توبہ اور استغفار كرنے والے “ كو ہدايت كامستحق قرارديا گيا ہے۔
ايك دوسري آيت ميں ارشاد ہوتا ہے:
<وَالَّذِينَ جَاہَدُوا فِينَا لَنَہْدِيَنَّہُمْ سُبُلَنَا > (11)
”اور جن لوگوں نے ہمارے حق ميں جہاد كيا ہے ہم انھيں اپنے راستوں كي ہدايت كريں گے “۔
اس آيت ميں ”راہ خدا ميں مخلصانہ جہاد“ كو ہدايت كے لئے اصلي شرط كے عنوان سے ذكر كيا ہے۔
نيز ايك دوسري آيت ميں ارشاد ہے:
< وَالَّذِينَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًي>(12)
”اور جن لوگوں نے ہدايت حاصل كر لي خدا نے ان كي ہدايت ميں اضافہ كرديا اور ان كو مزيد تقوي عنايت فرمايا “۔
اس آيت ميں اس بات كي طرف اشارہ ہے كہ اگر انسان راہ ہدايت كي طر ف قدم بڑھائے تو خدا وندعالم اس كو مزيد راستہ طے كرنے كي طاقت عطا فرماديتا ہے۔
نتيجہ يہ ہوا كہ جب تك بندوں كي طرف سے توبہ و استغفار نہ ہو اور خدا كے حكم كي پيروي نہ ہو، نيز جب تك خدا كي راہ ميں جہاد اور كوشش نہ ہو ، اور جب تك خدا كي راہ ميں قدم نہ بڑھائے جائيں تو لطف الٰہي ان كے شامل حال نہيں ہوگا، اور ان كي مدد نہيں ہوگي، نيز وہ منزل مقصود تك نہيں پہنچ سكتے۔
جن لوگوں ميں يہ صفات موجود ہوں كيا ان كے لئے ہدايت يافتہ ہونا بے حساب و كتاب ہے ؟! اور كيا انھيں ہدايت كے لئے مجبور كيا گيا ہے ؟!
(قارئين كرام!) آپ حضرات ملاحظہ فرمارہے ہيں كہ اس سلسلہ ميں قرآن مجيد كي آيات بہت واضح ہيں،ليكن جن لوگوں نے ہدايت و گمراہي كے سلسلہ ميں بيان ہونے والي آيات كو صحيح طريقہ سے نہيں سمجھا ، يا سمجھنے كي كوشش نہيں كي تو ايسے ہي لوگ اس خطرناك غلطي كا شكار ہوئے ہيں اور بقول شاعر :”چون نديدند حقيقت، رہ افسانہ زدند“ (اور جب انھوں نے حقيقت كو نہ پايا تو افسانہ گڑھ ليا) ان كے لئے يہي كہا جا ئے كہ ان لوگوں نے ”ضلالت و گمراہي“ كا راستہ خود ہي ہموار كيا ہے!
بہر حال ہدايت و ضلالت كامسئلہ حكمت ومشيت سے خالي نہيں ہے، بلكہ ہر موقع پر خاص شرائط ہوتے ہيں جو خدا كے حكيم ہونے پر دلالت كرتے ہيں۔(13)

(1) مفردات راغب ،مادہ ”ھدي“
(۲) يہاں پر تكويني ہدايت وسيع معني ميں استعمال ہوئي ہے، جس ميں بيان قوانين اور ارايہٴ طريق كے علاوہ ہر طرح كي ہدايت شامل ہے 
اس كے مقابلہ ميں ”ضلالت اور گمراہي“ ہے۔
(3) نمونہ كے طور پر:سورہ فاطر ، آيت ۸ سورہ زمر، آيت ۲۳ سورہ مدثر ، آيت ۳۱ سورہ بقرہ، آيت ۲۷۲ سورہ انعام ، آيت ۸۸ سورہ يونس ، آيت ۲۵ سورہ رعد ، آيت ۲۷ سورہ ابراہيم ، آيت ۴ .
(4)سورہ بقرہ ، آيت ۲۶
(5) سورہ بقرہ ، آيت ۲۵۸
(6) سورہ بقرہ ، آيت ۲۶۴
(7) سورہ زمر ، آيت ۳
(8) سورہ غافر ، آيت ۲۸.
(9)سورہ مائدہ ، آيت ۱۶
(10)سورہ رعد ، آيت ۲۷ (11)سورہ عنكبوت ، آيت ۶۹
(12) سورہ محمد ، آيت ۱۷.
(13) تفسير نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۴۶۱
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك