سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:329

عالم ذرّ كا عہد و پيمان كيا ہے؟

جيساكہ ہم سورہ اعراف آيت نمبر ۱۷۲ ميں پڑھتے ہيں:
< وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّيَّتَہُمْ وَاٴَشْہَدَہُمْ عَلَي اٴَنفُسِہِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَي شَہِدْنَا اٴَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِينَ>
” اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم كي پشتوں سے ان كي ذريت كو لے كر انھيں خود ان كے اوپر گواہ بنا كر سوال كيا كہ كيا ميں تمہارا خدا نہيں ہوں؟ تو سب نے كہا بے شك ہم اس كے گواہ ہيں يہ عہد اس لئے ليا كہ روز قيامت يہ نہ كہہ سكيں كہ ہم اس عہد سے غافل تھے“۔
اس آيت ميں بني آدم كے عہد و پيمان كو مجمل طور سے بيان كيا گيا ہے، ليكن يہ عہد و پيمان كيا تھا؟ (يہ سوال ذہن ميں آتا ہے۔)
اس عالم اور اس عہد و پيمان سے مراد وہي ”عالم استعداد“ ، ”پيمان فطرت“ اور تكوين و آفرينش ہے، وہ بھي اس طرح سے كہ جب انسان ”نطفہ“ كي صورت ميں صلب پدر سے رحم مادر ميں منتقل ہوتاہے جس وقت انسان كي حقيقت ذرات سے زيادہ نہيں ہوتي، اس وقت خداوندعالم حقيقت توحيد كو قبول كرنے كي استعداد اور آمادگي عنايت فرماتا ہے، لہٰذا انسان كي فطرت اور اس كي ذات ميں يہ الٰہي راز ايك حس باطني كي صورت ميں وديعت ہو تا ہے، نيز انسان كي عقل ميں ايك حقيقت كي شكل ميں قراردياجاتا ہے!۔
اس بنا پر تمام انسانوں كے يہاں روحِ توحيد پائي جاتي ہے، اور خداوندعالم نے انسان سے زبان تكوين و آفرينش ميں سوال كيا ہے اور اس كا جواب بھي اسي زبان ميں ہے۔
اس طرح كي تعبيريں ہمارے روز مرّہ كي گفتگو ميں ہوتي ہے جيساكہ ہم كہتے ہيں كہ انسان كے چہرہ كے رنگ سے اس كے اندروني حالات كا پتہ لگ جاتا ہے، يا انسان كي سر خ آنكھوں كو ديكھ كر اندازہ لگايا جاسكتا ہے كہ يہ شخص رات ميں نہيں سويا ہے۔
ايك عرب اديب اور خطيب سے نقل ہوا ہے :
”سَلْ الاٴرضَ مَن شَقَ اٴنھاركِ وغرسَ اٴشجاركِ واٴينعَ ثِمَارِكِ فإنْ لَمْ تُجبكَ حواراً إجابتكَ إعتباراً“
”اس زمين سے سوال كرو كہ تيرے اندر يہ نہريں كس نے جاري كي ہيں اور كس نے يہ درخت اگائے ہيں اور كس نے پھلوں ميں رس گھولا ہے؟ تو اگر وہ سادہ زبان ميں جواب نہ دے تو پھر زبان حال سے گويا ہوگي“۔
اسي طرح قرآن مجيد ميں بھي بعض مقامات پر زبان حال سے گفتگو كا بيان ہوا ہے:
<فَقَالَ لَہَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا اٴَوْ كَرْہًا قَالَتَا اٴَتَيْنَا طَائِعِينَ>(1)
”اور اسے اور زمين كو حكم ديا كہ بخوشي يا بكراہت ہماري طرف آؤ تو دونوں نے عرض كي كہ ہم اطاعت گزار بن كر حاضر ہيں“۔(۲).

(1)سورہ فصلت ، آيت ۱۱
(۲) تفسير نمونہ ، جلد ۷، صفحہ ۶
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك