سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:401

عرش خدا كيا ہے؟

قرآن مجيد كي آيات ميں تقريباً بيس مرتبہ ”عرش الٰہي“ كي طرف اشارہ كيا گيا ہے، جس كي بنا پر يہاںيہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ عرش الٰہي سے كيا مراد ہے؟
ہم نے مكرر عرض كيا ہے كہ ہماري محدود زندگي كے لئے وضع شدہ الفاظ عظمت خدا يا اس كي عظيم مخلوق كي عظمت كو بيان كرنے كي صلاحيت نہيں ركھتے، لہٰذا ان الفاظ كے كنائي معني اس عظمت كا صرف ايك جلوہ دكھاسكتے ہيں، اسي طرح لفظ ”عرش“ بھي ہے جس كے معني ”چھت“ يا ”بلند پايہ تخت“ كے ہيں اس كرسي كے مقابلہ ميں جس كے پائے چھوٹے ہوتے ہيں،ليكن اس كے بعد قدرت خدا كي جگہ ”عرش پروردگار “ استعمال ہونے لگا۔
اب اہم سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ ”عرش الٰہي“ سے كيا مراد ہے اور اس لفظ كے استعمال سے كيا معني مراد لئے جاتے ہيں؟ اس سلسلہ ميں مفسرين، محدثين اور فلاسفہ حضرات كے يہاں بہت اختلاف پايا جاتا ہے۔
كبھي ”عرش الٰہي“ سے ”خداوندعالم كا لامحدود علم“ مراد ليا جاتاہے۔
كبھي ”خداوندعالم كي مالكيت اور حا كميت “كے معني ميں استعمال ہوتا ہے۔
اور كبھي خدا وندعالم كي صفات كماليہ اور صفات جلاليہ مراد لي جاتي ہيں، كيونكہ ان ميں سے ہر صفت ؛خداكي عظمت كو بيان كرنے والي ہے، جيسا كہ بادشاہوں كے تخت ان كي عظمت اور شان و شوكت كي نشاني ہوا كرتي ہے۔
جي ہاں!خداوندعالم ؛عرش علم، عرش قدرت، عرش رحمانيت اور عرش رحيميت ركھتا ہے۔
(قارئين كرام!) مذكورہ تينوں تفسير وں كے لحاظ سے ”عرش“ كالفظ خداوندعالم كي صفات كي طرف اشارہ ہے ، كسي وجود خارجي كي طرف نہيں، ( مثلاً كوئي چيز خارج ميں موجود ہو)
اہل بيت عليہم السلام سے منقول بعض روايات ميں بھي اسي بات كي تائيد ہوئي ہے، جيسا كہ حفص بن غياث امام صادق عليہ السلام سے نقل كرتے ہيں كہ ميں نے < وَسِعَ كُرْسِيُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ>(1) كے بارے ميں سوال كيا ، تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”اس سے مراد خداوندعالم كا ”علم“ ہے“۔(۲)
امام صادق عليہ السلام سے ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ ”عرش“ يعني وہ علم جس كو انبياء كو عطا كيا ہے اور ”كرسي“ وہ علم جو كسي كو عطا نہيں ہوا ہے۔(۳)
حالانكہ بعض دوسرے مفسرين نے ديگر روايات سے الہام ليتے ہوئے ”عرش“ اور ”كرسي“ كے معني خداوندعالم كي دو عظيم مخلوق تحرير كئے ہيں۔
ان ميں سے بعض لوگوں كا كہنا ہے: عرش سے تمام كائنات مراد ہے۔
بعض كہتے ہيں: تمام زمين و آسمان ”كرسي“ كے اندر قرار دئے گئے ہيں، بلكہ زمين و آسمان ”كرسي“ كے مقابلہ ميں وسيع و عريض بيابان ميں پڑي ايك انگوٹھي كي طرح ہے، اور خود ”كرسي“ خداوندعالم كے ”عرش“ كے مقابلہ ميں وسيع و عريض بيابان ميں پڑي ايك انگوٹھي كي طرح ہے۔
اور كبھي انبياء عليہم السلام ،اوصياء اور كامل مومنين كے ”دل“ كو ”عرش“ كہا گياہے، جيسا كہ حديث ميں بيان ہوا ہے:
”إنَّ قَلبَ الموٴمن عَرش الرَّحمٰن“(4) 
”بے شك مومن كا دل، عرش الٰہي ہے“۔
اور حديث قدسي ميں بھي بيان ہوا ہے:
”لَمْ يسعني سمائي ولا اٴرضي و وسعني قلب عبدي الموٴمن“(5) 
”ميرے زمين و آسمان ، ميري وسعت كي گنجائش نہيں ركھتے ليكن ميرے مومن بندہ كا دل ميرا مقام واقع ہوسكتاہے“۔
(ليكن جہاں تك انسان كي قدرتِ تشخيص اجازت ديتي ہے) معني ”عرش“ سمجھنے كے لئے بہترين راستہ يہ ہے كہ قرآن مجيد ميں جہاں جہاں لفظ ”عرش“ استعمال ہوا ہے ان كي دقيق طريقہ سے تحقيق و جستجو كريں۔
قرآن مجيد ميں يہ لفظ مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے:
< ثُمَّ اسْتَوَي عَلَي الْعَرْشِ>(6) 
”اور اس كے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم كيا “
بعض آيات ميں ان جملوں كے بعد ”يدبر الامر“ آياہے ياايسے جملے آئے ہيں جو خداوندعالم كے علم اور اس كي تدبير كي حكايت كرتے ہيں۔
يا قرآن كريم كي بعض دوسري آيات ميں ”عرش“ كے لئے”عظيم“ جيسي صفت بيان ہوئي ہے جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے: <و هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ >(7) ”اور وہي عرش اعظم كا پروردگار ہے“۔
اوركبھي حاملان عرش كے سلسلہ ميں گفتگو ہوئي ہے جيسے محل بحث آيہ شريفہ۔
كبھي ان ملائكہ كے بارے ميں گفتگو ہوئي ہے جو عرش كو گھمانے والے ہيں، مثلاً:<وَتَرَي الْمَلاَئِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ>(8) ”اور تم ديكھو گے كہ ملائكہ عرش الٰہي كے گرد گھيرا ڈالے ہوئے اپنے رب كي حمد وتسبيح كررہے ہيں“۔
كبھي ارشاد ہوتا ہے كہ عرش الٰہي پاني پر ہے: <وَكاَنَ عَرْشُہُ عَلَي الْمَاءِ>(ہود/۷)
قرآن كريم كے ان الفاظ اور اسلامي روايات ميں بيان ہوئي دورسري عبارتوں سے يہ بات اچھي طرح واضح ہوجاتي ہے كہ لفظ ”عرش“ كا مختلف معني پر اطلاق ہوتا ہے، اگرچہ سب كا سرچشمہ ايك ہي ہے۔
”عرش“ كے ايك معني وہي مقام ”حكومت، مالكيت اور عالم ہستي كي تدبير ہے“، كيونكہ بعض معمولي اوقات ميں عرش كہہ كر كنايةً ايك حاكم كا اپني رعايا پر مسلط ہونے كے معني ميں بھي استعمال ہوا ہے، جيسا كہ كہا جاتا ہے: ”فلان ثل عرشہ“ يہ كنايہ ہے كہ فلاں بادشاہ كي طاقت ختم ہوگئي، جيسا كہ فارسي زبان ميں بھي كہا جاتا ہے: ”پايہ ہاي تخت او درہم شكست“ (يعني اس كي حكومت كي چوليں ہل گئيں)
”عرش“ كے ايك معني ”عالم ہستي كا مجموعہ“ ہے، كيونكہ دنيا كي تمام چيزيں اس كي عظمت و بزرگي كي نشاني ہيں، اور كبھي ”عرش“ سے ”آسمان“ اور ”كرسي“ سے ”زمين“ كو مراد ليا جاتا ہے۔
اور كبھي ”عرش“ سے ”عالم ماوراء طبيعت“ اور كرسي سے عالم مادہ (چاہے وہ زمين ہو يا آسمان) مراد ليا جاتا ہے جيسا كہ آية الكرسي ميں بيان ہوا ہے: <وَسِعَ كُرْسِيُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ>
اور چونكہ خداوندعالم كي مخلوقات اور اس كي معلومات اس كي ذات سے جدا نہيں ہيں لہٰذا كبھي كبھي ”عرش“ سے ”علم خدا“ مراد ليا جاتا ہے۔
اوراگر پاك اور مومن بندوں كے دلوں كو ”عرش الرحمن“ كہا گيا ہے تو اس كي وجہ يہ ہے كہ مومنين كے قلوب خداوندعالم كي ذات پاك كي معرفت كي جگہ اور اس كي عظمت اور قدرت كي نشانيوں ميں سے ايك نشاني ہے۔
لہٰذا ہر جگہ پر استعمال ہونے والے لفظ ”عرش“كو اس جگہ موجود قرائن سے سمجھا جاسكتا ہے كہ اس جگہ ”عرش“ سے كون سے معني مراد ہيں، ليكن يہ تمام معاني اس حقيقت كو بيان كرتے ہيں كہ ”عرش“ خدا كي عظمت و بزرگي كي نشاني ہے۔
محل بحث آيہٴ شريفہ( جس ميں حاملان عرش الٰہي كي گفتگو ہے) ميں ممكن ہے كہ اس سے وہي حكومت خدا اور عالم ہستي ميں اس كي تدبير مراد ہو ، اور حاملان عرش سے مراد خداوندعالم كي حاكميت اور اس كي تدبير كو نافذ كرنے والے مراد ہوں۔
اور يہ بھي ممكن ہے كہ تمام كائنات، يا عالم ماوراء طبيعت كے معني ميں ہو، اور حاملان عرش سے مراد وہ فرشتے ہوں جو حكم خدا سے اس كائنات كي تدبير كے ستون اپنے شانوں پر اٹھائے ہوئے ہوں۔

(1 اور 2)سورہٴ بقرہ ، آيت ۲۵۵ . بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حديث ۴۶ و۴۷)”اس كي كرسي، علم و اقتدار زمين و آسمان سے وسيع تر ہے“۔
(3) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حديث ۴۶ و۴۷)
(4) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹ 
(5) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹
(6) سورہٴ اعراف ، آيت۵۴۔ سورہٴ يونس ، آيت۳۔ سورہٴ رعد ،آيت۲۔ سورہٴ فرقان ، آيت۵۹ سورہٴ سجدہ ،آيت۴۔ سورہٴ حديد ، آيت۴.سورہٴ توبہ آيت۱۲۹ (۲)سورہٴ زمر آيت۷ ۵
(7) تفسير نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۵
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك