سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:275

كيا خداوندعالم كو ديكھا جاسكتا ہے؟

عقلي دلائل اس بات كي گواہي ديتے ہيں كہ خداوندعالم كو ہرگز آنكھوں كے ذريعہ نہيں دےكھاجا سكتا، كيونكہ آنكھ تو كسي چيز كے جسم يا صحيح الفاظ ميں چيزوں كي كيفيتوں كو ديكھ سكتي ہيں، اور جس چيز كا كوئي جسم نہ ہو بلكہ اس ميں جسم كي كوئي كيفيت بھي نہ ہو تو اس چيز كو آنكھ كے ذريعہ نہيں ديكھا جاسكتا، دوسرے الفاظ ميں يوں سمجھئے كہ آنكھ اس چيز كو ديكھنے كي صلاحيت ركھتي ہے جس ميں مكان، جہت اور مادہ ہو ، حالانكہ خداوندعالم ان تمام چيزوں سے پاك و پاكيزہ ہے اور اس كا وجود لامحدود ہے اسي وجہ سے وہ ہمارے اس مادي جہان سے بالاتر ہے، كيونكہ مادي جہان ميں سب چيزيں محدود ہيں۔
قرآن مجيد كي بہت سي آيات ،منجملہ بني اسرائيل سے متعلق آيات جن ميں خداوندعالم كے ديدار كي درخواست كي گئي ہے، ان ميں مكمل وضاحت كے ساتھ خداوندعالم كے ديد ار كے امكان كي نفي كي گئي ہے، ليكن تعجب كي بات يہ ہے كہ بہت سے اہل سنت علمايہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ اگر خداوندعالم اس دنيا ميں نہيں دكھائي دے سكتا تو روز قيامت ضرور دكھائي دے گا!! جيسا كہ مشہور و معروف اہل سنت عالم، صاحب تفسير المنار كہتے ہيں:”ھَذا مَذْھبُ اٴہل السُّنة والعِلم بالحديثِ“ (يہ عقيدہ اہل سنت اور علمائے اہل حديث كا ہے) (1) 
اس سے بھي زيادہ عجيب بات يہ ہے كہ عصر حا ضر كے علمائے اہل سنت جو اپنے كو روشن فكر بھي سمجھتے ہيں وہ بھي اسي عقيدہ كا اظہاركرتے ہيں اور كبھي كبھي تو اس سلسلہ ميں بہت زيادہ ہٹ دھرمي كرتے ہيں!
حالانكہ اس عقيدہ كا باطل ہونا اس قدر واضح ہے كہ بحث و گفتگو كي بھي ضرورت نہيں ہے، كيونكہ اس سلسلہ ميں (جسماني معاد كے پيش نظر) دنيا و آخرت ميں كوئي فرق نہيں ہے ، كيو نكہ جب خداوندعالم كي ذات اقدس مادي نہيں ہے وہ مادہ سے پاك و منزہ ہے، تو كيا وہ روز قيامت ايك مادي وجود ميں تبديل ہوجائے گا، اور اپني لامحدود ذات سے محدود بن جائے گا، كيا اس دن خدا جسم يا عوارض جسم ميں تبديل ہوجائے گا؟ كيا خداوندعالم كے عدم ديدار كے عقلي دلائل دنيا و آخرت ميں كوئي فرق كرتے ہيں؟ ہر گز نہيں، كيونكہ عقلي حكم كوئي استثنا نہيں ہوتا ۔
اسي طرح بعض لوگوں كا يہ غلط توجيہ كرنا كہ ممكن ہے انسان كو روز قيامت دوسري آنكھيں مل جائيں يا انسان كو ايك دوسرا ادراك مل جائے جس سے وہ خداوندعالم كا ديدار كرسكے، تو يہ بالكل بے بنياد ہيں، كيونكہ اگر اس ديد اور آنكھ سے يہي عقلاني اور فكري ديد مراد ہے تو يہ تو اس دنيا ميں بھي موجود ہے اور ہم اپنے دل اور عقل كي آنكھوں سے خدا كے جمال كا مشاہدہ كرتے ہيں، اور اگر اس سے مراد وہي چيز ہے جس كو آنكھوں سے ديكھا جائے گا تو اس طرح كي چيز خداوندعالم كے بارے ميں محال اور ناممكن ہے، چاہے وہ اس دنيا سے متعلق ہو يا اُس دنيا سے،لہٰذا كسي كا يہ كہنا كہ انسان اس دنيا ميں خدا كو نہيں ديكھ سكتا مگر مومنين روز قيامت خداوندعالم كا ديدار كريں گے، يہ بات غير منطقي اور ناقابل قبول ہے۔
يہ لوگ اپني معتبر كتابوں ميں موجود بعض احاديث كي بنا پر اس عقيدہ كا دفاع كرتے ہيں جن احاديث ميں روز قيامت خدا كے ديدار كي بات كہي گئي ہے،ليكن كيا يہ بہتر نہيں ہے كہ ان روايات كے باطل ہونے كو عقل كے ذريعہ پركھيں اور ان روايات كو جعلي اور جن كتابوں ميں يہ روايات بيان ہوئي ہيں ان كو بے بنياد مانيں، مگر يہ كہ ان روايات كو دل كي آنكھوں سے مشاہدہ كے معني ميں تفسير كريں، كيا يہ صحيح ہے كہ اس طرح كي روايات كي بناپر اپني عقل كو الوداع كہہ ديں ، اور اگر قرآن كريم كي بعض آيات ميں اس طرح كے الفاظ موجود ہيں جن كے ذريعہ پہلي نظر ميں ديدار خدا كا مسئلہ سمجھ ميں اتا ہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
< وُجُوہٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ # إِلَي رَبِّہَا نَاظِرَةٌ >(2) 
”اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے۔اپنے پروردگار( كي نعمتوں) پر نظر ركھے ہوئے ہوں گے“۔
مذكورہ آيت درج ذيل آيت كي طرح ہے:
< يَدُ اللهِ فَوْقَ اٴَيْدِيہِمْ>(3) 
”اور ان كے ہاتھوں كے اوپر اللہ ہي كا ہاتھ ہے“۔
جس ميں كنايةً قدرت پروردگار كي بات كي گئي ہے، كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ قرآن مجيد كي كوئي بھي آيت اپنے حكم كے برخلاف حكم نہيں دے گي۔ 
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اہل بيت عليہم السلام سے منقول روايات ميں اس باطل عقيدہ كي شدت سے نفي اور مخالفت كي گئي ہے، اور ايسا عقيدہ ركھنے والوں پر مختلف انداز ميں تنقيد كي گئي ہے، جيسا كہ حضرت امام صادق عليہ السلام كے مشہور و معروف صحابي جناب ہشام كہتے ہيں:
ميں حضرت امام صادق عليہ السلام كي خدمت ميں تھاكہ امام عليہ السلام كے ايك دوسرے صحابي معاويہ بن وہب آپ كي خدمت ميں حاضر ہوئے اور عرض كيا: اے فرزند رسول! آپ اس روايت كے بارے ميں كيا فرماتے ہيں جس ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت رسول خدا (ص) نے خدا كا 
ديداركيا ہے؟(اے فرزند رسول آپ بتائيے كہ ) آنحضرت (ص) نے كس طرح خدا كو ديكھا ہے؟ اور اسي طرح آنحضرت (ص) سے منقول روايت جس ميں بيان ہوا ہے كہ مومنين جنت ميں خدا كا ديدار كريں گے، تو يہ ديدار كس طرح ہوگا؟!
اس موقع پر امام صادق عليہ السلام نے مسكراتے ہوئے فرمايا: اے معاويہ بن وہب! كتني بري بات ہے كہ انسان ۷۰ ، ۸۰ سال كي عمر پائے ، خدا كے ملك ميں زندگي گزارے اس كي نعمتوں سے فيضياب ہو، ليكن اس كو صحيح طريقہ سے نہ پہچان سكے، اے معاويہ! پيغمبر اكرم (ص) نے ان آنكھوں سے خدا كا ديدار نہيں كيا ہے، ديدار اور مشاہدہ كي دو قسميں ہوتي ہيں: دل كي آنكھوں سے ديدار ، اور سر كي آنكھوں سے ديدار، اگر كوئي شخص يہ كہے كہ اس نے دل كي آنكھوں سے خدا كا ديدار كيا ہے تو صحيح ہے ليكن اگر كوئي كہے كہ ان ظاہري آنكھوں سے خدا كا ديدار كيا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اور اس كي آيات كاانكار كرتا ہے، كيونكہ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: جو شخص خداوندعالم كو مخلوق كي شبيہ اور مانند قرار دے تو وہ كافر ہے۔(4) 
اسي طرح ايك دوسري روايت جو ”كتاب توحيد “شيخ صدوقۺ ميں اسماعيل بن فضل سے نقل ہوئي ہے ان كا بيان ہے كہ ميں نے حضرت امام صادق عليہ السلام سے سوال كيا كہ كيا روز قيامت خداوندعالم كا ديدار ہوسكتا ہے؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا: خداوندعالم اس چيز سے پاك و پاكيزہ ہے اور بہت ہي پاك و پاكيزہ ہے:
” إنَّ الاٴَبصَار لا تُدرك إلاَّ ما لَہ لون والكيفية والله خالق الاٴلوان والكيفيات“(5) 
”آنكھيں صرف ان چيزوں كو ديكھ سكتي ہيں جن ميں رنگ اور كيفيت ہو جبكہ خداوندعالم رنگ اور كيفيت كا خالق ہے“۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اس حديث ميں لفظ ”لَون“ (يعني رنگ) پر خاص توجہ دي گئي ہے اور آج كل ہم پر يہ بات واضح و روشن ہے كہ ہم خود جسم كو نہيں ديكھ سكتے بلكہ كسي چيز كے جسم كا رنگ ديكھا جاتا ہے، اور اگر كسي جسم كا كوئي رنگ نہ ہو تو وہ ہرگز دكھائي نہيں دے سكتا۔(6)
جناب موسيٰ (ع) نے ديدارخدا كي درخواست كيوں كي؟
سورہ اعراف آيت نمبر ۱۴۳/ ميں جناب موسيٰ عليہ السلام كي زباني نقل ہوا كہ انھوں نے عرض كي: <ربِّ اٴرني اٴنظرُ إليكَ> (پالنے والے! مجھے اپنا ديدار كرادے) ، اس آيت كے پيش نظر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ جناب موسيٰ جيسا بزرگ اور اولو العزم نبي يہ بات اچھي طرح جانتا تھا كہ خداوندعالم نہ جسم ركھتا ہے اور نہ مكان اور نہ ہي قابل ديدار ہے، تو پھر انھوں نے ايسي درخواست كيوں كي جو كہ ايك عام آدمي سے بھي بعيد ہے؟
اگر چہ مفسرين نے اس سلسلہ ميں مختلف جواب پيش كئے ہيں ليكن سب سے واضح جواب يہ ہے كہ جناب موسيٰ عليہ السلام نے يہ درخواست اپني قوم كي طرف سے كي تھي، كيونكہ بني اسرائيل كے بہت سے جاہل لوگ اس بات پر اصرار كرتے تھے كہ خدا پر ايمان لانے كے لئے پہلے اس كوديكھيں گے، (سورہ نساء كي آيت نمبر ۱۵۳/ اس بات كي شاہد ہے) جناب موسيٰ عليہ السلام كو خدا كي طرف سے حكم ملا كہ اس درخواست كو بيان كريں، تاكہ سب لوگ واضح جواب سن سكيں، چنا نچہ كتاب عيون اخبار الرضا عليہ السلام ميں امام علي بن موسيٰ الرضا سے مروي حديث بھي اسي مطلب كي وضاحت كرتي ہے۔(7)
انھيں معني كو روشن كرنے والے قرائن ميں سے ايك قرينہ يہ ہے كہ اسي سورہ كي آيت نمبر ۵۵ ميں جناب موسي عليہ السلام اس واقعہ كے بعد عرض كرتے ہيں: ”اٴتھلُكنا بِما فَعَلَ السُّفَھاء مِنَّا“ ( كيا اس كام كي وجہ سے ہميں ہلاك كردے گا؟ جس كو ہمارے بعض كم عقل لوگوں نے انجام ديا ہے؟) 
اس جملہ سے يہ بات اچھي طرح واضح ہوجاتي ہے كہ جناب موسيٰ عليہ السلام نے نہ صرف اس طرح كي درخواست نہيں كي تھي بلكہ شايد وہ ۷۰/ افراد جو آپ كے ساتھ كوہِ طور پر گئے تھے ان كا بھي يہ عقيدہ نہيں تھا، وہ صرف بني اسرائيل كے دانشور اورلوگوں كي طرف سے نمائندے تھے، تاكہ ان جاہل لوگوں كے سامنے اپني آنكھوں ديكھي كہاني كو بيان كريں جو خدا كے ديدار كے لئے اصرار كررہے تھے۔

(1) تفسير المنار ، جلد ۷، صفحہ ۶۵۳
(2) سورہٴ قيامت ، آيت۲۳ ۔۲۴.
(3)سورہٴ فتح ،آيت۱۰.
(4) معاني الاخبار بنا بر نقل تفسير الميزان ، جلد ۸، صفحہ ۲۶۸
(5) نور الثقلين ، جلد اول، صفحہ ۷۵۳.
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۳۸۱ (۲) تفسير نور الثقلين ، جلد ۲، صفحہ ۶۵
(7) تفسير نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۳۵۶
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك