سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:336

اسم اعظم كيا ہے؟

اسم اعظم كے سلسلہ ميں مختلف روايات بيان كي گئي ہيں جن سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ جو شخص بھي اسم اعظم سے باخبر ہوجائے تو نہ صرف يہ كہ اس كي دعا قبول ہوجاتي ہے بلكہ وہ شخص اس اسم اعظم كے ذريعہ اس دنيا كي بہت سي چيزوں ميں دخل و تصرف كرسكتا ہے اور بہت سے عجيب و غريب كام انجام دے سكتا ہے۔
خدا كے ناموں ميں سے كونسا نام ”اسم اعظم“ ہے ؟اس سلسلہ ميں علمائے اسلام نے بہت زيادہ بحث و گفتگو كي ہے، اور اس موضوع پر اكثر بحثيں ہوا كرتي ہيں كہ خدا كے ناموں ميں اس اسم كو تلاش كريں جو عجيب و غريب خاصيت ركھتا ہو۔
ليكن ہمارے نظريہ كے مطابق جس چيز پر زيادہ توجہ ہونا چاہئے وہ يہ ہے كہ خدا كے اسما اور صفات كا پتہ لگائيں ان كے مفہوم كو اپنے اندر پيدا كريں اور روحاني تكامل و پيشرفت حاصل كريں جن كے ذريعہ ہماري ذات پر اثر ہوسكے۔
دوسرے الفاظ ميں اہم مسئلہ يہ ہے كہ ہم اپنے اندر ان صفات كو پيدا كريں اور اپنے كر دار كو ان صفات سے مزين كريں، ورنہ گناہوں ميں آلودہ شخص اور ايك ذليل انسان كيا ”اسم اعظم“ كا علم حاصل كرنے سے ”مستجاب الدعوة“ ہوسكتا ہے؟!
اگر ہم سنتے ہيں كہ ”بلعم“ نامي شخص اسم اعظم كا علم ركھتا تھا ليكن بعد ميں اس سے ہاتھ دھوبيٹھا تو اس كا مطلب يہ ہے كہ اس نے ايمان و عمل صالح اور تقويٰ و پرہيزگاري كے ذريعہ اس روحاني درجہ كو حاصل كرليا تھا لہٰذا اس كي دعا قبول ہوجاتي تھي، ليكن اپني خطاؤں كے ذريعہ (كيونكہ انسان خطا و غلطي سے پاك نہيں ہے) اور اپنے زمانہ كے فرعوني اور طاغوتي طاقتوں اور اپني ہوا وہوس كي بنا پر اس روحاني طاقت كو بالكل كھو ديا ، اور اس مرتبہ سے گرگيا، اسم اعظم كے بھول جانے سے يہي معني مراد ہوسكتے ہيں۔
اور اسي طرح اگر ہم كتابوں ميں پڑھتے ہيں كہ انبياء اور ائمہ عليہم السلام اسم اعظم سے آگاہ تھے تو اس كا مطلب يہ ہے كہ ان كے وجود ميں خدا كے اسم اعظم كي حقيقت جلوہ گر ہوتي تھي، اور اسي وجہ سے خدا وندعالم نے ان كو اس عظيم مرتبہ پر فائز كيا تھا (كہ ان كي دعائيں مستجاب ہوتي تھيں)(1).

(1) تفسير نمونہ ، جلد ۷ ،صفحہ ۳۰
دن كي تصوير
ويڈيو بينك