سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:351

صفات جمال و جلال سے كيا مراد ہے؟

خداوندعالم كي صفات كو معمولاً دو حصوں ميں تقسيم كيا جاتا ہے۔
”صفاتِ ذات“ اور ”صفات ِفعل“۔
اس كے بعد صفات ذات كو بھي دو حصوں ميں تقسيم كيا ہے :”صفاتِ جمال“ اور ”صفاتِ جلال“۔
”صفات جمال“ سے وہ صفات مراد ہيں جو خداوندعالم كے لئے ثابت ہيں جيسے علم، قدرت، ازليت، ابديت، لہٰذا ان صفات كو ”صفات ثبوتيہ“ كہا جاتا ہے، اور ”صفات جلال“ سے مراد وہ صفات ہيں جو خدا ميں نہيں پائي جاتيں، جيسے جہل، عجز، جسم وغيرہ لہٰذا ان صفات كو ”صفات سلبيہ“ كہا جاتا ہے، اور يہ دونوں صفات خداوندعالم كي”صفات ذات“ ہيں، اور اس كے افعال سے قطع نظر قابل درك ہيں۔
”صفات فعل “ سے مراد وہ صفات ہيں جو خداوندعالم كے افعال سے متعلق ہوتي ہيں، يعني جب تك خداوندعالم اس فعل كو انجام نہ دے تو اس صفت كا اس پر اطلاق نہيں ہوتا، جب وہ فعل انجام ديتا ہے تو اس صفت سے متصف ہوتا ہے جيسے ”خالق“،”رازق“اور”محي“، ”مميت“ (يعني خلق كرنے والا، روزي دينے والا، زندہ كرنے والا اور موت دينے والا)
ہم ايك بار پھر اس بات كي تاكيد كرتے ہيں كہ خداوندعالم كي ”صفات ذات“ اور ”صفات فعل “ لامحدود ہيں، كيونكہ نہ اس كے كمالات ختم ہونے والے ہيں اور نہ اس كے افعال و مصنوعات، ليكن پھر بھي ان ميں سے بعض صفات دوسري صفات كي اصل اور سرچشمہ شمار ہوتي ہيں، نيز وہ ان كي شاخيں شمار كي جاتي ہيں، لہٰذا اس نكتہ كے پيش نظر يہ بات كہي جاسكتي ہے كہ خداوندعالم كي درج ذيل پانچ صفات خداوندعالم كي ذات اقدس كے تمام اسما و صفات كے لئے اصل و سرچشمہ ہيں اور باقي ان كي شاخيں ہيں:
وحدانيت، علم، قدرت، ازليت اور ابديت۔(1)

(1) تفسير پيام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۵۹
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك