سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:399

خدا كے ”سميع“ اور ”بصير“ ہونے كا كيا مطلب ہے؟

تمام اسلامي علمااور دانشوروں نے خداوندعالم كو سميع و بصير ما ناہے، كيونكہ يہ دونوں صفات قرآن مجيد ميں بار ہا بيان ہوئي ہيں، البتہ اس سلسلہ ميں اختلاف نظر پايا جاتا ہے:
چنا نچہ محققين كا اس بات پر عقيدہ ہے كہ خدا كے سميع و بصير ہونے كا مطلب اس كے علاوہ كچھ اور نہيں ہے كہ خدا وندعالم ”آواز“ اور ”يعني دكھائي دينے والي چيزوں“ كي نسبت علم و آگاہي ركھتا ہے، اگرچہ يہ دونوں الفاظ سننے اور ديكھنے كے معني ميں وضع ہوئے تھے، جن كے لئے ہميشہ”كان“ اور ”آنكھ“ ضروري ہوتے ہيں، ليكن جب يہ الفاظ خدا كے بارے ميں استعمال ہوں تو پھر جسماني آلات و اعضا كے تصور سے خالي ہوتے ہيں، چونكہ ذات خدا جسم و جسمانيات سے پاك و پاكيزہ ہے۔
اور يہ معني مجازي نہيں ہے، او راگر اس كو مجاز كہيں بھي تو يہ مجاز مافوق حقيقت ( يعني معني حقيقي سے بالاتر) ہے كيونكہ خداآواز اور مناظر پر اس طرح احاطہ ركھتا ہے اور يہ چيزيں اس كے پاس اس طرح حاضر ہيں كہ ہر آنكھ كان سے بالاتر ہے، لہٰذا دعاؤں ميں خدا وندعالم كو ”اٴسمعُ السَّامِعِين“ (سب سے زيادہ سننے والا) اور ”اٴبصرَ الناظِرين“( سب سے زيادہ ديكھنے والے) كے عنوان سے ياد كيا گيا ہے۔(1) 
ليكن بعض قديم متكلمين كا عقيدہ تھا كہ خدا كے ”سميع“ اور ”بصير“ ہونے كا مطلب صفت ”علم“ كے علاوہ ہے، يہ لوگ مجبور ہيں كہ صفات ”سميع“ اور ”بصير“ كو زائد بر ذات مانيں، اور صفات ازلي متعدد ہوجائيں جو ايك طرح كا شرك ہے، وگرنہ خداوندعالم كا ”سميع“ اور ”بصير“ ہونا سني جانے والي آوازوں اور مناظر كے علم كے علاوہ كچھ نہيں ہے۔(2) 
كتاب ”بحار الانوار“ ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے روايت بيان ہوئي ہے كہ ايك شخص امام عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كي: آپ كے محبوں ميں سے ايك شخص كا كہنا ہے: خداوندعالم كان كے ذريعہ سميع ہے اور آنكھوں كے ذريعہ بصير ہے! اور علم كي وجہ سے عالم ہے! (يعني خداكي صفات زائد بر ذات ہيں) اور قادر ہے اپني قدرت كي وجہ سے (يعني اس كے صفات زائد بر ذات ہيں)
امام عليہ السلام نے ناراض ہوتے ہوئے فرمايا: ”مَنْ قَال ذَلك و دَانَ بِہِ فَہوَ مشركٌ، وَ لَيْسَ مِنْ ولايتنا علٰي شيءٍ ؛ إنَّ اللهَ تباركَ و تعاليٰ ذات علامة سميعة بصيرة قادرة“(3) (4) 
”جو شخص يہ كہے اور اس پر عقيدہ ركھے تو ايسا شخص مشرك ہے، اور ہماري ولايت سے دور ہے، خداوندعالم كي ذات عين عالم ،عين سميع، اور عين بصير و قادر ہے (اور يہ صفات اس كي ذات پر زائد نہيں ہيں)“۔

(1) ماہ رجب ميں ہر روزپڑھي جانے والي دعا ميں وارد ہوا ہے: ”يااسمع السامعين وابصر الناظرين واسرع الحاسبين“ (اے سب سے زيادہ سننے والے اور سب سے زيادہ ديكھنے والے اور سب سے زيادہ جلدي حساب كرنے والے!).
(2) اشاعرہ خداوندعالم كي سات صفات ( علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، حيات اور تكلم) كو قديم اور زائد بر ذات جانتے ہيں، جن ميں سے بعض افراد خدا وندعالم كي ذات اور سات صفات كے قدماء ثمانيہ (يعني آٹھ ازلي وجود) كہتے ہيں جبكہ ہماري نظر ميں يہ عقيدہ باطل اور شرك ہے( كيو نكہ اس صورت ميں تعدد الٰہ لا زم آتا ہے )
(3) بحار الانوار، جلد ۴، صفحہ ۶۳ 
(4) تفسير پيام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۱۱۶
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك