سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:467

دين كس طرح فطري ہے؟

فطرت كا مطلب يہ ہے كہ انسان بعض حقائق كو بغير كسي استدلال اور برہان كے حاصل كرليتا ہے، (چاہے وہ پيچيدہ اور مشكل استدلال ہو اور چاہے واضح اور روشن استدلال ہوں) اور وہ حقائق اس پر واضح و روشن ہوتے ہيں ان كو وہ قبول كرليتا ہے، مثلاً انسان كسي خوبصورت اور خوشبو دار پھول كو ديكھتا ہے تو اس كي ”خوبصورتي“ كا اعتراف كرتا ہے اور اس اعتراف كے سلسلہ ميں كسي بھي استدلال كي ضرورت نہيں ہوتي، انسان اس موقع پر كہتا ہے كہ يہ بات ظاہر ہے كہ خوبصورت ہے، اس ميں كسي دليل كي ضرورت نہيں ہے۔
خدا كي شناخت اور معرفت كے سلسلہ ميں بھي فطرت كاكردار يہي ہے جس وقت انسان اپنے دل و جان ميں جھانكتا ہے تو اس كو ”نور حق“ دكھائي ديتا ہے، اس كے دل كو ايك آواز سنائي ديتي ہے جو اس كو اس دنيا كے خالق اور صاحب علم و قدرت كي طرف دعوت ديتي ہے، اس مبداء كي طرف بلاتي ہے جو ”كمالِ مطلق“اور ”مطلقِ كمال“ ہے، اور اس درك اور احساس كے لئے اسي خوبصورت پھول كي طرح كسي دليل كي ضرورت نہيں ہے۔
خدا پر ايمان كے فطري ہونے پر زندہ ثبوت:
سوال :ممكن ہے كوئي كہے: يہ صرف دعويٰ ہے، اور خدا شناسي كے سلسلہ ميں اس طرح كي فطرت كو ثابت كرنے كے لئے كوئي راستہ نہيں،كيو نكہ ميں تواس طرح كا دعويٰ كرسكتا ہوں كہ ميرے دل و جان ميں اس طرح كا احساس پايا جاتا ہے، ليكن اگر كوئي اس بات كو قبول نہ كرے تو اس كو كس طرح قانع كرسكتا ہوں؟
جواب :ہمارے پاس بہت سے ايسے شواہد موجود ہيں جن كے ذريعہ توحيد خدا كو فطري طور پر ثابت كيا جا سكتا ہے اور يہ شواہد انكار كرنے والوں كا منہ توڑ جواب بھي ہيں چنا نچہ ان قرائن كو پانچ حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے:
 
۱۔ تاريخي حقائق :
 
ان تا ريخي حقا ئق كے سلسلہ ميں دنيا كے قديم ترين مورخين نے جو تحقيق اور جستجو كي ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے كہ كسي بھي قوم و ملت ميں كوئي دين نہيں تھا؟بلكہ ہر انسان اپنے لحاظ سے عالم ہستي كے مبدا علم و قدرت كا معتقد تھا اور اس پر ايمان ركھتا تھا اور اس كي عبادت كيا كرتا تھا، اگر يہ مان ليں كہ اس سلسلہ ميں بعض اقوام مستثنيٰ تھيں تو اس سے كوئي نقصان نہيں پہنچتا (كيونكہ ہر عام كے لئے نادر مقامات پر استثنا ہوتا ہے)
”ويل ڈورانٹ“ مغربي مشہور مورخ اپني كتاب ”تاريخ تمدن“ ميں بے ديني كے بعض مقامات ذكر كرنے كے بعد اس بات كا اعتراف كرتے ہوئے كہتا ہے: ”ہمارے ذكر شدہ مطالب كے باوجود ”بے ديني“ بہت ہي كم حالات ميں رہي ہے ، اور يہ قديم عقيدہ كہ دين ايك ايسا سلسلہ ہے جس ميں تقريباً سبھي افراد شامل رہے ہيں، يہ بات حقيقت پر مبني ہے، يہ بات ايك فلسفي كي نظر ميں بنياد ي تاريخي اور علم نفسيات ميں شمار ہوتي ہے، وہ اس بات پر قانع نہيں ہوتا كہ تمام اديان ميں باطل و بيہودہ مطالب تھے بلكہ وہ اس بات پر توجہ ركھتا ہے كہ دين قديم الايام سے ہميشہ تاريخ ميں موجود رہا ہے“(1)
يہي موٴلف ايك دوسري جگہ اس سلسلہ ميں اس طرح لكھتا ہے: ”اس پرہيزگاري كا منبع و مركزكہاں قرار پاتا ہے جو كسي بھي وجہ سے انسان كے دل ميںختم ہونے والي نہيں ہے“(2) 
”ويل ڈورانٹ“ اپني دوسري كتاب ”درسہاي تاريخ“ ميں ايسے الفاظ ميں بيان كرتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے كہ غيظ و غضب اور ناراحتي كي حالت ميں كہتا ہے كہ ”دين كي سو جانيں ہوتي ہيں اگر اس كو ايك مرتبہ مار ديا جائے تو دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے!“(۲) 
اگر خدا اور مذہب كا عقيدہ ، عادت، تقليد ، تلقين يا دوسروں كي تبليغ كا پہلو ركھتا ہوتا تو يہ ممكن نہيں تھا اس طرح عام طور پر پا يا جاتا اور ہميشہ تاريخ ميں موجود رہتا، لہٰذا يہ بہترين دليل ہے كہ دين فطري ہے۔
۲۔ آثار قديمہ كے شواہد :
وہ آثار اور علامتيں جو ماقبل تاريخ (لكھنے كے فن اختراع سے پہلے اور لوگوں كے حالات زندگي تحرير كرنے سے پہلے) ميں ايسے آثار و نشانياں ملتي ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ گزشتہ مختلف قوميں اپنے اپنے لحاظ سے دين و مذہب ركھتي تھيں، ”خدا “ اور مرنے كے بعد ”معاد“ پر عقيدہ ركھتي تھي، كيونكہ ان كي من پسند چيزيں مرنے كے بعد ان كے ساتھ دفن كي گئي ہيں تاكہ وہ مرنے كے بعد والي زندگي ميں ان سے كام لے سكيں! مردوں كے جسموں كو گلنے اور سڑنے سے بچانے كے لئے ”موميائي“ كرنا ،يا ”اہرام مصر“ جيسے مقبرے بنانا تاكہ طولاني مدت كے بعد بھي باقي رہيں يہ تمام چيزيں اس بات كي شاہد ہيں كہ ماضي ميں زندگي بسر كرنے والے افراد بھي خدا اور قيامت پر ايمان ركھتے تھے۔
اگرچہ ان كاموں سے ہميں پتہ چلتا ہے كہ ان كے يہاں مذہبي عقائد ميں بہت سے خرافات بھي پائے جاتے تھے ، ليكن يہ اس بات كي دليل ہے كہ اصلي مسئلہ يعني مذہبي ايمان ماقبل تاريخ سے پہلے موجود تھا جس كا انكار نہيں كيا جاسكتا۔
۳۔ ماہرين نفسيات كي تحقيق اور ان كے انكشافات:
انساني روح كے مختلف پہلووٴں اور اس كي اصلي خواہشات پر ريسرچ بھي اس بات كي واضح دليل ہے كہ مذہبي اعتقاد اور دين ايك فطري مسئلہ ہے۔
چار مشہور و معروف احساس (يا چار بلند خواہشات) اور انساني روح كے بارے ميں نفسياتي ماہرين نے جو چار پہلو بيان كئے ہيں: (۱۔ حس دانائي، ۲۔ حس زيبائي، ۳۔ حس نيكي، ۴۔ حس مذہبي،) ان مطالب پر واضح و روشن دليليں ہيں۔(4) 
انسان كي حس مذہبي يا روح انسان كا چوتھا پہلو ، جس كو كبھي ”كمال مطلق كا لگاؤ“ يا ”ديني اور الٰہي لگاؤ“ كہا جاتا ہے يہ وہي حس اور طاقت ہے جو انسان كو مذہب كي طرف دعوت ديتي ہے ، اور بغير كسي خاص دليل كے خدا پر ايمان لے آتي ہے، البتہ ممكن ہے كہ اس مذہبي ايمان ميں بہت سے خرافات پائے جاتے ہوں، جس كا نتيجہ كبھي بت پرستي ، يا سورج پرستي كي شكل ميں دكھائي دے، ليكن ہماري گفتگو اصلي سرچشمہ كے بارے ميں ہے۔
۴۔ مذہب مخالف پروپيگنڈے كا ناكام ہوجانا
جيسا كہ ہم جانتے ہيں كہ چند آخري صديوں ميں خصوصاً يورپ ميں دين مخالف پروپيگنڈے بہت زيادہ ہوئے ہيں جو ابھي تك وسيع اور ہمہ گيروسائل كے لحاظ سے بے نظير ہيں۔
سب سے پہلے يورپ كي علمي تحريك (رنسانس)كے زمانہ سے جب علمي اور سياسي معاشرہ 
گرجاگھر كي حكومت كے دباؤ سے آزاد ہوا تو اس وقت اس قدر دين كے خلاف پروپيگنڈہ ہوا جس سے الحادي نظريہ يورپ ميں وجود ميں آيا ہے اور ہرجگہ پھيل گيا( البتہ يہ مخالفت عيسائي مذہب كے خلاف ہوئي چونكہ يہي دين وہاں پر رائج تھا ) اس سلسلہ ميں فلاسفہ اور سائنس كے ماہرين سے مدد لي گئي تاكہ مذہبي بنياد كو كھوكھلا كرديا جائے يہاں تك كہ گرجاگھر كي رونق جاتي رہي، اور يورپي مذہبي علماگوشہ نشين ہوگئے، يہي نہيں بلكہ خدا ، معجزہ، آسماني كتاب اور روز قيامت پر ايمان كا شمار خرافات ميں كيا جانے لگا، اور بشريت كے چار زمانہ والا فرضيہ ( قصہ و كہاني كا زمانہ، مذہب كا زمانہ، فلسفہ كا زمانہ اور علم كا زمانہ) بہت سے لوگوں كے نزديك قابل قبول سمجھا جانے لگا ، اور اس تقسيم بندي كے لحاظ سے مذہب كا زمانہ بہت پہلے گزرچكا تھا!
عجيب بات تو يہ ہے كہ آج كل كي معاشرہ شناسي كي كتابوں ميں جو كہ اسي زمانہ كي ترقي يافتہ كتابيں ہيں ان ميں اس فارمولہ كو ايك اصل كے عنوان سے فرض كيا گيا ہے كہ مذہب كا ايك طبيعي سبب ہے چاہے وہ سبب ”جہل“ ہو يا ”خوف“ يا ”اجتماعي ضرورتيں“ يا ”اقتصادي مسائل“ اگرچہ ان كے نظريہ ميں اختلاف پايا جاتا ہے!!۔
يہ بات اپني جگہ مسلم ہے كہ اس وقت رائج مذہب يعني گرجا گھر نے ايك طويل مدت تك اپنے ظلم و ستم اور عالمي پيمانہ پر لوگوں كے ساتھ بے رحمانہ سلوك كيا اور خاص كرسائنسدانوں پر بہت زيادہ سختياں كيں نيز اپنے لئے بہت زيادہ مرفہ اور آرام طلب اور دكھاوے كي زندگي كے قائل ہوئے اور غريب لوگوں كو بالكل بھول گئے لہٰذا انھيں اپنے اعمال كي سزا تو بھگتنا ہي تھي ، ليكن مشكل يہ ہے كہ يہ صرف پاپ اور گرجا كا مسئلہ نہ تھا بلكہ دنيا بھر كے تمام مذاہب كي بات تھي۔
كميونسٹوں نے مذہب كو مٹانے كے لئے اپني پوري طاقت صرف كردي اور تمام تر تبليغاتي وسائل اور فلسفي نظريات كو لے كر ميدان ميں آئے اور اس پروپيگنڈہ كي بھر پور كوشش كي كہ ”مذہب معاشرہ كے لئے ”افيون“ ہے!
ليكن ہم ديكھتے ہيں كہ دين كي اس شديد مخالفت كے باوجود وہ لوگوں كے دلوں سے مذہب كي اصل كو نہيں مٹاسكے، اور مذہبي جوش و ولولہ كو نابود نہ كرسكے، اس طرح سے كہ آج ہم خود اپني آنكھوں سے ديكھتے ہيں كہ مذہبي احساسات پر پھر سے نكھار آرہا ہے، يہاں تك كہ خود كميونسٹ ممالك ميں بڑي تيزي سے مذہب كي باتيں ہورہي ہيں، اور ميڈيا كي ہر خبر ميں ان ممالك كے حكام كي پر يشاني كوبيان كيا جا رہا ہے كہ وہاں پر مذہب خصوصاً اسلام كي طرف لوگوں كا رجحان روز بزور بڑھتا جارہا ہے، يہاں تك كہ خود كميونسٹ ممالك ميں كہ جہاں ابھي تك مذہب مخالف طاقتيں بيہودہ كوشش جاري ركھے ہوئے ہيں ، وہاں پر بھي مذہب پھيلتا ہوا نظرآتا ہے۔
ان مسائل كے پيش نظر يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ مذہب كا سرچشمہ خود انسان كي ”فطرت“ ہے، لہٰذا وہ شديد مخالفت كے باوجود بھي اپني حفاظت كرنے پر قادر ہے، اور اگر ايسا نہ ہوتا تو مذہب كبھي كا مٹ گيا ہوتا۔
۵۔ زندگي كي مشكلات ميں ذاتي تجربات:
بہت سے لوگوں نے اپني زندگي ميں اس بات كا تجربہ كيا ہے كہ جس وقت بہت زيادہ مشكلات كا سامنا ہوتا ہے اور بلاؤں اور مصيبتوں كا طوفان آتا ہے جہاں پر ظاہري اسباب دم توڑديتے ہيں، اور انسان كي گردن تك چھري پہنچ جاتي ہے، تو اس طوفاني موقع پر اس كے دل كي گہرائيوں سے ايك اميد پيدا ہوتي ہے اور انسان اس مبداكي طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس كي تمام مشكلات كو دور كرسكتا ہے، لہٰذا انسان اسي سے لَو لگاتا ہے اور اسي سے مدد مانگتا ہے، يہاں تك كہ معمولي افراد جو عام حالات ميں ديني رجحان نہيں ركھتے وہ بھي اس مسئلہ سے الگ نہيں ہيں بلكہ وہ بھي شديد مشكلات يا لاعلاج بيماري كے وقت اس طرح كا روحاني نظريہ ركھتے ہيں۔
(قارئين كرام!) يہ تمام چيزيں اس حقيقت پر واضح شاہد ہيں كہ دين ايك فطري شئے ہے ، چنا نچہ قرآن مجيد نے اس سلسلہ ميں بہت پہلے ہي خبر دي ہے
جي ہاں انسان اپنے دل كي گہرائيوں سے اپنے اندر ايك آواز كو سنتا ہے جو محبت اور پيار سے لبريز ہوتي ہے اور وہ مستحكم و واضح ہوتي ہے اور اس كو ايك عظيم حقيقت يعني عالم و قادر كي طرف دعوت ديتي ہے جس كا نام ”اللہ“ يا ”خدا“ ہے ، ممكن ہے كوئي شخص دوسرے نام سے پكارے ، نام سے كوئي بحث نہيں ہے، بلكہ اس حقيقت پر ايمان كا مسئلہ ہے۔
مفكر شعراء كرام نے بھي اپنے دلچسپ اور بہترين اشعار ميں اس مطلب كو بيان كيا ہے:
شورش عشق تو در ہيچ سري نيست كہ نيست 
منظر روي تو زيب نظري نيست كہ نيست!
نہ ہمين از غم تو سينہ ما صد چاك است
داغ تو لالہ صفت، بر جگري نيست كہ نيست؟؟
ايك دوسرا شاعر كہتا ہے:
در اندرون من خستہ دل ندانم كيست؟ 
كہ من خموشم و او در فغان و در غوغاست
”ميں نہيں جانتا كہ ميرے خستہ دل ميں كون ہے كہ ميں تو خاموش ہوں ليكن وہ نالہ و فرياد كررہا ہے“۔
۶۔مذہب كے فطري ہونے پر دانشوروں كي گواہي
”معرفت خدا“ كے مسئلہ كا فطري ہونا كوئي ايسا مسئلہ نہيں ہے كہ جس كے بارے ميں صرف قرآن و احاديث نے بيان كيا ہو ،بلكہ غير مسلم فلاسفہ ،دانشوروں اور نكتہ فہم شعرا كي گفتگو سے بھي يہ مسئلہ واضح ہے۔
چند نمونے:
اس سلسلہ ميں ”اينشٹائن“ ايك مفصل بيان كے ضمن ميں كہتا ہے: ” بغير كسي استثنا كے سبھي لوگوں ميں ايك عقيدہ اور مذہب پايا جاتا ہے اور ميں اس كا نام ”مذہب كي ضرورت كا احساس “ ركھتا ہوں چنانچہ انسان دنيوي چيزوں كے علاوہ جن چيزوں كا احساس كرتا ہے اس مذہب كے تحت انسان تمام اہداف اور عظمت و جلال كو حقير سمجھتا ہے ، وہ اپنے وجود كو ايك قيد خانہ سمجھتا ہے، گويا اپنے بدن كے پنجرے سے پرواز كرنا چاہتا ہے اور تمام ہستي كو ايك حقيقت كي شكل ميں حاصل كرنا چاہتا ہے۔(5) 
اس طرح مشہور و معروف دانشور ”پاسكال“ كہتا ہے:
”دل كے اندر ايسے دلائل ہوتے ہيں جن تك عقل نہيں پہنچ سكتي“!(6) 
”ويليم جيمز “ كہتا ہے:”ميں اس بات كو اچھي طرح مانتاہوں كہ مذہبي زندگي كا سرچشمہ ”دل“ ہے، اور اس بات كو بھي قبول كرتا ہوں كہ فلسفي فارمولے اور دستور العمل اس ترجمہ شدہ مطلب كي طرح ہيں جس كي اصلي عبارت كسي دوسري زبان ميں ہو“۔(7) 
”ماكس مولر“ كہتا ہے:”ہمارے بزرگ اس وقت خدا كي بارگاہ ميں سرجھكاتے تھے كہ اس وقت خدا كا نام بھي نہيں ركھا گيا تھا۔(8) 
ماكس ايك دوسري جگہ اپنے عقيدہ كا اظہار كرتے ہوئے كہتا ہے: ”اس نظريہ كے برخلاف، جس ميں كہا جاتا ہے كہ دين پہلے سورج چاند وغيرہ اور بت پرستي سے شروع ہوا ہے اس كے بعد خدائے واحد كي پرستش تك پہنچا ہے، آثار قديمہ كے ما ہرين نے اس بات كو ثابت كيا ہے كہ خدا پرستي سب سے قديم دين ہے“۔(9) 
مشہور و معروف مورخ ”پلوتارك“ لكھتا ہے:
”اگر آپ دنيا پر ايك نظر ڈاليں تو بہت سي ايسي جگہ ديكھيں گے جہاں پر نہ كوئي آبادي ہے نہ علم و صنعت اور نہ سياست و حكومت، ليكن كوئي جگہ ايسي نہيں ملے گي جہاں پر ”خدا“ نہ ہو“!(10) 
”ساموئيل كنيگ“ اپني كتاب ”جامعہ شناسي“ ميں كہتا ہے: ”دنيا ميں تمام انساني جماعتوں كا كوئي نہ كوئي مذہب تھا، اگرچہ سياحوں اور پہلے (عيسائي) مبلغين نے بعض گروہوں كا نام ليا ہے جن كا كوئي مذہب نہيں تھا، ليكن بعد ميں معلوم يہ ہوا ہے كہ اس كي رپورٹ كا كوئي حوالہ نہيں ہے، اور ان كا يہ فيصلہ صرف اس وجہ سے تھا كہ ان كے گمان كے مطابق ان كا مذہب بھي ہماري طرح كا كوئي مذہب ہونا چاہئے تھا“۔(11) 
(قارئين كرام!) ہم اپني بحث كو مشہور و معروف دور حا ضر كے مورخ ”ويل ڈورانٹ“ كي گفتگو پر ختم كرتے ہيں، وہ كہتا ہے:
”اگر ہم مذہب كے سرچشمہ كو ماقبل تاريخ تصور نہ كريں تو پھر مذ ہب كو صحيح طور پر نہيں پہچان سكتے“۔(12) (13) .

(1و 2) ”تاريخ تمد ن ، ويل ڈورانٹ“ ، جلد اول، صفحہ ۸۷ و۸۹.
(3) ”فطرت“ شہيد مطہري، صفحہ۱۵۳.
(4) ”حس مذہبي يا بعد چہارم روح انساني“ ميں ”كونٹائم“ كے مقالہ كي طرف رجوع فرمائيں،( ترجمہ مہندس بياني)
(5) ”دنيائي كہ من مي بينم“ (باتلخيص) صفحہ ۵۳
(6) ”سير حكمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۱۴
(7) ”سير حكمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۱
(8) مقدمہٴ نيايش صفحہ
(9) ”فطرت “شہيد مطہري ، صفحہ
 (10) مقدمہ نيايش ، صفحہ ۳۱
(11) ”جامعہ شناسي،ساموئيل كنيگ“ صفحہ
 (12) تاريخ تمدن ، جلد اول، صفحہ ۸۸.
(13) تفسير پيام قرآن ، جلد ۳، صفحہ ۱۲۰ 
دن كي تصوير
حرم حضرت رقيه (سلام الله عليها)
ويڈيو بينك