سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:414

توحيد ذات، توحيد صفات، توحيد افعال اور توحيد عبادت كے كيا معني ہيں؟

خداوندعالم كي ذات پاك كا نامحدود ہونا اور ہماري عقل ، علم اور دانش كا محدود ہونا ہي اس مسئلہ كا اصلي نكتہ ہے۔
خداوندعالم كا وجود ہر لحاظ سے لامتناہي ہے، اس كي ذات ،اس كے علم و قدرت اور دوسرے صفات كي طرح نامحدود اورختم نہ ہونے والا ہے، دوسري طرف ہم اور جو چيزيں ہم سے متعلق ہيں چاہے علم ہو يا قدرت، زندگي ہو يا ہمارے اختيار ميں موجود دوسرے امور سب كے سب محدود ہيں۔
لہٰذا ہم اپني تمام تر محدوديت كے ساتھ كس طرح خدا وندعالم كے لامحدود وجود اور نا محدود صفات كو درك كرسكتے ہيں؟ ہمارا محدود علم اس لامحدود وجود كي خبر كس طرح دے سكتا ہے؟۔
جي ہاں! اگر ہم دور سے كسي چيز كو ديكھيں اگرچہ وہ ہماري سمجھ ميں نہ آرہي ہو ليكن پھر بھي اس كي طرف ايك مختصر سا اشارہ كيا جاسكتا ہے، ليكن خداوندعالم كي ذات اور صفات كي حقيقت تك پہنچنا ممكن ہي نہيں ہے يعني تفصيلي طور پر اس كي ذات كا علم نہيں ہوسكتا۔
اس كے علاوہ ايك لامحدود وجود كسي بھي لحاظ سے اپنا مثل و مانند نہيں ركھتا، وہ محض اكيلا ہے كوئي دوسرا اس كي طرح نہيں ہے، كيونكہ اگر كوئي دوسرا اس كي مانند ہوتا تودونوں محدود ہوجاتے۔
اب ہم كس طرح اس وجود كے بارے ميں تفصيلي علم حاصل كريں جس كا كوئي مثل و نظير نہيں ہے، اس كے علاوہ جو كچھ بھي ہے وہ سبھي ممكنات كے دائرے ميں شامل ہے، اور اس كے صفات خداوندعالم سے مكمل طورپرفرق ركھتے ہيں(1) 
ہم يہ بھي نہيں كہہ سكتے كہ اس كے اصل وجود سے آگاہ نہيں ہيں، اس كے علم، قدرت، ارادہ اور اس كي حيات سے بے خبر ہيں، بلكہ ہم ان تمام امور كے سلسلہ ميں ايك اجمالي معرفت ركھتے ہيں، جن كي گہرائي اور باطن سے بے خبر ہيں، بڑے بڑے علمااور دانشوروں كے عقلي گھوڑے (بغير كسي استثنا كے)اس مقام پر لنگڑاتے ہوئے نظر آتے ہيں، يا شاعر كے بقول:
بہ عقل نازي حكيم تاكي؟ بہ فكرت اين رہ نمي شود طي!
بہ كنہ ذاتش خرد برد پي اگر رسد خس و بہ قعر دريا!(۲)
”اے حكيم و دانا و فلسفي تو اپني عقل پر كب تك ناز كرے گا، تو عقل كے ذريعہ اس راہ كو طے نہيں كرسكتا۔
اس كي كنہِ ذات تك عقل نہيں پہنچ سكتي ہيں جس طرح خس و خاشاك سمندر كي تہ تك نہيں پہنچ سكتے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے حديث نقل ہوئي ہے:
”إذا انتہيٰ الكلام إليٰ الله فامسكوا“(3) 
” جس وقت بات خدا تك پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہوجاؤ“ 
يعني حقيقت خدا كے بارے ميں گفتگو نہ كرو، كيونكہ اس كے سلسلہ ميں عقليں حيران رہ جاتي ہيں اور كسي مقام پر نہيں پہنچ سكتيں، اس كي لامحدود ذات كے بارے ميں محدود عقلوں كے ذريعہ سوچنا ناممكن ہے، كيونكہ جو چيز بھي عقل و فكر كے دائرہ ميں آجائے وہ محدود ہوتي ہے اور خداوندعالم كا محدود ہونا محال ہے۔(4)
ياواضح الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ جس وقت ہم اس دنيا كي عجيب و غريب چيزوں اور ان كي ظرافت و عظمت كے بارے ميں غور و فكر كرتے ہيں يا خود اپنے اوپر ايك نگاہ ڈالتے ہيں تو اجمالي طور پر يہ معلوم ہوجاتا ہے كہ ان تمام چيزوں كا كوئي پيدا كرنے والاہے، جبكہ يہ وہي علمِ اجمالي ہے جس پر انسان خدا كي معرفت اور اس كي شناخت كے آخري مرحلہ ميں پہنچتا ہے، (ليكن انسان جس قدر اسرار كائنات سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اور اس كي عظمت واضح ہوتي جاتي ہے تو اس كي وہ اجمالي معرفت قوي تر ہوتي جاتي ہے) ليكن جب ہم خود اپنے سے يہ سوال كرتے ہيں كہ وہ كون ہے؟ اور كس طرح ہے؟ اور اس كي ذاتِ پاك كي طرف ہاتھ پھيلاتے ہيں تو حيرت و پريشاني كے علاوہ كچھ حاصل نہيں ہوتا، يہي وہ بات ہے جس كے بارے ميں كہا جاتا ہے كہ اس كي شناخت كا راستہ مكمل طور پر كھلا ہوا ہے حالانكہ مكمل طور پر بند بھي ہے۔
اس مسئلہ كو ايك مثال كے ذريعہ واضح كيا جاسكتا ہے اور وہ يہ ہے كہ يہ بات ہم اچھي طرح جانتے ہيں كہ قوتِ جاذبہ كا وجود ہے اور اس كا ثبوت يہ ہے كہ اگر كسي چيز كو چھوڑتے ہيں تو وہ گرجاتي ہے اور زمين كي طرف آتي ہے ، اور اگر يہ قوتِ جاذبہ نہ ہوتي تو روئے زمين پر بسنے والے كسي موجود كو چين و سكون نہ ملتا،ليكن اس قوہٴ جاذبہ كے بارے ميں علم ہونا كوئي ايسي بات نہيں جو دانشوروں سے مخصوص ہو ، بلكہ چھوٹے بچے بھي اس بات كو اچھي طرح جانتے ہيں البتہ قوتِ جاذبہ كي حقيقت كيا ہے؟ كيا دكھائي نہ دينے والي لہريںہيں ، يا نامعلوم ذرات يا دوسري كوئي طاقت؟ يہ ايك مشكل مرحلہ ہے ۔
اور تعجب كي بات يہ ہے كہ يہ قوتِ جاذبہ ،مادي دنيا ميں معلوم شدہ چيز كے برخلاف، ظاہراً كسي چيز كو دوسري جگہ پہنچانے ميں كسي زمانہ اور وقت كي محتاج نہيں ہے، نور كے برخلاف جو كہ مادي دنيا ميں سب سے زيادہ تيز رفتار ہے ، ليكن كبھي اس نور كوايك جگہ سے دوسري جگہ پہنچنے كے لئے لاكھوں سال دركار ہوتے ہيں، جبكہ قوتِ جاذبہ اسے دنيا كے ايك گوشہ سے دوسرے گوشہ ميں لمحہ بھر ميں منتقل كرديتي ہے، يا كم سے كم ہم نے جو سرعت و رفتار سني ہے اس سے كہيں زيادہ اس كي رفتار ہوتي ہے۔
يہ كونسي طاقت ہے جس كے آثار ايسے(عجيب و غريب) ہيں؟ اس كي حقيقت كيا ہے؟ كوئي شخص بھي اس كا واضح جواب نہيں ديتا، جب اس ”قوتِ جاذبہ “ (جو ايك مخلوق ہے) كے بارے ميں ہمارا علم صرف اجمالي پہلو ركھتا ہے اور اس كے بارے ميں تفصيلي علم نہيں ہے، تو پھر كس طرح اس ذات اقدس كي كُنہ (حقيقت) سے باخبر ہوسكتے ہيں جو اس دنيا اور ماورائے طبيعت كا خالق ہے جس كا وجود لامتناہي ہے، ليكن بہر حال ہم اس كو ہر جگہ پر حاضر و ناظر مانتے ہيں اور كسي بھي ايسي جگہ كا تصور نہيں كرتے جہاں اس كا وجود نہ ہو۔
با صد ہزار جلوہ برون آمدي كہ من با صد ہزار ديدہ تماشا كنم تو را (5) 
” تولاكھوں جلووں كے ساتھ جلوہ افروز ہے تاكہ ميں لاكھوں انكھوں كے ذريعہ تيرا ديدار كروں“۔
 

(1) اگر آپ حضرات تعجب نہ كريں تو ہم ”لامتناہي“ (لامحدود) مفہوم كا تصور ہي نہيں كرسكتے ،لہٰذا كس طرح لفظ ”لامتناہي“ كو استعمال كيا جاتا ہے؟ اور اس كے سلسلہ ميں خبر دي جاتي ہے اور اس كے احكام كے بارے ميں گفتگو ہوتي ہے ، تو كيا بغير تصور كے تصديق ممكن ہے؟
جواب : لفظ ”لامتناہي“ دو لفظوں سے مل كر بنا ہے ”لا“ جو كہ عدم اور نہ كے معني ميں ہے اور ”متناہي“ جو كہ محدود كے معني ميں ہے، يعني ان دونوں كو الگ الگ تصور كيا جاسكتا ہے، (نہ ، محدود) اس كے بعد دونوں كو مركب كرديا گيا، اور اس كے ذريعہ ايسے وجودكي طرف اشارہ كيا گياہے جس كا تصور نہيں كيا جاسكتا، اور اس پر (صرف) علم اجمالي حاصل ہوتا ہے  (غور كيجئے)
(2) پيام قرآن ، جلد ۴، ص۳۳.
(3) تفسير ”علي بن ابراہيم “ نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۱۷۰ كي نقل كے مطابق.
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۵۵۸.
(5) پيام امام (شرح نہج البلاغہ)، جلد اول، صفحہ ۹۱
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك