سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:377

كس طرح بغير ديكھے خدا پر ايمان لائيں ؟

خدا پرستوں پر ماديوں كا ايك بيہودہ اعتراض يہ ہوتا ہے كہ ”انسان كس طرح ايك ايسي چيز پر ايمان لے آئے جس كو اس نے اپني آنكھ سے نہ ديكھا ہو يا اپنے حواس سے درك نہ كيا ہو، تم كہتے ہو كہ خدا كا نہ جسم ہے اور نہ اس كے رہنے كے لئے كوئي جگہ، نہ زمان دركار ہے اور نہ كوئي رنگ و بووغيرہ تو ايسے وجودكو كس طرح درك كيا جاسكتاہے اور كس ذريعہ سے پہچانا جاسكتا ہے؟لہٰذا ہم تو صرف اسي چيز پر ايمان لاسكتے ہيں كہ جس كو اپنے حواس كے ذريعہ درك كرسكيں اور جس چيز كو ہماري عقل درك نہ كرسكے تو اس كا مطلب يہ ہے كہ در حقيقت اس كا كوئي وجود ہي نہيں ہے“۔
جواب :اس اعتراض كے جواب ميں مختلف پہلوؤں سے بحث كي جاسكتي ہے:
۱۔ معرفت خدا كے سلسلہ ميں ماديوں كي مخالفت كے اسباب :
ان كا علمي غرور اور ان كا تمام حقائق پر سائنس كو فوقيت دينا ، اور اسي طرح ہر چيز كو سمجھنے اور پركھنے كا معيار صرف تجربہ اور مشاہدہ قرار دينا ہے، نيز اس بات كا قائل ہونا كہ طبيعي اور مادي چيزوں كے ذريعہ ہي كسي چيز كو درك كيا جاسكتا ہے، (يہ سخت بھول ہے۔)
كيونكہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے سوال كرتے ہيں كہ سائنس كے سمجھنے اور پركھنے كي كوئي حد ہے يا نہيں؟!
واضح ہے كہ اس سوال كا جواب مثبت ہے كيونكہ سائنس كے حدود دوسري موجودات كي طرح محدود ہيں ۔
تو پھر كس طرح لامحدود موجود كو طبيعي چيزوں كے ذريعہ درك كيا جاسكتا ہے؟۔
لہٰذا بنيادي طور پر خداوندعالم، اور موجودات ِماورائے طبيعت ،سائنس كي رسائي سے باہر ہيں، اورجو چيزيں ماورائے طبيعت ہوں ان كو سائنس كے آلات كے ذريعہ درك نہيں كيا جاسكتا، ”ماورائے طبيعت “سے خود ظاہر ہوتا ہے كہ سائنس كے ذريعہ ان كو درك نہيں كيا جاسكتا، جيسا كہ سائنس كے مختلف شعبوں ميں سے ہر شعبہ كے لئے ايك الگ ميزان و مقياس ہوتا ہے جس سے دوسرے شعبہ ميں كام نہيں ليا جاسكتا، نجوم شناسي، فضا شناسي اور جراثيم شناسي ميں ريسرچ كے اسباب ايك دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہيں ۔
كبھي بھي ايك مادي ماہر اس بات كي اجازت نہيں دے گا كہ ايك منجم سے كہا جائے كہ فلاں جرثومہ كو ستارہ شناسي وسائل كے ذريعہ ثابت كرو، اسي طرح ايك جراثيم شناس ماہر سے اس بات كي اميد نہيں كي جاسكتي كہ وہ اپنے آلات كے ذريعہ ستاروں كے بارے ميں خبر دے ، كيونكہ ہر شخص اپنے علم كے لحاظ سے اپنے دائرے ميں رہ كر كام كرسكتا ہے، اور اپنے دائرے سے باہر نكل كر كسي چيز كے بارے ميں ”مثبت“ يا ”منفي“ نظريہ نہيں دے سكتا۔
لہٰذا ہم كس طرح سائنس كو اس بات كا حق دے سكتے ہيں كہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو كرے ، حالانكہ اس كے دائرے كي حد عالم طبيعت اور اس كے آثار و خواص ہيں؟!
ايك مادي ماہر كو يہ حق ہے كہ وہ يہ كہے كہ ميں ”ماورائے طبيعت“ كے سلسلہ ميں خاموش ہوں، كيونكہ يہ ميرے دائر ے سے باہر كي بات ہے، نہ يہ كہ وہ ماورائے طبيعت كا انكار كرڈالے، يہ حق اس كو نہيں ديا جاسكتا۔
جيسا كہ اصولِ فلسفہٴ حسي كا باني ” ا گسٹ كانٹ“ اپني كتاب ”كلماتي در پيرامون فلسفہ حسي“ ميں كہتا ہے:”چونكہ ہم موجودات كے آغاز و انجام سے بے خبر ہيں لہٰذا اپنے زمانہ سے پہلے يا اپنے زمانہ كے بعد آنے والي موجودات كا انكار نہيں كرسكتے، جس طرح سے ان كو ثابت بھي نہيں كرسكتے،(غور كيجئے گا(
خلاصہ يہ كہ حسي فلسفہ ، جہل مطلق كے ذريعہ كسي بھي طرح كا نظريہ نہيں دےتا، لہٰذا حسي فلسفہ كے فرعي علوم كو بھي موجوات كے آغاز اور انجام كے سلسلہ ميں كوئي فيصلہ نہيں كرنا چاہئے ، يعني ہم خدا كے علم و حكمت ، او راس كے وجود كا انكار نہ كريں اور اس كے بارے ميں نفي و اثبات كے سلسلہ ميں بے طرف رہيں ،(نہ انكار كريں اور نہ اثبات) “
ہمارے كہنے كا مقصد بھي يہي ہے كہ ”ماورائے طبيعت دنيا“ كو سائنس كي نگاہوں سے نہيں ديكھا جاسكتا، اصولي طور پر وہ خدا جس كو مادي اسباب كے ذريعہ ثابت كيا جائے خدا نہيں ہوسكتا۔
دنيا بھر كے خداپرستوں كے عقائد كي بنياد يہ ہے كہ خدا ،مادہ اور مادہ كي خاصيت سے پاك و منزہ ہے، اور اسے كسي بھي مادي وسيلہ سے درك نہيں كيا جاسكتا۔
لہٰذا يہ نہيں سوچنا چاہئے كہ اس دنيا كو خلق كرنے والے كو آسمان كي گہرائيوں ميں ميكروسكوپ (Microscope) يا ٹلسكوپ كے ذريعہ تلاش كيا جاسكتا ہے، يہ خيال بيہودہ اور بےجا ہے۔
۲۔ اس كي نشانياں
دنيا كي ہر چيز كي پہچان كے لئے كچھ آثار اور نشانياں ہوتي ہيں ، لہٰذا اس كي نشانيوں كے ذريعہ ہي اس كو پہچانا جاسكتا ہے، يہاں تك كہ آنكھوں اور دوسرے حواس كے ذريعہ جن چيزوں كو درك كرتے ہيں در حقيقت ان كو بھي آثار اور نشانيوں كے ذريعہ ہي پہچانتے ہيں، (غور كيجئے )
كيونكہ كوئي بھي چيز ہمارے فكر و خيال ميں داخل نہيں ہوسكتي اور ہمارا مغز كسي بھي چيز كے لئے ظرف واقع نہيں ہوسكتا۔
مثال كے طور پر: اگر آپ آنكھوں كے ذريعہ كسي جسم كو تشخيص دينا چاہيں اور اس كے وجود كو درك كرنا چاہيں تو شروع ميں اس چيز كي طرف ديكھيں گے اس كے بعد نور كي شعائيں اس پر پڑتي ہيں اور آنكھ كي پتلي ميں نوراني لہريں ”شبكيہ“ نامي آنكھ كے پردہ پر منعكس ہوتي ہيں تو بينائي اعصاب نور كو حاصل كركے مغز تك پہنچاتے ہيں او ر پھر انسان اس كو سمجھ ليتا ہے۔
اور اگر لمس كے ذريعہ (يعني چھوكر) كسي چيز كو درك كريں تو كھال كے نيچے كے اعصاب انسان كے مغز تك اطلاع پہنچاتے ہيں اور انسان اس كو درك كرتا ہے، لہٰذا كسي جسم كو درك كرنا اس كے اثر (رنگ، آواز اور لمس وغيرہ ) كے ذريعہ ہي ممكن ہے اور كبھي بھي وہ جسم ہمارے مغز ميں قرار نہيں پاتا، اور اگر اس كا كوئي رنگ نہ ہو اور اعصاب كے ذريعہ اس كا ادراك نہ كيا جاسكتا ہو تو ہم اس چيز كو بالكل نہيں پہچان سكتے۔
مزيد يہ كہ كسي چيز كي پہچان كے لئے ايك اثر يا ايك نشاني كا ہونا كافي ہے، مثلاً اگر ہميں يہ معلوم كرنا ہوكہ دس ہزار سال پہلے زمين كے فلاں حصہ ميں ايك آبادي تھي اور اس كے حالات اس طرح تھے، تو صرف وہاں سے ايك مٹي كا كوزہ يا زنگ زدہ اسلحہ برآمد ہونا كافي ہے، اور اسي ايك چيز پر ريسرچ كے ذريعہ ان كي زندگي كے حالات كے بارے ميں معلومات حاصل ہوجائيں گي۔
اس بات كے پيش نظر ہر موجود چاہے وہ مادي ہو يا غير مادي اس كو اثر يا نشاني كے ذريعہ ہي پہچانا جاتا ہے اور يہ كہ ہر چيز كي پہچان كے لئے ايك اثر يا نشاني كا ہونا كافي ہے، تو كيا پوري دنيا ميں عجيب و غريب اور اسرار آميز چيزوں كو ديكھنا خدا كي شناخت اور اس كي معرفت كے لئے كافي نہيں ہے؟!
آپ كسي چيز كو پہچاننے كے لئے ايك اثر پر كفايت كرليتے ہيں اور ايك مٹي كے كوزہ كے ذريعہ چند ہزار سال پہلے زندگي بسر كرنے والوں كے بعض حالات كا پتہ لگاسكتے ہيں، جبكہ خدا كي شناخت كے لئے ہمارے پاس لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور بے كراں نظم ، جيسي چيزيں موجود ہيں كيا اتنے آثار كافي نہيں ہيں؟! دنيا كے كسي بھي گوشہ پر نظر ڈاليں خدا كي قدرت اور اس كے علم كي نشانياں ہر جگہ موجود ہيں، پھر بھي لوگ كہتے ہيں كہ ہم نے اپني آنكھوں سے نہيں ديكھا اور اپنے كانوں سے نہيں سنا، تجربہ اور ٹلسكوپ كے ذريعہ نہيں ديكھ سكے، توكيا ہر چيز كو صرف آنكھوں سے ديكھا جاتاہے؟!
۳۔ ديكھنے اور نہ ديكھنے والي چيزيں:
خوش قسمتي سے آج سائنس نے ترقي كر كے بہت سي ايسي چيزيں بناڈالي ہيں كہ ان كے وجود سے ماديت اور اس كے نتيجہ ميں مادي اور الحادي نظريہ كي ترديد ہوجاتي ہے، قديم زمانہ ميں تو ايك دانشور يہ كہہ سكتا تھا كہ جس چيز كو انساني حواس درك نہيں كرسكتے اس كوقبول نہيں كيا جاسكتا، ليكن آج سائنس كي ترقي سے يہ بات ثابت ہوچكي ہے: اس دنيا ميں ديكھي جانے والي اور درك ہونے والي چيزوں سے زيادہ وہ چيزيں ہيں جن كو ديكھا اوردرك نہيں كيا جاسكتا، عالم طبيعت ميں اس قدر موجودات ہيں كہ انھيں حواس ميں سے كسي كے بھي ذريعہ درك نہيں كيا جاسكتا، اور ان كے مقابلہ ميں درك ہونے والي چيزيں صفر شمار ہوتي ہيں!
نمونہ كے طور پر چند چيزيں آپ كي خدمت ميں پيش كرتے ہيں:
۱۔ علم فيزكس كہتا ہے كہ رنگوں كي سات قسموں سے زيادہ نہيں ہيں جن ميں سے پہلا سرخ اور آخري جامني ہے، ليكن ان كے ماوراء ہزاروں رنگ پائے جاتے ہيں جن كو ہم درك نہيں كرسكتے، اور يہ گمان كيا جاتا ہے كہ بعض حيوانات ان بعض رنگوں كو ديكھتے ہيں۔
اس كي وجہ بھي واضح اور روشن ہے ، كيونكہ نور كي لہروں كے ذريعہ رنگ پيدا ہوتے ہيں، يعني آفتاب كا نور دوسرے رنگوں سے مركب ہوكر سفيد رنگ كو تشكيل ديتا ہے اور جب جسم پر پڑتا ہے تو وہ جسم مختلف رنگوں كو ہضم كرليتا ہے اور بعض كو واپس كرتا ہے جن كو واپس كرتا ہے وہ وہي رنگ ہوتا ہے جس كو ہم ديكھتے ہيں، لہٰذا اندھيرے ميں جسم كا كوئي رنگ نہيں ہوتا، دوسري طرف نور كي موجوں كي لہروں كي شدت اور ضعف كي وجہ سے رنگوں ميں اختلاف پيدا ہوتا ہے اور رنگ بدلتے رہتے ہيں، يعني اگر نور كي لہروں كي شدت في سيكنڈ۴۵۸ ہزار مليارڈ تك پہنچ جائے تو سرخ رنگ بنتا ہے اور ۷۲۷ ہزار مليارڈ لہروں كے ساتھ جامني رنگ دكھائي ديتا ہے ، اس سے زيادہ لہروں يا كم لہروں ميں بہت سے رنگ ہوتے ہيں جن كو ہم نہيں ديكھ پاتے ۔
۲۔ آواز كي موجيں ۱۶/مرتبہ في سيكنڈ سے لے كر ۰۰۰/۲۰ مرتبہ في سيكنڈ تك ہمارے لئے قابل فہم ہيں اگر اس سے كم يا زيادہ ہوجائے تو ہم اس آواز كو نہيں سن سكتے۔
۳۔ امواجِ نور كي جن لہروں كو ہم درك كرسكتے ہيں انھيں۴۵۸ ہزار مليارڈ في سيكنڈ سے ۷۲۷ ہزار مليارڈ في سيكنڈ تك كي حدود ميں ہونا چاہئے اس سے كم يا زيادہ چاہے فضا ميں كتني ہي آوازيں موجود ہوں ہم ان كو درك نہيں كرسكتے۔
۴۔ يہ بات سب جانتے ہيں كہ چھوٹے چھوٹے جانداروں (وائرس اور بيكٹريز) كي تعدادانسان كي تعداد سے كہيں زيادہ ہيں، اور بغير كسي دوربين كے ديكھے نہيں جاسكتے ، اور شايداس كے علاوہ بہت سے ايسے چھوٹے جاندار پائے جاتے ہيں جن كو سائنس كي بڑي بڑي دوربينوں كے ذريعہ ابھي تك نہ ديكھا گيا ہو۔
۵۔ ايك ايٹم اور اس كي مخصوص باڈي اور الكٹرون كي گردش نيز پروٹن كے ذريعہ ايك ايسي عظيم طاقت ہوتي ہے جو كسي بھي حس كے ذريعہ قابل درك نہيں ہے، حالانكہ دنياكي ہر چيز ايٹم سے بنتي ہے، اور ہوا ميں بمشكل دكھائي دينے والے ايك ذرہ غبار ميں لاكھوں ايٹم پائے جاتے ہيں۔
گزشتہ دانشور وں نے جو كچھ ايٹم كے بارے ميں نظريہ پيش كيا تھا وہ صرف تھيوري كي حد تك تھا ليكن كسي نے بھي ان كي باتوں كو نہيں جھٹلايا۔(1) 
خلاصہ يہ كہ ہمارے حواس اور دوسرے وسائل كا دائرہ محدود ہے لہٰذا ان كے ذريعہ ہم عالَم كو بھي محدود مانيں۔(2) 
لہٰذا اگر كوئي چيز غير محسوس ہے تو يہ اس كے نہ ہونے پر دليل نہيں ہے، آپ ديكھئے دنيا ميں ايسي بہت سي چيزيں بھري پڑي ہيں جو غير محسوس ہيں جن كو ہمارے حواس درك نہيں كرسكتے!
جيسا كہ ايٹم كے كشف سے پہلے يا ذرہ بيني (چھوٹي چھوٹي چيزوں) كے كشف سے پہلے كسي كو اس بات كا حق نہيں تھا كہ ان كا انكار كرے، اور ممكن ہے كہ بہت سي چيزيں ہمارے لحاظ سے مخفي ہوں اور ابھي تك سائنس نے ان كو كشف نہ كيا ہو بلكہ بعد ميں كشف ہوں تو ايسي صورت ميں ہماري عقل اس بات كي اجازت نہيں ديتي كہ ان شرائط (علم كا محدود ہونا اور مختلف چيزوں كے درك سے عاجز ہونے) كے تحت ہم ان چيزوں كے بارے ميں نظريہ پيش كريں كہ وہ چيزيں ہيں يا نہيں ہيں۔
البتہ يہ غلط فہمي نہ ہو كہ ہم يہ دعويٰ كرناچاہتے ہيں كہ جس طرح سے الكٹرون ، پروٹون يا دوسرے رنگ سائنس نے كشف كئے ہيں تو سائنس مزيد ترقي كركے بعض مجہول چيزوں كو كشف كرلے گا، اور ممكن ہے كہ ايك روز ايسا آئے كہ اپنے ساز و سامان كے ذريعہ ”عالم ماورائے طبيعت“ كو بھي كشف كرلے!
جي نہيں، اس بات كا كوئي امكان نہيں ہے جيسا كہ ہم نے كہا كہ ”ماورائے طبيعت“ اور ”ماورائے مادہ “ كو مادي وسائل كے ذريعہ نہيں سمجھا جاسكتا، اور يہ كام مادي اسباب و سازو سامان كے بس كي بات نہيں ہے۔
مطلب يہ ہے كہ جس طرح بعض چيزوں كے كشف ہونے سے پہلے ان كے بارے ميں انكار كرنا جائز نہيں تھا اور ہميں اس بات كا حق نہيں تھا كہ يہ كہتے ہوئے انكار كريں كہ فلاں چيز كوچونكہ ہم نہيں ديكھتے؛ جن چيزوں كو دنياوي سازو سامان كے ذريعہ درك نہيں كيا جاسكتا ، ياوہ سائنس كے ذريعہ ثابت نہيں ہيں لہٰذا ان كا كوئي وجود نہيں ہے، اسي طرح سے ”ماورائے طبيعت“ كے بارے ميں يہ نظريہ نہيں دے سكتے كہ اس كا كوئي وجود نہيں ہے، لہٰذا اس غلط راستہ كو چھوڑنا ہوگا اور خدا پرستوں كے دلائل كا بغور مطالعہ كرنا ہوگا اس كے بعد اپني رائے كے اظہار كا حق ہوگا اس لئے كہ اس صورت ميں واقعي طور پر اس كا نتيجہ مثبت ہوگا(3) .

(1) منجملہ ان چيزوں كے جو محسوس نہيں ہوتي ليكن كسي بھي دانشور نے ان كا انكار نہيں كيا ہے زمين كي حركت ہے يعني 8كرہٴ زمين گھومتي ہے، اور يہ وہي ”مدو جزر“(پھيلنا اورسكڑنا ) ہے جو اس زمين پر رونما ہوتا ہے، اور اس كا اثر يہ ہوتا ہے كہ ہمارے پاؤں تلے كي زمين دن ميں دو بار ۳۰ سينٹي ميٹر اوپر آتي ہے، جس كو نہ كبھي ہم نے ديكھا، اور نہ كبھي اس كااحساس كيا، يہ زمين دن ميں دو بار ۳۰cmاوپر آتي ہے
انھيں چيزوں ميں سے ہوا بھي ہے جوہمہ وقت ہمارے چاروں طرف موجود رہتي ہے اوراس قدر وزني ہے كہ ہر انسان ۱۶ ہزار كلوگرام كے برابر اس كو برداشت كرسكتا ہے، اور ہميشہ عجيب و غريب دباؤ ميں رہتا ہے البتہ چونكہ يہ دباؤ (اس كے اندروني دباؤ كي وجہ سے) ختم ہوتا رہتا ہے لہٰذا اس دباؤ كا ہم پر كوئي اثر نہيں پڑتا، جبكہ كوئي بھي انسان يہ تصور نہيں كرتا كہ ہوا اس قدر وزني ہے، ”گليليو“ اور ”پاسكال“ سے پہلے كسي كو ہوا كے وزن كا علم نہيں تھا، اور اب جبكہ سائنس نے اس كے وزن كي صحت كي گواہي دے دي پھر بھي ہم اس كا احساس نہيں كرتے 
انھيں غير محسوس چيزوں ميں سے ”اٹر“ ہے كہ بہت سے دانشوروں نے ريسرچ كے بعد اس كااعتراف كيا ہے، اور ان كے نظريہ كے مطابق يہ شئے تمام جگہوں پر موجود ہے اور تمام چيزوں ميں پائي جاتي ہے، بلكہ بعض دانشور تو اس كو تمام چيزوں كي اصل مانتے ہيں، اور اس بات كي وضاحت كرتے ہيں كہ يہ ”اٹر“ ايك بے وزن اوربے رنگ چيز ہے اور اس كي كوئي بو بھي نہيں ہوتي جو تمام ستاروں اور تمام چيزوں ميں پائي جاتي ہے اور تمام چيزوں كے اندر نفوذ كئے ہوئے ہے، ليكن ہم اسے درك كرنے سے قاصر ہيں
2) مذكورہ بالا مطلب كي تصديق كے لئے ”كاميل فلامارين“ كي كتاب ”اسرار موت“ سے ايك اقتباس آپ حضرات كي خدمت ميں پيش كر تے ہيں:
”لوگ جہالت وناداني كي وادي ميں زندگي بسر كررہے ہيں اور انسان يہ نہيں جانتا كہ اس كي يہ جسماني تركيب اس كو حقائق كي طرف رہنمائي نہيں كرسكتي ہے، اور اس كويہ حواس خمسہ ،كسي بھي چيز ميں دھوكہ دے سكتے ہيں، صرف انسان كي عقل و فكر اور علمي غور و فكر ہي حقائق كي طرف رہنمائي كرسكتي ہيں“! اس كے بعد ان چيزوں كو بيان كرنا شروع كرتا ہے جن كو انساني حواس درك نہيں كرسكتے، اوراس كے بعد موٴلف كتا ب ايك ايك كركے بيان كرتا ہے اور پھر ہر ايك حس كي محدوديت كو ثابت كرتا ہے يہاں تك كہ كہتا ہے:”لہٰذا نتيجہ يہ ہوا كہ ہماري عقل اور سائنس كا يہ قطعي فيصلہ ہے كہ بہت سي حركات ، ذرات، ہوا ، طاقتيں اور ديگر چيزيں ايسي ہيں جن كو ہم نہيں ديكھتے، اور ان حواس ميں سے كسي ايك سے بھي ان كو درك نہيں كيا جاسكتا، لہٰذا يہ بھي ممكن ہے كہ ہمارے اطراف ميں بہت سي ايسي چيزيں ہوں جن كا ہم احساس نہيں كرتے ، بہت سے ايسے جاندار ہوں جن كو ہم نہيں ديكھتے، جن كا احساس نہيں كرتے، ہم يہ نہيں كہتے ہيں كہ ”ہيں“ بلكہ ہم يہ كہيں : ”ممكن ہے كہ ہوں“ كيونكہ گزشتہ باتوں كا نتيجہ يہي ہے كہ ہمارے حواس تمام موجودات كو ہمارے لئے كشف كرنے كي صلاحيت نہيں ركھتے كہ بلكہ يہي حواس بعض اوقات تو ہميں فريب ديتے ہيں ،اور بہت سي چيزوں كو حقيقت كے بر خلاف دكھاتے ہيں، لہٰذا ہميں يہ تصور نہيں كرنا چاہئے كہ تمام موجودات كي حقيقت صرف وہي ہے جس كو ہم اپنے حواس كے ذريعہ درك كرليں، بلكہ ہميں اس كے برخلاف عقيدہ ركھنا چاہئے اور كہنا چاہئے كہ ممكن ہے كہ بہت سي موجودات ہوں جن كو ہم درك نہيں كرسكتے، جيسا كہ ”جراثيم“ كے كشف سے پہلے كوئي يہ سوچ بھي نہيں سكتا تھا كہ ”لاكھوں جراثيم“ ہر چيزكے چاروں طرف موجود ہوں گے، اور ان جراثيم كے لئے ہر جاندار كي زندگي ايك ميدان كي صورت ركھتي ہوگي
نتيجہ يہ ہوا كہ ہمارے يہ ظاہري حواس اس بات كي صلاحيت نہيں ركھتے كہ موجودات كي حقيقت اور ان كي واقعيت كا صحيح پتہ لگاسكيں، مكمل طور پر حقائق كو بيان كرنے والي شئے ہماري عقل اور فكر ہوتي ہے“ (نقل از علي اطلال المذہب المادي، تاليف فريد وجدي ، جلد ۴)
(3) آفريدگار جہان، آيت اللہ العظمي مكارم شيرازي كي بحثوں كا مجموعہ، صفحہ ۲۴۸
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك