سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:415

خدا كي معرفت كيوں ضروري ہے؟

جب يہ بات اپني جگہ مسلم ہے كہ كوئي بھي فعل بغير علت كے نہيں ہوتا تو پھر اس دنيا كے خالق كي معرفت اور اس كو پہچاننے كے لئے بھي كوئي نہ كوئي علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسي كے لئے تين بنيادي وجہيں اور علتيں بيان كي ہيں،جن پر قرآن كريم نے واضح طور پر روشني ڈالي ہے:
۱۔ عقلي علت ۔
۲۔ فطري علت ۔
۳۔ عاطفي علت ۔
 
1. عقلي علت :
انسان كمال كا عاشق ہوتا ہے، اور يہ عشق تمام انسانوں ميں ہميشہ پايا جاتا ہے، انسان جس چيز ميں اپنا كمال ديكھتا ہے اس كو حاصل كرنے كي كوشش كرتا ہے،البتہ يہ بات عليحدہ ہے كہ بعض لوگ خيالي اور بےہودہ چيزوں ہي كو كمال اور حقيقت تصور كربيٹھتے ہيں۔
كبھي اس چيز كو ”منافع حاصل كرنے اور نقصان سے روكنے والي طاقت“ كے نام سے ياد كيا جاتا ہے كيونكہ انسان اسي طاقت كي بنا پر اپني ذمہ داري سمجھتا ہے كہ جس چيز ميں اس كا فائدہ يا نقصان ہو اس پر خاص توجہ دے۔
انسان كي اس طاقت كو ”غريزہ“ كا نام دينا بہت مشكل ہے كيونكہ معمولاً غريزہ اس اندروني رجحان كو كہا جاتا ہے جو انسان اور ديگر جانداروں كي زندگي ميں بغير غور و فكر كے اثر انداز ہوتا ہے اسي وجہ سے حيوانات كے يہاں بھي غريزہ پايا جاتا ہے۔
لہٰذا بہتر ہے كہ اس طاقت كو ”عالي رجحانات“كے نام سے ياد كيا جائے جيسا كہ بعض لوگوں نے اس كا تذكرہ بھي كياہے۔
بہر حال انسان كمال دوست ہوتا ہے اور ہر مادي و معنوي نفع كو حاصل كرنا چاہتا ہے اور ہر طرح كے ضررو نقصان سے پرہيز كرتا ہے چنانچہ اگر انسان كو نفع يا نقصان كا احتمال بھي ہو تو اس چيز پر توجہ ديتا ہے اور جس قدر يہ احتمال قوي تر ہوجاتا ہے اسي اعتبار سے اس كي توجہ بھي بڑھتي جاتي ہے، لہٰذايہ ناممكن ہے كہ انسان اپني زندگي ميں كسي چيز كو اہم و موثر مانے ليكن اس سلسلہ ميں تحقيق و كوشش نہ كرے۔
خدا پر ايمان اور مذہب كا مسئلہ بھي انھيں مسائل ميں سے ہے كيونكہ مذہب كا تعلق انسان كي زندگي سے ہوتا ہے اور اسي سے انسان كي سعادت اور خوشبختي يا شقاوت اور بدبختي كا تعلق ہوتا ہے، اور اسي كے ذريعہ انسان سعادت مند ہوتا ہے يا بدبخت ہوجاتا ہے،اور ان دونوں ميں ايك گہرا ربط پايا جاتا ہے۔
اس بات كو واضح كرنے كے لئے بعض علمامثال بيان كرتے ہيں: فرض كيجئے ہم كسي كو ايك ايسي جگہ ديكھيں جہاں سے دوراستے نكلتے ہوں ، اور وہ كہے كہ يہاں پر ركنا بہت خطرناك ہے اور (ايك راستہ كي طرف اشارہ كركے )كہے كہ يہ راستہ بھي يقيني طور پر خطرناك ہے ليكن دوسرا راستہ ”راہ نجات“ ہے اور پھر اپني بات كو ثابت كرنے كے لئے كچھ شواہد و قرائن بيان كرے، تو ايسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپني يہ ذمہ داري سمجھتا ہے كہ اس سلسلہ ميں تحقيق و جستجو كرے ،ايسے موقع پر بے توجہي كرنا عقل كے برخلاف ہے۔(1)
جيسا كہ ”دفعِ ضررِمحتمل “(احتمالي نقصان سے بچنا) ايك مشہور و معروف قاعدہ ہے جس كي بنياد عقل ہے، قرآن كريم نے پيغمبر اكرم (ص) سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا: 
< قُلْ اٴَرَاٴَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ >(۲) 
”آپ كہہ ديجئے كہ كيا تمہيں يہ خيال ہے اگر يہ قرآن خدا كي طرف سے ہے اور تم نے اس كا انكار كرديا تو اس سے زيادہ كون گمراہ ہوگا“۔
البتہ يہ بات ان لوگوں كے سلسلہ ميں ہے جن كے يہاں كوئي دليل و منطق قبول نہيں كي جاتي ، در حقيقت وہ آخري بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں كے جواب ميں كہي جاتي ہے، وہ يہ ہے : اگر تم لوگ قرآن، توحيد اور وجود خدا كي حقانيت كو سوفي صد نہيں مانتے تو يہ بات بھي مسلم ہے كہ اس كے بر خلاف بھي تمہارے پاس كوئي دليل نہيں ہے، لہٰذا يہ احتمال باقي رہ جاتا ہے كہ قرآني دعوت اور قيامت واقعيت ركھتے ہوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سكتے ہو كہ دين خدا سے گمراہي اور شديد مخالفت كي وجہ سے تمہاري زندگي كس قدر تاريكي اور اندھيرے ميں ہوگي۔
اس بات كو ائمہ عليہم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں كے سامنے آخري بات كے عنوان سے كي ہے،جيسا كہ اصول كافي ميں ايك حديث نقل ہوئي ہے جس ميں حضرت امام صادق عليہ السلام نے اپنے زمانہ كے ملحد و منكر خدا ”ابن ابي العوجاء“ سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائي ہے،اور اس گفتگو كاآخري سلسلہ حج كے موسم ميں ہوئي ملاقات پر تمام ہواجب امام عليہ السلام كے بعض اصحاب نے آپ سے كہا: كيا ”ابن ابي العوجاء“ مسلمان ہوگيا ہے؟!تو امام عليہ السلام نے فرمايا: اس كا دل كہيں زيادہ اندھا ہے يہ ہرگز مسلمان نہيں ہوگا، ليكن جس وقت اس كي نظر امام عليہ السلام پر پڑي تو اس نے كہا: اے ميرے مولا و آقا!
امام عليہ السلام نے فرمايا: ”ماجاءَ بِكَ إليٰ ہذَا المَوضِع“ (تو يہاں كيا كررہا ہے؟)
تو اس نے عرض كي: ”عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فيہ من الجنون و الحلق و رمي الحجارة!“ (كيونكہ بدن كو عادت ہوگئي ہے اور ماحول اس طرح كا بن گيا ہے ، اس كے علاوہ لوگوں كا ديوانہ پن، ان كا سرمنڈانا اور رمي ِجمرہ ديكھنے كے لئے آگيا ہوں!!)
امام عليہ السلام نے فرمايا: اٴَنْتَ بعدُ عليٰ عتوك و ضلالك يا عبدَ الكريم! (اے عبد الكريم!تو ابھي بھي اپنے ضلالت و گمراہي پر باقي ہے )(3) 
اس نے امام عليہ السلام سے گفتگو كا آغاز كرنے كے لئے كہا تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”لا جدال في الحج“(حج، جنگ و جدال كي جگہ نہيں ہے) اورامام عليہ السلام نے اس كے ہاتھ سے اپني عبا كو كھينچتے ہوئے يہ جملہ ارشاد فرمايا: ”ان يكن الامر كما تقول۔ وليس كما تقول۔ نجونا ونجوت ۔ وان يكن الامر كما نقول ۔وھو كمانقول۔نجونا وھلكت“!:
”اگر حقيقت ايسے ہي ہے جيسے تو كہتا ہے كہ (خدا اورقيامت كا كوئي وجود نہيں ہے) جب كہ ہرگز ايسا نہيں ہے، تو ہم بھي اہل نجات ہيں اور تو بھي، ليكن اگر ہمارا عقيدہ ہے ،جب كہ حق بھي يہي ہے تو ہم اہل نجات ہيں اور تو ہلاك ہوجائے گا“۔
 
”ابن ابي العوجاء“ نے اپنے ساتھي كي طرف رخ كيا اور كہا: ”وجدت في قلبي حزازة فردوني،فردوہ فمات“ (ميں اپنے دل ميں درد كا احساس كررہا ہوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جيسے ہي اس كو لے كر چلے تو تھوڑي ہي دير بعدوہ اس دنيا سے رخصت ہوگيا۔(4) (5) .
۲۔جذبہٴ محبت:
اشارہ:
ايك مشہور و معروف ضرب المثل ہے كہ ”انسان احسان كا غلام ہوتا ہے“ (الانسان عبيد الاحسان(
يہي مطلب تھوڑے سے فرق كے ساتھ حضرت امير المومنين علي عليہ السلام كي حديث ميں بھي نقل ہوا ہے كہ آپ نے فرمايا:
”الإنسان عبد الإحسان“(6) 
”انسان، احسان كا غلام ہے“۔
نيزامام عليہ السلام نے ايك دوسري حديث ميں فرمايا:
”بالإحسان تملك القلوب“(7) 
”احسان كے ذريعہ انسان كے قلوب كو مسخر كيا جاتا ہے “۔
نيز ايك دوسري حديث ميں حضرت علي عليہ السلام سے مروي ہے:
”وافضِلْ عليٰ من شئت تكن اٴميرہ“(8) 
”ہر شخص كے ساتھ احسان كرو تاكہ اس كے حاكم بن جاوٴ“
ان تمام مطالب كا سرچشمہ حديث ِپيغمبر اكرم (ص) ہے كہ آپ نے فرمايا:
”إنَّ اللهَ جَعَلَ قُلُوب عبادِہِ عليٰ حُبَّ مَنْ اٴحسَنَ إليھا ،و بغض من اٴساء إليھا“(9) 
”خداوندعالم نے اپنے بندوں كے دلوں كو اس شخص كي محبت كےلئے جھكاديا ہے جو ان پر احسان كرتا ہے اور ان كے دلوں ميں اس شخص كي طرف سے عداوت ڈال دي ہے جو ان سے بدسلوكي كرتا ہے“۔
مختصر يہ كہ يہ ايك حقيقت ہے كہ اگر كوئي شخص كسي كے ساتھ احسان كرے يا اس كي كوئي خدمت كرے يا اس كو كوئي تحفہ دے تو وہ شخص بھي اس سے محبت كرتا ہے، اور نعمت عطا كرنے والے اور احسان كرنے والے سے مانوس ہوجاتا ہے، اور چاہتا ہے كہ اس كو مكمل طريقہ سے پہچانے، اور اس كا شكريہ ادا كرے، اور يہ بات بھي طے ہے كہ نعمت اور احسان جتنے اہم ہوتے ہيں ”منعم“ (يعني نعمت دينے والے) كي نسبت اس كي محبت اور اس كي پہچان بھي زيادہ ہوتي ہے۔
اسي وجہ سے علمائے علم كلام (عقائد) قديم الايام سے مذہب كي تحقيق كے سلسلہ ميں ”شكرِ منعم“ (نعمت عطا كرنے والے كا شكريہ ادا كرنے كو ) معرفت خدا كي علتوں ميں سے ايك علت شمار كرتے ہيں۔
ليكن اس بات پر بھي توجہ ركھنا چاہئے كہ ”شكر منعم“كا مسئلہ عقلي حكم سے پہلے ايك عاطفي مسئلہ ہے، اس مختصر سے اشارہ كو عرب كے مشہور و معروف شاعر ”ابو الفتح بستي“ كے شعر پر ختم كرتے ہيں:
 
احسن إلي النَّاس تَستعبد قلوبَھُم 
فطالما استعبد الإنسان إحسان
”لوگوں كے ساتھ نيكي كرو تاكہ ان كے دل پر حكومت كرسكو ، بے شك انسان احسان كا غلام ہوتا ہے“۔
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے روايت ہے كہ آپ نے فرمايا: ” ايك روز رسول اكرم عائشہ كے حجرے ميں تھے تو عائشہ نے سوال كيا كہ آپ اس قدر كيوں خود كو (عبادت كے لئے) زحمت ميں ڈالتے ہيں؟ جبكہ خداوندعالم نے آپ كے گزشتہ اور آئندہ كے الزاموں كو معاف كرديا ہے“(10) 
آنحضرت (ص) نے فرمايا: ”إلاّٰ اكون عبداً شكوراً“(11) (كيا مجھے اس كا شكر گزار بندہ نہيں ہونا چاہئے؟)
۳۔ فطري لگاؤ:
اشارہ:
جس وقت فطرت كے بارے ميں گفتگو ہوتي ہے تو اس سے مراد اندروني ادراك و احساس ہوتا ہے جس كے اوپر كسي عقلي دليل كي كوئي ضرورت نہيں ہوتي۔
جس وقت ہم ايك دلكش منظر ، يا خوبصورت باغ اور چمن ديكھتے ہيں اور ہمارے دل ميں اس خوبصورت منظر كے پيش نظر كشش محسوس ہوتي ہے تو اندر سے ہمارا احساس آواز ديتا ہے كہ اس كشش اور لگاؤ كا نام عشق يا خوبصورتي ركھ ديا جائے، جبكہ يہاں كسي بھي طرح كے استدلال كي كوئي ضرورت نہيں ہوتي۔
جي ہاں! خوبصورتي كا احساس كرنے والي يہ طاقت ،انسان كي بلند پرواز روح كے خواہشات اور رجحانات ميں سے ہے، مذہب كے سلسلہ ميں يہ كشش خصوصاً معرفت خدا كا مسئلہ بھي ايك اندورني اور ذاتي احساس ہے، بلكہ انسان كے اندر سب سے بڑي طاقت كا نام ہے۔
اسي وجہ سے ہم كسي قوم و ملت كو نہيں ديكھتے (نہ آج اور نہ ماضي ميں ) كہ ان كے يہاں مذہبي عقائد نہ پائے جاتے ہوں، جس سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ عميق احساس ہر انسان كے يہاں پايا جاتا ہے۔
قرآن مجيد نے عظيم الشان انبياء كے قيام كے واقعات كو بيان كرتے ہوئے اس نكتہ پر توجہ دي ہے كہ رسالت كي ذمہ داري شرك و بت پرستي كا خاتمہ تھا (نہ كہ خدا كے وجود كو ثابت كرنا، كيونكہ يہ موضوع تو ہر انسان كي فطرت ميں پوشيدہ ہے)
يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ انبياء عليہم السلام يہ نہيں چاہتے تھے كہ ”خدا پرستي كا درخت“ لوگوں كے دلوں ميں لگائيں بلكہ ان كا مقصد يہ ہوتا تھا كہ ان كے دلوں ميں موجود اس درخت كي آبياري كريں اور اس كے پاس سے بے كار گھاس اور كانٹوں كو ہٹاديں جن كي وجہ سے كبھي يہ درخت بالكل خشك ہوسكتا ہے يہاں تك كہ جڑ سے اكھڑ جاتا ہے۔
”الاَّ تعبد وا إلاَّ الله“ يا ”الَّا تعبدوا إلاَّ إياہُ“ (خدا كے علاوہ كسي كي عبادت نہيں كرو) اس جملہ ميں بتوں كي پوجا سے روكا جارہا ہے نہ يہ كہ وجود خدا كو ثابت كيا جارہا ہے، اور يہ جملہ بہت سے انبياء كي گفتگو ميں بيان ہوا ، منجملہ حضرت پيغمبر اكرم (ص) كي تبليغ ميں(12) جناب نوح عليہ السلام كي تبليغ ميں(13) جناب يوسف عليہ السلام كي تبليغ ميں(14) اور جناب ہود عليہ السلام كي تبليغ ميں بيان ہوا ہے۔(15)
اس كے علاوہ ہمارے دل و جان ميں دوسرے فطري احساسات بھي پائے جاتے ہيں جيسے علم و دانش ؛ جن كے بارے ميں بہت زيادہ شوق و رغبت ہوتي ہے۔
كيا يہ ممكن ہے كہ اس وسيع و عريض دنيا كے عجيب و غريب نظام كو تو ديكھيں ليكن اس نظام كے پيدا كرنے والے كي معرفت و شناخت كے سلسلہ ميں كوئي شوق ورغبت نہ ہو؟
كيا يہ ممكن ہے كہ ايك دانشور چيونٹيوں كي شناخت كے بارے ميں بيس سال تك ريسرچ كرے اور دوسرا دسيوں سال پرندوں يا درختوں، يا دريائي مچھليوں كے بارے ميں تحقيق كرے ، ليكن اس كے دل ميں علم كا شوق نہ پايا جاتا ہو؟ كيا يہ لوگ اس وسيع و عريض دنيا كے سرچشمہ كي تلاش نہيں كريں گے؟!
جي ہاں! يہ تمام چيزيں ہميں ”معرفت خدا“كي دعوت ديتي ہيں، ہماري عقل كو اس بات كي طرف بلاتي ہيں، ہماري عاطفي طاقت كو اس طرف جذب كرتي ہيں اور ہماري فطرت كو اس راستہ كي طرف لگاتي ہيں۔(16)

(1) تفسير پيام قرآن ،جلد ۲، ص۲۴.
(۲) سورہ فصلت آيت۵۲.
(3) ”عبد الكريم “ كا اصلي نام ”ابن ابي العوجاء“ تھا،كيونكہ وہ منكر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس كواس نام سے پكارا تاكہ وہ شرمندہ ہوجائے
(4) كافي، جلد اول، صفحہ ۶۱، (كتاب التوحيد باب حدوث العالم)
(5) تفسير نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۲۵
(7،6) غررالحكم
(8) بحار الانوار ، جلد ۷۷، صفحہ ۴۲۱ ( آخوندي)
(9) تحف العقول ص۳۷ (بخش كلمات پيامبر (ص))
(10) سورہٴ فتح كي پہلي آيت كي طرف اشارہ ہے اور اس كي تفسير كي وضاحت تفسير نمونہ كي جلد ۲۲، كے صفحہ ۱۸ پر موجود ہے
(11) اصول كافي ،جلد ۲،باب الشكر حديث۶
(12) سورہٴ ہود، آيت۲
(13) سورہٴ ہود، آيت۲۶
(14) سورہٴ يوسف، آيت۴۰
(15) سورہٴ احقاف ، آيت۲۱
(16) تفسير پيام قرآن ، جلد ۲، صفحہ ۳۴
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك