پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:384

5 ذي الحجہ الحرام 1436

رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے بدھ كے روز حج كي مناسبت سے حجاج كرام كے نام اپنے پيغام ميں مناسك حج كو پرمغز مفاہيم اور پہلوؤں كا حامل قرار ديا اور تمام حجاج كرام كو چاہے ان كا تعلق كسي بھي قوم اور ملك سے ہو، اس بارے ميں غوروفكر كرنے كي دعوت دي-
رہبر انقلاب اسلامي نے اپنے اس عالمي پيغام ميں اسي طرح علاقے ميں امريكہ كي شرانگيز پاليسيوں كو كہ جو جنگ و خونريزي، تباہي و بربادي، لوگوں كي دربدري، غربت و پسماندگي اور نسلي و مذہبي اختلافات كا سبب بني ہيں، تمام مسلمانوں كا اولين مسئلہ قرار ديا اور اس بات پر زور ديا كہ امت مسلمہ كے كاندھوں پر، غاصب صيہوني حكومت كے اقدامات كے بارے ميں بھي كہ جس نے فلسطين ميں وحشيانہ ترين جرائم كا ارتكاب كيا ہے اور جو مسجد الاقصي كي بار بار بے حرمتي كرنے كے ساتھ ہي مظلوم فلسطينيوں كے جان و مال كو بھي تباہ و برباد كر رہي ہے، سنگين ذمہ داري ہے اور اسے اس سلسلے ميں اپنے اسلامي فريضے كو جاننا چاہيے-

حقيقت يہ ہے كہ آج امت مسلمہ داعشي – صيہوني دہشت گرد گروہوں كي شيطاني سازشوں اور نسلي و مذہبي فتنوں اور جنگ افروزي كے ساتھ ساتھ مذہبي انتہا پسندي كا بھي شكار ہے اور ان دہشت گرد گروہوں نے اپنے جارحانہ اور مجرمانہ اقدامات سے ظاہر كر ديا ہے كہ وہ انساني عزت و كرامت كو تباہ و برباد كرنے اور اسلام كا چہرہ مسخ كرنے كے ليے كسي بھي اقدام سے دريغ نہيں كرتے ہيں-

افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ بعض مسلمان حكومتوں نے بھي اصلي خطروں يعني صيہوني حكومت، دہشت گردي اور انتہا پسندي پر توجہ دينے كے بجائے اپني قوموں كي دولت و ثروت اور فوجي طاقت كو علاقے كي سلامتي كے ليے ايك خطرے ميں تبديل كر ديا ہے- علاقے ميں بحرين سے لے كر عراق، شام، يمن، دريائے اردن كے مغربي كنارے اور غزہ پٹي تك اور ايشيا اور افريقہ كے بعض ممالك ميں جو افسوس ناك واقعات رونما ہو رہے ہيں وہ امت اسلامي كي سنگين مشكلات اور مصائب كي عكاسي كرتے ہيں۔ يہ ايسي مشكلات اور مصائب ہيں كہ جن ميں عالمي سامراج كي سازش كو ديكھنا چاہيے اور اس كو ناكام بنانے كي تدبير كرني چاہيے۔ اس بنا پر رہبر انقلاب اسلامي نے اپنے پيغام ميں اس كليدي نكتے كي طرف اشارہ فرمايا ہے كہ قوموں كو اپني حكومتوں سے مطالبہ كرنا چاہيے كہ وہ ان مشكلات اور مصائب كے سلسلے ميں اپني ذمہ داريوں كو محسوس كريں اور اس سلسلے ميں اقدام كريں اور حكومتيں بھي اپني سنگين ذمہ داريوں كو نبھائيں۔

اسلامي ممالك كے پاس جو وسائل ہيں ان كے ذريعے وہ ان مشكلات كے حل كے ليے كوئي چارہ كار تلاش كر سكتے ہيں ليكن ايسے عوامل بھي موجود ہيں كہ جو عالم اسلام كي كمزوري اور تفرقے كا باعث بنے ہيں۔ ان ميں سے ايك عامل كہ جس نے اس مسئلے كو ہوا دي ہے، امت مسلمہ كے اس اتحاد كي اہميت كو درك نہ كرنا ہے كہ جس كي ايك جھلك ہميں حج كے موقع پر نظر آتي ہے۔

ايك طرف اسلام اور اس كي عظيم سياسي و معنوي توانائيوں كي صحيح شناخت نہ ہونے، اور دوسري طرف ان غفلتوں سے دشمنان اسلام كے غلط فائدہ اٹھانے سے ، تكفيري اور سلفي گروہوں كي جانب سے بظاہر مذہبي ليكن باطن ميں انتہاپسند اور گمراہ كن نظريات اور تنظميں وجود ميں آئيں اور يہي انحراف اور گمراہي اس بات كا باعث بني ہے كہ امت مسلمہ اسلام كي قدرت و طاقت كے مظہر كي حيثيت سے اپنا كارآمد اور مؤثر كردار ادا نہ كر سكے۔ انہي تاريخي حقائق كو مدنظر ركھتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامي نے اپنے پيغام حج ميں اس بات پر زور ديا كہ حاجي كا پہلا فريضہ اس عالمي، تاريخي اور جاوداں لبيك پر غور و فكر كرنا ہے۔ يہ غور و فكر اسلامي ملكوں كي تقدير بدلنے كا سبب بن سكتا ہے۔
اس سلسلے ميں حج اور اس كے عظيم اور پرشكوہ اجتماعات، اس تاريخي فريضے اور ذمہ داري كے ادا كرنے كا مقام بن سكتے ہيں اور مشركين سے نفرت و بيزاري كے اظہار كا موقع بھي اس عظيم فريضے كے بارے ميں سوچنے اور اس پر عمل كرنے كے ليے اہم ترين سياسي مناسك ميں سے ہے۔ مناسك حج نے اپني عظيم توانائيوں كے ساتھ بين الاقوامي سطح پر امت مسلمہ كے مؤثر كردار كے ليے بہترين موقع فراہم كر ديا ہے كہ جس سے فائدہ اٹھانا چاہيے۔
دن كي تصوير
ويڈيو بينك