پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:857

امام خميني(رہ) كي نظر ميں

حج: امام خميني(رہ) كي نظر ميں
 
 
مشرقي اور ا سلامي ممالك جب تك اسلام كو پا نھيں ليتے با عزت زندگي نھيں گزار سكتے ۔ مسلمانوں كو چاھئے كہ وہ اسلام كي جستجو كريں ۔ اسلام ان سے دورھو گيا ھے ۔ ھم آج نھيں جانتے كہ اسلام كيا ھے ؟ مغرب والوں اور ان ظالموں نے ھمارے ذھن غلط افكار سے اس قدر بھر ديئے ھيں كہ ھم نے اسلام كو گنواديا ھے ۔ جب تك اسلام كو نھيں پا ليتے اصلاح نا ممكن ھے ۔ اس مركز يعني كعبھٴ معظمہ كہ جھاں ھر سال مسلمان جمع ھوتے ھيں ، سے لے كر اسلامي ممالك كے آخري نكتہ تك اسلام كا نام و نشان نھيں ملتا ۔ وہ نھيں جانتے كہ اسلام كيا ھے ۔ يھي وجہ ھے كہ مسلمان مكہ معظمہ ميںكہ جو ايسا مقام ھے جسے اللہ تبارك وتعاليٰ نے مسلمانوں كے روحاني اجتماع كے لئے مركز قرار ديا ھے، جمع تو ھوتے ھيں مگر نھيں جانتے كہ وہ كيا كر رھے ھيں ۔ وہ اس سے اسلامي فائدہ نھيں اٹھاپاتے ۔ اس سياسي مركز كو ايسے امور ميں تبديل كر ديا گياھے كہ جن كے سبب مسلمانوں كے تمام مسائل غفلت كا شكار ھو گئے ھيں ۔
اسلام كو تلاش كرنا چاھئے ۔ مسلمان اگر حقيقت حج كو درك كر ليں ، اسلام كي طرف سے حج ميں جو سياست اختيار كي گئي ھے ،صرف اسي كو درك كر ليں تو حصول استقلال كے لئے كافي ھے ۔ ليكن افسوس ھم نے اسلام كو كھو ديا ھے وہ اسلام جو ھمارے پاس ھے اسے سياست سے بالكل جدا كر ديا گيا ھے ۔ اس كا سر كاٹ ديا گيا ھے۔ وہ چيز كہ جو مقصود اصلي تھي اس سے كاٹ كر جدا كر دي گئي ھے اور بچا كھچا اسلام ھميں تھما ديا گيا ھے ۔ ھم سب كو يہ دن ديكھنا پڑرھے ھيں كہ ھم نھيں جانتے كہ راز اسلام كيا ھے ۔ ھم سب مسلمان جب تك اسلام كو درك نھيں كر ليتے اپني عظمت اور وقاركو حاصل نھيں كر سكتے ۔
 عظمت اسلام ، آغاز اسلام ميں تھي كہ جب ايك چھوٹي سي جماعت نے دو سُپر طاقتوں كو ختم كر ديا تھا ۔ وہ عظمت اسلام ، حدود مملكت كي وسعتوںكي وجہ سے نھيں تھي بلكہ تعمير انسانيت كي وجہ سے تھي ۔ يہ خيال  اشتباہ ھے كہ اسلام حدود مملكت كي وسعتوں كے لئے ھے ۔ اسلام سرحدوں كو وسيع نھيں كرنا چاھتا بلكہ وہ چاھتا ھے كہ تمام ممالك كے لوگ انسان بن جائيں ۔ اسلام خواھش مند ھے كہ جو انسان نھيںھيں وہ انسان بن جائيں ۔ ايك جنگ ميں كچہ لوگوں كو قيدي بنايا گيا ، تاريخ ميںلكھا ھے كہ انھيں ( مسلمانوں نے ) باندہ ركھا تھا ۔ رسول  اللہ كے سامنے لايا گيا ۔ آپ  نے فرمايا :” ديكھو مجھے چاھئے كہ ميں ان لوگوں كو زنجيروں كے ساتہ جنت ميں لے جاؤں “۔ اسلام معاشرے كي اصلاح كے لئے آيا ھے ۔ اگر اس نے تلوار استعمال كي ھے و ہ صرف اس لئے كہ جو لوگ فاسد ھيں انكي اصلاح ھو ، انھيں ختم كيا جائے تاكہ دوسروں كي اصلاح ھو جائے ۔
 
 
 
حج كے سياسي پھلو سے غفلت
 
حج كے تمام پھلوؤں ميں سے سب سے زيادہ غفلت اور لا پرواھي كا شكار ان عظيم مناسك كا سياسي پھلو ھے ۔ خيانت كاروں كي سب سے زيادہ فعاليت اس امر سے غافل كرنے ميں رھي ھے اور رھے گي كہ اس كا يہ پھلو كسي گوشے ميں مقيد ھو جائے ۔ آج كے دور ميں كہ جب دنيا ميں جنگل كا قانون چل رھا ھے ،مسلمان گذشتہ زمانوں كي نسبت زيادہ ذمہ دار ھيں كہ وہ اس پھلو كے بارے ميں اظھار كريں اور اس سے متعلق ابھامات دور كريں  كيونكہ بين الاقوامي بازي گر مسلمانوں كو غفلت ميں ڈال كر انھيں پسماندہ ركہ كر نيز مفاد پرست حكمراں ، نادان اور غفلت زدہ افراد ، درباري و كج فھم مُلا اور جاھل عابد سب دانستہ و غير دانستہ مل كر اس تقدير ساز اور مظلوموں كے نجات دھندہ پھلو كو ختم كرنے كے در پے ھيں ۔
فرض شناس ، بيدار اور دل سوز افراد اسلام كي غربت كے پيش نظر اور احكام اسلام سے اس سياسي پھلو كے متروك ھو جانے كے خطرے كے پيش نظر ، خصو صاً حج كے دوران كہ جھاں يہ پھلوزيادہ نماياں اور ظاھر ھے ، اٹہ كھڑے ھوں اور قلم ،بيان ، گفتار اور تحرير كے ذريعے جد و جھد كريں ۔ حج كے ايام ميں اس كي زيادہ كوشش كريں كيونكہ ان مراسم كے اختتام پر دنيا كے مسلمان جب اپنے شھروں اور علاقوں كي طرف لوٹتے ھيں تو وہ اس عظيم پھلو كو مد نظر ركھتے ھوئے وھاں كے مسلمانوں اور دنيا كے مظلوموں كو بيدار كر سكتے ھيں ۔ امن كے دعويدار ستمگروں كے روز افزوں ظلم سے نجا ت حاصل كرنے كے لئے انھيں حركت اور انقلاب كےلئے تيار كر سكتے ھيں ۔
يہ بات اظھر من الشمس ھے كہ اگر اس عظيم عالمي اجتماع ميں كہ جھاں  اسلامي اقوام كے مظلوم اورھر مذھب ، قوم ، زبان ، فرقے ، رنگ اور جغرافيہ سے تعلق ركھنے والے تمام طبقات ايك جيسے لباس ميں ھر قسم كے تصنع اور بناوٹ سے پاك ھو كر اكٹھے ھوتے ھيں،اسلام اور مسلمانوں اور دنيا كے تمام مظلوموں كے بنيادي مسائل حل نہ ھوں اور ظالم و جابر حكومتوں سے نجات پانے كي كوئي سبيل نہ كي جائے تو پھر چھوٹے علاقائي اور لوكل اجتماعات سے كچہ نہ بن پڑے گا اور كوئي ھمہ گير راہ حل ھاتہ نہ آئے گا ۔
 
 
 
حقيقي حج ابراھيمي و محمدي صديوں سے متروك ھو چكا ھے
 
 حجاج محترم كو جاننا چاھئے كہ ابراھيمي و محمدي حج سالھا سال سے غريب الوطن اور متروك ھے ۔ اس كے معنوي و عرفاني اور سياسي و اجتماعي پھلو متروك ھيں ۔ تمام اسلامي ممالك كے حجاج كرام كو چاھئے كہ خانھٴ خدا كے ان تمام پھلوؤں كا تعارف كرائيں ۔ اس كے عرفاني و روحاني اسرار كا تعارف كرانا حجاج كے ذمے ھے ۔ ھمارا مورد بحث پھلو اس كا سياسي اور اجتماعي پھلو ھے ۔يہ بات تسليم كرنا پڑے گي كہ ھم اس كے سياسي پھلوسے كوسوں دور ھيں ۔ اس نقصان كي تلافي كرنا ھماري ذمہ داري ھے ۔حضرت ابراھيم عليہ السلام و محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم كي دعوت پر منعقد كي جانے والي يہ سراپا سياسي، كانفرنس كہ جس ميں دنيا كے گوشہ و كنار كے لوگ جمع ھوتے ھيں ، انسانوں كے فائدے اور عدل و قسط قائم كرنے كے لئے ھے ۔ يہ كانفرنس حضرت ابراھيم عليہ السلام اور حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم  كي بت شكينوں كا تسلسل اور موسيٰ عليہ السلام كي طاغوت شكني و فرعون شكني كا دوام ھے ۔ شيطان بزرگ امريكہ اور عالمي طاغوتوں سے بڑے اور كون سے بت ھو سكتے ھيں كہ جو دنيا كے تمام مستضعفوں كو اپني اطاعت اور مدح سرائي كے لئے مجبور كرتے ھيں اوراللہ كے تمام آزاد بندوں كو اپنا فرمانبردار غلام سمجھتے ھيں ۔
فريضہ ٴ حج ، حق كي آواز پر لبيك كھنے اور حق تعاليٰ كے طرف ھجرت كرنے كا نام ھے اور يہ حضرت ابراھيم عليہ السلام اور حضرت محمد(ص)  كي بركتوں سے ھے ۔ يہ شيطان زادوں سے اظھار براٴت كرنے كي جگہ ھے ۔عالمي ليٹرے شيطان بزرگ امريكہ اور جارح بے دين روس سے بڑا اور كون سابُت ھو سكتا ھے ؟ ھمارے زمانے كے طاغوتوں سے بڑا طاغوت اور كون سا ھو سكتا ھے ؟
لبيك لبيك كھہ كر تمام بتوں كي نفي كريں اور تمام چھوٹے چھوٹے طاغوتوں كے خلاف ” لا “ كي فرياد بلند كريں ۔ طواف ِحرم حق عشق كي علامت ھے ۔ طواف كرتے ھوئے دلوں سے غير اللہ كي محبت نكال ديں ۔ اپني روح پاك كريں ۔ حق كے ساتہ عشق كے موقع پر چھوٹے بڑے بتوں ، طاغوتوں اور ان كے ھمكاروں سے اظھاربر اٴت كريں ۔ اللہ اور اس كے پياروں نے ان سے اظھار بيزاري كيا ھے اور دنيا كے تمام آزاد انسان ان سے بيزار ھيں ۔
حجر الاسود كو مس كر كے اللہ كے ساتہ بيعت كريں كہ اس كے اور اس كے رسولوںاور صالح وآزاد بندوں كے دشمنوں كے دشمن رھيں گے۔وہ كوئي بھي ھوں اور جھاں بھي ھو ان كي اطاعت و بندگي كے لئے سر تسليم خم نھيں كريں گے ۔
خوف و وحشت دل سے نكال ديں كيونكہ دشمنان خدا ،جن ميں سر فھرست شيطان بزرگ ھے ،ھي بے بس و عاجز ھيں اگر چہ وہ آدم كشي اور تباھي و جرائم كے ھتھياروں ميں دوسروں پر برتري ركھتے ھوں ۔
صفا و مروہ كے درميان ،سعي كے وقت ، صدق و صفا كے ساتہ محبوب كو پا نے كي سعي كريں كيونكہ اسے پالينے سے تمام دنياوي و ابستگياں ختم ھو جاتي ھيں ، سب تو ھمات اور شكوك مٹ جاتے ھيں ، خوف ، حيواني خواھشات اور سب مادي دلچسپياں ختم ھو جاتي ھيں ۔ آزادياں كھل اٹھتي ھيں ۔ شيطان اور طاغوت بندگان خدا كو اسارت و اطاعت كے جن زندانوں ميں مقيد كرتا ھے وہ منھدم ھو جاتے ھيں ۔
شعور و عرفان كي حالت ميں مشعر الحرام اور عرفات ميں داخل ھو جائيں ۔ ھر ايك مقام پر اللہ كے و عدوں اور حكومت مستضعفين سے متعلق اپنے اطمينان قلب ميں اضافہ كريں۔ سكوت و سكون كے ساتہ حق كي نشانيوں ميں غور و فكر كريں ۔ محروموں اور مستضعفوں كو عالمي استكبار كے چنگل سے آزاد كرنے كي فكر كريں ۔ ان مقدس مقامات پر اللہ سے دعا كريں كہ وہ نجات كي راھيں پيدا كرے ۔
اس كے بعد منيٰ ميں جائيں اور حقيقي آرزؤں كو وھاں تلاش كريں ۔ ياد ركھيں كہ جب تك آپ اپنے محبوبوں سے كہ جن ميں سر فھرست حب نفس ھے اور حب دنيا اس كي تابع ھے ،سے كنارہ گيري نھيں كر ليتے ،محبوب مطلق تك رسائي نا ممكن ھے ۔ ايسي حالت ميں شيطان كو رجم كريں تاكہ وہ آپ سے دور بھاگ جائے ۔ رجم شيطان كو مختلف مواقع پر اللہ كے احكامات كے مطابق تكرار كريں تاكہ شيطان اور شيطان زادے بھاگ جائيں ۔
فطري آرزوؤں اور انساني تمناؤں كو حاصل كرنے كے لئے اعمال حج ميں شرط ھے كہ تمام مسلمان ان مراحل و مقامات پر جمع ھوں اور مسلمانوں كے گروھوں ميں وحدت كلمہ ھو ، زبان، رنگ ،قبيلہ ،گروہ ، سر حد اور قوميت كے فرق اور دور جاھليت كے تعصبات كے بغير متحد ھو كر اس دشمن مشترك پر ٹوٹ پڑيں كہ جو اسلام عزيز كا دشمن ھے اور موجودہ دور ميں اس نے اس اسلام سے زخم كھائے ھيں ۔ وہ اسلام كو اپنے اھداف كے سامنے حائل خيال كرتا ھے ۔ وہ چاھتا ھے كہ فرقہ واريت اور نفاق كے ذريعے اس محسوس ركاوٹ كو اپنے راستے سے ھٹا دے ۔ ان كے كارندوں ميں سر فھرست وہ دنيا پرست ، درباري اور حاسد مُلّا ھيں جو ھر جگہ اور ھر وقت خصوصاً ايام حج اور مراسم حج ميں۔ ان برے مقاصد كے حصول پر مامور ھوتے ھيں۔ مسلمانا ن عالم كے مراسم دعا كا سب سے اھم مقصد مستضعفين كے مفادات كا دفاع كرنا ھے ۔
مسلمانوں كے لئے اسلامي ممالك سے عالمي ليٹروں كے تسلط كے خاتمے سے بڑا اور كون سا نفع ھو سكتا ھے ۔ ان مراسم عبادت ميں مسلمانوں پر لازم ھے كہ وہ ھوشياري كے ساتہ ان خبيث كارندوں اور فرقہ پرست ملاؤں كے خلاف اسلام اور خلاف قرآن كرتوتوں پر كڑي نظر ركھيں ۔ ان لوگوں كو كہ جو نصيحت كے با وجود اسلام اور مفاد مسلمين كے خلاف اپنے كوشيشيں جاري ركھتے ھيں، دور مار بھگائيںكيونكہ يہ طاغوتوں سے كھيں زيادہ پست ھيں ۔
 
 
 
حج وعبادت
 
توجہ رھے كہ سفر حج ،تجارت اور حصول دنيا كا سفر نھيں ھے بلكہ سفر الي اللہ ( اللہ كي طرف سفر) ھے ۔آپ خانھٴ خدا كي طرف جا رھے ھيں ۔ آپ جتنے بھي امور انجام ديں اللہ تبارك و تعاليٰ كے لئے انجام ديں ۔ يھاں سے آپ كا جو سفر شروع ھو رھا ھے وہ اللہ تبارك و تعاليٰ كي طرف سفر ھے ۔ انبيا عليھم السلام اور ھمارے بزرگان دين كي تمام تر زندگي سفر الي اللہ سے عبارت تھي اور وہ ” وصول الي اللہ “ كے ھدف سے ايك قدم بھي ادھر اُدھر نہ ركھتے تھے۔
عبادت و سياست باھم مدغم ھيں
اسلام ميں موجود عيد الفطر ، عيد الاضحيٰ ، حج ،مقامات ِ حج ، نماز جمعہ و جماعت اور روز و شب كي با جماعت نمازوں جيسے امور اور مواقع عبادي پھلو بھي ركھتے ھيں اور سياسي و اجتماعي پھلوبھي ۔ اسلام كا جنبھٴ عبادي اس كے جنبھٴ سياسي ميں ھے ۔ يہ دونوں پھلو باھم مدغم اور ايك دوسرے ميں ضم ھيں ۔ دين اسلام فقط عبادي نھيںھے۔ يہ بندے اور اللہ تبارك و تعاليٰ كے ما بين فقط ايك تعلق كا نام نھيں ھے ۔ اس كي سياست اس كي عبادات ميں مدغم ھے اور اس كي عبادت سياست ميں رچي بسي ھے ۔يعني عبادي پھلو ھي سياسي پھلو ھے ۔ عيدوں كے موقع پر اجتماعي نماز ،عبادت ھے ليكن يہ اجتماع بذات خود سياسي پھلو بھي ركھتا ھے ۔ مسلمانوں كو چاھئے كہ ان اجتماعات سے خوب فائدہ اٹھائيں ۔
 صرف عالم دين ھي كو نھيں بلكہ سب گروھوں كو سياست ميں حصہ لينا چاھئے ۔ سياست مال و دولت كي طرح كوئي موروثي چيز نھيں ھے۔ اسي طرح يہ كوئي پارليمنٹ يا بعض خاص افراد سے بھي مختص نھيںھے ۔ سياست كا معني كسي ملك كي چيزوں كي وضعيت كے پيش نظر اس ملك كا نظام چلانا ھے ۔تمام مسلمان اس معني كے لحاظ سے سياست ميں حصہ لينے كا حق ركھتے ھيں ، عورتوں كو حق پھنچتا ھے كہ وہ سياست ميں حصہ ليں ۔ ان كي يہ ذمہ داري بھي ھے ۔ علماء كو بھي حق پھنچتا ھے كہ سياست ميں حصہ ليں ۔ ان كي بھي يہ ذمہ داري ھے ۔ دين اسلام دين سياست ھے ۔ اس طرح سے كہ  اس كي عبادت بھي سياست ھے ۔ آپ ديكھيں كہ يھي نماز جمعہ طاغوت كے زمانے ميں ( شاہ كے دور ميں ) درست طور پر بر پا نھيں ھو سكتي تھي ۔ كبھي چپكے سے كسي ايك مسجد ميں نماز پڑہ ليتے تھے جبكہ نماز جمعہ كي وضيعت ايسي نھيں ھے بلكہ ويسي ھے كہ جيسي اب انجام پاتي ھے ۔
نماز جمعہ عبادت ھونے كے ساتہ ساتہ ايك سياسي اجتماع ھے ، نماز جمعہ كے خطبے ميں دور حاضر كے سياسي مسائل زير بحث آنے چاھئيں ،اس ميں مسلمانوں كي مشكلات كو ذكر ھونا چاھئے نماز جماعت بھي اسي طرح ھے ۔نماز جماعت ميں ايك محلے كے لوگوں كا اجتماع ھوتا ھے ، يہ اس لئے ھے تاكہ يہ لوگ اپني مملكت كے حال سے آگاہ ھوں ۔ اپني مشكلات سے آگاہ ھوں اور انھيں دور كريں ۔ مكہ ميں مختلف جگھوں پر عظيم اجتماع ، منيٰ ميں ، عرفات ميں ، مشعر ميں ، مكہ ميں اور مدينہ ميں اجتماع ، اسلامي ممالك كے تمام طبقوں كا اجتماع ، ان سب مسلمان كا اجتماع كہ جو استطاعت ركھتے ھيں اور مشرف ھوتے ھيں ۔ يہ سب سياسي امور ھيں ۔ ھر مقام پر اس كي اپني حد كے مطابق اجتماعي اعمال ركھے گئے ھيں،كبھي شھر كي حد تك اور كبھي گاؤں كي ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 لوگوں ميں سے بھت سے ايسے لوگ ھيں جو مسائل حج كو اچھي طرح سے نھيں جانتے آپ جھاں كھيں بھي ھوں عوام كو جمع كريں اور ان سے با قاعدہ مسائل حج بيان كريں ۔ واجبات و محرمات وغيرہ بيان كريں ۔ علاوہ ازيں وہ مسائل بھي كہ جو مسلمانوں سے بيان كئے جانے چاھئيں ۔ اس كے لئے ان كے ساتہ مل كر بيٹھيں ۔ البتہ يہ سب ايك نظام اور پروگرام كے تحت ھونا چاھئے ۔ انھيں متوجہ كريں كہ امريكہ دنيا كے اس كونے سے كيوں آئے اور آپ كا نظام چلائے ، وہ خليج فارس كا نظام كيوںچلائے ؟ خليج فارس كا امريكہ سے كيا مطلب ؟ وہ كون ھے كہ اس كونے سے خليج فارس كو كنٹرول كرے ؟ يہ كام ھميں خود كرنا چاھئے ، امريكہ كا اس سے كيا تعلق ھے ؟ مسلمانوں كو يہ كام خود سے كرنا چاھئے ۔خليج كے رھنے والوں كو يہ كام كرنا چاھئے ۔ھماري خواھش ھے كہ ھم تمام اسلامي ممالك كے ساتہ بھائي چارہ قائم كريں ، ھم سب كي بھلائي چاھتے ھيں ۔ ھم چاھتے ھيں كہ وہ با عزت ھوں ۔ ھم چاھتے ھيں كہ وہ امريكہ كے غلام نہ ھوں ۔ امريكہ دنيا كے اس حصے سے ھم پر سرداري نہ كرے ۔ اس طرف سے روس بھي ( ايسا نہ كرے ) آپ آپس ميں اكٹھے ھوں ۔ آپ كي يھي حكومتيں آپس ميں اكٹھي ھوں ۔ آپ كي قوميں آپ كے پيچھے ھيں ۔ آپ قوموں سے اچھا سلوك كريں ۔ اگر آپ نے ايسا كيا اور اسلامي اصولوں كو ملحوظ ركھا تو يہ قوميں آپ كے ساتہ ھيں ۔ پھر آپ كو كوئي نقصان نھيں پھنچ سكتا ۔
مقامات مقدسہ پر آنے والے مسلمان جس قوم و مذھب سے بھي ھوں انھيں يہ بات بخوبي جاننا چاھئے كہ اسلام ، قرآن كريم اور عظيم الشان رسول  كا اصل دشمن بڑي طاقتيں بالخصوص امريكہ اور اس كي نا جائز اولاد اسرائيل ھے ۔ ان كي نگاہ حرص اسلامي ممالك پر لگي ھے ۔ وہ ان ممالك كے زير زمين اور بالائے زمين عظيم خزانوں كو لو ٹنے كے لئے كسي بھي ظلم و سازش سے ھاتہ اٹھانے والے نھيں ھيں ۔ اس شيطاني سازش ميں ان كي كاميابي كا راز يہ ھے كہ وہ جس طرح سے بھي ممكن ھو سكے مسلمانوں كے مابين تفرقہ پيدا كريں ۔ ممكن ھے مراسم حج ميں ايجنٹ ملاؤں جيسے افراد شيعہ و سني كے مابين تفرقہ پيدا كرنے كي كوشش كريں اور اس شيطاني كام ميں اتنا آگے بڑہ جائيں كہ بعض سادہ دل ان كي باتوں كا يقين كر بيٹھيں اور يوں وہ تفرقہ و فساد كا موجب بنيں ۔ ھر دو فرقوں كے بھائي بھن ھوشيار رھيں اور يہ بات جان ليں كہ كور دل و ظيفہ خوار چاھتے ھيں كہ اسلام ، قرآن مجيد اور سنت رسول  كے نام پر اسلام ، قرآن اور سنت كو مسلمانوں كے درميان سے نكا ل ديں يا كم از كم انحراف پيدا كر ديں ۔
 
 
 
حج اسلامي كانفرنس ھے
 
حج كے موقع پر مسلمانوں كے مسائل كا حل سوچيں ۔اسلامي اقوام كي سستي اور سھل انگاري كے باعث استعمار كے قدم ملت قرآن كي عظيم سر زمينوں ميں اتر چكے ھيں ۔ استعمار كي مسموم ثقافت اسلامي ممالك كے قصبوںاور ديھاتوں تك سرايت كرگئي ھے ۔ اس نے قرآني ثقافت كو پيچھے  ڈھكيل دياھے ۔ ھمارے  نورسيدہ جوان، گروہ در گروہ غيروں اور استعماري قوتوں كي خدمت ميں چلے جا رھے ھيں ۔ يہ ثقافت ھر روز نئے۔نئے راگ الاپ كر اپنے پرُفريب ناموں كے ذريعے ھمارے جوانوں كو منحرف كر رھي ھے ۔ اس صورت حال ميں تمام مسلمانوں پر لازم ھے كہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ھوئے كچہ سوچيں ، مسلمانوں كے مسائل حل كرنے كے لئے آپس ميں تبادلھٴ خيال كريں اور افھام و تفھيم پيدا كريں ۔ آپ كي توجہ اس امر كي طرف ھونا چاھئے كہ يہ عظيم اجتماع جو ھر سال اللہ تعاليٰ كے حكم سے اس سر زمين مقدس پر منعقد ھوتا ھے، مسلمانوں پر يہ فريضہ عائد كرتا ھے كہ وہ اسلام كے مقدس اھداف ، شريعت مطھرہ كے بلند مقاصد ، مسلمانوں كي ترقي و ارتقاء اور اسلامي معاشرے كے اتحاد و ھم بستگي كے لئے كوشش كريں ۔حصول استقلال كے لئے اور استعمار كي جڑوں كو اكھاڑ پھينكنے كے لئے آپس ميں ھم فكر و ھم پيمان ھوں ۔ اسلامي اقوام كي مشكلات كو خود ھر ملك كے رھنے والوں كي زباني سن كر ان كے حل كے لئے كسي بھي اقدام سے دريغ نہ كريں ۔ اسلامي ممالك كے غريب حاجتمندوں كے لئے فكر كريں ۔ اسلامي سر زمين فلسطين كو اسلام و انسانيت كے سخت ترين دشمن صھيونزم كے چنگل سے آزادكرانے كے لئے چارہ انديشي كريں ۔ آزادي فلسطين كے جانباز مجاھد كي مدد اور تعاون سے غفلت نہ برتيں ۔ جس ملك كے بھي علماء اس اجتماع ميں شريك ھوں انھيں چاھئے كہ قوموں كي بيداري كےلئے باھمي تبادلھٴ خيال سے ايك مدلل و مستدل بيان تيار كر كے اس وحي كے ماحول ميں مسلمانوں كے مابين تقسيم كريں اور اپنے اپنے ملك ميں واپس جا كر بھي اس كي تشھير كريں ۔ ايسے بيانات ميں اسلامي ممالك كے سربراھوں سے تقاضا كريں كہ وہ اسلامي اھداف كو اپنا نصب العين قرار ديتے ھوئے اختلافات كو ايك طرف ركہ ديں اور استعمار كے چنگل سے آزادي كے لئے چارہ انديشي كريں ۔
حج كے اس عظيم اجتماع ميں اسلام اور مسلمين كو فائدہ حاصل ھونا چاھئے ليكن بڑے افسوس كي بات ھے كہ بعض استعماري ايجنٹوں كے مسموم قلم مسلمانوں كي صفوں ميں اختلاف پيدا كرنے كے لئے صاحب وحي كے مقاصد كے بر خلاف مركز وحي ميں ” الخطوط العريضہ “ وغيرہ جيسي چيزيں شائع كر رھے ھيں اور اس طرح استعماري قوتوں كي مدد كر رھے ھيں ۔ ان كي كوشش ھے كہ دروغ و افترا كے ذريعے ايك بڑے طبقے كو مسلمانوں كي صفوں سے جدا كر ديں ۔ باعث تعجب ھے كہ حكومت حجاز كس طرح سے ايسي گمراہ كنندہ چيزيں مركز وحي ميں تقسيم كرنے كي اجازت ديتي ھے ۔
اسلامي اقوام پر لازم ھے كہ وہ ايسي تفرقہ انگيز اور استعماري كتابوں كي اشاعتوں سے اجتناب كريں اور اسلامي اتحاد كے ان مخالفوں كو ٹھكرا ديں ۔ حج كے اس مقدس اجتماع ميں اولاً اسلام كے اساسي مسائل اور ثانياً اسلامي ممالك كے خصوصي مسائل پر تبادلھٴ نظر كريں ۔ ديكھيں كہ استعمار اور اس كے ايجنٹوں كے ھاتھوں مختلف ملكوں كے اندر ان كے بھائيوں پر كيا گزر رھي ھے ،ھر ملك كے رھنے والے اس مقدس اجتماع ميں اپني قوم كے مشكلات مسلمانان عالم كو بتائيں ۔
 
 
اسلامي اجتماعات ھم آھنگي و اخوت كا مظھر ھيں
 
حج تمام مسلمان گروھوں كا ايك اجتماع عام ھے ۔ تمام گرھوںكو چاھئے كہ وہ مشرق ميں ھوں يا مغرب ميں ھوں ،شمال ميں ھوں يا جنوب ميں ، جھاں كھيں اورجس ملك ميں بھي ھوں ، اس دعوت پر غور و فكر كريں ۔ عوام ”ناس “ كو دعوت دي گئي ھے ، صرف مسلمانوں ھي كو نھيں ۔ سب مسلم بن جائيں اور سب جائيں يعني وہ سب كہ جو مستطيع ھيں ۔ وہ مستطيع افراد كہ جو مكہ جا سكتے ھيں ان سے كھاگيا ھے كہ وہ سال ميں ايك مرتبہ وھاں جائيں ۔ اس طرح اللہ تعاليٰ وھاں ايك اجتماع عام منعقد كرنا چاھتا ھے ۔ اس اجتماع عام كي اگر مسلمان قدر پھچانيں تو اس سے مسلمان گروھوں كے مسائل كے حل سامنے آسكتے ھيں ۔مثلا اگر ايران كے مسلمان وھاں جائيں اور اپنے مسائل لوگوں سے بيان كريں تو مسلمانوں پر لازم ھے كہ ان مسائل و مشكلات كے حل كے لئے ان كا ساتہ ديں ۔ سبھي افراد كہ جو حج كے لئے آئے ھيں جب سمجہ جائيں كہ مثلا ايران كيا چاھتا ھے، كيا كرتا ھے ، حكومت ايران اپنے عوام سے كيسا سلوك كرتي ھے پھرجب وہ واپس اپنے اپنے علاقوں ميں جائيں تو يہ باتيں پھنچائيں ۔ اسي طرح اگر انھوں نے اپني حكومت يا عوام كے بارے ميں كچہ ديكھا ھو تو يھاں پھنچ كر دوسروں كو بتائيں اور پھر دوسرے ذمہ دار ھيں كہ ان كا ساتہ ديں ۔ اسلام اس طرح كا دين ھے كہ اس كے اجتماعات عبادت ھونے كے ساتہ ساتہ سياسي بھي ھيں ۔
ايك اور مشكل قوموں كے ما بين عدم ارتباط ھے ۔ قوموں كے ما بين يا تو اصلاً ارتباط ھے ھي نھيں يا پھر كم ھے ۔ سب مومنين اللہ كے حكم كے مطابق بھائي ھيں ۔ بھائيوں كو ايك دوسرے كے حال سے آگاہ رھنا چاھئے ۔ بھائيوں كو ايك دوسرے كي مشكلات حل كرنا چاھئے ، اسلام نے تمام گروھوں كے ما بين ھم آھنگي و تفاھم كے لئے پروگرام ديا ھے اور وہ حج ھے ، فريضہ حج كے مطابق تمام اسلامي ممالك كے مستطيع افراد كا فريضہ ھے كہ وہ مكہ جائيں ۔ وھاں پر بھي اس نے كئي ايك مقامات فراھم كئے كہ جوآپسي تفاھم كا سبب بن سكتے ھيں ۔ قابل افسوس امر يہ ھے كہ مسلمان غافل ھيں ۔ اگر حكومتيں مختلف ممالك سے دو سو افراد كو جمع كر كے ايك اجتماع منعقد كرنا چاھيں تو انھيں كس قدر زحمتيں اور كس قدر اخراجات برداشت كرنا پڑيںگے پھر كھيںجا كے كسي ايك مقام پر دو سو افراد جمع ھوںگے ۔ اللہ تبارك و تعاليٰ نے كئي ملين افراد كا ايك اجتماع مسلمانوں كو مھيا كر دياھے اور اس نے كھا ھے كہ سب وھاں جائيں اور يہ سب آپس ميں بھائي ھيں ۔ مومن آپس ميں بھائي اوربرادر ھيں ۔اب اگر يہ بھائي ايك دوسرے كا حال نہ پوچھيں اور كام نہ آئيں تو پھر يہ اسلام كا قصور ،نھيں قصور ھمارا ھے ۔ وہ مواقف كہ جو اسلام نے مقرر كئے ھيں اور لوگوں كو ان كي طرف ھدايت كي ھے ھم اگر انھيں محفوظ ركھيں اور ان سے كام ليں تو اسلام ترقي كرنے لگا ،اسلامي ممالك كي مشكلات حل ھو جائيںگي ۔ پھر غير ھماري طرف للچائي ھوئي نظروں سے نھيںديكھيں گے  ۔ ايك ارب مسلمان مٹھي بھر افراد يا ايسي حكومتوں كے غلام نھيں ھوںگے، ايك ارب كي تعداد جن كے پاس اتنے خزانے ھيں ،زير زمين خزانے ھيں ، جن كے پاس ايمان كي قوت ھے ، اللہ پر ايمان كي قوت ، ايسي عظيم مادي اور روحاني طاقت جو مسلمانوں كے پاس ھے كسي اور كے پاس نھيں ۔ اگر وہ اس سے استفادہ نہ كريں تو خود ان كا قصور ھے ۔ مسلمانوں كو چاھئيے كہ اپني حالت كو بدليں ۔
مسلمان بھن بھائي سب اس امر كي طرف توجہ ركھيں كہ حج كا ايك اھم فلسفہ يہ ھے كہ مسلمانوں كے ما بين ھم آھنگي پيدا ھو اور ان كے درميان اخوت كا رشتہ مضبوط ھو ، علما ء پر لازم ھے كہ وہ اپنے بنيادي سياسي و معاشرتي مسائل ديگر برادران سے بيان كريں اور ان كے حل كرنے كے لئے منصوبہ بندي كريں اور اپنے ممالك ميں واپس جاكر يہ منصوبہ بندي وھاں كے علما اور ارباب نظر كي خدمت ميں پيش كريں ۔
 
 
 
مسائل اسلام كے حل كے لئے يہ اجتماع واجب قرار ديا گيا ھے
 
اگر ھم حج كي حقيقي روح كے مطابق عمل كرتے تو مسلمانوں كو در پيش يہ بھت سي مشكلات پيش ھي نہ آتيں ۔ اگر اسلامي حكومتيں واقعاً ھوش ميں آتيں ، توجہ كرتيں كہ اللہ تبارك و تعاليٰ نے ايك ايسا عظيم اجتماع ھمارے لئے فراھم كيا جوكچہ افراد پر لازم ھے اور باقي سب كے لئے مستحب ھے ، اگر مسلمان حكومتيں اس كے وسائل فراھم كرتيں اور وھاں پر جمع ھونے والي اقوام كے افرادفراخدلي سے ملاقات كرتے ، آپس ميں ايك دوسرے سے اپنے اپنے علاقوں كي مشكلات بيان كرتے ، جو مشكلات انھيں بڑي طاقتوں كي طرف سے پيش آتي ھيں انھيں زير بحث لاتے ، گفتگو كرتے اور پھر اپنے اپنے علاقوں ميں واپس جا كر ان مسائل كي تبليغ كرتے تو سارا عالم اسلام خوش حال ھوتا اگر يہ حكومتيں وسائل فراھم كرتيں تو حج كا عظيم اجتماع آج ايسا نہ ھوتا بلكہ حج درست طور پر بجالايا جاتا ، يہ حكمران خود بھي ان اجتماعات ميں شريك ھوتے ، بيٹھتے اور اپنے مسائل حل كرتے ، پھر اسلام ايك ايسي قوت بن جاتا كہ كوئي بھي قوت اس كے مقابل نہ ھوتي ۔ يہ ايك راستہ ھے ( مسائل كے حل كا ) سب لوگوں كو تمام علاقوں سے سال ميں ايك دفعہ دعوت دي گئي ھے اگر كوئي جا سكتا ھوتو جائے ۔ ” للّہ علي الناس حج البيت “
 
 
سياسي مسائل پر غور و خوض كا مقام
 
 اسلام دين سياست ھے ۔ يہ وہ دين ھے كہ جس كے احكام ميں سياست واضح طور پر دكھائي ديتي ھے ۔ ھر روز اسلامي ممالك كي تمام مسجدوں ميں شھروں سے لے كر ديھات تك جماعت كےلئے اجتماع ھوتا ھے تاكہ ھر شھر اور ھر قصبے كے مسلمان ايك دوسرے كے حالات كو جانيں اور مستضعفين كے حالات سے باخبر ھوں ۔ اسي طرح ھفتے ميں ايك مرتبہ كسي ايك مقام پر نماز جمعہ كے لئے ايك بڑے اجتماع كا انعقاد ھوتا ھے ۔ يہ نماز دو خطبوں پر مشتمل ھے ۔ اس ميں ضروري ھے كہ سياسي، اجتماعي اور اقتصادي پھلو زير بحث آئيں اور عوام ان مسائل سے آگاہ ھوں ۔ اسي طرح سال ميں دو عيديں ھوتي ھيں ۔ ان مواقع پر بھي اجتماعات منعقد ھوتے ھيں ۔ نماز عيد ميں بھي دو خطبے ھوتے ھيں ۔ ان دو خطبوں ميں بھي حمد اور رسول اكرم اور ائمہ عليھم السلام پر درود و سلام كے بعد سياسي ، اجتماعي اور اقتصادي پھلوؤں نيز ملك اور علاقے كي ضروريات پرگفتگو ھوني چاھئے ۔ خطبائے كرام كو چاھئے كہ وہ عوام كو مسائل سے آگاہ كريں۔سب سے بڑہ كر حج كا اجتماع ھے كہ جو سال ميں ايك مرتبہ منعقد ھوتا ھے ۔ واجب ھے كہ تمام اسلامي ممالك سے جو افراد مستطيع ھيں وہ جمع ھوں اور ضروري ھے كہ وھاں مسائل اسلامي پر بات ھو ۔حج كے مقامات پر ، عرفات ميں ، خصوصاً منيٰ  ميں اور اس كے بعد رسول اكرم  كے حرم ميں عوام كو اپنے ملك اور اسلامي ممالك كے حالات سے آگاہ ھونا چاھئے ۔
باعث افسوس ھے كہ ان امورسے غفلت برتي جا رھي ھے ۔ اجتماعات منعقد ھوتے ھيں ليكن ان سے نتيجہ حاصل نھيں كيا جاتا ۔ مسلمان مكھٴ مكرمہ اور ديگر مقامات مقدسہ پر جمع ھوتے ھيںليكن اس طرح سے كہ ايك دوسرے سے اجنبي اور بيگانہ ھوتے ھيں ۔ مختلف شھروں ميں اجتماعات منعقد ھوتے ھيں ، نماز جمعہ كے اجتماعات ، نماز عيد كے اجتماعات ليكن اس طرح سے كہ گويا لوگوں ميں باھم كسي بات پر كوئي وحدت و ھم آھنگي نہ ھو ۔ اسلام نے لوگوں كو ان اجتماعات كي دعوت بڑے مقاصد كے لئے دي ھے ۔ اسلام كے پيش نظر ان اجتماعات كے بھت بلند مقاصد ھيں ۔
 
 
 
حج كو مظلوموں كي فرياد كا جواب دہ ھونا چاھئے
 
ھم جس ملك سے بھي تعلق ركھتے ھوںھميں اپني اسلامي اور قوي حيثيت كا دفاع كرنا چاھئے ۔ كسي كي رو رعايت سے بے پرواہ ھو كر امريكہ ،  صھيونيت اور شرق و غرب كي طاقتوں كے مقابلے ميں اسلامي اقوام و ممالك كا دفاع كرنا چاھئے ۔ھميں چاھئے كہ ھم اسلام دشمنوں كے مظالم كو آشكار كريں ۔
 ھمارے مادي و روحاني وسائل كو مشرق و مغرب كي بڑي طاقتيں لوٹے لئے جا رھي ھيں ۔ انھوں نے ھميں سياسي اقصادي ، ثقافتي اور فوجي لحاظ سے فقر و وابستگي ميں مبتلا كر ركھا ھے ۔ ھميں چاھئے كہ ھوش ميں آئيں اور اپنے كھوئے ھوئے اسلامي وقار كو پھر سے حاصل كريں ظلم كو قبول نہ كريں عالمي لٹيروں كہ جن كا سرغنہ امريكہ ھے ،كي سازشوں كو ھوش مندي كے ساتہ فاش كريں ۔
آج مسلمانوں كا قبلھٴ اول اسرائيل كے قبضے ميں ھے كہ جو مشرق وسطيٰ ميں كينسر كي حيثيت ركھتا ھے ۔ آج وہ ھمارے فلسطيني و لبناني بھائيوں پر پوري قوت سے ظلم ڈھارھا ھے اور انھيں خاك و خون ميںغلطاں كر رھا ھے ۔ آج اسرائيل اپنے تمام تر شيطاني وسائل كے ساتہ مسلمانوں كے درميان افتراق و اختلاف پيدا كرنے ميں مصروف ھے ۔ ھر مسلمان كے لئے ضروري ھے كہ وہ اپنے آپ كو اسرائيل كے خلاف تيار كرے ۔ آج ھمارے افريقي مسلمان ممالك امريكہ اور ديگر بڑي طاقتوں كے ھاتھوں بكے ھوئے افراد كے زير تسلط ھاتہ پاؤں مار رھے ھيں ۔
 آج افريقي مسلمان اپني پوري قوت سے مظلومانہ فرياد بلند كئے ھوئے ھے ۔ فلسفھٴ حج كو اس مظلومانہ فرياد كا جواب دينا چاھئے ۔ خانھٴ خدا كے گرد طواف كا مطلب يہ ھے كہ غير خدا كے گرد طواف نہ كيا جائے ۔ رجم عقبات در حقيقت جن و انس كے شيطانوں كورجم كرنا ھے ۔ھم اپنے خدا سے عھد كريں كہ اسلامي ممالك سے انساني شيطانوں اور بڑي طاقتوں كو نكال باھر كريں گے ۔ آج عالم اسلام امريكہ كے ھاتھوں ميں اسير ھے ۔ ھميں چاھئے مختلف برّ اعظموں كے مسلمانوں كےلئے اللہ كا پيغام لے جائيں كہ وہ خدا كے سوا كسي اور كي غلامي اور بندگي اختيار نہ كريں ۔
اے مسلمانان عالم ! اور اے پيروان مكتب توحيد ! اسلامي ممالك كي تمام تر مشكلات كا باعث عدم ھم آھنگي اور ھم آواز نہ ھونا ھے اور كاميابي كا راز ھم آواز ھونا اور ھم آھنگي پيدا كرنا ھے ۔ اللہ تعاليٰ نے ايك جملے ميںبيان فرما ديا ھے : ” و اعتصموا بحبل اللہ جميعا و لا تفرقوا “
اعتصام بحبل اللہ ( اللہ كي رسي كو تھامنا ) تمام مسلمانوں كي ھم آھنگي سے عبارت ھے ۔ سب اسلام كي خاطرمسلمانوں كے مصالح كے لئے ھم آھنگ ھو جائيں ۔ تفرقہ ، جدائي اور گروہ پرستي كہ جو تمام تر بد بختيوں اور عقب ماندگي كي بنياد ھے ، سے گريز كريں ۔
 
 
 
بڑي طاقتوں سے نجات كا ذريعہ اتحاد ھے
 
عازمين حج چاھے كسي بھي ملك ، قوم اور مكتب سے تعلق ركھتے ھوں ، سب كے سب امت مسلمہ سے تعلق ركھتے ھيں ،رسول اللہ  كے تابع اور قرآن مجيد كے احكامات كے پيرو ھيں ۔
 مسلمانوں كے اتحاد اور اجتماعي وحدت كا بنيادي راستہ اسلامي ممالك سے بڑي طاقتوں كے تسلط كے خاتمے اور اپنے ممالك ميں مقدس مقامات كے شعائر كو عملي جامہ پھنانے سے ممكن ھے كہ جس كا پھلا قدم اپنے دلوں سے نا اميدي ختم كرنا ھے ، جسے مغرب و مشرق كي كوششوں سے ان كے خبيث ايجنٹوں نے مسلمانوں كے ذھن ميں بٹھا ديا ھے اور ان كو باور كروا ديا گيا ھے كہ بڑي طاقتوں ميں سے كسي ايك كے ساتہ وابستہ ھوئے بغير زندگي نھيں گزاري جا سكتي ۔ ايراني قوم اور حكومت نے اس عظيم انقلاب كے ذريعے ثابت كر دكھايا ھے كہ اس قسم كا اعتقاد مھمل اور بے بنياد ھے اگر چہ بڑي طاقتوں نے اس آتش سوزاں كو جو اس ملك ميں مغرب و مشرق كي آرزوؤں كو خاك ميں ملانے كے لئے بھڑكي تھي ، ھر حيلہ و سازش كے ساتہ خاموش كرنا چاھا ليكن اس ميں كامياب نھيں ھوئيں۔
 
 
 
برائت از مشركين ۔ ھر دور ميں
 
ھميں معلوم ھونا چاھئے كہ ابدي كتاب ( قرآن ) ھر رنگ وزبان اور ھر خطے كے بشر كي تا قيامت راھنمائي كے لئے نازل ھوئي ھے اس كي حكمت يہ ھے كہ نھايت اھم مسائل كو زندہ ركھا جائے چاھے ان كا تعلق روحاني مسائل سے ھو يا ملكي نظام سے ، نيز يہ كتاب سمجھانا چاھتي ھے كہ اس كے مسائل كسي ايك عصر يا علاقے كے لئے نھيں ھيں ۔ يہ گمان نہ ھو كہ ابراھيم و موسيٰ و محمد عليھم السلام كا مقصد كسي ايك زمانے كے لئے مخصوص نھيں ھے بلكہ يہ ايك ابدي حكم ھے اگر چہ حجاز كے مشرك ختم ھو چكے ھيں تاھم ” قياماً للناس “ كسي زمانے كے لئے خاص نھيں ھے ، بلكہ ھر زمان و مكان كے لئے ھے اور يہ ھر سال انسانوں كے اس اجتماع عام ميں ابد تك ايك اھم عبادت ھے ۔ يھي وجہ ھے كہ ائمہ مسلمين نے عزاداري سيد الشھداء عليہ السلام كو ھميشہ قائم ركھنے كي تاكيد فرمائي ھے تاكہ اھل بيت عليھم السلام رسول اللہ  كي فريادِ مظلوميت  اور بني اميہ كے مظالم كي داستانوں كو زندہ ركھا جائے حالانكہ بني اميہ ختم ھو چكے ھيں ، ليكن يہ عزاداري ظالم كے خلاف مظلوم كي فرياد ھے ۔ يہ جنگ اور فرياد ھميشہ زندہ رھني چاھئے۔
 آج ھمارا مشركين و كافرين سے برائت كا اعلان كرنا ،ستمگروں كے ستم كے خلاف فرياد كرنا ايك ايسي امت كي فرياد ھے جس كا وجود مغرب و مشرق خصوصاً امريكہ اور اس كے ايجنٹوں كي جارحيت كو خطرے ميں ڈال رھاھے ۔ اس قوم كا گھر ، وطن اور سرمايہ لوٹ ليا گيا ھے ۔ ھماري فرياد برائت ، افغانستا ن كے ستم ديدہ مظلوم عوام كي فرياد ھے ۔
ھماري فرياد برائت افريقہ كے مسلمان عوام كي فرياد ھے ۔ ھمارے ان ديني بھن بھائيوں كي آواز ھے جو سياہ ھونے كے جرم ميں بے ثقافت  نسل پرستوں كے ستم جھيل رھے ھيں ۔
ھماري فرياد برائت لبنان ، فلسطين ، تمام اقوام و ملل كي فرياد برائت ھے كہ جن كي طرف مشرق و مغرب كي قوتوں خصوصا ًامريكہ اور اسرئيل نے چشم طمع لگا ركھي ھے ان كا سرمايہ لوٹ كر لے گئے ھيں ۔ ان پر اپنے  ايجنٹوں كو مسلط كر ركھا ھے ۔ ھزاروں كلو ميٹر كے فاصلے سے ان كي سر زمينوں پر قبضہ كيا ھوا ھے اور ان كے ملك كي بحري و بري حدود پر قبضہ جمايا ھوا ھے ۔
 
 
 
حج مقام انقلاب
 
” جعل اللہ الكعبة البيت الحرام قياما للناس “
 الٰھي فرائض ميں سے فريضہ ٴ حج ، خاص اھميت كا حامل ھے اور شايد اس كے سياسي و اجتماعي پھلو ديگر پھلوؤں پر غالب ھوں حالانكہ اس كا عبادي پھلو بھي خاص اھميت ركھتا ھے ۔ فرض شناس مسلمان جو اس عمومي اجتماع اور الٰھي تنظيم ميں ھر برتري كو ختم كر كے يك شكل ھو كر رنگ ، زبان ملك اور علاقے سے بالاتر ھو كر ھر سال ايك بار مكے ميں جمع ھوتے ھيں ، مادي اعتبار سے سادہ ترين اور بے آسائش ترين طريقے سے نيز معنوي پھلوؤں كي طرف توجہ كئے ھوئے خدا كي طرف اكٹھے ھوتے ھيں ۔ ان كو چاھئے كہ اسلامي فرائض اور آداب پر عمل كريں ۔ اس كے سياسي اجتماعي پھلوؤں سے بھي غافل نہ رھيں ۔ علمائے اعلام اور خطبائے عظام مسلمان كو سياسي جھات اور ان كے عظيم فرائض سے آگاہ كريں ، ايسے عظيم فرائض كہ اگر دنيا كے مسلمان كوشش كريں اور اس كي طرف توجہ كر كے ان پر عمل كريں تو خدا نے جو عزت مومنين كو دي ھے اس كو پاليں گے ۔ اسلامي الٰھي افتخارات تك جو مسلمانوں كا حق ھے ان تك رسائي حاصل كر ليں ۔ اسلام عزيز اور توحيد كے عَلَم اور لا الہ الا اللہ كے پرچم تلے جمع ھو كر حقيقي آزادي سے ھمكنار ھوں ،مستكبروں اور ان كے ايجنٹو ں كے ھاتہ اسلامي ممالك سے منقطع كريں اور اسلامي مقام و عظمت كو واپس لوٹائيں ۔
خدا وند تعاليٰ نے مذكورہ آيہ شريفہ ميں حج كا مقصد اور كعبہ و بيت اللہ الحرام كے بنانے كي غايت كو انساني مصالح اور دنيا كے محروم عوام كے مفادات كے لئے مسلمانوں كے قيام و نھضت كو قرار ديا ھے ۔ اس عظيم الٰھي اجتماع ميں كہ جسے خدا وند لايزال كي قدرت كے علاوہ كوئي اور فراھم نھيں كر سكتا ، مسلمانوں كو چاھئے كہ وہ مسلمانوںكي عمومي مشكلات كا جائزہ ليں اور ان كودور كرنے كے لئے كوشش كريں ، مسلمانوں كا متحدنہ ھونا بزرگترين اور بنيادي ترين مشكلات ميں سے ھے كہ جس كي وجہ بعض اسلامي ممالك كے نام نھاد سربراھان ھيں اور افسوس تو يہ ھے كہ اس مشكل كو دور كرنے كے لئے ابھي تك كوئي قدم نھيںبھي اٹھايا گيا ،بلكہ بعض ظالم قسم افراد تو ايسے ھيںجو قوموں اورحكومتوں كے اختلاف سے اپنے مفادات حاصل كرتے ھيںاوراپنے ايجنٹوں كے ذريعے اختلاف پيدا كرتے ھيں ،جب بھي مسلمانوں كے درميان اتحاد كي بنياد ركھي جاتي ھے تو اپني پوري قوت سے مخالفت كرتے ھيں اور اختلاف كا بيج بوتے ھيں ۔
 
 
 
حج مسلمانوں كي بيداري اور اتحاد كا موقع ھے
 
وہ حج جو اللہ تبارك و تعاليٰ ھم سے چاھتا ھے اور وہ حج جو اسلام ھم سے چاھتا ھے يہ ھے كہ ھم جب حج پر جائيں تو دنيا كے مسلمانوں كو بيدار  كريںاور آپس ميں متحد كريں ۔ انھيں سمجھائيں كہ ايك ارب مسلمان ،مٹھي بھر آبادي كي دو بڑي طاقتوں كے زير تسلط كيوں رھيں ؟ يہ تمام مصيبتيں اس لئے ھيں كيونكہ مسلمانوں كو جو راستہ اسلام نے دكھايا ھے وہ اس سے منہ موڑے ھوئے ھيں وہ لوگ جو صھيونيت كے خلاف ايك آواز بلند كرنے پر مذمت كرتے ھيں وہ كم از كم امريكہ كے خلاف تو ايك لفظ كھہ ھي ديں ۔ يہ لوگ ان عيسائي علماء سے كمتر نھيں ھيں جو يہ كھتے ھيں كہ كوئي بات نھيں كرني چاھئے اور يہ لوگ امريكہ كے طرف دار علما ء سے بھي كم نھيں ھيں ، يہ بھي امريكہ كے طرف دار ھيں ، مسلمانوں كو بيدار ھونا چاھے، ان ايك ارب مسلمانوں كو بيدار ھونا چاھے تاكہ ان دو بڑي طاقتوں اور ديگر قوتوں كو جڑ سے اكھاڑ ديں جوان علاقوں ميں فساد پھيلانے ميں مشغول ھيں ۔
كيا اسلامي ممالك اور اسلامي ممالك كي حكومتوں كے لئے ذلت كا باعث نھيں ھے كہ اسرئيل اٹھے اور فلسطينوں كے ساتہ اس قدر وحشيانہ طريقے سے پيش آئے ؟ لبنان ميں وہ مظالم ڈھاتا رھا اور ايك ارب مسلمانوں كي آبادي بيٹھي ان كا تماشا ديكھتي رھي ،يہ لوگ كس چيز سے ڈرتے ھيں ؟ كيوں اتنے بے غيرت ھو گئے ھيں ؟ مشرق و مغرب كي رگ حيات مسلمانوں كے ھاتہ ميں ھے ۔ اگر دس دن ان پر تيل بند كرديں تو وہ گٹھنے ٹيك ديں ، باوجود اس كے كہ يہ رگ حيات ، نام نھاد اسلامي حكومتوں كے ھاتہ ميں ھے پھر بھي يہ حكومتيں ان ظالم طاقتوں كے آگے سر تسليم خم كر ديتي ھيں۔كيا مسلمانوں كے لئے يہ افسوس كا مقام نھيں ھے كہ وہ اپني تمام چيزيں غيروں كو ديديں اور ان كي خوشامديں كرے كہ وہ ان سے قبول كريں ؟ جب صورت حال يہ ھو كہ مسلمان مسائل الٰھي كي طرف توجہ نہ كريں، قرآني مسائل كي طرف توجہ نہ ديں ، اسلامي احكام كي طرف صحيح طور پر توجہ نہ كريں اور اسلام كي دعوت وحدت كو پاؤں تلے روند ڈاليں تو پھر ضروري ھے كہ ان كے ساتہ ايسا ھي سلوك ھو كہ اپني تمام چيزيں بھي اغياركو ديں اور ان كي منت بھي كريں تاكہ وہ ان سے قبول كرليں كيا اب بھي ھميں بيدار نھيں ھونا چاھئے ؟ كيا انھيں ايران سے سبق حاصل نھيں كرنا چاھئے ؟
 
 
 
حج ۔ مركز معارف اسلامي
 
اسلامي معاشروں كا سب سے بڑا الميہ يہ ھے كہ ابھي تك انھوں نے بھت سے احكام الٰھي كا حقيقي فلسفہ نھيں سمجھاھے ۔حج كہ جو اس قدر اسرار و عظمت كا حامل ھے ابھي تك ايك خشك عبادت اور بے حاصل و بے ثمر حركت كي صورت ميں باقي ھے ۔
 مسلمانوں كي ايك بڑي ذمہ داري يہ ھے كہ وہ حج كي حقيقت كو سمجھيں اور غور كريں كہ آخر كيوں ھم ھميشہ اپنے كچہ مادي و روحاني وسائل سے حج كا اھتمام كرتے ھيں؟ جاھلوں ، خود غرض وظيفہ خواروں نے ابھي تك فلسفہ حج يہ بتايا ھے كہ يہ ايك اجتماعي عبادت ھے اور زيارت و سياحت كے لئے ايك سفر ھے ۔حج كو اس سے كيا سروكار كہ كيسے جيا جائے ،جھاد كيسے كيا جائے اور سرمايہ داري اور اشتراكي دنيا كا مقابلہ كيسے كيا جائے ! حج كو اس سے كيا سروكار كہ مسلمانوں اور محروموں كے حقوق ظالموں سے واپس لئے جائيں ! حج كو اس سے كيا كام كہ مسلمانوں پر موجود روحاني و جسماني دباؤ كے بارے ميں چارہ انديشي كي جائے ! حج كو اس سے كيا كام كہ مسلمان ايك عظيم طاقت اور دنيا كي تيسري قوت كے طور پر ابھريں ! حج كو اس سے كيا سروكار كہ مسلمانوں كو ايجنٹ حكومتوں كے خلاف ابھارا جائے بلكہ حج تو صرف كعبہ و مدينہ كي زيارت كے لئے ايك تفريحي سفر ھے۔ جبكہ حج انسان كي صاحب بيت سے قربت اور اس سے اتصال كے لئے ھے ۔ حج صرف چند حركات ، اعمال اور الفاظ كا نام نھيں ھے۔ خشك الفاظ و حركات كے ذريعے انسان اللہ تك نھيں پھونچ سكتا ۔ حج معارف اسلامي كا وہ مركز ھے كہ جس سے زندگي كے تمام زاويوں كے لئے سياست اسلامي كا مفھوم اخذ كرنا چاھئے ۔ حج مادي و روحاني رذائل سے پاك ايك معاشرے كي تشكيل كا پيغام ديتا ھے ،حج ايك انسان كي عشق آفريں زندگي كے تمام حصوں اور دنيا ميں ايك كمال يافتہ معاشرے كي تجلي و تكرار سے عبارت ھے ۔مناسك حج مناسك زندگي ھيں ۔ امت اسلامي كا تعلق كسي بھي نسل اور قوم سے ھو اسے ابراھيمي ھو جانا چاھئے تاكہ امت محمدي سے اس كا ارتباط ھو سكے اور وہ متحد ھوسكے ۔ حج توحيدي زندگي كي تنظيم اور تشكيل كا نام ھے ۔ حج مسلمانوں كي مادي و روحاني صلاحيتوں اور قوتوں كے اظھار كا مركز اور پيمائش كا معيار ھے ۔حج قرآن كي مانند ھے كہ جس سے سب بھرہ ھوتے ھيں ليكن مفكر ، غوّاص اور امت اسلامي كے درد آشنا اگر اس دريائے معارف ميںاتريں اور اس كے احكام و سياست اجتماعي كے قريب ھونے اور گھرائي ميں اترنے سے نہ ڈريں تو اس دريا كے صدف سے ھدايت ، رشد ، حكمت اور حريت كے بے بھاگوھر ان كے ھاتہ لگيں گے اور اس كي حكمت و معرفت كے آب شيريں سے تا ابد سيراب ھوتے رھيں گے ليكن كيا كيا جائے اور اس غم بے پاياں كو كھاں لے جايا جائے كہ حج قرآن ھي كي طرح مھجور و متروك ھو چكا ھے ۔ جيسے وہ كتاب زندگي اور صحيفھٴ كمال و جمال ھمارے خود ساختہ پردوں ميں پنھاں ھو چكا ھے اس خلقت كا يہ گنجينہ جس طرح ھماري كج فكريوں كے ڈھير ميں دفن اور پوشيدہ ھو چكا ھے  اور اس كي ھدايت زندگي اور حيات بخش فلسفہ فراموشي كا شكار ھو چكا ھے اسي طرح حج كا بھي يھي حال ھوا ھے ،لاكھوں مسلمان ھر سال مكہ جاتے ھيں ۔ رسول اكرم ، حضرت ابراھيم عليہ السلام ، حضرت اسماعيل عليہ السلام اور جناب ھاجرہ عليھا السلام كے نقش قدم پر اپنے قدم ركھتے ھيں ليكن كوئي نھيںھے كہ جو اپنے آپ سے پوچھے كہ ابراھيم عليہ السلام اور محمد (ص)   كون تھے اور انھوں نے كيا كيا ، ان كا مقصد كيا تھا اور وہ ھم سے كيا چاھتے تھے ؟ گويا جس ايك چيز كے بارے ميں نھيں سوچا جاتا وہ يھي ھے۔ يہ امر مسلم ھے كہ وہ حج جوبے روح و بے تحرك ھو ، جس ميں قيام نہ ھو ، جو بے برائت ھو ، جس ميں وحدت نہ ھو اور جس كے ذريعے كفر و شرك منھدم نہ ھو ،حج ھي نھيںھے ۔
مختصر يہ كہ تمام مسلمانوں كو چاھئے كہ حج اور قرآن كريم كے احياء كي كوشش كريں اور سعي كريں كہ يہ دونوں عرصھٴ حيات ميں لوٹ آئيں نيز اسلام كے فرض شناس محققين كو چاھئے كہ فلسفہ حج كي صحيح اور حقيقي تفسير پيش كر كے درباري علما ء كے خرافات پر مبني سارے تانے بانے دريا ميں اٹھا پھينكيں ۔
 
 
 
امام خميني (رھ) كي تقريروں سے ماخوذ جملے
 
اصولاً برائت از مشركين حج كے سياسي فرائض ميں سے ھے اور اس كے بغير ھمارا حج ،حج ھي نھيںھے ۔
حج كے موقع پر برائت از مشركين وہ سياسي ، عبادي پكار ھے كہ جس كا امر رسول اللہ  نے فرمايا ھے ۔
ھماري صدائے برائت ان سب لوگوں كي پكار ھے جو امريكہ كي فرعونيت اور اس كي ھوس اقتدار كو اب مزيد برداشت نھيں كر سكتے ۔
حج كے ان عظيم مناسك كا سب سے زيادہ مترو ك اور غفلت زدہ پھلو سياسي پھلو ھے خائنوں كا ھاتہ اسے متروك بنانے ميں سب سے زيادہ كار فرما رھاھے آج بھي اور آئندہ بھي رھے گا ۔
 جو درباري ملّايہ كھتے ھيں كہ حج كو سياسي پھلوؤں سے خالي ھونا چاھئے وہ رسول اللہ  كي مذمت كرتے ھيں ۔
آج عالم اسلام امريكہ كے ھاتھوں ميں اسير ھے۔ ھمارا فريضہ ھے كہ دنيا كے مختلف بر اعظموں ميں بسنے والے مسلمانوں كے لئے اللہ كا يہ پيغام لے جائيں كہ وہ خدا كے سوا كسي كي غلامي اور بندگي كو قبول نہ كريں ۔
حجر اسود كو بوسہ ديتے ھوئے اللہ سے بيعت كريں كہ ھم اس كے اوراسكے رسولوں كے ،صالحين كے اور حريت پسندوں كے دشمنو ں كے دشمن ھونگے ۔
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك