پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:581

سوم ذي الحجہ الحرام 1430

بسم اللہ الرحمن الرحيم
 
حج كا موسم عالم آفاق ميں توحيد كي ضوفشاني ،تابندگي ، نورانيت اور معنويت كي فصل بہار ہے؛ حج كا آئين ايسا صاف و شفاف چشمہ ہے جو حاجي كو غفلت اور گناہ كي آلودگيوں سےدور اور اسے پاك و پاكيزہ بناتا ہے خدا داد فطرت كي نورانيت كو اس كي روح وجاں ميں دوبارہ جلوہ گركرتا ہے۔ ميقات حج ميں فخر و مباہات كے لباس كو اتارنا اور سب كا ايك ہي رنگ ميں لباس احرام زيب تن كرنا ، امت اسلامي كي يكجہتي و يكرنگي كا مظہر اورپوري دنيا ميں مسلمانوں كے اتحاد واتفاق كا شاندار نمونہ ہے حج كا نعرہ ايك طرف: "فالھكم الہ واحد فلہ اسلموا وبشرالمخبتين" ، اور دوسري طرف ؛ "والمسجد الحرام الذي جعلنہ للناس سوآء العاكف فيہ والباد" كا آئينہ اور اسي طرح كعبہ كلمہ توحيد كي نمائندگي كے علاوہ توحيد كلمہ اور اسلامي برادري و برابري كا بھي مظہر ہے۔
دنيا كے گوشہ گوشہ سے جو مسلمان خانہ كعبہ كے طواف اور حرم پيغمبر اكرم (ص)كي زيارت كے ذوق و شوق سےجمع ہوئے ہيں  انھيں امت اسلامي كو درپيش دردناك مسائل اور عظيم چيلنجوں كا مقابلہ كرنے كے لئے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا اور باہمي اتحاد و يكجہتي كو مزيد مضبوط و مستحكم بنانا چاہيے۔ آج  اسلام دشمن عناصر كا ہاتھ امت اسلامي ميں تفرقہ و اختلاف پيدا كرنے كے لئے پہلےسے كہيں زيادہ آشكار اورمتحرك ہےجبكہ آج امت اسلامي كو اتحاد و يكجہتي  اور ہمدردي و ہمدلي كي پہلے سے كہيں زيادہ ضرورت ہے۔ آج اسلامي سرزمين پر خونخوار دشمن المناك حادثات كو جنم دے رہے ہيں؛ فلسطين صہيونيوں كے خونخوار پنجوں ميں مزيد درد و غم ميں مبتلا ہے؛ بيت المقدس كو زبردست خطرات كا سامنا ہے؛ غزہ كے مظلوم عوام بے رحمانہ قتل عام كے بعد بھي اسي طرح دردناك اورسخت و دشوار شرائط ميں زندگي بسر كررہےہيں؛افغانستان ميں غاصب و تسلط پسند طاقتيں ہرروز نئے مظالم كے پہاڑ توڑرہي ہيں؛ عراق ميں بد امني نے لوگوں سے آرام وسكون كو سلب كرليا ہے؛ يمن ميں برادركشي نے امت اسلاميہ كے دل پر ايك نيا داغ لگا ديا ہے۔
دنيا بھركے مسلمانوں كو غور و فكر كرنا چاہيےكہ حاليہ برسوں ميں عراق ، افغانستان اور پاكستان ميں رونما ہونے والي دہشت گردي ، بےگناہ لوگوں كا قتل عام، بم دھماكوں، جنگوں اور فتنوں كا جوبازار گرم ہے ان كي تكميل كي سازشيں اورمنصوبے كہاں تيار ہورہے ہيں؟ علاقہ ميں  امريكہ كي ظالم فوج كے تسلط اورداخلے سے قبل علاقہ كي مسلمان قوميں كيوں اس درد و رنج  و مصيبت ميں مبتلا نہ تھيں؟ تسلط پسند طاقتيں ايك طرف  فلسطين ، لبنان اور ديگر علاقوں ميں عوامي مزاحمتي تحريكوں كو دہشت گرد قرارديتي ہيں اور دوسري طرف علاقائي قوموں كے درميان قومي اور مذہبي منافرت پھيلانے والےدہشت گردوں كي حمايت اور راہنمائي كرتي ہيں ۔ مشرق وسطي اور شمالي افريقہ كي قوميں برطانيہ ، فرانس اور ديگر مغربي ممالك كے استعماري پنجوں ميں كئي برسوں تك ذلت و حقارت ميں جكڑي رہيں۔ انھوں نےان كے قدرتي وسائل كو تباہ و برباد كيا ، ان كے جذبہ آزادي كو بے رحمي كے ساتھ كچلا اور عرصہ دراز تك علاقائي قوميں غير ملكي حملہ آوروں كي حرص و طمع كا شكار رہيں ، جب اسلامي بيداري اور عوامي مزاحمتي تحريكوں كا آغاز ہوا اور جذبہ شوق شہادت، جہاد في سبيل اللہ اور الي اللہ جيسے بے مثال عوامل نے بين الاقوامي ستمگروں پر قافيہ حيات تنگ كيا تو استعماري طاقتوں نے مكارانہ پاليسيوں كو تبديل كركے اپني گذشتہ پاليسيوں كي جگہ نئي استعماري پاليسيوں كو اختيار كيا  اور اسلام كو شكست دينے كے لئے مختلف روپ دھارنے والا استعماري بھوت آج اپني تمام توانائيوں كو ليكر ميدان ميں اتر آيا ہے، فوجي طاقت ، آہني مٹھي ، آشكارا وغاصبانہ قبضہ، شيطاني تبليغات كا سلسلہ ،تمام ذرائع ابلاغ كے ذريعہ جھوٹے پروپيگنڈوں اور افواہوں كا منظم سلسلہ، طے شدہ منصوبہ كے تحت دہشت گردانہ قتل اورٹارگٹ كلنگ سے ليكر منشيات، بد اخلاقي كي تبليغ و ترويج ، جوانوں كے عزم و حوصلہ پر كاري ضرب اورمزاحمتي مراكز پر مكمل سياسي حملہ  اور مسلمان بھائيوں كے درميان قومي اور مذہبي منافرت اور تعصب كو ہوا دينا دشمن كي سازشوں كا اہم حصہ ہے۔
اگر امت اسلامي اور مسلمانوں كے درميان محبت ، حسن ظن ، ہمدردي اور ہمدلي پيدا ہوجائےاور تعصب و منافرت كي فضاختم ہوجائے تو دشمنوں كي سازشوں كا بہت بڑا حصہ خودبخود ختم اورغير مؤثر ہوجائے گا ، امت اسلامي پركنٹرول اور تسلط كا ان كا شوم منصوبہ نقش بر آب اور شكست سے دوچار ہوجائے گا۔
اس عظيم مقصد كو عملي جامہ پہنانےكے لئے حج ايك عظيم موقع ہے۔
مسلمان باہمي تعاون اور قرآن و سنت كے مشتركہ اصولوں پر عمل و اعتماد كرتے ہوئے طاقت اور قدرت حاصل كريں اورمختلف روپ دھارنے والے اس شيطاني عفريت كے مد مقابل كھڑے ہوجائيں ، اس كو اپنے ايماني جذبے اور پختہ عزم كے ذريعہ مغلوب بنائيں۔ حضرت امام خميني (رہ) كے دروس كي پيروي ميں اسلامي جمہوريہ ايران  كامياب مزاحمت كا اعلي اور شاندار نمونہ ہے۔ دشمنوں كو اسلامي جمہوريہ ايران ميں زبردست شكست ہوئي ۔ تيس برسوں تك سازش ،دشمني، 8 سالہ مسلط كردہ جنگ ، كودتا، اقتصادي پابندياں ، ايراني اثاثہ كا منجمد كرنا، نفسياتي و تبليغاتي جنگ، جديد علوم و ٹيكنالوجي ميں ايران كي پيشرفت و ترقي كو روكنے كي كوشش ، پرامن ايٹمي پروگرام كے سلسلے ميں گمراہ كن پروپيگنڈے ، حتي حاليہ انتخابات ميں آشكارا اور واضح مداخلت اورتمام  ديگر ميدانوں ميں دشمن كي تمام كوششيں شكست  و ناكامي سے دوچار ہوئي ہيں۔ قرآن مجيدكي يہ آيۃ: انّ كيدالشيطان كان ضعيفا" ايرانيوں كے سامنے دوبارہ مجسم ہوگئي۔ اور دنيا كے ہر گوشہ ميں عزم و ايمان پر مبني مزاحمت نے لوگوں كو مغرورو مستكبر دشمن كے سامنے پھرصف آرا كيا، مؤمنوں كو فتح وكاميابي اور ستمگروں كو ذلت و رسوائي نصيب ہوئي ، لبنان ميں 33 روزہ نماياں كاميابي، غزہ ميں حاليہ تين برسوں ميں كامياب اور سرافراز جہاد اس حقيقت كا زندہ ثبوت ہے۔
اس الہي وعدہ گاہ ميں حاضر ہونے والےتمام نيك و سعادتمند حاجيوں بالخصوص اسلامي ممالك كے خطباء ، علماء  اور حرمين شريفين كے خطباء جمعہ سے ميري استدعا ہے كہ وہ مسئلہ كا درست ادراك كريں اور آج اپني ذمہ داري كو اچھي طرح اور فوري  طور پر پہچان ليں ، اپني پوري قدرت وتوانائي كے ساتھ دشمنوں كي سازشوں سے اپنے سامعين  ومخاطبين كو آگاہ كريں اور عوام كو محبت و الفت اور اتحاد كا درس ديں  اور مسلمانوں كے درميان  بدگماني اور سوءظن پيدا كرنے والي ہربات سے پرہيز كريں ، جو بھي نعرہ وفرياد و فغاں ہے اس كو امت مسلمہ كے دشمنوں ، امريكہ اور صہيونزم كے خلاف زوردار آواز ميں بلند كريں اور اپنے قول و عمل كے ذريعہ مشركين سے برائت كا اظہاركريں۔
اللہ تعالي كي بارگاہ سے اپنے لئے اور آپ سب كے لئے رحمت و نصرت اور مدد طلب كرتا ہوں۔
والسلام عليكم
سيد علي حسيني خامنہ اي
سوم ذي الحجہ الحرام 1430
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك