پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:620

29 ذيقعدہ 1432

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ربّ العالمين وصلوات الله وتحياته على سيد الأنام محمد المصطفى وآله الطيبين وصحبه المنتجبين
اس وقت حج كي بہار اپني تمام تر روحاني شادابي و پاكيزگي اور خداداد حشمت و شكوہ كے ساتھ آن پہنچي ہے اور ايمان و شوق سے معمور قلوب، كعبہ توحيد اور مركز اتحاد كے گرد پروانہ وار محو پرواز ہيں۔ مكہ، منا، مشعر اور عرفات ان خوش قسمت انسانوں كي منزل قرار پائے ہيں جنہوں نے "واذن في الناس بالحج" كي آواز پر لبيك كہتے ہوئے خدائے كريم و غفور كي ضيافت ميں پہنچ كر سرفراز ہوئے ہيں۔ يہ وہي مبارك مكان اور ہدايت كا سرچشمہ ہے كہ جہاں سے اللہ تعالي كي بين نشانياں ساطح ہوتي ہيں اور جہاں ہر ايك كے سر پر امن و امان كي چادر كھنچي ہوئي ہے۔
دل كو ذكر و خشوع اور صفاء و پاكيزگي كے زمزم سے غوطہ ديں۔ اپني بصيرت كي آنكھ كو حضرت حق كي تابندہ آيات پر وا كريں۔ اخلاص و تسليم پر توجہ مركوز كريں كہ جو حقيقي بندگي كي علامت ہے۔ اس باپ كي ياد كو جو كمال تسليم و اطاعت كے ساتھ اپنے اسماعيل كو قربانگاہ تك لے كر گئے، بار بار اپنے دل ميں تازہ كيجئے۔ اس طرح اس روشن راستے كو پہچانئے جو رب جليل كي دوستي كے مقام تك پہنچنے كے لئے ہمارے لئے كھول ديا گيا ہے۔ مومنانہ ہمت اور صادقانہ نيت كے ساتھ اس جادے پر قدم ركھئے۔
مقام ابراہيم انہيں آيات بينات ميں سے ايك ہے۔ كعبہ شريف كے پاس ابراہيم عليہ السلام كي قدم گاہ آپ كے مقام و مرتبے كي ايك چھوٹي سي مثال ہے، مقام ابراہيم در حقيقت مقام اخلاص ہے، مقام ايثار ہے، آپ كا مقام تو خواہشات نفساني، پدرانہ جذبات اور اسي طرح شرك و كفر اور زمانے كے نمرود كے تسلط كے مقابل استقامت و پائيداري كا مقام ہے۔ نجات كے يہ دونوں راستے امت اسلامي سے تعلق ركھنے والے ہم سب افراد كے سامنے كھلے ہوئے ہيں۔ ہم ميں سے ہر ايك كي جرئت، بہادري اور محكم ارادہ اسے ان منزلوں كي طرف گامزن كر سكتا ہے جن كي طرف آدم سے ليكر خاتم تك تمام انبيائے الہي نے ہميں بلايا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں كے لئے دنيا و آخرت ميں عزت و سعادت كا وعدہ كيا ہے۔ امت مسلمہ كي اس عظيم جلوہ گاہ ميں، مناسب ہے كہ حجاج كرام عالم اسلام كے اہم ترين مسائل پر توجہ ديں۔ اس وقت تمام امور ميں سرفہرست بعض اہم اسلامي ممالك ميں برپا ہونے والا انقلاب اور عوامي قيام ہے۔ گذشتہ سال كے حج اور امسال كے حج كے درمياني عرصے ميں عالم اسلام ميں ايسے واقعات رونما ہوئے ہيں كہ جو امت مسلمہ كي تقدير بدل سكتے ہيں اور مادي و روحاني عزت و پيشرفت سے آراستہ ايك روشن مستقبل كي نويد بن سكتے ہيں۔ مصر، تيونس اور ليبيا ميں بد عنوان اور دوسروں پر منحصر ڈكٹيٹر تخت اقتدار سے گر چكے ہيں جبكہ بعض دوسرے ممالك ميں عوامي انقلاب كي خروشاں لہريں طاقت و دولت كے محلوں كو نابودي و ويراني كے خطرے سے دوچار كر چكي ہيں۔ 
ہماري امت كي تاريخ كے اس تازہ باب نے ايسے حقايق آشكارا كئے ہيں جو اللہ كي روشن نشانياں ہيں اور ہميں حيات بخش سبق دينے والے ہيں۔ ان حقايق كو اسلامي امہ كے تمام اندازوں اور منصوبوں ميں مد نظر ركھا جانا چاہئے۔
سب سے پہلي حقيقت تو يہي ہے كہ جو اقوام كئي دہائيوں سے غيروں كے سياسي تسلط ميں جكڑي ہوئي تھيں ان كے اندر سے ايسي نوجوان نسل سامنے آئي ہے جو اپنے تحسين آميز جذبہ خود اعتمادي كے ساتھ خطرات سے روبرو ہوئي ہے، جو تسلط پسند طاقتوں كے مقابلے پر آ كھڑي ہوئي ہے اور حالات كو دگرگوں كر دينے پر كمربستہ ہے۔ 
دوسري حقيقت يہ ہے كہ ان ملكوں ميں الحادي فكر كے حكمرانوں كي ريشہ دوانيوں اور تسلط كے باوجود، دين كو مٹا دينے كي خفيہ و آشكارا كوششوں كے باوجود اسلام اپنے پرشكوہ اور نماياں نفوذ و رسوخ كے ساتھ دلوں اور زبانوں كا رہنما بن گيا ہے اور دسيوں لاكھ كے مجمعے كي گفتار اور كردار ميں چشمے كي مانند جاري ہے اور ان كے اجتماعات و طرز عمل كو تازگي اور گرمي حيات عطا كر رہا ہے۔ گلدستہائے آذان، عبادت گاہيں، اللہ اكبر كي صدائيں اور اسلامي نعرے اس حقيقت كي كھلي ہوئي نشانياں اور تيونس كے حاليہ انتخابات اس حقيقت كي محكم دليل ہيں۔ بلاشبہ اسلامي ممالك ميں جہاں كہيں بھي غيرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات ہوں گے نتائج وہي سامنے آئيں گے جو تيونس ميں سامنے آئے۔
تيسري حقيقت يہ ہے كہ اس ايك سال كے دوران پيش آنے والے واقعات نے سب پر يہ واضع كر ديا ہے كہ خدائے عزيز و قدير نے اقوام كے عزم و ارادے ميں اتني طاقت پيدا كر دي ہے كہ كسي دوسري طاقت ميں اس كا مقابلہ كرنے كي جرئت و توانائي نہيں ہے۔ اقوام اسي خداداد طاقت كے سہارے اس بات پر قادر ہيں كہ اپني تقدير كو بدل ديں اور نصرت الہي كو اپنا مقدر بنا ليں۔ 
چوتھي حقيقت يہ ہے كہ استكباري حكومتيں اور ان ميں سر فہرست امريكي حكومت، كئي دہائيوں سے مختلف سياسي اور سيكورٹي كے حربوں كے ذريعے خطے كي حكومتوں كو اپنا تابع فرمان بنائے ہوئے تھي اور دنيا كے اس حساس ترين خطے پر بزعم خود اپنے روز افزوں اقتصادي، ثقافتي اور سياسي تسلط كے لئے ہر طرح كي ركاوٹوں سے محفوظ راستہ بنانے ميں كامياب ہو گئي تھيں، آج اس خطے كي اقوام كي نفرت و بيزاري كي آماجگاہ بني ہوئي ہيں۔
ہميں يہ اطمينان ركھنا چاہئے كہ ان عوامي انقلابوں كے نتيجے ميں تشكيل پانے والے نظام ماضي كي شرمناك صورت حال كو تحمل نہيں كريں گے اور اس خطے كا جيو پوليٹيكل رخ قوموں كے ہاتھوں اور ان كے حقيقي وقار و آزادي كے مطابق طے پائے گا۔ 
ايك اور حقيقت يہ ہے كہ مغربي طاقتوں كي منافقانہ اور عيارانہ طينت اس خطے كے عوام پر آشكارا ہو چكي ہے۔ امريكا اور يورپ نے جہان تك ممكن تھا مصر، تيونس اور ليبيا ميں الگ الگ انداز سے اپنے مہروں كو بچانے كي كوشش كي ليكن جب عوام كا ارادہ ان كي مرضي پر بھاري پڑا تو فتحياب عوام كے لئے عيارانہ انداز ميں اپنے ہوٹوں پر دوستي كي مسكراہٹ سجا لي۔ 
اللہ تعالي كي روشن نشانياں اور گراں قدر حقايق جو گذشتہ ايك سال كے عرصے ميں اس خطے ميں رونما ہوئے ہيں اس سے كہيں زيادہ ہيں اور صاحبان تدبر و بصيرت كے لئے ان كا مشاہدہ اور ادراك دشوار نہيں ہے۔ ليكن اس سب كے باوجود تمام امت مسلمہ اور خصوصا قيام كرنے والي اقوام كو دو بنيادي عوامل كي ضرورت ہے:
اول: استقامت كا تسلسل اور محكم ارادوں ميں كسي طرح كي بھي اضمحلال سے سخت اجتناب۔ قرآن مجيد ميں اپنے پيغمبر صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كے لئے اللہ كا فرمان ہے " فاستقم كما امرت و من تاب معك و لا تطغوا" اور " فلذلك فادع و استقم كما امرت" اور حضرت موسي عليہ السلام كي زباني " و قال موسي لقومہ استعينوا باللہ و اصبروا، ان الارض للہ يورثھا من يشاء من عبادہ و العاقبتہ للمتقين" قيام كرنے والي اقوام كے لئے موجودہ زمانے ميں تقوي كا سب سے بڑا مصداق يہ ہے كہ اپني مبارك تحريك كو ركنے نہ ديں اور خود كو اس وقت ملنے والي (وقتي) كاميابيوں پر مطمئن نہ ہونے ديں۔ يہ اس تقوي كا وہ اہم حصہ ہے جسے اپنانے والوں كو نيك انجام كے وعدے سے سرفراز كيا گيا ہے۔ 
دوم: بين الاقوامي مستكبرين اور ان طاقتوں كے حربوں سے ہوشيار رہنا جن پر ان عوامي انقلابوں سے ضرب پڑي ہے۔ وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ ركھ كر بيٹھ نہيں جائيں گے بلكہ اپنے تمام تر سياسي، مالي اور سيكورٹي سے متعلق وسايل كے ساتھ ان ممالك ميں اپنے اثر و رسوخ كو بحال كرنے كے لئے ميدان ميں اتريں گے۔ ان كا ہتھيار لالچ، دھمكي، فريب اور دھوكہ ہے۔ تجربے سے يہ ثابت ہو چكا ہے كہ خواص كے طبقے ميں بعض ايسے لوگ بھي ہوتے ہيں جن پر يہ ہتھيار كارگر ثابت ہوتے ہيں اور خوف، لالچ اور غفلت انہيں شعوري يا لاشعوري طور پر دشمن كي خدمت ميں لا كھڑا كرتے ہيں۔ نوجوانوں، روشنفكر دانشوروں اور علمائے دين كي بيدار آنكھيں پوري توجہ سے اس كا خيال ركھيں۔
اہم ترين خطرہ ان ممالك كے جديد سياسي نظاموں كي ساخت اور تشكيل ميں كفر و استكبار كے محاذ كي مداخلت اوراس كا اثر انداز ہونا ہے۔ وہ اپني تمام توانائيوں كو بروئے كار لاتے ہوئے يہ كوشش كريں گے كہ نو تشكيل شدہ نظام، اسلامي اور عوامي تشخص سے عاري رہيں۔ ان ممالك كے تمام مخلص افراد اور وہ تمام لوگ جو اپنے ملك كي عزت و وقار اور پيشرفت و ارتقاء كي آس ميں بيٹھے ہيں، اس بات كي كوشش كريں كہ نئے نظام كي عوامي اور اسلامي پہچان پوري طرح يقيني ہو جائے۔ اس پورے مسئلے ميں آئين كا كردارسب سے نماياں ہے۔ قومي اتحاد اور مذہبي، قبايلي و نسلي تنوع كو تسليم كرنا، آيندہ كاميابيوں كي اہم شرط ہے۔
مصر، تيونس اور ليبيا كي شجاع اور انقلابي قوميں نيز دوسرے ممالك كي بيدار مجاہد اقوام كو يہ جان لينا چاہئے كہ امريكا اور ديگر مغربي مستكبرين كے مظالم اور مكر و فريب سے ان كي نجات كا انحصار اس پر ہے كہ دنيا ميں طاقت كا توازن ان كے حق ميں قائم ہو۔ مسلمانوں كو دنيا كو ہڑپ جانے كے لئے كوشاں ان طاقتوں سے اپنے تمام مسائل سنجيدگي سے طے كرنے كے لئے ضروري ہے كہ خود كو ايك عظيم عالمي طاقت ميں تبديل كريں اور يہ اسلامي ممالك كے اتحاد، ہمدلي اور باہمي تعاون كے بغير ممكن نہيں ہے۔ يہ عظيم الشان امام خميني كي ناقابل فراموش نصيحت بھي ہے۔ 
امريكا اور نيٹو، خبيث ڈكٹيٹر قذافي كے بہانے كئي ماہ تك ليبيا اور اس كے عوام پر آگ برساتے رہے جبكہ قذافي وہ شخص تھا جو عوام كے جراتمندانہ قيام سے پہلے تك ان (مغربي طاقتوں) كے قريبي ترين دوستوں ميں شمار ہوتا تھا، وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھيں، اس كي مدد سے ليبيا كي دولت لوٹ رہي تھيں اور اسے بے وقوف بنانے كے لئے اس كے ہاتھ گرم جوشي سے دباتي تھيں يا اس كا بوسہ ليتي تھيں۔ عوام كے انقلاب كے بعد اسي كو بہانہ بنا كر ليبيا كے پورے بنيادي ڈھانچے كو ويران كركے ركھ ديا۔ كون سي حكومت ہے جس نے نيٹو كو عوام كے قتل عام اور ليبيا كي تباہي جيسے الميے سے روكا ہو؟ جب تك وحشي اور خون خوار مغربي طاقتوں كے پنجے مروڑ نہيں ديئے جاتے اس وقت تك اس طرح كے انديشے قائم رہيں گے۔ ان خطرات سے نجات، عالم اسلام كا طاقتور بلاك تشكيل ديئے بغير ممكن نہيں ہے۔
مغرب، امريكا اور صيہونيت ہميشہ كي نسبت آج زيادہ كمزور ہيں۔ اقتصادي مشكلات، افغانستان و عراق ميں پے در پے ناكامياں، امريكہ اور ديگر مغربي ممالك ميں عوام كے گہرے اعتراضات جو روز بروز وسيع تر ہو رہے ہيں، فلسطين و لبنان كے عوام كي جانفشاني و مجاہدت، يمن، بحرين اور بعض دوسرے امريكا كے زير اثر ممالك كے عوام كا جراتمندانہ قيام، يہ سب كچھ امت مسلمہ اور بالخصوص جديد انقلابي ممالك كے لئے بشارتيں ہيں۔ پورے عالم اسلام اور خصوصا مصر، تيونس اور ليبيا كے باايمان خواتين و حضرات نے بين الاقوامي اسلامي طاقت كو وجود ميں لانے كے لئے اس موقعہ كا بنحو احسن استعمال كيا۔ تحريكوں كے قائدين اور اہم شخصيات كو چاہئے كہ خداوند عظيم پر توكل اور اس كے وعدہ نصرت و مدد پر اعتماد كريں اور امت مسلمہ كي تاريخ كے اس نئے باب كو اپنے جاودانہ افتخارات سے مزين كريں جو رضائے پروردگار كا باعث اور نصرت الہي كي تمہيد ہے۔
والسلام علي عباد اللہ الصالحين
سيد علي حسيني خامنہ اي
5 آبان 1390
29 ذيقعدہ 1432
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك