پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:577

5 ذي الحجہ الحرام 1433

 ولي امر مسلمين حضرت آيۃ اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي مد ظلہ العالي كا حجاج بيت اللہ الحرام كے نام پيغام ۵ ذي الحجۃ ۱۴۳۳۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحيم 
«الحمد للہ رب العالمين و صلوات اللہ و سلامہ علي الرسول الاعظم الامين و علي آلہ المطھرين المنتجبين و صحبہ الميامين»
 
رحمت و بركت سے لبريز حج كا موسم آپہنچا ہے اور ايك بار پھر سعادتمندوں كو اس نوراني وعدہ گاہ ميں حاضر ہونے كا شرف حاصل ہوا ہے، تاكہ فيض الہي سے مستفيذ ہوجائيں۔ يہاں پر زمان و مكان، حج بجا لانے والے فرد فرد كو مادي اور معنوي كمال حاصل كرنے كي دعوت ديتا ہے۔ يہاں پر مسلمان مرد اور خواتين فلاح و نجات كے ليےخداوند متعال كي دعوت كو دل و جان سے لبيك كہتے ہيں۔ يہاں پر تمام لوگوں كو برادري ، يكجہتي اور پرھيز گاري كي مشق كرنے كا موقع فراہم ہوتا ہے ، يہ تعليم و تربيت كا كيمپ ہے، يہ امت اسلاميہ كي وحدت و عظمت اور كثرت كي نمائشگاہ ہے اور شيطان و طاغوت سے لڑنے كا ميدان كار زار ہے ، اس جگہ كو خداوند حكيم اور قدير نے ايك ايسي سرزمين قرار ديا ہے جہاں پر مومنين اپنے منافع كا مشاھدہ كريں گے۔ جب ہم عقل و عبرت كي آنكھيں كھوليں گے تو اس وعدہ الہي كا مشاھدہ كريں گے كہ جس نے ہماري انفرادي اورسماجي زندگي كو اپنے احاطہ ميں قرار ديا ہے۔ حج كے شعائر دنيا و آخرت اور فرد و سماج كا سنگم ہيں۔ بے آرايش اور با شكوہ كعبہ، اس مستحكم اور ابدي محور كے گرد جسموں اور دلوں كا طواف، ايك ابتداء اور انتہاء كے درميان مسلسل سعي و كوشش ، ميدان محشر كے مانند عرفات و مشعر كي طرف انساںوں كے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر كا روانہ ہونا اور يہاں پر دلوں كو جلا و تازگي كا حاصل ہونا، شيطان كي علامت سے مقابلہ كرنے كے ليے لوگوں كا ہجوم اور سب لوگوں كا ايك ساتھ ان با معني اور پر اسرار آداب و رسوم كو بجالانا، اس فريضہ الہي كي بے مثال اورمعني خيز خصوصيتيں ہيں۔
يہ ايسے مراسم ہيں جو دلوں كو بھي ياد خدا سے ملاتے ہيں اور انسان كے دل كو تقوي اور ايمان كے نور سے بھي منور كرتے ہيں، اور انسان كو خود پسندي كے قيد سے رہائي بخشتے ہيں اور اسے امت اسلاميہ كے اجتماع ميں ضم كرتے ہيں، اس كے علاوہ اس كي جان كو گناہ كے زہرآلود تيروں سے بچنے كے لئے پرہيزگاري كا لباس بھي زيب تن كرتے ہيں اور اس ميں شياطين اور طاغوتوں كے خلاف نبرد آزما ہونے كا جذبہ بھي پيدا كرتے ہيں۔ يہاں پر حاجي امت مسلمہ كي بے پناہ وسعت و قدرت كا مشاھدہ كرتا ہے اور اسے اس امت كي ظرفيت اور طاقت كا اندازہ بھي معلوم ہوتا ہے اور اس ميں مستقبل كي اميد پيدا ہوتي ہے اور اس راہ ميں اپنا فريضہ ادا كرنے كي آمادگي كا احساس پيدا ہوتا ہےاور اگر اسے الہي مدد اور توفيق حاصل ہوجائے تو اپنے پيغمبر عظيم الشان صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے دوبارہ بيعت اور دين اسلام سے پائيداري كے ساتھ عہد و پيمان كرتا ہے اور اپني اور اپني امت كي بہتري اور اسلام كي سر بلندي كے ليے اپنے اندر مستحكم عزم و ارادہ پيدا كرتا ہے۔
يہ دونوں چيزيں ، يعني اصلاح خودي اور اصلاح امت دو ايسے فرائض ہيں كہ مسلمان ان سے كبھي بھي چشم پوشي نہيں كر سكتے ہيں۔ اس سلسلہ ميں اہل تدبير كے ليے ديني فرائض پر سنجيدگي سے عمل كرنا اور عقل و بصيرت سے كام لينا مشكل نہيں ہے۔ اصلاح خودي، شيطاني خواہشوں سے مقابلہ كرنے اور گناہ سے بچنے كي كوششوں سے شروع ہوتي ہے۔ امت كي اصلاح دشمن اور اس كي سازشوں كو پہچاننے اور اس كے دشمنانہ حملوں اور ريشہ دوانيوں كو بے اثر كرنےكي مجاہدت اور اس كے بعد فرد فرد مسلمان اور مسلم اقوام كے درميان اتحاد و يكجہتي اور ان كے دلوں كو ايك دوسرے كے قريب لانے سے حاصل ہوتي ہے۔
آج، عالم اسلام كے اہم ترين مسائل ميں ،جو امت اسلاميہ كي تقدير سے پيوست ہوچكے ہيں، شمالي افريقہ اور مشرق وسطي ميں رونما ہونے والے انقلابي حوادث ہيں، جن كے نتيجہ ميں اب تك كئي فاسد، امريكہ كے كٹھ پتلي اور صہيونزم كے حامي حكمران سرنگون ہوچكے ہيں اور اس طرح كي دوسري حكومتيں بھي متزلزل ہورہي ہيں، اگر مسلمان اس عظيم موقع كو كھوديں اور اس سے ملت اسلاميہ كي فلاح و بہبود كے ليے استفادہ نہ كريں، تو وہ ايك خسران عظيم ہوگا۔ اس وقت، جارح اور مداخلت كرنے والي سامراجي طاقتيں ان عظيم اسلامي تحريكوں كو منحرف كرنے كي سرتوڑ كوششيں كررہي ہيں۔
ان عظيم انقلابوں ميں ، مسلمان مرد اور خواتين، ان مطلق العنان حكمرانوں اور امريكي تسلط كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے ہيں، جنہوں نے مسلمان قوموں كو ذليل كرنے كےليے ظالم صہيوني حكمرانوں كے ساتھ گٹھ جوڑ كيا تھا۔ يہ مسلمان ، اس موت و حيات كے جہاد ميں اپني نجات ، اسلامي تعليمات اور اس كے حيات بخش قدروں ميں جانتے ہيں اور انہوں نے اس كا كھلم كھلا اعلان بھي كيا ہے۔ انہوں نے مظلوم فلسطيني قوم كے دفاع اور غاصب صہيوني حكومت سے مقابلہ كو اپنے مطالبات كے ليے سرمشق قرار ديا ہے اور انہوں نے مسلمانوں كي طرف دوستي كا ہاتھ بڑھا كر امت مسلمہ كے اتحاد و اتفاق كا مطالبہ كيا ہے ۔
يہ ان ممالك ميں عوامي انقلابوں كے بنيادي اصول ہيں جن كے لئے حاليہ دو برسوں كے دوران علاقہ كے عوام ، اصلاح و حريت كے پرچم كو بلند كركے جان كي بازي لگا كر، انقلاب كے ليے ميدان ميں كود پڑے ہيں اور يہي اصول امت مسلمہ كي اصلاح كي بنادوں كو مستحكم كرسكتے ہيں۔ ان بنيادي اصولوں پر استقامت كرنا ان ممالك ميں عوامي انقلابوں كو كاميابي سے ہمكنار كرنے كي ضروري شرط ہے۔
دشمن ان ہي اصولوں كي بنيادوں كو متزلزل كرنے كي كوشش ميں لگا ہوا ہے ۔ امريكہ ، نيٹو ، اور صہيونزم كے فاسد عوامل مسلمانوں كي بعض غفلتوں اور سطحي سوچ سے ناجائز فائدہ حاصل كرتے ہوئے مسلمان نوجواںوں كي ان طوفاني تحريكوں كے رخ كو موڑ كر اسلام كے نام پر انھيں ايك دوسرے كے خون كے پياسے بنانا چاھتے ہيں اور استعمار اور صيہونزم كے خلاف جہاد كو عالم اسلام كي گلي كوچوں ميں دہشت گردي اور تشدد ميں تبديل كركے مسلمانوں كے ہاتھوں مسلمانوں كا خون بہانا چاہتے ہيں تا كہ اس طرح اسلام كے دشمن آساني كے ساتھ اسلام اور مجاہدين اسلام كے چہرے كو مسخ كركے اپني نجات كي راہ ہموار كرسكيں۔ 
اسلام كے دشمن، اسلام اور اسلامي اقدار كو مٹانے ميں ناكام اور نا اميد ہونے كے بعد اب اسلامي فرقوں كے درميان فتنہ انگيزي اور نفرت پھيلانے كے در پے ہيں اور اہل سنت ميں شيعوں كا خوف و ہراس اور شيعوں ميں سنيوں كا خوف و ہراس پھيلانے كي ريشہ دوانيوں سے امت اسلاميہ كے اتحاد و اتفاق كي راہ ميں ركاوٹيں ڈال رہے ہيں۔
اسلام دشمن،سامراجي طاقتيں، مشرق وسطي ميں اپنے كارندوں اور ايجنٹوں كي مدد سے شام ميں بحران پيدا كررہے ہيں تا كہ مسلم اقوام كے ذھنوں كو ان كے ملك كے اہم مسائل اور ان كو در پيش خطرات سے منحرف كركے ان كي توجہ كو شام ميں ان ہي دشمنوں كي عمدا پيدا كي گئي خوني جھڑپوں كي طرف مشغول كريں۔ شام كي داخلي جنگ اور مسلمان نوجوانوں كا ايك دوسرے كو قتل كرنا ، امريكہ ، صہيونزم اور ان كي فرمانبردار حكومتوں كے ذريعہ شروع كيا گيا ہے اور اس آگ كو مزيد شعلہ ور كيا جا رہا ہے ، كون اس بات كو تسليم كرسكتا ہے كہ مصر ، ٹيونس ، اور ليبيا كي ڈكٹيٹر حكومتوں كي ہميشہ حمايت كرنے والے آج شام ميں جمہوريت كا مطالبہ كرنے والے بن گئے ہيں؟۔ شام كا مسئلہ ايك ايسي حكومت سے انتقام لينے كا مسئلہ ہے كہ جو گزشتہ تين دہائيوں سے غاصب صيہونيوں كے مقابلے ميں تن تنہا مقابلہ كررہي ہے اور فلسطين اور لبنان كے مزاحمت كرنے والے گروہوں كا دفاع كرتي رہي ہے۔ 
ہم شام كي ملت كے حامي ہيں اور اس ملك ميں ہر قسم كي بيروني مداخلت اور تشدد پھيلانے كے مخالف ہيں، اس ملك ميں ہر قسم كي اصلاح خود وہاں كے عوام كے ذريعہ اور مكمل طور پر قومي طريقوں سے انجام پاني چاہيئے- اس وقت عالمي سامراجي طاقتيں علاقہ كي اپني كٹھ پتلي حكومتوں كي مدد سے ايك ملك ميں بحران پيدا كررہي ہيں اور اس بحران كے بہانہ سے اپنے لئے اس ملك ميں ہر ظلم و بربريت كا مرتكب ہونا جائز سمجھتي ہيں، يہ ايك زبردست خطرہ ہے كہ اگر مشرق وسطي كي حكومتيں اس كي طرف توجہ نہ كريں تو انھيں اس كے بعد اسي سامراجي سازش كا شكار ہونے كے ليے تيار رہنا چاہئے۔
ميرے بھائيو اور بہنو ! موسم حج ، عالم اسلام كے اہم مسائل پر غور و فكر كرنے كي فرصت فراھم كرتا ہے -علاقہ كے انقلابوں كي تقدير اور ضرب كھائي ہوئي بڑي طاقتوں كي طرف سے ان انقلابوں كو منحرف كرنے كي كوششيں ان اہم مسائل ميں شمار ہوتي ہيں۔ مسلماںوں كے درميان اختلاف پھيلانے كي مذموم سازشيں اور تازہ بيدار ہونے والے ممالك ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے بارے ميں غلط فہمي اور بد ظني پھيلانا، فلسطين كے مسئلہ اور مجاہدين كو منزوي كرنے كي كوششيں اور فلسطيني كے جہاد كو ختم كرنےكے ليے اسلام كے خلاف مغربي ممالك كا پروپگنڈا اور ان كي جانب سے پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم كي مقدس شان ميں گستاخي كرنے والوں كي حمايت كرنا، اور مسلم ممالك ميں داخلي جنگوں كے لئے راہ ہموار كرنا اور بعض مسلم ممالك كو ٹكڑَے ٹكڑے كرنا ، انقلابي حكومتوں اور قوموں كو مغربي سامراجي طاقتوں كي مخالفت كرنے سے ڈرانا، اور اس باطل خيال كي ترويج كرنا كہ مستقبل ميں اںھيں ضرور ان اسلام دشمن سامراجي طاقتوں كے سامنے ہتھيار ڈالنا ہوگا اور اس قسم كے دوسرے مسائل ، ايسے اہم اور حياتي مسائل شمار ہوتے ہيں ، كہ حج كے دوران حجاج كرام كو ان كے بارے ميں ہمدردي اور يكجہتي كے سائے ميں مل بيٹھ كر غور و فكر كرنا چاھيئے۔
يقينا خداوند متعال كي ہدايت اور مدد، كوشش كرنے والے مومنوں كے لئے امن وسلامتي كي راہوں كي نشاندہي كرے گي 
"و الذين جاھدوا فينا لنھدينھم سبلنا۔۔۔۔"
 
 
و السلام عليكم و رحمۃ و بركاتہ 
سيد علي خامنہ اي 
۵ ذي الحجۃ ۱۴۳۳، مطابق ، ۲۱ اكتوبر ۲۰۱۲ ء 
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك