پيام امام و رهبري
صارفین کی تعداد:656

5 ذي الحجہ الحرام 1434

بسم الله الرحمن الرحيم
والحمدلله رب العالمين و الصلوة والسلام علي سيدالانبياء و المرسلين و علي آله الطيبين و صحبه المنتجبين
موسم حج كي آمد كو امت اسلاميہ كي عظيم عيد سمجھنا چاہئے۔ ہر سال يہ گراں قدر ايام  دنيا بھر كے مسلمانوں كو جو سنہري موقعہ فراہم كرتے ہيں وہ ايسا كرشماتي كيميا ہے كہ اگر اس كي قدر و قيمت كو سمجھ ليا جائے اور اس سے كما حقہ استفادہ كيا جائے تو عالم اسلام كے بہت سے مسائل اور كمزوريوں كا علاج ہو سكتا ہے۔
حج فيضان الہي كا چشمہ خروشاں ہے۔ آپ خوش قسمت حاجيوں ميں ہر ايك كو اس وقت يہ خوش قسمتي حاصل ہوئي ہے كہ نورانيت و روحانيت سے معمور ان مناسك و اعمال كے دوران دل و جان كي طہارت كركے اس رحمت و عزت و قدرت كے سرچشمے سے اپني پوري زندگي كے لئے سرمايہ حاصل كريں۔ خدائے رحيم كے سامنے خشوع اور خود سپردگي، مسلمانوں كے دوش پر ڈالے جانے والے فرائض كي پابندي، دين و دنيا كے امور ميں نشاط و عمل و اقدام، بھائيوں كے سلسلے ميں رحمدلي و درگزر، سخت حوادث كا سامنا ہونے پر جرائت و خود اعتمادي، ہر جگہ ہر شئے كے سلسلے ميں نصرت خداوندي كي اميد، مختصر يہ كہ تعليم و تربيت كے اس ملكوتي ميدان ميں مسلمان كہلانے كے لايق انسان كي تعمير و نگارش كو آپ اپنے لئے بھي مہيا كر سكتے ہيں اوراپنے وجود كو  ان زيوروں سے آراستہ اور ان ذخيروں سے مالامال كركے   اپنے وطن اور اپني قوم كے لئے اور سرانجام امت اسلاميہ كے لئے بطور سوغات لے جا سكتے ہيں۔
آج امت اسلاميہ كو سب سے بڑھ كر ايسے انسانوں كي ضرورت ہے جو ايمان و پاكيزگي و اخلاص كے ساتھ ساتھ فكر و عمل اور روحاني و معنوي خود سازي كے ساتھ ساتھ كينہ توز دشمنوں كے مقابل جذبہ استقامت سے آراستہ ہو۔ يہ مسلمانوں كے اس عظيم معاشرے كي ان مصيبتوں سے رہائي كا واحد راستہ ہے جن ميں وہ آشكارا طور پر دشمنوں كے ہاتھوں يا قديم ادوار سے قوت ارادي، ايمان اور بصيرت كي كمزوري كے نتيجے ميں گرفتار ہے۔
بيشك موجودہ دور مسلمانوں كي بيداري اور تشخص كي بازيابي كا دور ہے۔ اس حقيقت كو ان مسائل كے ذريعے بھي واضح طور پر سمجھا جا سكتا ہے جن سے مسلمان ممالك آج دوچار ہيں۔ ايسے ہي حالات ميں ايمان و توكل علي اللہ، بصيرت اور تدبير پر استوار عزم و ارادہ مسلم اقوام كو ان مسائل سے   كاميابي اور سرخروئي كے ساتھ نكال  سكتا ہے اور ان كے مستقبل كو عزت و وقار سے آراستہ كر سكتا ہے۔ مد مقابل محاذ جو كسي صورت ميں بھي مسلمانوں كي بيداري كو برداشت كرنے پر تيار نہيں ہے، اپني پوري توانائي كے ساتھ ميدان ميں اتر پڑا ہے اور مسلمانوں كو كچلنے، پسپا كرنے اور آپس ميں الجھا دينے كے لئے تمام نفسياتي، عسكري، اقتصادي، تشہيراتي اور سيكورٹي كے شعبے سے مربوط حربوں كو استعمال كر رہا ہے۔ پاكستان اور افغانستان سے ليكر شام، عراق، فلسطين اور خليج فارس كے ملكوں تك مغربي ايشيا كي تمام رياستوں، نيز شمالي افريقا ميں ليبيا، مصر اور تيونس سے ليكر سوڈان اور بعض ديگر ممالك تك تمام ملكوں پر ايك نگاہ ڈالنے سے بہت سے حقائق واضح ہو جاتے ہيں۔ خانہ جنگي، اندھا ديني و مسلكي تعصب، سياسي عدم استحكام، بے رحمانہ دہشت گردي كي ترويج، ايسے گروہوں اور حلقوں كا ظہور جو تاريخ كي وحشي قوموں كے انداز ميں انسانوں كے سينے چاك كرتے ہيں، ان كا دل نكال كر دانتوں سے بھنھوڑتے ہيں، وہ مسلح عناصر جو بچوں اور خواتين كو قتل كرتے ہيں، مردوں كے سر قلم كرتے ہيں اور ان كي ناموس كي آبروريزي  كرتے  ہيں، ستم بالائے ستم يہ ہے  كہ بعض مواقع پر يہ شرمناك اور نفرت انگيز جرائم دين كے نام پر اور پرچم دين كے تلے انجام ديتے ہيں، يہ سب كچھ اغيار كي خفيہ ايجنسيوں اور علاقے ميں ان كے ہمنوا حكومتي عناصر كي شيطاني اور سامراجي سازشوں كا نتيجہ ہے جو ملكوں كے اندر موافق مقامات پر وقوع پذير ہونے كا امكان حاصل كر ليتي ہيں اور قوموں كا مقدر تاريك اور ان كي زندگي كو تلخ كر ديتي ہيں۔ يقينا ان حالات ميں يہ توقع نہيں ركھي جا سكتي كہ مسلمان ممالك روحاني و مادي خلا كو پر كريں گے اور امن و سلامتي، رفاہ آسائش، علمي ترقي اور عالمي ساكھ كو جو بيداري اور تشخص كي بازيابي كا ثمرہ ہے حاصل كر سكيں گے۔ يہ پرمحن حالات اسلامي بيداري كو ناكام  اور عالم اسلام ميں ذہني اور نفسياتي سطح پر پيدا ہونے والي آمادگي كو ضائع كر سكتے ہيں اور ايك بار پھر برسوں كے لئے مسلم اقوام كو جمود و تنہائي اور انحطاط كي جانب دھكيل كر ان كے كليدي مسائل جيسے امريكا اور صيہونزم كي مداخلتوں اور جارحيتوں سے فلسطين اور مسلم اقوام كي نجات كے موضوع كو فراموش كروا سكتے ہيں۔
اس كے بنيادي اور اساسي حل كو دو كليدي جملوں ميں بيان كيا جا سكتا ہے اور يہ دونوں ہي حج كے نماياں ترين درس ہيں:۔
اول: پرچم توحيد كے نيچے تمام مسلمانوں كا اتحاد اور اخوت
دوم: دشمن كي شناخت اور اس كي چالوں اور سازشوں كا مقابلہ
اخوت و ہمدلي كے جذبے كي تقويت حج كا عظيم درس ہے۔ يہاں دوسروں كے ساتھ بحث و تكرار اور تلخ كلامي بھي ممنوع ہے۔ يہاں يكساں پوشاك، يكساں اعمال، يكساں حركات و سكنات اور محبت آميز برتاؤ ان تمام لوگوں كي برادري و مساوات كے معني ميں ہے جو اس مركز توحيد پر عقيدہ ركھتے ہيں اور قلبي طور پر اس سے وابستہ ہيں۔ يہ ہر اس فكر و عقيدے اور پيغام پر اسلام كا دو ٹوك جواب ہے جس ميں مسلمانوں اور كعبہ و توحيد پر عقيدہ ركھنے والوں كے كسي گروہ كو دائرہ اسلام سے خارج قرار ديا جاتا ہے۔ تكفيري عناصر جو آج عيار صيہونيوں اور ان كے مغربي حاميوں كي سياست كا كھلونا بن كر ہولناك جرائم كا ارتكاب كر رہے ہيں اور مسلمانوں اور بے گناہوں كا خون بہا رہے ہيں اور دينداري كے دعوے كرنے والے اور علماء كا لباس پہننے والے وہ افراد جو شيعہ و سني تنازعے يا ديگر اختلافات كي آگ بھڑكا رہے ہيں، يا بات جان ليں كہ خود مناسك حج ان كے دعوے پر خط بطلان كھينچتے ہيں۔
كتني  حيرت كي بات ہے! وہ لوگ جو برائت از مشركين كے عمل كو جو پيغمبر اعظم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم كي سنت سے وابستہ عمل ہے ممنوع بحث و تكرار قرار ديتے ہيں، خود مسلمانوں كے درميان خونريز تنازعات پيدا كرنے ميں سب سے موثر عناصر بنے ہوئے ہيں۔
بہت سے علمائے اسلام اور امت اسلاميہ كا درد ركھنے والے افراد كي طرح ميں بھي ايك بار پھر يہ اعلان كرتا ہوں كہ ہر وہ قول و فعل جو مسلمانوں كے درميان اختلافات كے شعلہ ور ہو جانے كا باعث بنے، نيز مسلمانوں كے كسي بھي فرقے كے مقدسات كي توہين يا كسي بھي اسلامي مسلك كو كافر قرار دينا كفر و شرك كے محاذ كي خدمت، اسلام سے خيانت اور شرعا حرام ہے۔
دشمن اور اس كي روش كي شناخت دوسرا اہم نكتہ ہے۔ سب سے پہلي بات يہ ہے كہ كينہ پرور دشمن كے وجود كو كبھي بھي فراموش نہيں كرنا چاہئے اور حج ميں چند بار انجام پانے والا رمي جمرات كا عمل اس دائمي توجہ كا علامتي عمل ہے۔ دوسرے يہ كہ اصلي دشمن كي شناخت ميں جو آج عالمي استكبار اور جرائم پيشہ صيہوني نيٹ ورك كي صورت ميں ہمارے سامنے ہے، كبھي غلطي نہيں كرنا چاہئے۔ تيسري بات يہ ہے كہ اس كٹر دشمن كي چالوں كو جو مسلمانوں كے درميان تفرقہ  انگيزي، سياسي و اخلاقي بدعنواني كي ترويج، دانشوروں كو رجھانے اور ڈرانے، قوموں پر اقتصادي دباؤ اور اسلامي عقائد كے سلسلے ميں شكوك و شبہات پيدا كرنے سے عبارت ہيں بخوبي پہچاننا چاہئے اور اسي طريقے سے دانستہ يا غير دانستہ طور پر اس كے مہروں ميں تبديل ہو جانے والے عناصر كي بھي نشاندہي كر لينا چاہئے۔
استكباري حكومتيں اور ان ميں سر فہرست امريكا وسيع و پيشرفتہ ذرائع ابلاغ كے ذريعے اپنے اصلي چہرے كو چھپا ليتے ہيں اور انساني حقوق اور جمہوريت كي پاسباني كے دعوؤں سے قوموں كي رائے عامہ كے سامنے فريب دينے والا برتاؤ كرتے ہيں۔ وہ ايسے عالم ميں اقوام كے حقوق كا دم بھرتے ہيں كہ جب مسلم اقوام ہر دن اپنے جسم و جان سے ان كے فتنوں كي آگ كي تمازت كا پہلے سے زيادہ احساس كرتي ہيں۔ مظلوم فلسطيني قوم پر ايك نظر جو دسيوں سال سے روزانہ صيہوني حكومت اور اس كے حاميوں كے جرائم كے زخم كھا رہي ہے۔ يا افغانستان، پاكستان و عراق جيسے ممالك پر ايك نظر جہاں استكبار اور اس كے علاقائي ہمنواؤں كي پاليسيوں كي پيدا كردہ دہشت گردي  سے زندگي تلخ ہوكر رہ گئي ہے۔ يا شام پر ايك نظر جو صيہونيت مخالف مزاحمتي تحريك كي پشت پناہي كے جرم ميں بين الاقوامي تسلط پسندوں اور ان كے علاقائي خدمت گزاروں كے كينہ پرستانہ حملوں كي آماجگاہ بنا ہے اور خونريز خانہ جنگي ميں گرفتار ہے، يا بحرين يا ميانمار پر ايك نظر جہاں الگ الگ انداز سے مصيبتوں ميں گرفتار بے اعتنائي كا شكار ہيں اور ان كے دشمنوں كي حمايت كي جا رہي ہے۔ يا يا ديگر اقوام پر ايك نظر جنہيں امريكا اور اس كے اتحاديوں كي جانب سے پے در پے فوجي حملوں، يا اقتصادي پابنديوں، يا سيكورٹي كے شعبے سے متعلق تخريبي كارروائيوں كے خطرات لاحق ہيں، تسلط پسندانہ نظام كے عمائدين كے اصلي چہرے سے سب كو روشناس كرا سكتي ہے۔
عالم اسلام ميں ہر جگہ سياسي، ثقافتي اور ديني شخصيات كو چاہئے كہ ان حقائق كے افشاء كي ذمہ داري كا احساس كريں۔  يہ ہم سب كا ديني اور اخلاقي فريضہ ہے ۔شمالي افريقا كے ممالك جو بد قسمتي سے ان دنوں گہرے داخلي اختلافات كي لپيٹ ميں ہيں، دوسروں سے زيادہ اپني عظيم ذمہ داري يعني دشمن، اس كي روش اور اس كے حربوں كي شناخت پر توجہ ديں۔ قومي جماعتوں اور دھڑوں كے درميان اختلافات كا جاري رہنا اور ان ملكوں ميں خانہ جنگي كے انديشے غفلت  ايسا بڑا خطرہ ہے كہ اس سے امت اسلاميہ كو پہنچنے والے نقصانات كا جلدي تدارك نہيں ہو پائے گا۔
البتہ ہم كو اس بات ميں كوئي شك و شبہ نہيں ہے كہ اس علاقے كي انقلابي قوميں جہاں اسلامي بيداري مجسم ہو چكي ہے، اذن پروردگار سے يہ موقعہ نہيں ديں گي كہ وقت كي سوئي برعكس سمت ميں گھومے اور بدعنوان، پٹھو اور ڈكٹيٹر حكمرانوں كا دور واپس آئے، ليكن فتنہ انگيزي اور تباہ كن مداخلتوں ميں استكباري طاقتوں كي كردار كي جانب سے غفلت ان كي مہم كو دشوار بنا دے گي اور عزت و سلامتي اور رفاہ و آسائش كے دور كو برسوں پيچھے دھكيل دے گي۔ ہم قوموں كي توانائي اور اس طاقت پر جو خدائے حكيم نے عوام الناس كے عزم و ايمان اور بصيرت ميں قرار دي ہے، دل كي گہرائيوں سے يقين ركھتے ہيں اور اسے ہم نے تين عشرے سے زيادہ كے عرصے كے دوران اسلامي جمہوريہ كے اندر اپني آنكھوں سے ديكھا اور اپنے پورے وجود سے اس كا تجربہ كيا ہے۔ ہمارا عزم تمام مسلم اقوام كو اس سربلند اور كبھي نہ تھكنے والے ملك ميں آباد ان كے بھائيوں كے تجربے سے استفادہ كرنے كي دعوت ديتا ہے۔
اللہ تعالي سے مسلمانوں كي بھلائي اور دشمنوں كے مكر و حيلے سے حفاظت كا طلبگار ہوں اور بيت اللہ كے آپ تمام حاجيوں كے لئے حج مقبول، جسم و جان كي سلامتي اور روحانيت سے سرشار خزانے كي دعا كرتا ہوں۔
والسلام عليكم و رحمة الله
سيّد علي خامنه‌اي
 
 
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك